رویت ہلال: صفتین خان

0

حسب معمول رمضان کا چاند پرانے مباحث کو لیکر لوٹ آیا. دو قسم کے اصولی مباحث جنم لیتے ہیں اس موقع پر. ایک ماہرین فلکیات اور ماہرین مذہبیات کے درمیان. دوم علما کے مابین شہادتوں کے تعین اور قبولیت میں. پہلا چاند کی پیدائش اور رویت ( دیکھنا ) کا جھگڑا ہے تو دوسرا ریاست اور روایت کا تنازع.

چاند کی پیدائش اور رویت میں تفریق کرنے والے عملا صدیوں پرانے دور میں رہ رہے ہیں. اس وقت چاند کی زمین کے حوالے سے پیدائش کو جاننے کا واحد ذریعہ رویت ہی تھی. اسی لیے دیکھ کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی. اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب چاند کی پیدائش یقینی معلوم ہو تو رویت کی ضرورت خود حدیث کی رو سے موجود نہیں رہتی. لہذا ۳۰ کے بعد کوئی مفتی منیب یا مولوی پوپلزئی محفل سجا کر آسمانی دنیا میں غوطہ زن نہیں ہوتا. حدیث کے الفاظ دیکھیں تو صاف ظاہر ہے کہ حساب و فلکیات کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا رہا.

“ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌالاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ وَمَرَّةً ثَلاَثِينَ” (متفق علیہ ) (مشکوۃ المصابیح .باب رویۃ الھلال)

عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم ناخواندہ لوگ ہیں لکھنے اور قمری حساب سے واقف نہیں، دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر اشارہ کیا کہ مہینہ اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے، اور تیسری مرتبہ انگوٹھا سمیٹ لیا، پھر فرمایا اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے یعنی کبھی ۲۹دن اور کبھی ۳۰ دن کا ہوتا ہے۔

“عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ، و فی روایۃ قال الشھر تسع و عشرون لیلۃ فلا تصوموا حتی تروہ فان غم علیکم فاکملوا العدۃ ثلاثین “(متفق علیہ )

عبد اللہ بن عمر نے فرمایا کہ روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو یہاں تک اسے دیکھ لو اور اگر تم پر بادل چھا جائے تو اس کا اندازہ کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ مہینہ ۲۹/ دن کا بھی ہوتا ہے تو اگر بادل چھا جائے تو ۳۰دن کی تعداد پوری کرو۔

اس سے ظاہریت پسندوں نے یہ سمجھا کہ شاید دیکھنا ضروری قرار دیا جا رہا ہے. حیرت انگیز امر یہ کہ چاند کی رویت پر اصرار کرنے والے سورج کی طرف نگاہ کرم کرنے سے انکار کر چکے نمازوں کے اوقات متعین کرنے میں. جدید سائنسی ارتقا کے بعد رویت کے جھگڑے ختم کرنا آسان ہو چکا. چاند کی پیدائش کا کیلنڈر بنا کر یہ تنازع ہمیشہ کے لیے دفن کیا جا سکتا ہے جو شرق و غرب میں اسلام اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے. تفرقہ کو فروغ دے رہا ہے.

دوسرا اہم پہلو رویت کے اطلاقی علاقے کا ہے. یہ عجیب و غریب تصور ایجاد کیا گیا ہے کہ اس عمل کا مخاطب فرد یا علاقائی گروہ ہے الگ الگ. حالانکہ یہ کلیتا ریاست کی مجاز اتھارٹی ہے جو فیصلہ کرنے کی مکلف ہے. شہادتوں کی اہلیت و قبولیت کو بنیاد بنایا جائے یا فلکیات کے علم کو آخری فیصلہ حکومت کرے گی. اس لیے کہ روزے اور عیدین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہی اجتماعی تہوار ہیں. قومی و ملی سطح پر ہی اس کو منایا جا سکتا ہے. اس بات کو درج ذیل روایات میں واضح کیا گیا ہے.

“عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَالأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ” وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ هَذَا الحَدِيثَ فَقَالَ: إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالفِطْرَ مَعَ الجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ “(جامع الترمذی مع العرف الشذی )

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ اسی روز ہے جس دن تم سب روزہ رکھو اور افطار اسی دن ہے جس دن تم سب افطار کرو اور قربانی اسی دن ہے جس دن تم سب قربانی کرو۔ بعض اہل علم نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ صوم، افطار وغیرہ جماعت مسلمین کے ساتھ ہونا چاہئے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الهِلَالَ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا”(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح )

عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے آپ نے کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نےکہا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں آپ نے کہا : بلال !لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۔

یہاں فیصلہ رسول صلی اللہ وسلم بحیثیت ریاست کے سربراہ کر رہے ہیں اور جماعت سے مراد وہ تمام علاقہ ہے جہاں حکومت کی رویت کی اطلاع پہنچنا ممکن ہو سکے. پرانے زمانے میں چونکہ بہت محدود حد تک یہ ممکن تھا اس لیے ہر علاقے کا حاکم انفرادی طور پر یہ اعلان کرتا تھا. موجودہ دور میں پوری قوم ملکی سطح پر یا بین الاقوامی سطح پر ملت مسلمہ ایک ہی رویت پر ایسا کرنے کی مکلف ہے. فقہا و علما میں بھی ایک گروہ جس میں امام تیمیہ و شاہ ولی اللہ جیسے لوگ شامل ہیں ایک رویت کو پوری امت کے لیے کافی سمجھتا ہے.لہذا میری رائے میں سعودیہ کو مرکز مان کر پوری دنیا میں مسلمانوں کو ایک روز یہ تہوار منا کر اسلامی تشخص کی اصل روح کو بیدار کرنا چاھیے. مقامی سطح پر ریاست سے ہٹ کر کیا جانے والا کوئی فیصلہ انتشار و جرم کے زمرے میں آئے گا.۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: