یوم تکبیر۔۔۔۔ فخریہ یادیں۔۔۔۔۔ صبا فہیم

1

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات یا واقعات اتنے اہم ہوتے ہیں کہ انکی اہمیت کا مقابلہ کیی صدیاں بھی ملکر نہیں کر سکتیں۔ ایسے واقعات کو عموما گیم چینجر واقعہ کہا جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ 28 میی 1998 کو رونماء ہوا.

قوم کی زندگی میں کچھ لمحات اتنے تاریخی، منفرد اور اہم ہوتے ہیں کہ زمانہ تک ششدر رہ جاتا ہے. ان لمحوں کی اہمیت اور حیثیت کا مقابلہ کئی صدیاں بھی مل کر نہیں کر سکتی ہیں. 28 مئی تپتی سہ پہر کو 2 بج کر 3 منٹ پر پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے مجاہدوں نے چاغی کے پہاڑوں پر 6 ایٹمی دھماکے کر کے 11 اور 13مئی 1998کے بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کا منہ توڑ جواب دیا۔

ایٹمی قوت بننے کے ساتھ ہی پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اور بھارتی حکمرانوں کا اکھنڈ اور خواب چکنا چور ہو گیا تھا

یہ تاریخی لمحات دراصل تاریخ کا وہ حساس موڑ ہوتے ہیں جہاں کوئی قوم اپنے لئےعزت و وقار اور غرور و تمکنت یا ذلت و رسوائی یا غلامی و محکومی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرتی ہیں۔

11مئی بھارت کے 3 دھماکوں کے بعد ہی پاکستان کا ایٹمی توانائی کمیشن کے ہیڈ کواٹرز مئی ہنگامی اجلاسوں کا انعقاد شروع کر دیا گیا اور چونکہ ڈاکٹر اشفاق احمد چیرمین ایٹمی توانائی کمیشن ملک سے باہر تھے تو اٹمی توانائی کمیشن کے ممبر ٹیکنیکل ڈاکٹر ثمر مبارک مند ہی ان ہنگامی اجلاسوں کی صدارت کیا کرتے تھے اور وہ ہی ایٹمی پروگرام کے ٹیکنیکل انچارج بھی تھے۔ادھر میاں نواز شریف نے بھی اجلاس منعقد کرنا شروع کر دیئے کہ بھارت کے دھماکوں کا جواب کس طرح دیا جانا سائنس دانوں کی ٹیم نے ایٹمی دھماکے کرنے کیلئے ضروری اکوپمنٹ اکٹھے کرنے شروع کر دیے.یوں مئی 1998 کے آخری ہفتے میں ایٹم بم کا سامان C-130 فوجی طیاروں میں لوڈ کیا گیا اس طیارے کو چکلالہ سے ، پاک فضائیہ کے ایف سولہ طیاروں نے اپنی خصوصی حفاظت میں کوئٹہ ائرپورٹ تک پہنچایا

چاغی اور خاران میں حالات انتہائی نا گفتہ با تھے چونکہ اچانک یہ سب کرنا پڑگیا تو رہائش اور خوراک کے مناسب انتظامات تک موجود نہیں تھے ھم سلام پیش کرتے ہیں ان سائنس دانوں انجینئروں و ٹیکنیشنوں کو جنہوں نے خوراک و رہائش کی قلت کو کوئی اہمیت نہیں دیاور جذبہ حب الوطنی کے تحت اپنے کپتان کے حکم پر لبیک کہتے ھوۓ کام کام میں جتے رہے۔۔جب 26 مئی کو تمام ایٹم بم جب چاغی کے کوہ کامر، ان میں کھودی گئی خصوصی ڈیزائن کی طویل سرنگ میں اپنی اپنی جگہ نصب کر دیئے گئے تو ڈاکٹر ثمر مند نے کہا کہ دعا کریں اللّه تعالیٰ ہمیں کامیابی و کامرانی سے نوازے اس جذباتی کیفیت کی دعا میں الفاظ کم تھے اور آنسو زیادہ۔

سرنگ کو ری انفورسڈ کنکریٹ سے بند کرنے کا کام شروع کیا گیا اس میں کوئیک سیٹنگ سیمنٹ استمال کیا گیا سرنگوں کو سیل کرنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ کل 28 مئی دوپہر کو ھم نیوکلئیر ٹیسٹ کر دینگے اور اسلام آباد کو اس پروگرام سے آگاہ کر دیا گیا۔

28 مئی صبح کو انسٹرومنٹیشن روم اور کنٹرول روم کی چیکنگ کا حتمی مرحلہ شروع ہو گیا اور دوپہر تک چیکنگ کا کام مکمل ہو گیا. سہ پہر پونے تین بجے کے لگ بھگ ایک ہیلی کاپٹر فائرنگ پوانٹ کے پاس اترا جو سرنگ سے تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔. اس ہیلی کاپٹر سے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر اشفاق احمد، کے ار ایل کے چئیرمین ڈاکٹر اے کیو خان اور لیفٹنٹ جنرل ذولفقار علی ڈائریکٹر جنرل کمباٹ ڈویلپمنٹ تشریف لائے۔

ضروری چیکنگ کے بعد کاؤنٹ ڈاؤں شروع کی گئی اور “اللّه اکبر”کا نعرہ لگاتے ھوۓ ٹیم کے ایک رکن کو بٹن پریس کرنے کی ذمہ داری سونی گئی. بٹن دباتے ہیٹیم نے نگاہیں اٹھا کر پہاڑ کی طرف دیکھا تو کوہ کامران جو پہلے ڈارک براون کلر کا تھا وہ ایسے دکھائی دیا جیسے اس کے اوپر شدید برف باری ہوئی ہو گہرے بھورے رنگ کا پہاڑ سفید دکھائی دی رہا تھا. جب دوبارہ پہاڑ پر نظر ڈالی تو سفید دھواں آسماں کو طرف اٹھتا ہوا دکھائی دیا اور پھر پہاڑ کا رنگ پیلا پھر زرد اور پھر ہلکا براؤن ہونا شروع ہو گیا۔اس ایک لمحے نے ہماری زندگی کی بدل دی ھم کامیابی کی انتہائی بلندی پر پہنچ گئے۔

چاغی نیو کلئیر ٹیسٹ کی کامیابی نے یہ بات ثابت کردی کہ پاکستانی ایک انتہائی زہین اور با صلاحیت قوم ہے جب وہ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرلے تو مشکل سے مشکل کام کر گزرتی ہے۔ ہمارا دیس اب بلندی کی طرف گامزن یے تمام افراد کا فرض منصبی ہے کہ سچے محب وطن بن کر سرمایہء افتخار کی حفاظت کریں..اپنے اندر نااتفاقی کی فضاء پنپنے نہ دیں. ملک میں غداروں، سازشیوں اور مفاد پرست سیاست دانوں کو ملک کے مستقبل سے کھیلنے نہ دیں.

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت عمدہ آرٹیکل بے شک پاکستان کے لیے 28 مئی کسی “گوہر نایاب” سے کم نہیں ۔۔ہر پاکستانی اس پر فخر کر سکتا ہے اور کرنا بھی حق بنتا ہے مگر اب اس سے آگے کی سوچنا بھی تو بنتا ہے اپنے محسنوں کو خراج تحسین لفظی نہیں بلکہ عملی پیش کرنا کا وقت ہے کہ ملت کے بکھیرے گئے شیرازے کو متحد و منظم کیاجائے۔۔۔۔ تحریر کا اسلوب نہایت عمدہ اور حب الوطنی چھلک رہی۔۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: