قرآن اور ملحدین و مسلمین: فلک شیر

1

لاہور میں میرا ایک دوست میرے سامنے الحاد کے فضائل و مناقب بیان کیا کرتا تھا، مجھ پہ بھی ان دنوں ایک ‘نشہ’ سا طاری رہتا تھا، جسے میں ‘آفاقی احوال’ قسم کی کوئی چیز سمجھ کر سرمستی کی کینچلی میں کچھ اور گھس جاتا تھا ــــــــ ایک دن میں نے اس سے پوچھا، کہ ‘مذہب’، جس پہ تم دن رات لشکر کشی کے موڈ میں رہتے ہو، اس کا ہمارے ہاں نمائندہ متن قرآن مجید ہے، تم نے اسے پڑھا ہے ؟ـــــــــــ اس پر وہ بھی وقتاً فوقتاً خواہش ظاہر کرنے لگا کہ قرآن پڑھا جائے ـــــ سو اس نے ایک دن میرے ساتھ مل کر قرآن پڑھنا شروع کیا، مگر دوسری نشست کی نوبت نہیں آئی۔ مجھے معلوم ہے، کہ الحاد و ایقان کی موجودہ جنگ بہت پیچیدہ ہے ـــــــ لیکن اتنی بھی پیچیدہ نہیں ہے ــــــــ ایک مسئلہ تو یقیناً یہ ہے، کہ حق کی تلاش کے یہ دعویدار ‘حق’ کی طلب میں قرآن کو بنیادی متون میں سے ایک سمجھتے ہی نہیں ، مگر مجھے لگتا ہے کہ اس سے بڑا سوال غالباً یہ ہے ، کہ مذہب کا مقدمہ لڑنے والوں کا اپنا دل قرآن میں کتنا لگتا ہے ـــــــ دل ایک ظرف ہے، جسے کسی نہ کسی چیز سے تو بھرا ہی جانا ہے، کسی نہ کسی محبت نے تو جگہ بنانا ہی ہے ، کسی نہ کسی آئیڈیل نے تو یہاں گڑنا ہی ہے ــــــــــ کیا واقعی ہمارے ‘اسلام پسندوں ‘ کے دل اس حوالہ سے کلئیر ہیں ، یا محض زبانیں ہیں ، جو قرآن قرآن ، اسلام اسلام کا ورد کرتی ہیں اور الحاد الحاد کا رد کرتی ہیں ـــــــ پھر پریشانی ، کہ اثر نہیں ہے ـــــــــ وہ بابے جو دیہات میں مسجدوں میں قرآن لے کر بیٹھے رہتے تھے ، وہ مائیاں جو سویرے تہجد وقت بڑی تقطیع کے قرآن لے کر تلاوتیں کرتی تھیں ، ان کا ایمان مثالی تھا نا؟ ـــــــــــ تو بھائیو اور بہنو! کیا خیال ہے، دل میں چھپے چور کو نکالا جائے اور تفریح، علمیت اور جعلی سرمستی کے نام پہ دلوں کو جو غذا ہم سمع و بصر سے مہیا کرتے ہیں ، صحبت اصلی و سکرینی سے عطا کرتے ہیں ، اس کے اصل متبادل کی طرف کیوں نہ لوٹا جائے ؟

قرآن تو وہ شاہ کلید ہے جو ہفت قفل کشاد ہے اور بندے کو خدا سے جوڑتی ہے ـــــــــــــ جتنا جس کا دل اس سے لگ جاتا ہے، جان لو، اتنا اس کا دل اس جنگ میں محفوظ و مامون ہو گیا ـــــــــــــ یہ بیڈ بک بھی ہے، سٹوری بک بھی، لٹریچر بھی اور مینی فیسٹو بھی ــــــــــــــ تنقید بھی ۔ تدبر بھی اور فلسفہ بھی ـــــــــــ وہ جعلی خوشی جو فلسفی کو ‘عرفان حق’ سے ملتا ہے ، اسے اصل خوشی سے تبدیل کرنا ہو، تو قرآن ہی متبادل متن ہے ـــــــــــــ ہر صدی بعد ‘حق’ کی نئی تعبیر کرتے متشککین کے اماموں اور ان کے پیروکاروں سے پریشان بھائیوں اور بہنوں سے درخواست ہے، کہ اپنی علمی پیاس اور روحانی بے چینی کو سکون قلبی سے بدلنے کے لیے قرآن کو اپنا کر تو دیکھیں ـــــــــــــ مایوس نہ ہوں، خوفزدہ نہ ہوں ، طنز کے تیروں سے نہ ڈریں، جہالت کے طعنے سے پریشان نہ ہوں، قرآن کو واقعی اپنا رفیق بنائیں اور اس سے رہنمائی لے کر عہد جدید کے فکری مسائل کا جواب دیں ـــــــــ جب آپ خود ہی قرآن سے دور رہیں گے اور امید یہ رکھیں گے کہ آپ کے پند و نصائح سے ملحدین و منافقین و متذ بذبین و متشککین پروانہ وار آپ کے ہاتھ پہ بیعت فرما کر تائب ہو جائیں گے، تو یہ خیال خام ہے ـــــــــــــــ اس کے لیے تو

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

کا فارمولا ہی اپلائی ہو گا

 

About Author

فلک شیر سادہ اور خالص شخصیت کے مالک ہیں۔ انگریزی ادبیات میں ماسٹرز، استاد ، ترجمہ کاری، تصوف، زراعت، جدید زندگی اور انسان کی حالت زار، اسلامی تحاریک اور ادب انکی فکری جولانگاہیں ٹھہرتی ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اور زیادہ محنت لگوانے کے لیے کون سا فارمولا اپلائی ہو گا؟ ?
    مذاق برطرف، بالکل درست فرمایا۔ اللہ ہمیں قرآن خوانی اور قرآن فہمی کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: