پرسیپشن اور ہماری زومبی زندگیاں: ادریس آزاد

0

یہ بات کہ سارا معاملہ پرسیپشن کا ہے اتنی درست ہے جتنا درست ہونا کسی بھی درست ترین بات کو زیبا ہے۔ اور چونکہ یہ بات درست ہے اس لیے لازمی طور پر یہ بات بھی درست ہے کہ عہد بہ عہد بدلتا ہوا منطقی فہم ہماری آنکھوں کی عینکیں بھی بدلتا رہتا ہے۔ سب ہی یہی مثال دیتے ہیں کہ جب ہم زمین کو بچھا ہوا فرش اور آسمان کو ایک چھت تصور کرتے تھے تو وہ ایک طرح کا فہمِ منطقی تھا جو ہزاروں سال میں استوار ہوا تھا اور اس لیے بہت راسخ تھا، گہرائی تک۔ یہ موجودہ فیز جو سب کو لگتاہے کہ ‘‘حاوی‘‘ ہے ہرشئے پر۔ یہ نئی نئی اصطلاحات کے ساتھ نفوذ کرتاہوا فیز جو محض لفظوں کے سہارے ایک بالکل ہی نئے جہان کو متعارف کرواچکاہے یہ فیز بھی عارضی ہے۔

سکول کا زمانہ تھا جب ہمارے ایک سائنس ٹیچر نے لیکچر کے دوران یکلخت فیشن کے خلاف بولنا شروع کردیا اور بولتے بولتے غصے میں آگئے، کہنے لگے،
’’نائی کو ہم نے ہیئر ڈریسر، مراثی کو فنکار، بھنڈ کو اداکاراور گویّے کو گلوکار کہنا شروع کردیا ہے‘‘
میں نے جسات کی اور کہا،
’’سر! یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ کسی کی توہین کرنے والے ناموں سے تو بہتر ہے کہ عزت دینے والے نام ہونے چاہییں‘‘
آج سوچتاہوں اس وقت ہمارے ٹیچر دراصل بیانیے کے بدلنے کی بات کررہے تھے۔ یہ لفظ ’’بیانیہ‘‘ خود بھی ایک فیشن ہے، جدید ترین فیشن۔ اکیسوین صدی کا فیشن۔ جب چاہو اسے کہیں بھی گھُسیڑ دو! فِٹ آجاتاہے۔ اُصولی طور پر بیانیہ کسی جماعت یا قوم کے خودکار طرزِ تکلم کا ترجمان ہونا چاہیے تھا۔ وہ لوگ کیسے دیکھتےہیں؟ وہ چیزوں کو کیسے پرکھتے ہیں؟ کائنات، دنیا اور معاشرے کے بارے میں اُن کی پرسیپشن کیا ہے؟ لیکن فی زمانہ میڈیا کی موجودگی میں کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی قوم یا جماعت کا کوئی خودکار طرزِ تکلم بھی استوار ہو؟ ناممکن ہے۔ لفظ چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ ’’بنیاد پرست‘‘، ’’روشن خیال‘‘، ’’قدامت پسند‘‘، ’’دہشت گرد‘‘، تکفیری‘‘، ’’لبرل‘‘، ’’پوسٹ ماڈرن‘‘، ’’کلیشے‘‘، ’’ٹیبُوز‘‘، ’’ریسرچ‘‘، ’’اکیڈمیا‘‘، ’’اکیڈمکس‘‘، ’’مین سٹریم‘‘، ’’فریڈم آف سپیچ‘‘، ’’حقوقِ انسانی‘‘، ’’فیمنزم‘‘، ’’جینڈر ڈسکرمنیشن‘‘، ’’ریلجس ایکسٹریمسٹس‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ لفظ چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ پورے کےپورے جملے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ پورے کا پورا تصور چھوڑ دیا جاتاہے۔

یہ میڈیا کی وجہ سے اُٹھنے والی قیامت ہے۔ سوشل میڈیا بھی اس میں شامل ہے۔ ایجنسیوں، ملکوں، اداروں اور جماعتوں نے پچیس پچیس ہزار آئی ڈیز سے ایک ریلے کی صورت نیا بیانیہ جاری کرناہوتاہے جو چوبیس گھنٹے ختم ہونے سے پہلے پہلے پورے فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل نیٹ ورکس پرجنگل کی آگ سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل جاتاہے۔ نیا بیانیہ آنے کی دیر ہوتی ہے۔ ہم سارے زومبیز کی طرح اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ اگر بیانیہ چھوڑنے والے کا مقصود ہو کہ ہیگلین کانفلکٹ پیدا کرناہے تو طبقات تقسیم ہوجاتے ہیں۔ اگر بیانیہ چھوڑنے والوں کا مشن ہو کہ ایک ہی بات سب کی زبان پر لانی ہے تو صوراسرافیل پھونک دیا جاتاہے اور پورا سوشل میڈیا ایک ہی دریا میں بہنے لگتاہے۔

کمپیوٹر ساٹھ کی دہائی میں موجود تھا۔ انٹرنیٹ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آگیا تھا لیکن یہ دونوں عام انسان تک پہنچے تو اس وقت جب پُہچانے والوں نے چاہا۔ آج موبائل سب کے ہاتھ میں ہے لیکن سب مجبور ہیں کہ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پیکجز خرید کر اپنا نیٹ ورک چلائیں۔ آج تیس سال ہونے کو آئے ہیں کہ دنیا میں سیٹلائیٹ فون موجود ہے لیکن اسے اتنا مہنگا رکھاگیاہے کہ کوئی وزیر بھی خریدنے سے پہلے دس ہزار بار سوچے گا۔ اس پر مستزاد آؤٹ گوئنگ اور اِن کمنگ دونوں کے پیسے دینے پڑتے ہیں، سیٹلائیٹ فون پر۔ کیوں؟ کیا سیٹلائٹ فون کو عام کرنا کوئی مشکل یا مہنگا کام ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ صرف اور صرف ایک وجہ ہے کہ سیٹلائیٹ فون کو عوام کی پہنچ میں دینے کا ابھی ارادہ ہی نہیں ہے اُن لوگوں کا جو کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور میڈیا کی ہرقسم کا کھلواڑ انسانیت کے ساتھ کرچکے ہیں۔

روزانہ کتنے میسجز آپ کو موصول ہوتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کررہے ہیں۔ ایک سے دس اور دس سے دس ہزار تک شیئر لمحوں میں ہوجاتے ہیں۔ اسے وائرل ہوجانا کہتے ہیں۔

ایک صدی ہونے کو آئی ہے، مارکیٹ میں صرف چکن کی ہی قسم بکنے کے لیے آتی ہے۔ کسی نے کبھی کسی اور پرندے کو اتنے بڑی مقدار میں پیدا کرنے کا نہیں سوچا کیونکہ یہ ضرورت پوری کرنے کا طریقہ ہے۔ سائنس ترقی کرتی ہے لیکن سائنس کو پیسے کون دیتاہے ترقی کرنے کے لیے؟ جو پیسے دیتاہے وہ جانتاہے کہ کس چیز کو سامنے لاناہے اور کس کو نہیں لانا۔ دنیا کو کون سی غذا کھلائی جائے گی؟ دنیا کو کون سا پانی پلایا جائے گا؟ دنیا کو کونسا دودھ پلایا جائے گا؟ یہ سب فیصلے زیرزمین ہوتے ہیں۔ کون سی بیماری سے ڈرایا جائے ۔ کون سی دوا بیچی جائے؟ کون سی بات مشہور کردی جائے؟ کون سی بات چھپا لی جائے۔ کسی پورے کے پورے ملک کو دنیا کی آنکھوں سے اوجھل کردیا جائے تو کسی ایک فرد کو پوری دنیا کے سامنے نشر کردیا جائے۔

ہم میں سے اکثر لوگ انٹرنیٹ پر اپنے آس پاس چینیوں اور روسیوں کو نہ پاکر حیران تک نہیں ہوتے۔ کچھ جو سوچتے ہیں تووہ یہ سمجھتے ہیں کہ چین نے خود کو جان بوجھ کر چھپا کر رکھاہوا ہے، ان کے اپنے سرچ انجن اور اپنے ہی سوشل نیٹ ورکس ہیں۔ کوئی اس طرح نہیں سوچتا کہ چین کو کیا فائدہ خود کو چھپا کر رکھنے میں؟ دنیا میں تیزی سے مغربی کلچر کا پھیل جانا چین کو کتنے نوافل کا ثواب دلوا سکتاہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم صرف وہی دیکھ رہے ہیں جو ہمیں دکھایا جارہاہے۔ ہمیں ایک چھوٹی سی دنیا بڑی کرکے دکھائی جارہی ہے۔ کیا دنیا فقط اتنی سی ہے؟ چند ممالک یورپ کے، امریکہ، آسٹریلیا اور کچھ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ہم، یعنی ہم پاکستانی اور انڈینز؟ کیا اتنی سی ہے دنیا؟ اتنا بڑا روس، اتنا بڑا چین، اتنا بڑا انڈونیشیأ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے تو یہ کیسا ورڈ وائیڈ ویب ہے؟

ہم اچانک ایک ریلے میں بہہ کر کبھی کسی ایک سمت چل پڑتے ہیں تو کبھی کسی دوسری سمت۔ اچانک ہم بہت زیادہ رحمدل بن جاتے ہیں۔ اچانک ہمیں بہت زیادہ غصہ آجاتاہے۔ اچانک ہی ہم سب ہم آواز ہوجاتے ہیں۔ اچانک ہی ہم سب دولخت ہوجاتے ہیں اور ایسے لڑنے لگتے ہیں جیسے کُتے لڑتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ ان باتوں کا احساس کرکے فیس بک بند کرکے چلے جاتے ہیں لیکن موبائل بند نہیں کرسکتے۔ ہرایک کے پاس موبائل ہے جو کافی شافی ہے، آپ تک ہرقسم کی خبر پہچانے کے لیے۔ خبر نہیں بلکہ بیانیہ کہنا چاہیے۔ بھیڑوں کا ریوڑ اور کسے کہتے ہیں؟ کیا اسی کو نہیں کہتے کہ سب کے سب کسی اور کے ہنکانے پر ایک سمت کو چل پڑیں؟

خیر! واپس اپنے مدعا کی طرف لوٹتاہوں۔ میں نے بات شروع کی تو کہا کہ ’’یہ بات کہ سارا معاملہ پرسیپشن کا ہے اتنی درست ہے جتنا درست ہونا کسی بھی درست ترین بات کو زیبا ہے۔ اور چونکہ یہ بات درست ہے اس لیے لازمی طور پر یہ بات بھی درست ہے کہ عہد بہ عہد بدلتا ہوا منطقی فہم ہماری آنکھوں کی عینکیں بھی بدلتا رہتا ہے‘‘۔ کانٹ کے حوالے سے ہم اکثر بات کرتے ہیں کہ یہ ہماری پرسپشن ہی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کیسی ہے؟ صرف کائنات ہی کیوں؟ یہ ہماری پرسیپشن ہے جو بتاتی ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہم کہاں ہیں؟ ہم کیا کررہے ہیں؟ ہم کس طرف جارہے ہیں؟ ہم کیا دیکھ رہے ہیں اور ہم کیا دِکھا رہے ہیں؟ اگر یہ پرسیپشن ہی ہے تو پھر لازم ہے کہ وقت کے ساتھ یہ ہمیشہ بدلتی رہیگی۔

اس بات کا ثبوت ویسے تو کانٹ کی باتیں کرنے والے احباب پیش کرتے ہی رہتے ہیں۔ میں اپنے رنگ میں پیش کرتاہوں۔ ہم سب فلمیں دیکھتے ہیں۔ فلموں میں ایک ہیرو اور ایک ہیروئن بھی ہوتی ہے۔ جب سے فلمیں شروع ہوئیں۔ ان ہیروؤں اور ہیروئنوں نے جتنے روپ بدلے ہیں، وہ شکل و صورت، ہماری اُس وقت کی پرسیپشن ہی ہوا کرتی تھی جو ہمیں یہ بتاتی تھی کہ ایسی شکل و صورت بنا کر رہنا ہی سب سے ماڈرن اور سب سے بہتر ہے۔ ہمارے بچے والدین کے ساتھ ضد کرکے ویسا بننا چاہتے تھے۔ لیکن کیا آج ہم میں سے کوئی چالیس کی دہائی کے ہیرو جیسی شکل اختیار کرنا چاہے گا؟ بالکل نہیں۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا پرسیپشن ہی سب کچھ ہے۔ ہمیں دکھانے والے جیسا دکھانا چاہتے ہیں ہم ویسا دیکھتے ہیں اور پھر جب دیکھتے ہیں تو ویسے کو ہی درست ترین سمجھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: