خدارا منٹو نامہ پیش کرنا بند کریں۔۔۔(مادر پدر آذادی کے قائل لکھاریوں سے گزارش)

1

مارٹن لوتھر نے کہا تھا کہ “اگر آپ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں تو اپنا قلم اٹھائیں اور لکھنا شروع کر دیں “۔ لکھنے والا انسان ایک ہی وقت میں ایک تخلیق کار کے علاوہ ایک مصلح، مسیحا، روح ساز اور معاشرہ ساز بھی ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی وصف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایک انقلابی اورایک باغی ہے۔ وہ سماج کا سب سے بڑا قابل رحم انسان ہے کیونکہ وہ جو کچھ چل رہا ہے اس کا حصہ نہیں بن پاتا وہ جو کچھ دکھ رہا ہے اسے دیکھ اور سہہ نہیں سکتا۔ اس کے محسوسات کی حس عام انسان سے کہیں ذیادہ ہے۔اس لئے وہ پورے معاشرے کا سب سے ذیادہ حساس انسان ہے جو محض جلنے، کڑھنے اور لعنت بھیجنے کے بے کار مظاہر سے الجھنے اور وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے احساس کو اپنے تخیل میں تراشتا اور قابل استعمال بناتا ہے۔ سو وہ لکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے کچھ نہ بھی بدل پائے تو اپنی سوچ سے انسانی تمدن کا پورا نقشہ بدل سکتا ہے۔ وہ معاشرے میں مایوسیوں اور ناامیدیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی امید اور آس کا ننھا منا دیا جلاتا ہے۔ ٹوٹے،بکھرے،الجھے مایوس اور بے یقین لوگوں کے مضطرب و منتشر خیال کی انگلی تھامے ان کے خیال کو امید اور یقین کی ننھی منی پگڑنڈیوں پر چلانے لگتا ہے۔ کیونکہ اگر خیال کی اصلاح ہو جائے تو زندگی کی اصلاح ہو جاتی ہے،ایک نسل سنور جاتی ہے ایک تہذیب سنبھل جاتی ہے۔حال کتنا بھی کڑوا کسیلا ہو،وہ حال کے لمحے کو پہچانتا اور اس سے جذبوں کا شہد کشید کرنے لگتا ہے۔ اپنے تخیل کا حسیں احساس گمراہیوں سے نکال کر درست راستوں پر ڈالتا ہے۔

لکھنے والے کے سر پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ وہ جواب دہ ہے اپنے لکھے ہوئے ہر ہر حرف کا۔ وہ زمہ دار ہے ہر اس بات کا جو اس نے کہی اور لکھی۔ وہ ہر انسان کو اور سب سے پہلے خود اپنے آپ کو جوابدہ ہے۔ ایک معمولی سی بھی لغزش اس کے ضمیر پر کبھی نا نکلنے والا کانٹا بن سکتی ہے۔جو پھر تمام عمر اس کے احساس کو چھلنی کرتا ہی رہے گا۔ جاننے کا علم اس وقت تک کارگر نہیں ہوتا جب تک اسے مان نہ لیا جائے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ یا تو ہم جانتے نہیں اور اگر جانتے ہیں تو اسے دل سے مانتے نہیں اور اگر مان بھی لیں تو اسے اپنی ہی ایک اعلیٰ کاوش جان کر اس پر فخر کرنے لگتے ہیں حالانکہ ہر علم اور ہر سچائی دنیا میں پہلے سے ہی موجود ہے ہم تو محض اسے دریافت کرتے ہیں۔ اور جب ہم خود کو ان کا موجد ٹھہرانے لگتے ہیں تو ہمارا فخر کچھ وقت بعد ہمارا غرور بن جاتا ہے۔اور پھر یہ غرور ناصرف ہمارے مقام مرتبے کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے بلکہ ہمیں بھی کہیں کا نہیں چھوڑتا۔
وقت بہت بدل چکا ہے ایک وقت تھا جب لوگ کتابیں پڑھتے نہیں بلکہ چاٹا کرتے تھے،پھر ایک وقت آیا کہ لوگوں نے کتاب پکڑنا ہی چھوڑ دیا۔ اب یہ وقت ہے کہ لوگ اور خصوصاً نوجوان نسل فیس بک کی پوسٹیں پڑھتے پڑھتے اور لائک کرتے کرتے دوبارہ پڑھنے کی طرف راغب ہونے لگے ہیں۔لیکن اب وہ ای بک کے عادی ہو رہے ہیں۔انہیں مختلف سائٹس پر لکھنے والے لکھاریوں کی تحریریں متاثر کرنے لگی ہیں۔ اس بات کو بھی خوش آئند سمجھنا چاہئے کہ کم سے کم پڑھنے کی عادت تو لوٹ رہی ہے البتہ ایک حقیقت اس عادت سے یہ بھی جڑی ہے کہ سوشل میڈیا کی اثر پزیری گھر میں بیٹھ کر تنہائی میں کتاب کھنگالنے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہاں انسان محض اپنی قیاس آرائیوں اور اندازوں سے ہی نہیں،تحریر کے بارے دوسروں کی سوچ اور رائے سے بھی اثر لیتا ہے۔اور خود لکھاری بھی اپنے تمام تر لکھے ہوئے سمیت اس کی نگاہوں کا مرکز رہتا ہے کیونکہ ایک سرچ کی کمانڈ چلا لینےسے وہ پلک جھپکے میں لکھنے والے کی تمام تر حیات و تصنیفات کی بابت جان جاتا ہے۔اس طرح اس ذات اور بات کا اثر بھی دوگنا ہونے لگتا ہے۔


شاید یہ لوگوں کو ذہنی عیاشی مہیا کرنے کا ایک نیا طریقہءکار ہے جس کے تئیں یہ ویب سایٹس اپنی ریٹنگ بڑھانے کے حیلے بہانے کر رہی ہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ۔۔۔ یہ انتہائی گھٹیا اور بھونڈا طریقہ کار ہے۔


گذشتہ کچھ عرصے سے بلاگنگ سائٹس اپنی اثر پذیری میں کتابی علم سے بھی کہیں ذیادہ بڑھ چکی ہیں۔ قاری ایک ہی نشست میں کئی کئی سائٹس پر لکھے متنوع اقسام کے مضامین اور آرٹیکلز پڑھنے میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔گویا ان سائٹس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے معیار اور انداز بیاں پر بھی گہری نظر ثانی کی ضرورت رہتی ہے۔ لیکن لکھنے والے کچھ لکھاری اور کچھ پلیٹ فارم ایسے بھی ہیں جو اپنے نام، مقام اور مرتبے کو ایک منفی جہت دے رہے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شاید انہیں گمان لاحق  ہے کہ وہ بہت کچھ جان چکے ہیں۔ ماننے کا درجہ تو نجانے کہاں تلک ان کی رسائی ممکن بنائے ہوئے ہے لیکن یہ طے ہے کہ وہ اپنے جانے اور مانے ہوئے کے زعم میں اپنی سوچ اور فن کے فرعون بن چکے ہیں۔ صدیوں سے چلی آنے والی روایات اور فکر کے منکر اور الفاظ کے رکھ رکھاؤ سے ایسے غافل کہ جیسے لفظوں کی تپسیا کے بجائے ان کا زنا با لجبر کرنے پر آمادہ۔ شاید یہ لوگوں کو ذہنی عیاشی مہیا کرنے کا ایک نیا طریقہءکار ہے جس کے تئیں یہ اپنی ریٹنگ بڑھانے کے حیلے بہانے کر رہے ہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ۔۔۔ یہ انتہائی گھٹیا اور بھونڈا طریقہ کار ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معاشرے کی تنزلی کے سدباب کی بجائے اسکے امکانات و اسباب بڑھ رہے ہیں۔
اگر آپ کو میری بات کا یقین نہ ہو تو ایک مشہور زمانہ سائٹ پر بار بار چلنے والا بی بی سی کا آرٹیکل ” میں محبت اور ٹھنڈا گوشت” دیکھ لیں۔ جس میں ایک نفسیاتی اور جزباتی مسئلے کو لغو اور بے ہودہ الفاظ سے محض اشتہا بڑھانے والی بارہ مثالوں کی چاٹ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اور حیرت کی بات ہے کہ پڑھنے والوں کی لعن طعن کے باوجود اس سائٹ کے کرتا دھرتا اسے ایک بار نہیں بار بار چلا رہے ہیں۔ اسی سائٹ پر چلنے والے ایسے دو عدد آرٹیکل بھی ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں کہ جن کے عنوانات انتہائی بے ہودگی سے انسانی جنسی اعضاء کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیا موضوع کی سنجیدگی اور اہمیت کو ایسے عنوانات کے بنا بیان کرنا عبث تھا؟ اور جس طرح مدیر نے اپنے تبصراتی شذرہ میں “کیا اچھا عنوان باندھا ہے” کے توصیفی جملہ سے اپنی “پالیسی” کا اظہار کیا ہے اس پہ تو شاید افسوس کرنا بھی کم ہے۔ چھاپنے والے اور چھپنے والے دونوں ہی صاحبان سے عرض ہے کہ خدارا اس معاشرے کو مزید بگاڑ کی جانب لے جانے کی بجائے اس کی اصلاح کی طرف توجہ دیں۔ معاشرے میں منکرین اور الحادیوں کا ایک جتھا تو آپ تیار کر ہی چکے ہیں۔غیر ملکی قوتوں اور اداروں کی مدد سے معاشرے میں اپنے اداروں سے منافرت کی فضا تو آپ قائم کر ہی چکے ہیں۔اب رہی سہی کسر جنسی آزادی سے پوری کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ بات یاد رہے کہ کل کو آپ کی اپنی بیٹیاں بھی اس ہوا سے محظوظ ہونے لگیں تو کیا کریں گے؟۔۔۔ یہاں پہلے ہی جنسی حملے بڑھ رہے ہیں اور اگر آپ کی ایسی تحریروں نے مزید اذہان کو ورغلا دیا تو اس معاشرے کا کیا ہو گا۔اگر آپ اپنے تئیں منٹو نامہ پیش کرنا چاہتے ہیں تو اتنا یاد رہے کہ آپ کے اور منٹو کے افکار، ان افکار کی بنیاد،اور اس کے اظہار کی نفسیات میں زمین آسمان کا فرق ہے سو آپ منٹو بننا بھی چاہیں تو نہیں بن سکتے کیونکہ اس کی تحریروں کا گداز، سوز اور المیہ کہاں سے لائیں گے۔ اس کی طرح حقیقتوں اور سچائیوں کا بیانیہ کہاں سے مسخر کریں گے۔ کیونکہ آپ لوگ معاشرے کے انتہائی تعلیم یافتہ لوگ ہیں اور اصلاح کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں تو اپنے کہے ہوئے اور لکھے ہوئے کو بھی تہذیب اور شائستگی کے دائرے میں لائیں۔آپ کا کام لفظوں کو حرمت عطا کرنا ہے، سلاست اور روانی کے ساتھ ساتھ انہیں تقدس کی فراہمی بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ابھی تو حکومت کے سوشل میڈیا سے پھیلائی جانے والے انتشار کو سمیٹنے کی تدابیر پر ہی آپ تلملا اٹھے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کو آپ کے لکھے ہوئے پر بھی ضابطہءاخلاق لاگو کرنے کی ضرورت پیش آجائے۔پھر آپ اسے آمرانہ اقدام کہنے لگیں گے۔آزادی کی بھی کوئی تو حدود ہونی چاہئیں کیونکہ مادر پدر آذادی کے نقصانات سے بچنے کوہی تو انسان نے سماج اور سماجی قدغنیں بصورت آئین اور قوانین تشکیل دیں۔
سو التماس ہے کہ آپ محض اپنی سائیٹ کو منظور نظر بنانے کی بجائے اپنے کام کے معیار اور اثر پزیری کو بڑھائیں۔ اپنا راستہ سچائی اور پاکیزگی سے بنائیں کیونکہ پہلے ہی ان دونوں اصناف کی کمی ہمارے معاشرے کو تنزلی کی طرف لے جا رہی ہے۔

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: