جنہاں ‘گھڑیاں’ سانبھ کے رکھیاں۔ قیصر شہزاد

0

یہ مشرقی یورپ کے کسی دور دراز قصبے کا  ایک ڈیڑھ صدی پرانا قصہ ہے۔ قصبے کے بیچوں بیچ واقع مختصر سے بازار میں  ہر طرح  کا ہنر مند موجود تھا: نانبائی ، درزی، موچی ، حجام، راج ، بڑھئی، لوہار، وغیرہ۔ اگر کوئی کمی تھی تو وہ  گھڑی ساز کی۔ گھڑیوں کی مرمت کرنے والے  کی غیر موجودگی کے باعث آہستہ آہستہ لوگوں کی گھڑیوں میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہونا شروع  ہو گئیں ۔ کچھ عرصے بعد  اکثر لوگوں نے اپنی گھڑیوں  کی صفائی اور خیال رکھنا چھوڑدیا اور انہیں گھروں میں بے دھیانی سے ایک  طرف ڈال دیا۔ چنانچہ یہ گھڑیاں زنگ آلود ہوکر بالکل  ازکار رفتہ ہوگئیں۔ البتہ چند لوگ  اپنی خراب گھڑیوں کی بھی پہلے کی مانندصفائی ستھرائی کا خیال رکھتے  رہے ۔ روز وشب یوں ہی گزرتے رہے۔ ایک روز اچانک قصبے میں ایک گھڑی ساز  آنکلا۔ ظاہر ہے یہ خبر قصبے میں جنگل کی آگ کی مانند پھیل گئی اور جلد ہی اس کے گرد گھڑیوں کی مرمت کے خواہشمندو ں کا ایک ہجوم جمع ہوگیا۔ جن لوگوں نے خراب گھڑیوں کو  بھی سنبھال کر رکھا تھا ، ان کی گھڑیاں اس شخص نے فورا درست کردیں۔ جب دوسرے لوگ اپنی  زنگ آلود اور بے التفاتی  کا شکار گھڑیاں ڈھونڈ ڈھانڈ کر لائے  تو گھڑی ساز اپنی کامل مہارت کو کام میں لانے  کے باوجود ایک گھڑی بھی ٹھیک نہ کرسکا۔ اور ان لوگوں کو مایوس لوٹنا پڑا۔

دینی اور روحانی زندگی کا معاملہ بھی کچھ ایساہی ہے۔ دینی قوانین ، عبادات، اوراد اور اذکار وغیرہ  کی  ظاہری اشکال کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے اور ان کے اصل مقصد اور روح کی اہمیت بنیادی۔ اس احساس کے تحت ہم میں سے بہت سے لوگ مذہبی اور روحانی اعمال  سے بے توجہی محض اس لیے برتنا شروع کردیتے ہیں کہ عبادت میں ان کا دل نہیں لگتا۔ یا ذکر میں حضوری کا احساس نہیں ہوتا لہذا ایسی عباد ت کا کیا فائدہ جس میں بندے کو یہ احساس ہی نہ ہو کہ وہ کسی کے سامنے کھڑا ہے یا کس کی یاد میں مشغول ہے۔یہ درست ہے کہ روحانیت کا مقصد عبادات کی ظاہری شکل و صورت  سے  ان اصل روح تک پہنچنا ہوتا ہے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ   باطن تک ظاہر کے ذریعے اور اسی کے اند ر سے پہنچا جاسکتا ہے نہ کہ  اسے ایک جانب چھوڑ کر۔ چنانچہ عبادات کی روح تک اسی کے پہنچنے کی امید ہے جوان کے ظاہری قواعد و ضوابط کی پابندی کرے  ، ورنہ اس کی مثال انہی لوگوں جیسی ہوگی جنہوں نے گھڑیاں خراب ہوجانے پر بالکل ہی  نظر انداز کردیں یہاں تک کہ ان کا درست ہونا ناممکن ہوگیا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: