داستان گو —- قسط نمبر 3 — ادریس آزاد

0

’’ بیوٹفل! مسٹرڈارون! یہ جگہ تو بڑی رومینٹک ہے‘‘
ڈاکٹر کیمیلا نے خاصے پُرجوش لہجے میں کہا۔ اِس وقت یہ لوگ ڈارون کے مکان سے باہر درختوں کے ایک جھنڈ تلے سبزے کے قالین پر بیٹھے تھے۔ یہ خاصی کھلی جگہ تھی۔ ڈارون کے سارے مہمان سما گئے۔ دوپہر کا وقت تھا اور الفا سینٹوری کی روشنی جُھنڈ کے گھنے پتوں میں سے چھِن چھِن کر آرہی تھی۔ موسم معتدل تھا۔ ہلکی سی ہوا مسلسل چل رہی تھی اور جھنڈ کے پیڑوں کی شاخوں پر انواع و اقسام کے پرندے پھدکتے پھر رہے تھے۔ ڈارون کو یہ جگہ بہت پسند تھی۔ وہ یہاں کئی کئی گھنٹے بیٹھا مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ اِن سب لوگوں کو یہاں لانے کا مشورہ ڈارون نے دیا تھا۔ دراصل وہ پروفیسر ولسن اور اُن کی ٹیم کے ساتھ بہت سی باتیں کرنا چاہتاتھا۔ ڈارون کے دیگر مہمان بھی جو مختلف صدیوں سے اُٹھائے گئے تھے، اُتنے ہی مشتاق تھے۔ جب سب لوگ بیٹھ گئے تو ایما نے بات کا آغاز کیا،
’’ویل! اِس سے پہلے کہ ہم لوگ آپ لوگوں سے اپنے مطلب کے سوال کریں۔ آپ اگر ہم سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو آپ کا حق پہلے ہے۔ میں اندازہ لگا سکتی ہوں کہ ابھی آپ لوگوں کی کیا کیفیات ہونگی۔ یکایک اتنی مختلف اور ناقابلِ یقین باتیں ایک ساتھ سننے کو ملیں تو کوئی بھی اپنے حواس کھو سکتاہے۔ سو! آپ لوگ کچھ پوچھنا چاہتےہیں ہم سے، ہم سب سے، تو ہم حاضر ہیں‘‘
پروفیسر ولسن ابھی تک پیڑوں پر میٹھی بولیاں بولتے پرندوں میں مگن تھا۔ لیکن اس نے ایما کی بات پورے دھیان سے سنی تھی۔ اس نے سرگھما کر ایما کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا،
’’کیا یہ سب کچھ آرٹیفیشیل ہے؟‘‘
ولسن کا سوال عجیب تھا۔ کسی نے جواب نہ دیا تو ایلس نے ولسن سے پوچھا،
’’آرٹیفیشیل؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آرٹیفیشیل کیوں کہا آپ نے پروفیسر؟‘‘
ولسن نے ایلس کی بات سن کر اپنے سوال کی وضاحت کی،

’’میرا مطلب ہے کہ یہ پرندے، یہ درخت، یہ نہریں، یہ سمندر، یہ ساری دنیا اور یہ سب کچھ، کیا یہ سب انجنئرنگ کا کمال ہے؟ یعنی سائنس، یعنی بائیو کیمسٹری اور جینٹکس اور کوانٹم کمپیوٹرز اور نینو ٹیکنالوجی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب سائنس فکشن جو ہم ہالی وُوڈ کی فلموں میں دیکھا کرتے تھے، کیا یہ سب کچھ وہی ہے؟‘‘
ڈارون، پروفیسر ولسن کی بات کے دوران مسلسل مُسکراتا رہا۔ باقی لوگ سنجیدہ تھے۔ ڈارون نے ولسن کو جواب دینے سے پہلے زمین سے تھوڑی سی مِٹی اُٹھائی اور اپنی مُٹھی وِلسن کے سامنے کھولتے ہوئے کہنے لگا،
’’یہ مِٹی جب تک مجھے پودے اُگا کر دیتی رہیگی، میں یہی سمجھونگا کہ یہ سب حقیقی ہے۔ 1861 میں بھی یہ مِٹی مجھے پودے اُگا کر دیتی تھی، تب بھی میں یہی کہتا تھا کہ یہ سب حقیقی ہے۔ پروفیسر آپ کا سوال فلسفیانہ نوعیت کا ہے۔ یہ دیکھیں! کیا میری مُٹھی میں موجود یہ مِٹی آپ کو کسی سِمولیشن کا حصہ لگتی ہے؟‘‘
ڈارون کی بات سے ولسن کی کچھ خاص تسلی نہ ہوئی لیکن نہ جانے کیوں اُس نے سوال ہی بدل دیا،
’’اچھا! ہمیں یہ بتائیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ مطلب ہمارا کیا بنےگا؟ آپ لوگ تو کافی عرصہ سے یہاں ہیں۔ سڈرہ کمیونٹی ہمارے بارے میں کیا فیصلہ کرے گی؟‘‘
اس سے پہلے کہ کوئی اور جواب دیتا۔ ڈارون کے دیگر مہمانوں میں سے ایک نوجوان خاتون جن کا نام’ کائیل‘ تھا خود ہی بول پڑیں،
’’آپ لوگ تو ابھی وہی ہیں جنہوں نے اپنی ماؤں کے بطنوں سے جنم لیا تھا۔ سڈرہ کمیونٹی آپ کا قتل نہیں کرسکتی۔ میرا مطلب ہے وہ آپ کو مار تو نہیں سکتے اور اس لیے موجودہ زندگی پر آپ کا پورا حق ہے۔ البتہ یہ بتانا مشکل ہے کہ آپ کو کہاں سیٹل کیا جائےگا‘‘
پروفیسر ولسن نے خاتون کی طرف غور سے دیکھا اور پھر سوچتی ہوئی نظرو ں کے ساتھ سوال کیا،
’’آپ رَشیَن ہیں بیٹا؟‘‘
’’نہیں پروفیسر! میں جرمن تھی۔ اب تو ڈیڑھ سوسال سے سڈریَن ہوں‘‘
سِڈریَن غالباً اس نے سِڈرہ کی وجہ سے کہا تھا۔لیکن دانش کو خیال آرہا تھا کہ سڈرہ تو پوری کمیونٹی کا نام ہے۔ تمام، ایک کھرب انسانوں کی اس کمیونٹی کو سِڈریَن کہا جاسکتاہے۔ تو کیا اِن لوگوں کے ہاں، قوم، نسل، وطن، رنگ، زبان، کلچر وغیرہ کا تصور بھی ختم ہوگیاہے؟ یہ بات اُسے خوشگوار لیکن عجیب لگ رہی تھی۔لڑکی کی بات سن کر پروفیسر نے پھر کہا،
’’اوہ اچھا! جرمن۔ آپ ایگزیکٹلی کس دور میں پیدا ہوئی تھیں اور کس دور میں . . . . . .. ‘‘
پروفیسر کچھ کہتے کہتے رُک گیا۔ سب سمجھ گئے تھے کہ پروفیسر کیا کہنا چاہتا تھا۔ وہ یقیناً یہی کہنے لگا تھا کہ ’’آپ کس دور میں پیدا ہوئیں اور کس دور میں وفات پائی؟‘‘۔ لیکن پروفیسر کے منہ سے شایدوفات کے الفاظ برآمد نہ ہوسکے۔ البتہ کائیل خود پروفیسر کی بات سمجھ گئی۔ اس نے جواب دیا،
’’جی میں ایگزیکٹلی 1911 میں پیدا ہوئی اور 1934 میں جب میری عمر تئیس سال تھی، میرا مَرڈر ہوا تھا‘‘
کائیل کے منہ سے مَرڈر کا لفظ سن کر سب چونک گئے۔ لیکن اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا، ڈارون نے ازخود بتانا شروع کردیا،
’’کائیل، یہودی قبیلے سے تھی۔ اِس کا خاندان جرمنی میں مقیم تھا۔ یہ ’شوواہ‘ میں ماری گئی۔ اُف !سروائیول کے عہد کا یہ سانحہ انسانی تاریخ کا تاریک ترین واقعہ ہے‘‘
’’شوواہ؟‘‘
ڈارون نے شوواہ کا استعمال کیا تو ایلس کے چہرے پر ’’کچھ نہ سمجھ آنے‘‘جیسے تاثرات اُبھرے۔ ڈارون نے کسی قدر حیرت سے ایلس کی طرف دیکھا۔ لیکن ڈارون سے پہلے پروفیسر ولسن نے بات سمجھادی،
’’شووواہ، ہولوکاسٹ کو کہتے ہیں۔ ہولوکاسٹ دوسری جنگِ عظیم کے زمانہ میں پیش آنے والا ایک درد ناک سانحہ ہے۔ ہٹلر نے جرمنی میں رہنے والے یہودیوں کو بہت بے دردی سے قتل کروایا تھا۔ ساٹھ لاکھ یہودی ہولوکاسٹ میں ماردیے گئے تھے۔ عورتوں اور بچوں کے ساتھ اتنا ظلم ہوا کہ پڑھ کر رُوح کانپ جاتی ہے۔ انسانیت کے چہرے پر یہ سانحہ ایک بدنُما داغ ہے‘‘
کائیل کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔ آج سولہ سو سال بعد بھی اُس کا زخم ہرا تھا۔ اس نے آنسوچھُپانے کے لیے مُنہ دوسری طرف کرلیا۔سب لوگ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔چند ثانیے بعد ایما نے بات شروع کی،
’’کائیل بھی انہیں یہودیوں میں شامل تھی۔ اس کی موت کا واقعہ نہایت دردناک ہے۔ ہم آج کی محفل میں ایسا سوگوار واقعہ نہیں چھیڑنا چاہتے۔ اب تو صدیاں گزر گئی ہیں۔ خیر! تو ہم اس سے پہلے کیا بات کررہے تھے؟ یہ کہ، آپ لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا۔ کائیل نے ٹھیک بتایا۔ آپ لوگوں کے بارے میں کوئی اچھا ہی فیصلہ ہوگا۔ کیا ابھی تک مائمل یا سڈرہ کی انتظامیہ میں سے کسی نے آپ کو کچھ نہیں بتایا کہ آپ کے بارے میں اِن لوگوں نے کیا فیصلہ کیا ہے؟‘‘
دانش جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا۔ ایما کے سوال کا جواب دینے لگا،
’’کچھ خاص نہیں۔ پہلے دن ہی نائتلون سے میں نے یہی سوال کیا تھا تو اس نے جواب دیا کہ آپ کا کیس بالکل مختلف ہے۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ جیسا آپ چاہیں گے سِڈرہ کی مجلس ِ شوریٰ ویسا ہی فیصلہ کرے گی۔فکرمند نہ ہوں۔ لیکن ابھی تک، البتہ کسی نے ہم سے کچھ پوچھا نہیں۔ مطلب، ہماری کوئی خواہش وغیرہ‘‘
دانش نے بات ختم کی اور ساتھ ہی دوبارہ شروع کردی،
’’مسٹرڈارون! یہ ’پالما‘ کیا چیز ہے؟ میں نے یہ لفظ اِن دنوں میں کئی مرتبہ سنا ہے؟‘‘
دانش کی بات کے ساتھ سب مہمانوں نے سرہلایا۔ سب نے ہی یہ نام بار بار سنا تھا۔ ڈارون نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے بتایا،
’’یہ ایک ادارہ ہے۔ جیسے بیسویں صدی میں ایک ادارہ ہوا کرتا تھا، ناسا۔ پالما بھی ایسا ہی ادارہ ہے۔ یہ پوری گلیکسی کی کاسمولوجی پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ آباد کیے جاسکنے کے قابل سیّارے تلاش کرتارہتاہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سڈرہ کمیونٹی کا سب سے اہم ادارہ ’پالما‘ ہے۔ آپ لوگ تو خود فزکس کے لوگ ہیں‘‘
پروفیسر ولسن اور اُن کی پوری ٹیم کو پالما کے بارے میں جان کر دلی خوشی ہوئی۔
پروفیسر بوسٹن کی تو باچھیں کھل گئیں۔ انہوں نے قدرے جذباتی لہجے میں پوچھا،
’’ہم لوگوں کو پالما کے ساتھ نہیں رکھا جاسکتا؟ ہم امریکہ میں تھے تو ’ناسا‘ کے لیے کام کرتے تھے۔ یہاں بھی تو بالکل ویسے کا ویسا ادارہ موجود ہے اور ہم اپنے وقت کے بہترین سائنسدان ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو بہت اچھا ہوجائے گا۔ میں تو کم ازکم اب بھی فزکس کے لیے اُتنا ہی بے تاب ہوں جتنا آج سے ساڑھےچار سال پہلے تھا‘‘
ڈاکٹرکیمیلا نے اپنے شوہر ڈاکٹربوسٹن کو کہنی ماری، ساتھ ہی ہنستے ہوئے کہا،
’’ساڑھے چار سال نہیں، پندرہ سو سال یعنی ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہم ناسا کے لیے کام کیا کرتے تھے جناب‘‘
ڈاکٹرکیمیلا کے انداز پر سب ہنسنے لگے۔
اسی اثنأ میں وہی ’ایک جیسی یونیفارم‘ والے خوبصورت لڑکے درختوں کی اوٹ سے نمودار ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں طشتریاں تھیں، جن میں انواع و اقسام کے پھل رکھے تھے۔ لڑکے اِن لوگوں کے پاس آئے اورسب کے سامنے زمین پر ہی پھلوں سے بھری طشتریاں سجانے لگے۔ مہمان اور میزبان سب کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ ڈاکٹر چینگ جو اِن لڑکوں کو نسبتاً عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے معاً بول اُٹھے،
’’یہ نوجوان جو یہاں خدمت کے کام پر مامور ہیں۔ کیا یہ لوگ خادِمین ہیں؟ مطلب کسی قسم کے غلام ہیں؟ میں سمجھ نہیں پایا۔ جب دنیا اِتنی حسین ہوچکی ہے تو کیا انسانوں کے لیے انسانوں کی نوکری کرنا جائز ہے؟ اب بھی جائز ہے یہ نارروا سلوک؟ حیرت کی بات ہے ویسے؟‘‘
چینگ بنیادی طور پر چائنیز تھا اور شاید کمیونزم اُس کے خون میں شامل تھا۔ اسی لیے سب سے پہلے چینگ کو ہی اِس معاشرے کا یہ نقص نظر آیا۔ چینگ کا سوال مکمل ہوا تو ’نہایت خاموش طبیعت کے مالک پروفیسر ایلن گُوتھ‘‘ بول پڑے،
’’نہیں ایسا نہیں ہے۔ یہ لڑکے ڈارون کے ملازم یا خادمین نہیں ہیں۔ یہ کمیونٹی کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری ہے بلکہ یہ اِن لڑکوں کی اپنی طرف سے چُنی گئی ذمہ داری ہے۔ یہاں ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی فرد کسی کام سے اُکتا جائے تو اس کو اس کی پسند اور خواہش کے مطابق کوئی نیا کام سونپ دیا جاتاہے۔ اگر کوئی فرد، کوئی بھی کام نہ کرنا چاہے تو اُسے بھی اجازت دے دی جاتی ہے کہ بے شک وہ کوئی بھی کام نہ کرے۔ میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ ایک سیّارہ جس کا نام ’’شرَبْری‘‘ ہے، وہاں صرف وہی لوگ رہتے ہیں جو کوئی بھی کام نہیں کرتے۔ شربری، الفا سینٹوری کا سب سے بڑا سیّارہ ہے۔ وہاں صرف باغات ہی باغات اور نہریں ہی نہریں ہیں۔ لوگ رہتے ہیں۔ جو جی چاہے کھاتے پیتے ہیں، جہاں جی چاہے آتے جاتے ہیں اور جتنا جی چاہے ناچتے گاتے ہیں لیکن یہ سب ایسے لوگ ہیں جو کوئی بھی کام نہیں کرتے یا نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن یہ بھی میں نے سنا ہے کہ اُن میں سے اگر کوئی فرد اپنی مرضی سے کام کرنا چاہے تو اُسے اُس کی خوشی کے مطابق کوئی نہ کوئی کام سونپ کر شرَبْری سے واپس بلا لیا جاتاہے‘‘
ایلن گُوتھ کو پہلی بار بات کرتا دیکھ کر دانش خوشی سے جھوم اُٹھا۔ وہ اپنے زمانے میں ایلن گُوتھ کا بہت بڑا فین تھا۔ اس نے نوٹ کیا کہ اب پروفیسر ایلن گُوتھ کی گردن ٹیڑھی نہیں تھی اور وہ ہلکا سا کُبڑا پن جو اکیسویں صدی میں ان میں نظر آتاتھا، اب مفقود ہوچکا تھا۔ لیکن ایک بات دلچسپ تھی کہ ایلن گُوتھ کی شکل و شباہت بالکل وہی تھی۔ ایسا نہیں تھا جیسا ڈارون نے کیاتھا۔ ڈارون کا پرانی دنیا والا حلیہ یہاں نہیں تھا۔ نہ وہ لمبی سی داڑھی اور نہ وہ عمررسیدگی۔ یہاں ڈارون کی عمر چالیس سال سے کچھ اُوپر معلوم پڑتی تھی اور چہرہ کلین شیوڈ تھا۔
**********
مائمل کے سامنے پچیس لوگ بیٹھے تھے۔ یہ ایک بڑا سا گول ہال تھا۔ ہال کے عین وسط میں ایک بڑا سا راؤنڈ ٹیبل دھرا تھا۔ ٹیبل کے چہار اطراف سڈرہ کمیونٹی کے پچیس بڑے لوگ بیٹھے کسی مسئلے پر گفتگو کررہے تھے۔ یہ سِڈرہ کی بنیادی مجلسِ شوریٰ تھی۔ گزشتہ پانچ سو سال سے سِڈرہ کمیونٹی کی مجلسِ شوریٰ اِسی طرح ہرمعاملے پر نہایت متانت کے ساتھ گفتگو کرتی تھی۔ گزشتہ پانچ سو سالوں میں صرف شوریٰ کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا باقی سب کچھ وہی تھا۔ یہ پچیس لوگ نہ صرف ’ہیومین ورژن ٹُو‘ تھے بلکہ نہایت اعلیٰ درجے کی عادات کے ساتھ پروان چڑھنے والے، سِڈرہ کے سب سے قابل اور دانا لوگ تھے۔ ان میں سے کسی کی حقیقی عمر چھ سوسال سے کم نہ تھی۔ ہرایک نے لگ بھگ ہرمضمون میں آخری درجے کی تعلیم وتربیت حاصل کررکھی تھی۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے اپنے وقت میں، گھریلو خادموں کے طور پر کام نہ کیا ہو۔یعنی وہ لڑکے جو ڈارون کے گھر میں خدمت پر مامُور تھے، دراصل ایسے ہی عظیم مقاصد کے لیے’’ خدمت ‘‘ جیسا سب سے اعلیٰ درجے کا تعلیمی کورس کررہے تھے۔
مائمل نے یہ اجلاس نئی صورتحال پر مشاورت کے لیے بلایا تھا۔ پروفیسر ولسن اور اس کے ساتھی ’سڈرہ کمیونٹی ‘ کے لیے ایک بالکل نیا کیس تھے۔ اِس سے قبل جتنے لوگوں کو خلاسے دریافت کیا گیا تھا، اُن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو کبھی کسی وارم ہول سے گزرا ہو۔ وہ تو بعد کی صدیوں کے لوگ ہوتے تھے۔ یعنی اُن صدیوں کے جب موت پر قابوپالیا گیا تھا۔ ایسے لوگوں کو جب دریافت کرلیا جاتا تو سڈرہ کی مجلس شوریٰ ان کے بارے میں کوئی منفرد فیصلہ نہ سناتی تھی کیونکہ وہ اپنی عمروں کے اعتبار سے سڈرہ کمیونٹی کا ہی حصہ ہوتے تھے۔ انہیں دریافت کرنے کے بعد ’’رینو ویٹ‘‘کیا جاتا اور جس سیّارے پر رکھنا ضروری سمجھا جاتا، انہیں اُس پر اُن کی خواہش کے مطابق کوئی کام سونپ کر بھیج دیا جاتاتھا۔ پروفیسر ولسن کی ٹیم تو اُس دور کے لوگوں پر مشتمل تھی جنہوں نے ابھی پہلی زندگی میں بھی موت کا ذائقہ نہیں چکھا تھا۔ یہ لوگ تو ایک بار بھی ’’رینوویٹ‘‘ نہ ہوئے تھے۔
مالما کو قدیم دور، یعنی موت پر قابُو پالینے سے قبل کے دور کی کئی شِپس بھی ملتی رہتی تھیں لیکن اُن میں پائے جانے والے انسان ہمیشہ مُردہ پائے گئے تھے۔ کبھی کوئی زندہ انسان نہیں ملا تھا۔تب اُن لوگوں کے ڈی این اے سے انہیں زندہ کیا جاتا اور ’پرسٹینج‘ کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی نہ کسی سیّارے پر منتقل کردیا جاتا۔
پروفیسر ولسن اوراُن کی ٹیم کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مائمل نے پوری مجلسِ شوریٰ کو بلایا تھا۔ یہاں سب لوگ اپنے حقیقی جسموں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ یعنی کوئی رکن اپنے اوتار میں نہیں تھا۔ ہرکوئی سچ مُچ موجود تھا۔ مائمل نے کافی دیر کی گفتگو اور مشاورت کے بعد بالآخر کہا،
’’اچھا! تو اب ہم لوگ کس فیصلے پر پہنچے ہیں؟ سائی شین! آپ کابینہ کا مشترکہ فیصلہ سب کو پڑھ کر سنادو! تاکہ ریکارڈ ہوجائے‘‘
مائمل نے ایک نہایت ہی حسین خاتون کو مخاطب کیا۔ ’سائی شین‘ اپنی نشست پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی اور بغیر کسی کاغذ یا میڈیا کو دیکھے، صرف زبانی زبانی پوری کابینہ کے فیصلے کے تمام نکات ایک ایک کرکے سنانے لگی،
’’نمبر ایک: ’پروجیکٹ اینڈرو ‘ کے تمام ارکان ’سڈرہ کمیونٹی‘ کے اس وقت تک معزز مہمان ہیں جب تک وہ خود سڈرہ کی شہریت قبول کرنے کے لیے راضی نہ ہوں۔
نمبردو:’ پروجیکٹ اینڈرو‘ چونکہ اپنا مِشن کامیاب کرکے لوٹا ہے اس لیے پروجیکٹ کے تمام ارکان اعلیٰ انسانی اعزازات سے نوازے جائینگے۔
نمبرتین:’پروجیکٹ کے ہررُکن کو ’رینوویشن‘ سے متعلق کم سے کم وقت میں پوری طرح آگاہ کیا جائیگا۔
نمبرچار: ’ چونکہ وہ لوگ ابھی فوت نہیں ہوئے، اس لیے پروجیکٹ کے ہررُکن کو حق حاصل ہے کہ اگر وہ اپنے دور میں واپس لوٹ جانا چاہیں تو ہم اُنہیں ’گریوٹی بس‘ فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
نمبرپانچ:’اگروہ لوگ سڈرہ کمیونٹی کا حصہ رہنا چاہیں تو پروجیکٹ کے ہررُکن کو سڈرہ کمیونٹی کے تعلیمی نظام کے مطابق ایجوکیٹ کیا جائیگا اور بوقتِ ضرورت رینوویٹ کیا جائیگا۔
نمبرچھ:’اگر پروجیکٹ کے کسی رُکن نے ’رینوویٹ‘ ہونا قبول نہ کیا تو انہیں اُن کی پہلی زندگی مکمل کرنے کی کھلی اجازت ہوگی اور جب ضرورت پڑے گی، دوسری زندگی سے متعلق اُن کی اجازت سے، ’پرسٹنیج ‘ کے تحت عمل کیا جائیگا۔
نمبرسات:’پروجیکٹ اینڈرو کے ہررُکن کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنے زمانے کے جتنے لوگوں کا ’معاد‘ چاہینگے، ’وِلسما‘ اُن لوگوں کو جگانے کا پابند ہوگا۔
نمبرآٹھ:’سُوریا زُون‘ کے آٹھ سیّاروں سے متعلق یہ فیصلہ ہوا ہے کہ پروجیکٹ کے ہرفرد کو اُن آٹھ سیّاروں کی سیر کے لیے لے جایا جائےگا اور سیّارہ زمین پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا موقع دیا جائےگا لیکن اس اہتمام کے ساتھ کہ پروجیکٹ کے تمام ارکان پر اَسّی ہزار باشعور ’سرویلنس‘ یعنی نگہبان آنکھیں متعین کی جائینگی، تاکہ پروجیکٹ کے معزز ارکان سے کسی بھی قسم کا کوئی ایسا سَہو سرزد نہ ہو جس سے ’سُوریازُون‘ کے اَمن میں نقص کا اندیشہ ہوسکتاہے۔
نمبرنو:’اِن تمام فیصلوں پر عمل سے پہلے پوری کابینہ کی گفتگو کا ریکارڈ ففتھ ڈائمینشن میں ارسال کیا جائے گا اور ’کوانٹم سیٹلائٹس‘ سے کلیئرنس سنگلز آنے تک انتظارکیاجائیگا‘‘
سائی شین نے کابینہ کا فیصلہ سب کو سنایا جسے سڈرہ کے ایک خودکار نظام کے تحت’تاریخ‘ میں ریکارڈ کرلیا گیا۔اب مائمل اپنی نشست سے اُٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ سب لوگ جہاں بیٹھے تھے وہیں بیٹھے رہے۔ مائمل نے کھڑے ہوکر اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی اپنی پیشانی پر رکھی اور آنکھیں بند کرلیں۔اگلے لمحے اُس نے اپنے ذہن کو مکمل طور پر تاریک کرلیا۔کوئی سوچ، کوئی خیال، کوئی شبیہ، کوئی تصویر اب مائمل کے دماغ میں نہیں تھی۔ وہ کچھ بھی نہیں تھی۔ وہ فقط ایک ’مائینڈ لیس‘ باڈی تھی۔ چند ثانیے وہ اِسی طرح کھڑی رہی یہاں تک کہ اُس کے دماغ میں ایک سبزرنگ کا نقطہ سا روشن ہوا۔ مائمل نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔اُس نے ایک نظر سب لوگوں پر ڈالی۔ کابینہ کے تمام ارکارن مائمل کی جانب دیکھ رہے تھے۔ مائمل نے سرکو ہلکی سی جنبش دی تو سب چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ مائمل نے دراصل اُنہیں بتایا تھا کہ ففتھ ڈائمینشن سے ’’گرین سگنل‘‘ آیا ہے۔اب اُن میں سے ہرایک اپنے طور پر بھی کوانٹم سیٹلائٹ کے نتائج دیکھ سکتاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ مائمل کے سرہلاتے ہی پوری کابینہ کے ہررکن نے فوراً آنکھیں بند کرلیں۔ کچھ ہی دیر میں سب نے مائمل کے نیتجہ کی تصدیق کردی۔
کوانٹم سیٹلائیٹس پانچویں ڈائمینشن میں نصب تھے۔ سڈرہ کمیونٹی کے کچھ لوگ جو پانچویں ڈائمینشن میں مستقل طور پر چلے گئے تھے، وہاں سے امکانات کی تدوین میں سڈرہ کمیونٹی کے اربابِ دانش کی مدد کرتے۔ سڈرہ کمیونٹی کا کوئی بھی انسان جب پانچویں ڈائمینشن کے لیے عازمِ سفر ہوتا تو اُسے پہلے کوانٹائزڈ ہونا پڑتا۔ کوانٹائزڈ ہوجانے والا انسان واپس، تھری ڈی کی اِس چاند تاروں والی کائنات میں نہیں لوٹ سکتاتھا لیکن چونکہ وہ پانچویں ڈائمینش میں موجود ہوتا اس لیے، ’پالما‘ کے سیٹلائٹس اُس کی فریکونسیز پکڑلیتے اور یوں سڈرہ کے عالی دماغ لوگ ففتھ ڈائمینشن میں موجود انسانوں کے ساتھ رابطہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔ یہ رابطہ بعض اہم فیصلوں کے موقع پر ضروری ہوجاتا کیوںکہ ففتھ ڈائمینشن سے امکانات کی تمام شاخوں کو دیکھا جاسکتا تھا۔ اور سڈرہ کے اربابِ دانش نہیں چاہتے تھے کہ وہ کبھی کسی بُرے امکان کا انتخاب کریں۔
مائمل نے واپس اپنی نشست پر بیٹھتے ہی ایک ہلکے سے قہقہہ کے ساتھ مجلس کے ارکان سے کہا،
’’میں تو بہت خوش ہوں۔ تاریخ کے مطالعہ کے دوران میں اِن تمام صدیوں سے گزری ہوں۔ اِن لوگوں نے جو کچھ دیکھا ہے ایک تاریخی دستاویز کے طو رپر تو وہ سب کچھ ہم بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہم اِن لوگوں کے زمانہ میں جاکر وہاں رہ سکتے ہیں اور ایک ایک لمحہ کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں لیکن اِن لوگوں نے جو کچھ محسوس کیا ہے وہ ہم محسوس نہیں کرسکتے۔ ہمارے مہمانوں میں ایک نوجوان جس کا نام دانش ہے اپنے زمانے میں پاکستان نامی ایک ملک کا باشندہ تھا۔ یہ وہی ملک ہے جہاں کی دو مغنّیاؤں کو ہم نے پچھلے دنوں بیدار کیا۔ آپ سب جانتے ہیں ان دونوں خواتین کا پرسنٹیج نوّے (90) تھا۔ ہم سب حیران رہ گئے تھے۔ اِسی لیے اُن مغنّیاؤں کو سیّارہ زمین پر رہنے کی اجازت دی گئی۔ میں متجسس ہوں کہ دانش سے مِلوں، اُس سے پاکستان کی باتیں پوچھوں۔ تاریخ کو تو مَیں جان سکتی ہوں، کیفیات جاننا چاہتی ہوں‘‘
مائمل کی بات کے دوران سب ارکان کے چہروں پر ملائم سی مسکراہٹ تھی۔ ایک خوش پوشاک، نیلی آنکھوں والے نوجوان نے مائمل کی بات سنی تو آگے کی طرف جھکتے ہوئے کہا،
’’قسم سے مائمل ! آپ بالکل سچ کہتی ہو۔ ان مغنّیاؤں کے پاس تو جادُو ہے۔ میں کتنے دن سے اپنی ہر صبح، انہی کے نغموں سے آغاز کرتاہوں‘‘
مائمل نیلے آنکھوں والے نوجوان کی بات پر مسکرا دی۔
*************
یہ ’’ پائرا‘‘ کی صبح تھی۔ پائرا الفاسینٹوری کے ایک سیّارےکا چاند تھا۔ یہاں صبح ہوتی تو سُورج کی بجائے سیّارہ طلوع ہوتا تھا۔ طلوع ہونے والے سیّارے کا نام ’سوفیال‘ تھا۔ سوفیال پر کوئی آبادی نہیں تھی، لیکن سوفیال کا چاند ’’پائرا‘‘ خاصا آباد تھا۔ صبح کا منظر تو بے حد دیدنی ہوتا۔ چڑیاں سب سے پہلے شور مچاتیں۔ ہزار رنگوں کی چھوٹی بڑی، کالی، پیلی، نیلی، سُرخ، رنگین چڑیاں ایک ساتھ چہچہانے لگتیں۔ درخت بادِ نسیم کے جھونکوں سے جھومتے تو پھول مہکنے لگتے۔ چڑیاں تب تک شور مچاتی رہتیں جب تک ’’شوشوان‘‘ کے گھنے درختوں سے صبح کا نغمہ بلند نہ ہوجاتا۔
یہ بہت ہی نرالی لَے ہوا کرتی۔ گوئی بربط کے تاروں پر ساز چھیڑدیتاتھا۔ کوئی بہت پاس سے گاتا تھا۔ ایسی موسیقی کہ فرشتوں کو بھی مسحور کردے۔ وہ کوئی گیت ہوتا جو پیڑوں کی شاخوں سے نکلتاہوا محسوس ہوتا۔ تب بچے گھروں سے نکل پڑتے۔ وہ فِراک والی سرخ و سفید اور سانولی سلُونی چھوٹی چھوٹی بچیاں جو ایک ساتھ قطار میں دوڑتیں تورَوِش کا ہر ہر پھول کھِل اُٹھتا۔
پائرا میں کوئی، الگ الگ شہر یا الگ الگ علاقے نہیں تھے۔ یہ سارا سیّارہ ایک پارک تھا جس میں صبح کے بعد ہرطرف کھیلتے ہوئے بچے نظر آتے۔ ان بچوں کے والدین بھی اِسی سیّارے پر رہتے تھے۔ سڈرہ کمیونٹی میں اگر کوئی انسان خاندان بنانا چاہتا تو اسے پائرہ پر منتقل کردیا جاتا۔ شادی، بچے، بچوں کے ساتھ کھیلنا، ان کی باتوں سے لطف اندوز ہونا، بچوں کے لیے کام کرنا، یہ سب پائرہ کے لوگ کرتے تھے۔ پائرہ جیسے اور بھی کئی سیّارے تھے۔ سڈرہ کمیونٹی میں چونکہ موت کا تصور نہیں تھا اس لیے سالہاسال ایک جیسی زندگی گزارنے کے بعد بعض اوقات لوگ اپنی زندگی میں تبدیلی لانا چاہتے۔ سڈرہ کا ہرفرد جوچاہتا وہ کرسکتاتھا۔ صرف انتظامیہ کو بتانے کی دیر ہوتی تھی اورانتظامیہ کو بتانے کے بھی طریقے اتنے آسان تھے گویا منہ سے نکالا اور انتظامیہ نے سن لیا۔ کبھی کبھار ایک ساتھ کام کرتے ہوئے لڑکوں اور لڑکیوں میں ایسی محبت پروان چڑھ جاتی کہ انہیں بچے پیدا کرنے کا شوق پیدا ہوجاتا۔ سڈرہ کمیونٹی میں ایسے جوڑوں کی بے پناہ قدر تھی۔ ایسے لوگوں کو خصوصی اعزازت دیے جاتے اور انہیں پائرہ جیسے کسی سیّارے پر بھیج دیا جاتا۔ یہ لوگ یہاں خوش باش اور آزاد زندگی گزارتے اور جب تک بچے بڑے نہ ہوجاتے پائرہ پر ہی رہتے۔ جوکوئی جتنا رہنا چاہتا اُتنا رہ سکتا تھا۔ بچے بڑے ہوکر اگر کسی اور سیّارے پر چلے جاتے اور والدین پچھے پھر بھی اکھٹا رہتے رہتے تو سڈرہ کمیونٹی میں ایسے جوڑے کو ’’آسمانی جوڑا‘‘ کہا جاتا۔
پائرہ کا ایک پارک، جس میں انواع و اقسام کے جھولے لگے تھے اور ہرطرف نہایت سلیقے سے تراشے ہوئے بے شمار ’’ہیجنگ پلانٹس‘‘ اُگے ہوئے تھے، اِس وقت بچوں، پھولوں اور رنگین غُباروں سے بھرا ہوا تھا۔ پارک کے ایک کونے میں کچھ بچے جمگھٹا لگا کر ایک دائرے کی سی صورت کھڑے تھے۔ سب بچے کسی شخص کے گرد گھیراڈالےہوئے تھے۔ بچوں کے مجمع کے بیچوں بیچ ایک شخص کسی جوکر کی طرح،مصنوعی داڑھی مونچھیں لگائے شاید انہیں کوئی قصہ سنا رہا تھا۔
یہ ’’داستان گو‘‘ تھا۔
پائرہ اور پائرہ جیسے تمام سیّاروں پر بے شمار داستان گو پائے جاتے تھے۔’’داستان گو‘‘ ہمیشہ وہ لوگ ہوتے تھے جو بچوں کو کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ یہ زیادہ تر وہ انسان تھے جنہیں دوبارہ زندہ کیا گیا تھا۔ اگرچہ بعد کی صدیوں کے کئی انسان بھی داستان گوئی کا شغل اپنا لیتے تو کئی کئی سال اختیار کیے رہتے، حالانکہ یہ شروع سے سڈرہ کمیونٹی کے لوگ ہوتے تھے لیکن چونکہ اُن کی عمریں بہت طویل ہوتیں اس لیے وہ داستان گوئی اختیار کرلیتے اور صدیوں پرانے واقعات اور کہانیاں بچوں کو سناکر اپنے لیے خوشی کا سامان ڈھونڈتے۔ قدیم انسانوں میں سے اگر کوئی داستان گو کبھی پائرہ میں آجاتا تو بچے حد سے زیادہ متجسس ہوجاتے تھے۔ ہرداستان گو، فقط اپنی آنکھوں دیکھے احوال سنایا کرتا۔کوئی ایک بھی جھوٹی کہانی نہ سناتا اور نہ ہی کوئی داستان گو کبھی مبالغے سے کام لیتا۔یہی وجہ تھی کہ بچے داستان گوؤں کے شیدائی ہوتے کیونکہ اگر ایک بچے نے پانچویں صدی قبل مسیح کے کسی بندے سے کہانیاں سنی ہوئی ہوتیں تو وہ ضرور چاہتا کہ اس کے آس پاس کی صدیوں کی کہانیاں بھی سنے۔ جبکہ داستان گو تو ہرطرح کے ہوتے۔ اس لیے پائرہ پر بچوں کو ملنے والے داستان گو ہمیشہ ایک دوسرے سے نرالے ہوتے اور ہمیشہ مختلف کہانیاں سناتے۔ داستانیں سننے کے بعد، گھر جاکر بچے اپنے والدین کو وہ کہانیاں سناتے اور اُن کے والدین بھی قدیم زمانوں کے قصے سن کر بچوں کی طرح حیران ہوتے۔ مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں کے داستان گوؤں کی کہانیوں کے واقعات کو آپس میں جوڑنا بچوں کے پسندیدہ کھیلوں میں سے ایک ہوتا۔ قدرے بڑے بچے ہزاروں کہانیوں کو چند ثانیوں میں جوڑلیتے۔
ہرداستان گو سچی کہانیاں سناتاتھا۔ ہرداستان گو فقط وہی کچھ سناتا تھا جو اس نے اپنے زمانے اورزمین پر اپنے علاقے میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ بچے مختلف قسم کے داستان گوؤں کی تلاش میں رہتے۔ آج پائرہ کے اس پارک میں یہ داستان گو بھی ایک قصہ سنا رہاتھا۔ داستان گو بول رہا تھا،
’’پھر میں نے ریگنار سے کہا، ’ریگنار! تم اِس بچے کو جانے دو! بچے کا کوئی قصور نہیں۔ اگر کوئی قصور ہے تو وہ ہمارا ہے۔ ہماری قوم کا ہے۔ بچے کو چھوڑدو!۔ ریگنار سوچ میں پڑگیا۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد ریگنارنے غصہ بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر بچے کی گردن پر سے برچھا ہٹا دیا۔ اُس نے بچے کو جانے دیا۔ میری جان میں جان آئی۔ میرے دل میں ریگنار کے لیے عزت پیدا ہوئی۔ میں اب ریگنار کی طرف دیکھ رہا تھا اور سوچ رہاتھا کہ اب دیکھو! وہ میرے بارے میں کیا فیصلہ کرتاہے۔ سارا گاؤں خاموش تماشائی تھا۔ ریگنار کو مجھ پر غصہ تھا۔ میں نے اس کے حملے کو روکنے اور اپنے گاؤں کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ میں ناکام ہوگیا تھا۔ ریگنار کے وحشی سپاہی بہت خوفناک تھے۔ انہوں نے گاؤں فتح کرلیا اور مجھے قید کرلیا تھا۔ اور پھر ریگنار کے سپاہیوں نے مجھے ’یُوں‘ بالوں سے پکڑا اور میرا سرجھکا کر نیچے پتھر کے ساتھ ٹِکا دیا۔ اب مجھے انتظار تھا، تلوار چلنے کا۔ اور پھر وہی ہوا۔ میں نے آخری آواز ریگنار کی سُنی تھی۔ اُس نے کیا کہا تھا مجھے سمجھ نہ آسکا۔ پھر میرا ذہن تاریک ہوگیا۔ اور دوبارہ جب میری آنکھ کھلی تو میں سڈرہ کمیونٹی میں تھا‘‘
بچے سانسیں روکے داستان گو کی کہانی سن رہے تھے اور دُور کہیں، ایک بہت بڑے ہال میں سینکڑوں لوگ بیٹھے جیسے کوئی بہت ہی ضروری کام کررہے تھے۔ یہ سڈرہ کمیونٹی کا ’’بائیوریفارمیشن‘‘ ڈیپارٹمنٹ تھا۔ یہاں بے شمار مردوزن، پائرہ اور پائرہ جیسے سیّاروں کے پارکوں میں موجود ایک ایک بچے کے دِل کی دھڑکن، ایموشنل لیول، خوف کی سطح، تجسس کا درجہ، نفسیاتی تعمیر و تخریب اور ہیجانی کیفیات کا اُتار چڑھاؤ لمحہ بہ لمحہ نوٹ کررہے تھے۔ پائرہ جیسے سیّاروں کے پارکوں میں داستان گو، بچوں کو ہرطرح کی کہانیاں سناتے۔ ساری کہانیاں سچی ہوتیں۔ لیکن ’’بائیوریفارمیشن‘‘ کا ادارہ ہمہ وقت مستعد رہتا اورہربچے کا الگ الگ گراف بنتا چلا جاتا۔ سڈرہ کمیونٹی کے بچے جُوں جُوں بڑے ہوتے اُن کی جذباتی اور نفسیاتی زندگی کا نظم و ضبط لمحہ بہ لمحہ نوٹ کیا جاتا رہتا۔ کسی بچے کی نفسیاتی کیفیات اور آزادانہ پرورش میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جاتی۔ اگر ایسی کہانیوں کے دوران کچھ بچے زیادہ جذباتی ہوجاتے یا زیادہ ڈر جاتے تو ’’بائیو ریفارمیشن‘‘ والے ان بچوں کو الگ مارک کرلیتے۔ ہرطرح کی نفسیاتی سطح کے بچوں کے لیے بڑے ہونے پر الگ الگ کام اور الگ الگ سیّارے تھے۔
بچوں کی تربیت کا فقط ایک یہی طریقہ نہ تھا کہ پارکوں میں داستان گو اُن کے پاس آتے تھے۔ یہ فقط ایک طریقہ تھا اور داستان گو روز روز کہاں آتے تھے۔ داستان گو تو سیّارہ در سیّارہ گھومنے والے لوگ ہوتے تھے۔ وہ ایک بار جس پارک میں جاتے پھر بیسیوں سال انہیں دوبارہ اُن پارکوں میں جانے کا موقع ہی نہ ملتا تھا۔ اس دوران وہ بچے بڑے ہوجاتے جنہوں نے اُن سے کبھی کوئی قصہ سنا ہوتا۔
بچوں کی تربیت کے ہزاروں دیگر طریقے تھے۔ لیکن ہرایک طریقہ ایسا تھا کہ بچوں کو ذرا سا بھی پابندی کا احساس نہ ہوتا تھا۔ بچے ہمیشہ کھیلتے اور کھیل ہی کھیل میں وہ سائنس، آرٹس، موسیقی، ریاضی، تاریخ، جغرافیہ، فلکیات اور اسی طرح کے ہزاروں مضامین پڑھتے چلے جاتے۔
پائرہ کے اِس پارک میں داستان گونے اپنی کہانی مکمل کی تو کئی بچے ایک ساتھ بول اُٹھے،
’’آپ پھر کبھی ریگنار سے ملے؟‘‘
یہ سن کر داستان گو نے جواب دیا،
’’نہیں! ریگنار کو شاید ابھی نہیں جگایا گیا اور اگر جگایا بھی گیا ہے تو میرے علم میں نہیں کہ وہ کہاں ہے‘‘
تب ایک اور بچے نے پوچھا،
’’میں دیر سے آیا تھا۔ یہ ریگنار کون ہے؟‘‘
سوال پوچھنے والے بچے کی طرف مُسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے،داستان گو نے دوبارہ بتانا شروع کیا،
’’ریگنار، وائیکنگز کے سردار کو کہتے ہیں۔ وائیکنگز ارتھ کی عیسوی تاریخوں کے مطابق 700 عیسوی سے 1100 عیسوی تک ہوگزرنے والے ایک بہت بڑے قبیلہ کا نام ہے۔میرا دور شروع کا ہے۔ میں 810 عیسوی میں انگلینڈ نامی ایک ملک کا باشندہ تھا۔ ہمارا گاؤں انگلینڈ کے ایک ساحل کے نزدیک تھا۔ وائینکنگز نے جب انگلینڈ پر حملہ کیا تو ہم لوگ نہتے تھے۔ وائیکنگز کو دولت کے سوا کچھ نہیں چاہیے تھا۔ ہمارے گاؤں میں کسی کے پاس دولت نہیں تھی۔ صرف ہمارے چرچ میں سونے چاندی کے چند برتن تھے ……………. میں نے وائیکنگز کے سردار ریگنار کو بتایا کہ …………..‘‘
اِس دوران کچھ اور نئے بچے بھی وہاں جمع ہوگئے۔ ایک بچے نے داستان گو کی بات کو درمیان میں کاٹ کر پوچھا،
’’چرچ کیا ہوتاہے ؟ داستان گو!‘‘
’’چرچ، اس وقت ہوا کرتے تھے۔ یہ عبادت کی جگہ ہوتی تھی۔ عبادت مذہبی لوگ کیا کرتے تھے۔ چرچ میں عیسائی مذہب کے لوگ عبادت کیا کرتے تھے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں بہت زیادہ عیسائیت تھی۔ ہمارے گاؤں کے سارے لوگ عیسائی تھے…………………‘‘
داستان گو خوشی خوشی اپنی آپ بیتیاں سناتا جارہا تھا اور بچے تھے کہ مارے تجسس کے سانس بھی نہ لے رہے تھے۔ دُورکہیں ’’بائیو ریفارمیشن‘‘ کے ادارے میں نہ جانے کتنے لوگ ایک ایک بچے کے دل کی ایک ایک دھڑکن کا حساب رکھ رہے تھے۔ پائرہ، سڈرہ کمیونٹی کے لیے نئی نسل تیار کررہاتھا۔

جاری ہے۔

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: