سوشل میڈیا اور حکومتی ردعمل: سلمان عابد

0

سوشل میڈیا اب دنیا میں متبادل میڈیا کے طور پر اپنی ایک مضبوط طاقت رکھتا ہے ۔اس طاقت نے رسمی میڈیا کے مقابلے میں سوچنے ، سمجھنے اور علمی و فکری لوگوں سمیت عام لوگوں کو اپنی بات مختلف طبقات تک پہچانے کے آوازیں فراہم کی ہیں ۔ یہ مسئلہ محض پاکستان تک نہیں بلکہ عالمی دنیا میں اس متبادل میڈیا نے بعض معاملات میں رسمی میڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ایک رائے یہ ہے کہ اس سوشل میڈیا پر نئی نسل کا قبضہ ہے ۔ لیکن اب اس میں نئی نسل سمیت ہر طرح کے لوگ اس کا حصہ بنتے جارہے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ رسمی میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں وہ خود بھی اس سوشل میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر اس کا حصہ بن گئے ہیں ۔
اس وقت سوشل میڈیا کے حوالے سے یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ اس کو کسی دائرہ کار میں لایا جائے اور اسے کسی بھی صورت مکمل طور پر مادر پدر آزادی نہ دی جائے ۔ خاص طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک خاص منصوبہ بندی اور حکمت کے تحت ریاستی اداروں اور اہم سیکورٹی معاملات سمیت حساس موضوعات پرایسی گفتگو یا بحث بھی کی جاتی ہے جو اداروں کی تضحیک کا باعث بنتی ہے ۔ حال ہی میں جس انداز سے ڈان لیکس کے فیصلے پر فوج اور حکومت کے بارے میں خفیہ ڈیل یا سمجھوتے کو بنیاد بنا کر ان پر تنقید کی گئی ، اس کی ماضی میں کوئی بڑی مثال نہیں ملتی ۔اس دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ کچھ سازشی عناصر غیر ملکی اداروں اور قوتوں کی مدد سے نئی نسل اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اداروں اور اہم حساس معالات پر معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
اسی تناظر میں وزیر داخلہ یا وزرات داخلہ کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ سب فریقین مل کر سوشل میڈیا کے لیے ایک ایسی پالیسی یا کوڈ آف کنڈکٹ ترتیب دیں جو اس کے استعمال میں ذمہ داری کا کردار ادا کرے ۔مسئلہ محض ریاستی اداروں پر تنقید کا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ہر طرح کے لوگ موجود ہیں اور بالخصوص نوجوان نسل جس انداز سے ریاستی اور حکومتی امور اور حکمرانی کے نظام کو چیلنج کرتی ہے وہ ایک بڑا حکمران طبقات کے لیے بنا ہوا ہے ۔ حکومت کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا میں کیونکہ ان کی حکمرانی کو چیلنج کیا جاتا ہے او راس میں زیادہ تر حکومت مخالف لوگوں کا قبضہ ہے ۔ اصل میں جو اس وقت نئی نسل میں قومی سطح پر ردعمل ، غصہ ، نفرت، محرومی اور مایوسی کی کیفیت ہے اس کے اظہار کے لیے ان کو واقعی سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت نظر آتا ہے ۔کم ازکم نوجوان نسل کو لگتا ہے کہ اپنے جذبات کا اظہار یہاں بہتر طور پر کرسکتے ہیں ۔
اس لیے اس تاثر کو کسی بھی صورت میں رد نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت فوج کے ادارے پر ہونے والی تنقید کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا کی آزادی کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے ۔حالانکہ حکومت یہ بھول رہی ہے کہ سوشل میڈیا کو اگر کنٹرول کیا جاتا ہے تو اس کے نئے متبادل طور طریقے بھی سامنے آسکتے ہیں ۔ کیونکہ اب جو نوجوان طبقہ ہے اس کی آواز کو دبانا کوئی آسان کام نہیں ۔ اگر ان کو طاقت کے انداز میں نمٹنے کی کوشش کی گئی تو اس کا ردعمل اور زیادہ سخت ہوگا ۔ اسی طرح ہمارے ریاستی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ کسی بھی ایسے کھیل کی حمایت نہ کریں جس کا مقصد نئی نسل کی آواز کو دبانا ہے ۔یہ تاثر نئی نسل کو نہیں جانا چاہیے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ فوج بھی ان کی آواز کو دبانا چاہتی ہے ، نوجوان نسل فوج کی طاقت ہے اور اس طاقت کو بلاوجہ کی مقابلہ بازی کا حصہ نہیں بننا چاہیے ، اگر نوجوان طبقہ نے اداروں کے بارے میں بھی سخت ردعمل دیا ہے تو اس سے خود اداروں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل کس طرح سے اداروں کے بارے میں سوچتی ہے ۔
اصولی طور پر ریاست اداروں او رحکومت کو نئی نسل میں سوشل میڈیا کے استعمال پر زیادہ شعور دینے کی ضرورت ہے ۔ اس لیے اپنے تعلیمی نصاب میں اسے مکمل اہمیت دی جائے ۔ سیاسی جماعتیں ، میڈیا سمیت رائے عامہ بنانے والے تمام اداروں کو اس بحث میں حصہ لینا چاہیے کہ آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ لیکن یہ بحث محض سوشل میڈیا تک محدود نہ ہو، بلکہ ریاستی اور حکومتی ادارے بھی اپنی اصلاح کریں ۔کیونکہ وہ بھی جس طرز عمل او رحکمرانی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس سے بلاوجہ نئی نسل میں ردعمل کی سیاست پیدا ہوتی ہے ۔ مسئلہ محض قانون سازی نہیں بلکہ حکمرانی کے نظام کو شفاف بنانا ہے ۔ اس شفافیت پر مبنی نظام میں نئی نسل میں موجود محرومی کی سیاست کو بھی بہتر انداز میں نمٹنا ہوگا ۔ کیونکہ اگر محرومی کی سیاست غالب رہتی ہے تو اس کا ردعمل ہر صورت میں سامنے آئے گا۔
جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ کچھ لوگ یا ادارے غیر ملکی طاقتوں کی بنیاد پر سوشل میڈیا کو استعمال کررہے ہیں تو اس پر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کام کریں ، لیکن اس کو بنیاد بناکر پورے سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں کو ایک آنکھ سے نہ دیکھاجائے ۔ ان کو ہراساں کرنا ، دھمکیاں دینا ، غداری کے الزام عائد کرنا جیسے اقدامات درست نہیں اور یہ طریقہ طاقت کے استعمال کا کسی بھی سطح پر حمایت کے قابل نہیں ۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: