روشن دان: عتیق بیگ

0

انسان نے غار سے باھر نکل کر رھائش اختیار کرنا چاہی یعنی تہذیبی بننا چاہا تو بھی غاروں جیسا ہی مضبوط گھر چاہا ۔ شروع شروع میں گھر تو بن جاتا لیکن گھر اور کمروں میں دروازے کے علاوہ ہوا کے آنے اور جانے کے لئے کوئی راستہ نا ھوتا ۔ یعنی پھر سے غار نما ۔ پھر شعور آگے بڑھا اور انسان کو کمرے کی دیواروں میں روشن دان رکھنے کا فن آ گیا۔ جس نے صرف ہوا کا ہی نہیں بلکہ مناسب روشنی دینے کا بھی بہترین کام کیا۔ پھر یہ روشن دان صرف اور صرف گھروں یا کمروں کی دیواروں تک ہی محدود نا رہے کیونکہ تہذیب ترقی پکڑ رھی تھی اور معاشرے میں اقدار اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھیں ۔
معاشرتی اقدار نے جب انسان کو بنیادی ضروریات کے گرد جکڑنا شروع کیا تو انسان کو ان اقدار کے اندر رہتے ہوئے بھی گھٹن محسوس ہونا شروع ہوئی ۔ ایک بار پھر انسان کو ہوا کے لئے معاشرتی اقدار کے اندر” روشن دان ” کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ پھر سے انسانی شعور کو آگے بڑھ کر اپنا کام کرنا تھا۔ گو آسان نا تھا لیکن ہوا۔ انسان نے معاشرتی اقدار میں جکڑے ہوئے انسان کے لئے تفریح کا موقع مہیا کرنا شروع کیا ۔ کہیں شاعری شروع ہوئی تو کہیں رنگوں سے مصوری کی گئی کہیں مجسمہ سازی کی گئی تو کہیں کسی نئے کھیل نے جنم لیا۔ یہ نئے روشن دان انسان کو ابلنے سے بچانے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوئے ۔ لیکن یہ روشن دان کوئی کمرے کی دیوار میں نا تھے کہ آسانی سے ہضم کر لئے جاتے ۔ یہ روشن دان جب جب ” بزم شاہی ” کی طرف اپنی گرم ہوا نکالتے تب تب بزم شاہی ان سے سروں کی شکل میں قیمت وصول کرتا ۔ یہ روشن دان پنڈتوں ، راہبوں اور مولویوں کو جوابی گرم ہوا دیتے تو فتوی کی زد میں آتے اور پھر سے قیمت ادا کرتے۔ ان روشن دانوں کے ہواوں کے بادشاہ اور روشنیوں کے چراغ کبھی دار پر لٹکائے گئے کبھی جلا وطن کئے گئے کبھی بیوی بچوں سمیت بربریت کا شکار ہوئے۔ چھاپہ خانہ ہو، مجسمہ سازی ہو، شاہ اور اس کے وفاداروں کے خلاف شاعری ہو، ملاء کی عیاری کو عیاں کرنے والا ادب ہو۔ ھر روشن دان کی تاریخ خون سے سرخ ہی ملے گی۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام روشن دان آج بھی کھلے ہیں اور ان کو بنانے والے آج بھی تاریخ میں زندہ ہیں مر گئے تو وہ جنہوں نے ان کو بند کرنے کی کوشش کی۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا پھر سے نئے روشن دان کا کردار ادا کر رھا ہے ۔ اور بزم شاہی ایک پار پھر اسے بند کرنے کا مژدہ سنا رھا ہے ۔ لیکن ان کم عقلوں، جاہلوں کو اتنا بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ سوشل میڈیا والا روشن دان ان کے اپنے لئے ہی فائدہ مند ثابت ہو رھا ہے۔ یہ لوگ ظلم کرتے ہیں۔ لوگ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے سڑکوں پر آنے کی بجائے سوشل میڈیا پر ہی اپنی بھڑاس نکالتے ہیں خود کو تسلی دیتے ہیں کہ حق ادا ہوا۔ اور پھر سے اپنے قلم نئے ظلم کے خلاف لکھنے کے لئے کمان میں سنبھال کر گہری نیند سو جاتے ہیں۔ اے اہل اقتدار اس کے باوجود کے تمھارے ہر ظلم کو میڈیا کی آنکھ نا صرف دکھلا رہی ہے بلکہ اس پر اینکروں کی آواز واویلا بھی مچا رھی ہے۔ لیکن رد عمل فقط سوشل میڈیا تک محدود ہے۔ تمھاری عقلوں پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ھے اگر یہ روشن دان بھی بند کر دو گے تو یہ نا ہو یہ مت ماری ہوئی عوام اپنے حقوق کے لئے ایک بار پھر سڑکوں پر آ جائیں۔ کہیں یہ نا ہو یہ لوگ ہوا لینے کے لئے عین ماضی کی طرح تمھارے محلات کی دیواروں بھی گرا دیں۔ اور مجھے اندیشہ ہے کہ اب کہ بار فقط دیوار ہی نا گرے گی ہو سکتا ہے تمھارے محلات کی فصیلوں پر تمھارے سر بھی تمھاری کم عقلی کا ماتم کرتے نظر آئیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: