چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 8

0
  • 1
    Share

کوٹ اَدو کا چامکا پروڈیوسر:
وحید راہی کوٹ اَدو کے چامکے سے بہت پریشان تھا۔ میں نے اس پریشانی کی وجہ پوچھی تو بتانے لگا کہ وہ چامکا، سنیہا نامی ڈانسر کیلئے آنے لگا۔ وہ ڈانس کرتی تو اس پر نوٹ نچھار کرتا۔ ساتھ دوچار دوستوں کو لاتا اور اگلی سیٹ پر بیٹھ کر ڈانس انجوائئے کم کرتا، سنیہا کو اپنی جانب زیادہ متوجہ کرتا۔ سنیہا بھی اس کی طرف تب تک ادائیں دکھاتی جب تک آٹھ دس ہزار اس کی جیب سے نہ نکلواتی، پھر اگلا شکار۔ وہ کافی دن آتا اور نوٹ نچھاور کرتا مگر بات آگے بڑھتی نہ دکھائی دی تو مجھے ایک دن آتے ہوئے روک لیا کہ سنیہا سے اس کی بات کروادوں۔ راہی صاحب بولتے رُکے اور مسکرا کر تبصرہ کیا، پتہ نہیں یہ چامکے تماش بین ہم آرٹسٹوں کو سمجھ کیا لیتے ہیں؟ بہر حال راہی صاحب نے اسے ٹال دیا۔ وہ پھر راہی صاحب کو تنگ کرنے لگا مگر راہی صاحب اسے دیکھتے ہی کنی کترا جاتے لیکن پھر کسی اور ذریعے سے اس کا رابطہ سنیہا کے ساتھ ہوگیا اور وہ اسٹیج کے پیچھے آنے جانے لگا اور سنیہا سے گاڑھی چھننے لگی۔ ڈانسر کے مشورے پر ہی اس نے پروڈیوسر بننے کا فیصلہ کیا اور شروع کے تین چار ڈراموں میں ہی اسے اچھا خاصا منافع ملا اور سنیہا بونس میں ساتھ تھی۔ اسے دگنا دولت اور حسن کا دُگنا نشہ لگ گیا ۔ اسی نشے میں اس نے مجھ سے (راہی ) سے پرانا بدلہ بھی لیا اور کام دینے سے گریز کرنے لگا مگر کچھ دنوں بعد ہی اس کا منافع ختم، بلکہ پے درپے ڈراموں میں نقصان سے کنگال ہوگیا۔ گاڑیاں وغیرہ سب بیچنی پڑگئیں۔ گھر والوں نے جائیداد سے عاق کردیا تو سنیہا نے اس پر احسان کیا کہ اس سے شادی کرکے اپنا سیکرٹری رکھ لیا اب وہی چامکا اس ڈانسر کی ڈیل کرتا ہے۔ ڈراموں کی بھی اور دیگر سرگرمیوں کی بھی۔ اس پر تو مجھے تھیٹر اداکارہ نرگس کا وہ ڈائیلاگ یاد آگیا جو اس نے ایک ڈرامے میں جان ر یمبو سے کہا تھا ’’بیٹا تجھے صاحبہ جیسی شریف لڑکی مل گئی جو شادی کے بعد گھر بیٹھ گئی۔ اگر مجھ سے شادی کی ہوتی تو آج باہر گیٹ پر بیٹھ کر میری راتوں کی بُکنگ کررہا ہوتا۔ ‘‘
٭٭

ڈانسنگ کوئین کا چامکا:
کہا جاتا ہے کہ ا سٹیج  ڈرامے میں ہیجان انگیز رقص کی روایت نرگس نے ڈالی۔ ڈراموں میں دیگر اداکاراواں کے برعکس نرگس نے چست جملے بازی کی وجہ سے بھی کافی شہرت پائی ہے۔ یہ تو کھلم کھلا اظہار کرتی ہے کہ اس کی محبت سب سے مہنگی ہے۔ اس کے چامکوں میں تو بڑے بڑے کاروباری اور زمیندار ٹائپ لوگ ہیں۔ لیکن اس کی زندگی بھی ہر اسٹیج ڈانسر کی طرح دکھ سے خالی نہیں۔ نرگس کو بھی اپنی زندگی کے چند غلط فیصلے مہنگے پڑے ہیں۔ اس کی زندگی کا بدترین دور پولیس انسپکٹر عابد باکسر کے ساتھ مبینہ وابستگی کا دور تھا۔ اس دوستی کا انجام اُس وقت ہوا جب عابد باکسر نے ایک رات نرگس پر شدید تشدد کیا اور اپنے تیز دھار چاقو سے نرگس کے سر کے بال مونڈ دئیے۔ اس واقعے کے بعد نرگس نے مبینہ طور عابد باکسر کے خوف کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لیے ملک چھوڑ دیا۔ کینیڈا میں ڈیڑھ سال گزارے کے بعد 2003ء نرگس نئے بالوں کے ساتھ پاکستان واپس آئیں لیکن گوجرانوالہ میں ایک شو کے دوران انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا اور ان پر عریانی اور فحش ڈانس کا الزام لگا کر حوالات میں بھیج دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی باکسر صاحب کا ہاتھ تھا لیکن لے دے کر معاملہ حل ہوا اَور نرگس پھر سے اسٹیج کی دنیا پر جگمگانے لگیں ۔ مگر اب انہیں اپنے چامکوں سے نمٹنے کا گُر آگیا ہے اس لیے بے باکی اور دلیری میں نرگس کا کوئی ثانی نہیں۔ نرگس خود کہتی ہے کہ جب بڑے بڑے حکومتی افسر اور اہلکار مجرے کیلئے انہیں اپنے گھروں یا اڈوں پر بلواتے ہیں تو اس وقت ہم آرٹسٹ ہوتی ہیں ، لیکن جب یہی مجرے ہم روٹی، روزی کیلئے کرتی ہیں تو فحاشی کا الزام لگ جاتا ہے۔ نرگس کی ماں اور باپ دونوں کا تعلق فلم انڈسٹری سے رہا ہے، باپ سائونڈ ریکارٹسٹ اور ماں چھوٹی موٹی ایکٹرس تھی۔
نرگس کے حوالے سے خاور نعیم ہاشمی صاحب اپنی یادداشت میں لکھتے ہیں’’ نرگس سے زلزلہ زدگان کے ایک امدادی کیمپ میں ملاقات ہوئی۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ وہاں آئی تھی۔ نرگس نے اپنی ماں کے سامنے مجھے بتایا کہ وہ ایک فلم پروڈیوس کرنا چاہتی ہے۔ میں نے پروڈکشن میں آنے کی وجہ جاننا چاہی تو اس نے ماں کی جانب تکتے ہوئے جواب دیا،میں اس فلم میں بتائوں گی کہ ہم جیسی لڑکیوں کی مائیں اپنی ہی بیٹیوں کے ساتھ کیا کیا کرتی ہیں؟ نرگس نے کئی سال بعد فلم بلو 302 کے نام سے فلم بنائی۔ بلو اس کی ماں کا نک نیم ہے ، مجھے اس فلم کی کہانی کا کچھ پتہ نہیں ، لیکن باکس آفس پر یہ فلم کامیاب رہی تھی۔
نرگس نے کئی سال پہلے فیروز پور روڈ اچھرے والا شمع سینما ٹھیکے پر لیا اور اسٹیج ڈرامے پروڈیوس کرنے لگی۔ جب بھی ملتی تھیٹر دیکھنے کی دعوت دیتی۔ کئی ماہ بعد رات گیارہ بجے کے قریب شمع سینما والی سڑک سے گزر ہوا تو یہ سوچ کر گاڑی روک لی کہ چلو آج تھوڑا سا ڈرامہ ہی دیکھ لیتے ہیں۔ اس وقت وہاں کوئی آدمی موجود نہ تھا ، تمام لائٹس بند تھیں ، داخلی دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ میں نے دربان سے سوال کیا کہ کیا آج ڈرامہ نہیں ہو رہا؟ اس نے بتایاکہ ڈرامہ تو آدھا ختم بھی ہو چکا ، میرے کہنے پر وہ اندر گیا اور داخلے کی اجازت لے آیا۔ سینما ہال کے تمام دروازوں پر بڑے بڑے تالے لگے ہوئے تھے۔ مجھے چور دروازے سے ایک چھوٹے سے کیبن میں لے جایا گیا ، جہاں سے اسٹیج اور ہال کو دیکھا جا سکتا تھا ۔ اس وقت نرگس کسی گانے پر پرفارم کر رہی تھی۔ کیبن میں نرگس کی ماں اور باپ اسٹیج پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، ہال تماش بینوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ، مجھے بھی ایک کرسی پیش کی گئی ۔ گانا ختم ہوا اَور نرگس اسٹیج سے آئوٹ ہو گئی۔ چند ہی لمحوں بعد وہ تیزی سے ہمارے والے کیبن میں آئی اور واش روم میں گھس گئی، اس کے پیچھے تیزی سے ایک آدمی بھی کیبن میں داخل ہوا اور سانس لیے بغیر نرگس کے باپ سے مخاطب ہوتا ہوا۔ ابا جی ، ابا جی ، دیکھیں ، اب لوگوں کا موڈ بنا ہے اور یہ کہہ رہی ہے اور ڈانس نہیں کرے گی۔اور یہ شخص تھا، نرگس کا خاوند۔۔!!‘‘
عابد باکسر نے تو صرف جسمانی تشدد کیا تھا ، اس کے شوہر زبیر شاہ نے تو نرگس کی روح تک گھائل کر رکھی ہے۔ اسٹیج کی دنیا میں ڈانسر گمنام ہو مشہورِ زمانہ، جیسے ان کے چامکے ایک جیسے ہوتے ہیں، اسی طرح ان کے دکھ بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔
٭٭

 

ساتویں قسط یہاں ملاحظہ کریں  

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: