سوشل میڈیا، گروہی نفسیات اور عوامل: پیر الطاف

0

ہمارے کچھ لکھاری احباب ایک عرصے سے اس عامی قاری کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور باقاعدہ طور پر لکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ایسے میں آنکھوں کے سامنے بے اختیار محلّے کے تبلیغی امیر صاحب کی صورت آجاتی ہے۔ وہ اپنے چمکدار دانتوں میں مسواک پکڑ کر مسکرا مسکر ا کر کہتے “میاں بس ایک سہہ روزہ لگا لو، باقی اللہ پر چھوڑ دو”۔ ہمیں خوب پتہ تھا کہ یہ بات ایک سہ روزے پہ رکنے والی نہیں۔ باقاعدہ لکھنے کے بارے میں بھی اس فقیر کی یہی رائے ہے۔ راقم ان ابنائے روزگار کی مانند جو ہاتھوں میں کئی گیندیں بیک وقت اچھالتے رہتے ہیں، فکر معاش اور فکر فردا میں غرقاب ہے، چنانچہ ان مشاغل سے کنارہ کئے ہوئے ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کی افق پر ہونے والی حالیہ نوک جھونک اور تنازعات کے پس منظر میں مناسب لگا کہ کچھ خیالات سپردقلم کئے جائیں۔ راقم کا مقصد کچھ ایسے عوامل کی نشاندہی سے ہے جن کا نظریات سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ نظریاتی اختلاف کی کوئی اہمیت نہیں۔

ذرائع ابلاغ کی تاریخ ۵۵۰ قبل از مسیح سے لیکر صدیوں پر محیط ہے۔ مگر جو انقلاب پچھلی دو دہائیوں میں آیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ھماری یہ نسل ذرائع ابلاغ کی تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کی عینی شاھد ہے۔ ۱۹۹۷ میں جب سوشل میڈیا نے جنم لیا تو کسے خبر تھی کہ یہ دنیا کا حلیہ بدل کر رکھ دے گی۔ تیونس اور مصر کے انقلابات سےلیکر شام کی خانہ جنگی تک، یورپی یونین کے ٹوٹنے سے امریکی ایوانواں کی الٹ پھیر تک، معلومات کے سیلاب، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن صحافت سے سماجی تحریکوں تک، غرض ہر سو سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

ٹکنالوجی کے اس سیلاب کے ساتھ ساتھ کیا انسانی ذہن کا ارتقاءبھی اسی رفتار سے ہو رہا ہے؟ راقم کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو نہ ہی سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑتا اور نہ ہی ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برستے۔ نوع انسانی اپنے کئی نسلوں کے جمع کردہ علم کی عمارت کو مسلسل بلند تو کر رہی ہے مگر اس کا ذہن اپنی نفسیاتی کمزوریوں اور حیوانی جبلّتوں کے آگے ویسا ہی بے بس، لاچار اور نحیف ہے جیسا کہ دو ہزار سال پہلے تھا۔ کمپیوٹر کے ایک بٹن کی دوری پر خریداری، سواری، بینکاری، تفریح طبع کا سامان، معلومات کے خزینے اور کیا کچھ نہیں۔ مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ انسانی رویوں کا سافٹ وئیر بھی ایسےہی “اپ ڈیٹ” ہوسکتا۔


تعصب نظریات کا نہیں ہوتا بلکہ لاشعوری ہوتا ہے۔
انسانی ذہن ناگزیر طور پر کثیر جہتی اور خواص کو چند گنے چنے سانچوں میں ڈھالنے کا عادی ہوتا ہے۔ اس عمل میں وہ تفصیلات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اب اگر یہ ذہن ایک ایسی وحشتناک دوئی میں بٹا ہوا ہو کہ اس کے سامنے دو ہی سانچے ہوں، مثلاً لبرل اور مذہب پسند، تو تعصب کی انتہاءکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
لہذا ذہن یہ سوچنے سے عاری ہو جاتاہے کہ ایک لبرل مذہب پسند بھی ہو سکتا ہے اور ایک مذہب پسند لبرل بھی ہو سکتا ہے


عصبی سائنس کے ماہرین یہ ثابت کر چکے ہیں کہ انسان جب بھی کسی چیز سے تسکین یا حظ اٌٹھاتا ہے تو اس کے دماغ کے ایک گوشے میں ڈوپامین (Dopamine) نامی مادے کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ مادہ انسان پر سرور کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر، نّشے اور جوئے سمیت بیشتر انسانی رویوں اور عادتوں کی بنیاد ڈوپامین کا لشکارہ ہے۔ یہ ڈوپامین ہی کا چسکہ ہوتا ہے جو آپکے کسی پوسٹ پر “لائیک” یا تبصرے کی صورت میں آپ کو چند لمحوں کی تسکین دیتا ہے۔ اب تصور کیجئے کہ سوشل میڈیا کا بھونپو ایک ایسے معاشرے کے ہاتھ لگ جائے، جہاں عمل سے زیادہ باتوں پر زور ہو، تو وہ معاشرہ اسے بجا بجا کر ڈوپامین کی چسکیاں نہ لے تواورکیاکرے۔ سوشل میڈیا کے اس نقار خانے میں جو جتنا زبان دراز ہےاس کی رائے اتنی ہی اہم ہے اور وہ طوطی جو خاموشی سےسب کی سن رہا ہے، اس کی رائے کو کوئی درخوراعتناء نہیں سمجھتا۔ یہ ایک ایسا دربارہے جس میں ہر ایک کو اپنا آپ شنہشاہِ معظم اور دوسرے درباری لگتے ہیں۔ جبکہ درباریوں کا بھی اپنے بارے میں یہی خیال ہوتا ہے۔ مگر جس طرح ایک نشئی کی توجہ معاشرے میں اپنا مقام چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنے نشے پر مرکوز ہوتی ہے، اسی طرح لائکس اور شئیرز کے دوڑ میں شامل حضرات آہستہ آہستہ اپنے اعلی مباحث چھوڑ کر دشنام طرازی پر اس وقت اتر آتے ہیں جب ان کا نشہ ہرن ہونے لگتا ہے۔
مگر ان سب سے زیادہ پیچیدہ وہ گروہی عوامل (GroupDynamics) ہیں جن کا براہ راست تعلق عمرانیات، بشریات اور سیاسیات سے ہے، اگرچہ بنیادی طور پر یہ نفسیات ہی کی ایک شاخ ہے۔ کئی برس پہلے، سیموئیل جانسن کے نظریاتی پیروکار اور دہشت گردی کی جنگ میں جارج بش کے دست راست ڈونلڈ رمزفیلڈ سے ایک صحافی نے یہ سوال پوچھا کہ ترقی پذیر دنیا کو اپنے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیا جاتا۔ ان کا جواب تھا، کہ”ھم تو انہیں چھوڑ دینگے۔ مگر سوشل میڈیا کی ایجاد نےتیسری دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں اور انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ ھمارے ہاں اور ان کے ہاں ایک عام آدمی کی زندگی میں کتنا فرق ہے۔ لہذا اب وہ ہمیں نہیں چھوڑیں گے”۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ کا یہ بیان گروہی عوامل و محرکات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سردست گروہی عوامل کا تفصیلی جائزہ تو نہیں لیا جا سکتا مگر چند بنیادی نکات کا تذکرہ ضروری ہے۔ ہنری تاجفل (Henry Tajfel) کے نظریِہ سماجی شناخت (Social Identity Theory) کے مطابق گروہ ذہن کی ایک ایسی ناگزیر درجہ بندی سے پیدا ہوتے ہیں جن کا مقصود اپنی شناخت پانا ہوتا ہے۔ مثلاً ایک لبرل یا مذہب پسند اپنے گروہ کی جانب رجوع اس لئے کرتا ہے کہ اس کی شناخت اس گروہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ لہٰذا گروہ کےاندر موجود افراد، گروہ کے باہر لوگوں کے بارے میں ناگذیر طور پر متعصب ہوتے ہیں کیونکہ گروہ سے باہر کے لوگ شناخت کے لئے خطرہ تصور کئے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ تعصب نظریات کا نہیں ہوتا بلکہ لاشعوری ہوتا ہے۔ یہ ایک بظاہر عام سا مگر اہم نکتہ ہے۔ انسانی ذہن ناگزیر طور پر کثیر جہتی اور خواص کو چند گنے چنے سانچوں میں ڈھالنے کا عادی ہوتا ہے۔ اس عمل میں وہ موشگافیوں اور تفصیلات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اب اگر یہ ذہن ایک ایسی وحشتناک دوئی میں بٹا ہوا ہو کہ اس کے سامنے دو ہی سانچے ہوں، مثلاً لبرل اور مذہب پسند، تو تعصب کی انتہاءکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ لہذا ذہن یہ سوچنے سے عاری ہو جاتاہے کہ ایک لبرل مذہب پسند بھی ہو سکتا ہے اور ایک مذہب پسند لبرل بھی ہو سکتا ہے۔
اگر گروہ دو مختلف ثقافتوں کی صورت میں ہوں تو یہ تعصب نسل پرستی کی بھیانک شکل بھی اختیار کر سکتا ہے اور روانڈہ، یوگوسلاویہ یا نازی جرمنی جیسے سانحوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
گروہی نفسیات، انفرادی نفسیات سے یکسر مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً ایک ہی فرد کا برتاؤ انفرادی طور پر جیسا بھی ہو، ضروری نہیں کہ گروہ میں بھی اس کا برتاؤ ویسا ہی ہو۔ اس کی سادہ سی مثال کچھ یوں لی جاسکتی ہے۔ مثلاً ہم میں سے اکثر شاید اس تجربے سے گزرے ہوں، کہ کلاس میں استاد ایک سوال پوچھے، اور آپ سے پہلے کئی افراد اس کا جواب ایک ہی جیسا دے دیں۔ اگر ان کا جواب غلط بھی ہو اور آپ کو درست جواب معلوم بھی ہو پھر بھی آپ کلاس میں اپنے جواب کا اظہار کرتے ہوئے جھجکیں گے۔ اس کی وجہ گروہ کے ایک ہی نکتے پر اتفاق سےدیگر افرد کے اندر ابہام کا پیدا ہونا ہے۔
بالکل اسی طرح اشتراک ذمہ داری (Shared responsibility ) کے عوامل ہیں۔ مثلاً اگر ایک شخص سربازار کسی کو مار رہا ہے تو آس پاس کھڑے راہ گیر ایک دوسرے کو تکتے ہوئے یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ اگرکوئی اور مداخلت نہیں کر رہا تو بھلا میں کیوں کروں۔ اگر انہیں افراد کے سامنے یہ واقعہ بغیر کسی ہجوم کی موجودگی کے پیش آجائے تو ان کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔ اب ان دونوں عوامل کے بارے میں سوچیئے اورمشال خان اور سیالکوٹ کے سانحوں کو ذہن میں لایئے۔ اب سوال ہے کہ :
گروہی تعصب کو ختم کیسے کیا جائے؟ گروہی تعصب کو مکمل طور پر ختم کرنا تو شائد ممکن نہیں مگر کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ ماہر نفسیات گورڈن ایلپورٹ Gordan Allport کی رائے یہ ہے کہ گروہوں کے درمیان رابطہ جتنا زیادہ ہوگا، تعّصب اتنا ہی کم ہوگا۔ ان کےاس مشاہدے کو اب تک تقریباً پانچ سو ۵۰۰ تحقیقی مقالوں میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ گروہوں کے درمیان رابطہ ہی تعصب کم کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔ اب ذرا سوچئےکہ ہر گروہ دوسرے گروہ سے رابطہ رکھنے کے بجائے آپس میں ہی مکالمہ کرے، تو تعصب کیونکر ختم ہو۔ اس ضمن میں راقم الحروف کا اشارہ ان تمام ویب گاہوں کی جانب ہے جو گروہوں میں باہمی رابطے کے بجائےگروہوں کو اپنے اپنے خول میں بند کئے ہوئے ہیں۔
تعصب کو کم کرنے کا ایک اور ذریعہ یہ ہے کہ گروہوں میں ایک ایسی شناخت کو فروغ دیا جائے جو دونوں گروہوں میں مشترک ہو۔ جیسے پختون، بلوچی، پنجابی اور سندھی کے حلق میں پاکستانی قومیت کا شربت انڈیلنا، یا بریلوی، اہل حدیث، سنی اور شیعہ وغیرہ کے سامنے “کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک” کا بین بجانا۔
تعصب کو کم کرنے کا تیسرا طریقہ نفسیات کے گرو یہ بتاتے ہیں کہ گروہوں کا ایک دوسرے پر انحصار زیادہ کر دیا جائے۔ مگر اس نکتے کی جزیات میں جانے سے پہلے ضروری ہے درج بالا دونوں نکات پر پہلے سےہی کام ہو رہا ہو۔
بقولِ جون ایلیاء
آپ تو آپ ہیں، آپ سب کچھ ہیں
اورتو اور ہیں، اور تو کچھ بھی نہیں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: