پنجاب یونیورسٹی گرلزہاسٹلز کے دفاع میں۔ میاں ارشد فاروق

0

معاصر ویب سائٹ پر شایع ہونے والے ایک مضمون، جس میں یونیورسٹی طالبات کے بارے میں بے بنیاداور نازیبا الزامات عاید کیے گیے ہیں، کا جواب پہلے ہی فارینہ الماس دے چکی ہیں لیکن کچھ پہلووں کی طرف نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس مضمون کو کسی سینیر ایڈیٹر نے قابل اشاعت قرار دیا ہو گا۔ شاید انکے لیے تمام مضامین کو ناقدانہ نظر سے دیکھنا ممکن ہی نہیں اور مضامین جس مقدار میں شایع کیے جا رہے ہیں اس میں اس بات کا امکان موجود ہے کہ کوئی ایسا مضمون بھی شایع ہو جاے جسکا شایع نہ ہونا ہی بہتر ہوتاہے۔
صاحب مضمون نے مادر علمی کے بارے میں جس سفاکی سے اپنے مضمون میں نیزہ بازی کی ہے اس سے لاتعداد لوگوں کو دکھ پہنچا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کبھی بھی گرلز ہاسٹلز میں لڑکیوں کو شام آٹھ بجے کے بعد ہاسٹل سے نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ کسی قسم کی غیر متوقع صورت میں طالبہ کے والدین سے بذریعہ فون اجازت لی جاتی ہے اور پھر جا کر کہیں طالبہ کو باہر نکلنے کی اجازت ملتی ہے۔ یہاں پر ایک واقعہ مجھے یاد آرہا ہے جو شاید سال ۴۰۰۲ میں پیش آیا، جب میں نے وکالت کا آغاز ہی کیا تھا۔ ایک سائل میرے پاس آیا کہ اسکی بیٹی کو کسی ہاسٹل کی وارڈن وہاں سے آنے کی اجازت نہیں دے رہی حالانکہ گرمیوں کی چھٹیاں ہو چکی تھیں۔ میں نے کیس فایل کرنے سے پہلے وارڈن صاحبہ، جو کوئی بہت درشت مزاج خاتون تھیں، سے بات کرنا مناسب خیال کیا لیکن وہ نہ مانیں۔ کافی تکرار کے بعد جب میں نے انہیں سختی سے کہا کہ اگر وہ بچی کو اسکی آزاد مرضی کے خلاف ہاسٹل میں رکھتی ہیں تو یہ حبس بے جا کا عمل ہو گا جس کے خلاف میں عدالت عالیہ میں درخواست برائے پروانہ حاضری داخل کروں گا۔ دھمکی کارگر ہوئی اور ہمارا مسلہ حل ہو گیا۔ اصل وجہ یہ تھی کہ کالج میں کوئی فنکشن ہونا تھا جس میں بچیوں کی تعداد دکھائی جانی مقصود تھی۔ جس طرح حکومتی جلسوں میں بے چارے ملازمین کو لا بٹھایا جاتا ہے، اسی طرح ہاسٹل میں مقیم لڑکیوں کو چند دن روک لیا گیا کہ فنکشن مذکورہ کامیاب دکھایا جا سکے۔ اس معاملہ سے مجھے پتہ چلا کہ ہاسٹلز میں داخلے کے قواعد و ضوابط اور نظم و ضبط کس قدر سخت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو معاملات کہیں کے کہیں پہنچ جائیں۔
رات کو یونیورسٹی کینال روڈ پر کھڑی کسی بھی لڑکی کو ہاسٹل کی لڑکی سمجھ لیا جاے تو اس سے زیادہ احمقانہ بات میرے خیال میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ہاسٹل کی لڑکی تو شام آٹھ بجے کے بعد ہاسٹل سے نکل ہی نہیں سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی “اور” خواتین وہاں کھڑی ہوتی ہوں جو کسی بھی مصروف شاہراہ پر کھڑی ہو سکتی ہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ کو اسپر سخت کارروای عمل میں لانی چاہیے۔ ۔ مضمون نگار نے خود لکھا ہے کہ وہ لڑکیاں واپسی پر برکت مارکیٹ اتری تھیں نہ کہ کسی ہاسٹل کے پاس۔ یہ بات میںذمہ داری سے کہ سکتا ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی سمیت کسی بھی سرکاری ہاسٹل میں سے کسی لڑکی کا رات کو باہر نکل آنا تقریبا ناممکن ہے۔ لاکھوں لوگ اپنی راج دلاریوں کو محض اعتقاد کے بھروسے پر ہاسٹلز نہیں بھیج دیتے بلکہ اسکے پیچھے اداروں کی ساکھ اور سخت نظم وضبط موجود ہے۔ صاحب مضمون نے جس غیر ذمہ داری اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پر والدین کو بلا جواز تشویش لاحق ہوی ہے اور یہ نہایت قابل افسوس امر ہے۔


ایک ٹیکسی ڈراییور کی سوچ کتنی پختہ یا سنجیدہ ہو سکتی ہے کہ اسپر اعتبار کر لیا جاے اور بغیر کسی تصدیق کے اسے ایک عوامی سایٹ پر بھیج دیا جاے، یہ نہایت حیران کن ہے۔


پھر مضمون نگار نے یونیورسٹیوں میں ہونے والے کنسرٹس میں شراب نوشی کرنے والے لڑکوں کا حوالہ ایسا بے محل کیا ہے کہ اس سے دو منفی تاثر ابھر کر سامنے آئے، پہلا یہ کہ ایسے کنسرٹ شاید پنجاب یونیورسٹی میں ہوتے ہیں جو کہ بالکل غلط بات ہے۔ بڑی جامعات میں اس قسم کی ایکٹیوٹی کی اجازت نہیں ہوتی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی موجودگی میں کسی دوسرے کو اپنی مرضی کرنے کی اجازت مل ہی نہیں سکتی۔ دوسرا تاثر یہ پیدا ہوا ہے کہ تمام اداروں میں موسیقی کی مخلوط محفلیں منعقد ہوتی ہیں جو کہ ایک گمراہ کن افواہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں اس طرح کی مخلوط پارٹیاں ہوتی ہوں لیکن بحرحال ایسا کھلے عام نہیں ہوتا۔ پرایویٹ سیکٹر میں بھی یونیورسٹی طالبعلم کو اتنا میچور سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنا برا بھلا سمجھ سکتا ہے اور وہ انکی پرائیویسی میں مداخلت کرنے کا مینڈیٹ نہیں رکھتیں لیکن ہاسٹلز میں مقیم لڑکیاں ہاسٹل انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہیں۔
معاشرے کی کئی پرتیں ہوتی ہیں اور عام دیندار افراد معاشرے کی ان سیاہ پرتوں سے کم ہی واقف ہوتے ہیں جہاں جسم تو تھرک رہے ہوتے ہیں لیکن اسکی تہہ میں زندگی سسک رہی ہوتی ہے اور سلسلہ نفس جاری رکھنے کے لیے لوگوں کو اپنا  آپ، اپنی عزت اور اپنے مستقبل کو گروی رکھنا پڑتا ہے۔ یہ سیاہ پرت دنیا کے ہر معاشرے میں موجود ہوتی ہے کیونکہ غربت، عزت گروی رکھنے والے حالات پیدا کرتی ہے اور بے محابہ سرمایہ عزتیں اچھالنے والے سوداگر پیدا کرتا ہے، اس آجر اور اجیر کے رشتے کو انسان کی بے رحم فطری ضرورتیں قایم رکھتی ہیں۔ اور اس کاروبار کو تحفظ دینے والے طاقتور لوگ بھی جو عموما اس کاروبار میں شریک کار بھی ہوتے ہیں، یہ ہر دور میں ہوا ہے اور جب تک انسان اپنے کھویا ہواوقار حاصل نہیں کر لیتا اس وقت تک یہ گھناونا کاروبار چلتا رہے گا۔ انسانی وقار کی بحالی تک اسکا کوئی حل نہیں ہے۔ اسی لیے معاشروں میں انکے لیے مخصوص جگہیں مختص کی گئیں اور جب بھی ان جگہوں پر کسی مرد حق نے بلا سوچے سمجھے حملہ کیا تو اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ مہذب علاقوں میں خفیہ قحبہ خانے کھل گئے۔ یہ معاملات صدیوں سے پیش آرہے ہیں لیکن ادب اور صحافت میں انکا ذکر ملفوف اندازمیں کیا جاتا ہے اور اگر کوئی صاحب ملفوف تحریر نہ لکھ سکتے ہوں تو انکو اپنے ذہن میں پیدا ہونے والی بے بنیاد تشویش کو اپنے آپ تک ہی محدود رکھنا چاہیے اور لوگوں کو خوامخواہ پریشان نہیں کرنا چاہیے۔ 


معاشرے کی کئی پرتیں ہوتی ہیں اور عام دیندار افراد معاشرے کی ان سیاہ پرتوں سے کم ہی واقف ہوتے ہیں جہاںجسم تو تھرک رہے ہوتے ہیں لیکن اسکی تہہ میں زندگی سسک رہی ہوتی ہے


ایک ٹیکسی ڈرائیور کی سوچ کتنی پختہ یا سنجیدہ ہو سکتی ہے کہ اس پر اعتبار کر لیا جاے اور بغیر کسی تصدیق کے اسے ایک عوامی سایٹ پر بھیج دیا جاے، یہ نہایت حیران کن ہے۔ ایک لکھاری اور ٹیکسی ڈراییور میں فرق ہونا چاہیے۔ لکھاری اسلیے لکھتا ہے کہ وہ عوام الناس کی فکر کو اجالا دے سکتا ہے اور رائے عامہ کو مطمین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے اسے دوبارہ سہ بارہ دیکھے اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات پر غور کرے۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ رات کو کسی لڑکی کا ہاسٹل سے باہر آنا یا واپس جانا بالکل ناممکنات میں سے ہے۔ اگر موصوف ذرا غور فرمانے کی زحمت کر لیتے تو انکو اصل کہانی سمجھ میں آجاتی جسے سمجھنا کوئی خاص مشکل نہ تھا، اگر ارادہ ہوتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: