مکاں کیوں ہو رہے ہیں گھر ہمارے: احمد اقبال

0

مکمل مضمون


یہ موضوع ایک کتاب جتنی وسعت رکھتا ہے سفینہ ہائے اس بحر بیکراں کیلئے۔ میں کوشش کروں گا کہ بات کو ا آسان اور مختصر پیرایہ میں بیان کر دوں۔ اب آپ کسی شہری بچے سے سوال کریں تووہ کہے گا کہ’’ خاندان؟ میں امی، ڈیڈی اور ہم سب بھائی بہن ایک خاندان ہیں‘‘۔ لیکن خاندان کا مطلب پچھلے وقتوں میں خون کے رشتوں کی وسعت کو بیان کرتا تھا جس میں ایک مرد کے بیٹے، ان کے بیٹے اور بیٹوں کے بیٹے سب آجاتے تھے، پوتوں یا پڑپوتوں تک ایک ہی شخص باپ سے دادا یا پردادا ہو جاتا تھا اورعملاًخاندان کا سربراہ رہتا تھا جو تمام فیصلے کرتا تھا اور وہ نافذ بھی ہوتے تھے۔ کسی کے نافرمان یا ناخلف ہونے کے واقعات نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس سوشل سیٹ اپ کی اخلاقی مضبوطی کے پیچھے بھی دراصل زمین کی معاشی طاقت تھی جو تقسیم نہیں ہو سکتی تھی چنانچہ گھر سے جانے والی لڑکی کو اس میں حصہ نہیں ملتا تھا۔ اولاد نرینہ اسی لئے اہم تھی کہ جب ایک مرد بوڑھا ہوکے ہل چلانے اور کاشت کے قابل نہ رہے تو اس کی جگہ لینےو الے ہوں۔ بوڑھے کا فیصلہ کن کردار اس بنیاد پر تھا کہ وہ نافرمان کو عاق کر سکتا تھا۔ جس کی قانونی یا شرعی حیثیت آج بھی صفر ہے مگراس وقت شہری معاشرہ آج جیسی قوت نہیں رکھتا تھا، ایک خالص زراعتی معیشت والے ملک میں ایک کے بعد دوسری نسل کی زندگی کا معمول بدلتا نہیں تھا۔ جب انگریز کے دور میں سرکاری ملازمت کا تصور پیدا ہوا جولگی بندھی اور مستقل آمدنی کی ضامن تھی تو نوجوان’’پر دیس‘‘ سدھارنے لگے۔ ان گنت گانے اس تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ’’پر دیس جانے والے وعدہ نہ بھول جانا‘‘ (ثریا)۔ ’’مرے ہیا گئے رنگوں وہاں سے کیا ہے ٹیلی فون‘‘ (شمشاد)۔ ’’پردیسی بالما ساون آیا‘‘(اوما)۔ ’’لے جا مری دعائی او پر دیس جانے والے‘‘ (لتا)۔ آبائی گھر چھوڑ کے کمائی کیلئے جانے والے ایک بیٹے نے اپنا پیشہ بھی بدلا اور بالاخراپنے بیوی بچوں کو بھی بلالیا، یوں ایک خاندان ٹوٹا۔ اس کی معیشت الگ ہوگئی۔ فیصلوں میں خود مختاری آئی اور رہن سہن کے ساتھ سوچ بدلی تو خود غرضانہ رویوں کو فروغ ہوا۔ اگر وہ شہر سے کمائی کر کے بھیجتا تھا تو دوسرے بیٹوں سے زیادہ قابل قدر ہو جاتا تھا۔
آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل سے بڑی سچائی کو رشتوں کے معاملے میں آج بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ شہری بیٹے کیلئے رفتہ رفتہ جذباتی رشتوں سے دوری اہم نہیں رہتی تھی۔ پھر رہی سھی کسر سسرال کی ذلت سے نکل کے اپنے گھر کی خود مختاری اور شوہر پر صرف اپنا تسلط چاہنے والی عورت رہی سہی کسر پوری کرتی تھی۔ وہ سمجھنے لگتا تھا کہ اس کے لیےواقعی اپنے بیوی بچوں سے زیادہ اہم کوئی نہیں۔ باقی رشتے ثانوی ہیں، پھر اس کا گھر جانا کم ہوجاتا تھا یا رقم بھیجنے میں با بطگی نہیں رہتی تھی۔ وہ کبھی بہن کی شادی پر کچھ دے دیتا تھا تو کبھی ماں باپ کی بیماری پر، باقی یہ کہ جو وہاں ہیں وہ ذمے دار ہیں، پھر، ماں باپ یا بھائی بہن کی ضروریات بلکہ ان کی ضرورت ہی غیر اہم ہوجاتی تھی۔ صنعتی ترقی نے شہری کلچر کو تیزی سے فروغ دیا اور شہر پھیلے۔ شہری سہولیات نے دیہات سے نقل مکانی کی رفتار تیز کیا اور یہی URBANISATION ہوتی گئی۔ اس اخلاقی تنزل کا سبب بنا کہ صرف اپنے لیے جینے کا اخلاقی جواز پیدا ہوگیا۔ شہر کے اطوار اور تھے یہاں دو بھائی بھی معاشی حریف تھے۔ کوئی کسی کی کفالت کا پابند نہیں تھا۔ ایک محل میں اور دوسرا جھونپڑی میں رہے تو اپنی قسمت۔ ترقی صرف مزید خوشحالی تھی کہ کس کا گھر اور گاڑی زیادہ شاندار ہیں۔ کس کے بیوی بچے اچھا پہنتے ہیں تعلیم اورفیشن میں آگے ہیں۔ بھائی بہن کی اپنی زندگی کے بھی یہی اصول، تعلق رکھیں۔ کم رکھیں یا نہ رکھیں۔ یہ مغربی معاشرہ کے اثرات بھی تھے جن سے بچ کے رہنا ناممکن ہوتا گیا، وہاں خاندان ایک غیر جذباتی حقیقت تھی۔ ایک مرد عورت نے باہمی ضرورت پوری کرنے کیلئے گھر بسایا۔ بچے ہونے ناگزیر تھے۔ قانوں نے ان کی پرورش کے اصول بنادیئے جن کے تحت میاں بیوی اپنے تعلق سے ہونے والے بچوں کو بالغ یعنی 18 سال کی عمر کو پہنچنے تک تحفظ، خوراک اور تعلیم فراہم کرنے کے پابند تھے۔ اس کے بعد تعلق کی بھی کوئی پابندی نہیں۔ سب کی اپنی اپنی زندگی جیسے چاہیں جئیں چنانچہ یہ عام بات ہے کہ نہ ماں باپ کو علم ہوتا ہے کہ بچے کہاں ہیں کس حال میں ہیں اور زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ دو سال قبل نیو یارک ٹائمز میں امریکہ کے تین بڑے شہروں نیو یارک،لاس اینجلز اور ہوسٹن پر ایک رپورٹ دیکھی تھی کہ ہر شہر میں اوسطاً 50 ہزار بے گھر نوجوان شب بسری کیلئے کسی رفاہی ادارے یا چرچ کی قرعہ اندازی میں جاتے ہیں، مشکل سے 500 کو اجازت ملتی ہے باقی لڑکے لڑکیاں کہیں بھی رات گزارنے کیلئے بستر بچھا لیتے ہیں، سڑک کے کنارے پارک میں پل یا دیوار کے سائے میں جہاں ممنوع نہ ہو۔ وہ بہت خوش قسمت نہ ہونے کے برابر ہیں جن کو ماں باپ کیا بہن بھائی کے گیراج میں بھی جگہ مل جائے حقیقی زندگی کا ایک تجربہ ہے کہ میری تقسیم سے پہلے برطانیہ کی شہریت لینے والے۔ (ایسے لاکھوں نہیں تو ہزاروں ضرور ہیں) پاکستانی کے بیٹے سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ اماں ابا کے دس سال قبل عید پر فون کرنے سے زندہ ہونے کا پتا چلا تھا۔ ایک بھائی کا بتایا کہ 25 سال بعد میں اس کے شہر میں تھا توسوچا مل لوں۔ فلیٹ پر پہنچا تو اس نے اندر سے چلا کے کہا کہ دس منٹ ٹھرو میں واش روم سے نکل آوں۔ میں نے کہا کہ بھائی میرے پاس بھی دس منٹ ہی تھے۔ پھر ملیں گے ابھی یہاں ایسا عام نہیں ہے۔ لیکن انفرادی واقعات میرے علم میں بہت ہیں۔
نچلے طبقے سے زیادہ یہ اپر کلاس کا مسئلہ ہے۔ میں نے کراچی کے گلشن معمار میں درجنون کیس دیکھے۔ ماں باپ نے اعلیٰ تعلیم دلائی اور بچے ایسے باہر گئے کہ لوٹ کے نہ آئے۔ وہ پیسہ بھیج دیتے ہیں ورنہ ماں باپ کو ضرورت ہی نہیں۔ان کے پاس پر آسایش گھر ہے کار ہے نوکر چاکر ہیں لیکن وہ اکیلے ہیں،ان سے بات کرنے والا کوئی نہیں۔ اس جگہ سے زیادہ دولتمند سوسایٹی ڈیفنس جیسے علاقوں کی ہر شہر میں ہے وہان ایسے کیس عام ہیں،بیٹے پوتے عید پر فون کرلیں تو غنیمت، گزشتہ نسل جزباتی طور پر جتنی بچوں سے بندھی ہویؑ ہے اس سے زیادہ اپنی زمین کی قیدی ہے جو بالاخر دو گز رہ جاتی ہے۔ کچھ لوگ گئے تو اس سیٹ اپ میں رہ نہ سکے۔۔ معاشرتی ماحول مختلف تھا، بچوں کےجذباتی رویے بدلے ہوئے تھے۔موسم کی سختی، کسی ہمزبان کا نہ ملنا۔۔ وہ واپس بھاگ آئے۔ بلا مبالغہ میں ایسے درجنوں واقعات کا عینی گواہ ہوں لیکن عام زندگی سے ہٹ کر مجھے صرف ایک شہر راولپنڈی کےاولڈ ہومز میں تین سال کام کرنے کا اتفاق ہوا تو جو صورت حال عیاں ہوئی اسے میں کیا کہوں۔۔ انسانیت سوز، شرمناک۔۔ لیکن اس سے ہمارے مہذب شہری معاشرے کا گھناونا چہرہ سامنے نہیں اتا۔ افسوس ہوتا ہے اپنے دوغلے پن کی انتہا پر۔۔ جہان ایک طرف انسانی اقدار پر نہ جانے کتنی “این جی اوز” کا سوشل ڈراما چل رہا ہے تو دوسری طرف مذہب کی اخلاقی تعلیمات کا شور ہے وہاں عمر رسیدہ افراد کے حالات ایسے ہیں کہ ان کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر۔۔ویسے بھی ان کی سینکڑوں کہانیاں ہیں۔ایک سے بڑھ کردکھی کرنے والی۔۔ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کا قابل نفرت چہرہ میں لاوارث لوگوں کی بات نہیں کرتا۔وہاں ملنے وہاں نظر آنے والوں کے خاندان ہیں۔۔اولاد ہے جس نے ان کا سب کچھ چھین کے انہیں بے گھر کر دیا ہے اور بھول گئے ہیں۔ وہ صرف مرنے کے لئے زندہ ہیں۔ ہاتھ پھیلانے کی عادت اور ہمت نہیں ان کو سر چھپانے کی جگہ اور دو روٹیاں دینے والے اس سے زیادہ کر ہی نہیں سکتے اور حکومت کے بس میں نہیں۔۔ انہیں کہیں لے جاکے گولی مار دی جائے اور زمین میں دبا دیا جائےتوعذاب ختم ہو۔ جب تک توانائی تھی میں کچھ نہ کچھ کرتا رہا جو آٹے میں نمک جتنا بھی نہیں تھا کیونک یہ مسئلہ پورے پاکستان کے ہر شہر کا ہے۔ ایک بار زمرد خان چیرمین بیت المال نے میرے ساتھ صادق آباد میں پنجاب سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے اولڈ ہوم کا دورہ کیا اور جب میں نے تمام حالات بتائے تو اس نے کہا کہ میں 100 افراد کیلئے اسلام آباد اور 100 کیلئے راولپنڈی میں اولڈ ہوم کے منصوبے کیلئے کام کروں۔ عمارت بنانے سے آباد کرنے تک۔۔ میں نے ہاتھ جوڑ کے معذرت کر لی کہ آپ کے پاس تو سینکڑوں افراد کا ادارہ ہے۔ میرے پاس نہ توانایؑ ہے نہ فرصت عمر۔۔بات ختم ہوگئی۔۔لیکن مسئلہ تو کئی گنا سنگین ہوچکا ہے،اتنا بڑا کہ اس کام میں کوئی ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کرتا۔بہتر ہے اس کینسرکو نہ چھیڑا جائے۔ اس سےنظر چرانا منہ پھیرے رکھنا اس کی بات نہ کرنا ہی بہتر ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 70 فیصد بوڑھے اپنے گھروں میں ” قیدی” ہیں جن کے رہنے کی جگہ ہےاور کھانا بھی مل جاتا ہے لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ شرم کی وجہ سے اور بد نامی کے ڈرسے نہ وہ کہیں جا سکتے ہیں نہ اولاد کی بد سلوکی کی بات کر سکتے ہیں۔۔بے شک بوڑھے کو خوش رکھنا آسان نہیں ہوتا،وہ عموما” ہر بات کی شکایت کرتے ہی نظر اتے ہیں۔عمر کے ساتھ بے کاری۔۔بیماری۔اور بیزاری کا مسیؑلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جاتا ہے۔ بہت کچھ بوڑھوں کو بھی سیکھنے اور کرنے کی ضرورت ہے اور وہ ناخوش ہیں تو اولاد سے زیادہ ان کا اپنا قصور ہے کہ وہ بدلے ہوئے وقت اور حالات سے مفاہمت نہیں کرتے۔۔ 50 سال کا تقریبا” ہرشخص خود کو عقل کل سمجھتا ہے اور اپنی زندگی کے تجربے کے سامنے علم کو اہمیت نہیں دیتا۔ نصف صدی میں دنیا بدل جاتی ہے لیکن وہ اپنے وقت سے باہر نہیں اتا اور کسی تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔۔۔دوسری طرف اولاد کا وقت ان کے وسائل اور توانائی اپنی فیملی اور اپنے کام کیلیے پوری طرح واقف ہونا ضروری ہیں۔ بوڑھے ہوتے ماں باپ زیادہ توجہ مانگتے ہیں لیکن دونو فریق بدلے ہوئےحقائق سے سمجھوتہ نہیں کرپاتے۔
یہاں سے جنریشن گیپ کا مسئلہ سنگین ہوجاتا ہے جس کو ابھی تک ہم نے تسلیم کرنا ہی نہیں سیکھا باپ اور بیٹا بیٹھ کے کسی الجھن۔ پریشانی یا مسئلے پر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ایک سطح پر بات کرنے کا سوچتے بھی نہیں۔ باپ اپنی بڑائی کے زعم میں اپنی رائے نافذ کرنا چاہتا ہے اور بیتا ان کی “ذہنی معزوری” کو برداشت نہیں کر پاتا جو دراصل عمر کی مجبوری ہے جو سب کو زود یا بدیر لاحق ہوتی ہے۔س صورت حال میں ماں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔وہ جذباتی طور پر بیٹے کے زیدہ قریب ہوتی ہیں لیکن شریک حیات کی حیثیت سے عورت کبھی شوہر کیلئے اتنی اہم نہیں رہی کہ اسے سمجھا سکے۔ اس عمر میں شوہروں کے مقابلے میں وہ جوان بیٹے کی زیادہ طرفدار بن جاتی ہیں۔یہ بھی ایک الگ نفسیاتی مسئلہ ہے کیونکہ بیٹیاں عموماََ باپ کو “آئیڈیلائز” کرتی ہیںاس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتے ہیں۔
ہر مشکل صورت حال میں ایک دادا یا تایا سمجھدار ہو تو ٹھنڈے دماغ سے ثالث بن کے دونو طرف کی سن سکتا ہے اوردونو کو سمجھا سکتا ہے لیکن وہ تو باپ کا بھی “بڑا” ہوتا ہے۔۔اور خودبھی اپنے گھر میں انہی مسایل سے دوچار۔۔ چنانچہ ایک معاملہ فہم غیر جانبدار ثالث یقینا” آسانیاں پیدا کر سکتا ہے اورکوشش کر سکتا ہے مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں اس ضرورت کو بہت پہلے تسلیم کرلیا گیا لیکن اس میں مشرق مغرب کی تخصیص کیا۔۔ فیملی پرابلم کو “فیملی کونسلر” ہی سمجھ اور سمجھا سکتا ہے۔ اس کا ماہر نفسیات ہونا لازمی نہیں قابل اعتماد ہونا ضروری ہے۔۔ یہاں فورا” سوال کھڑا ہو جاتاہے کہ گھر کی بات باہر لے جائیں؟ غیر پر کیسے بھروسہ کرلیں؟ کسی کو پتا چلا تو۔۔۔۔
لیکن نہ اس معاشرتی مسئلہ کے وجود سے انکار ممکن ہے نہ اس کا اور کوئی حل ہے۔ مجھے ایک عملی تجربہ ہوا جب حلقہ شناسائی میں چارچھ مرتبہ مجھے بہت سنگیں فیملی مسائل میں مدد کیلئے کہا گیا اور میں نے مکمل رازداری کے وعدے پر فریقین سے الگ الگ بات کی۔ مجھے حیرت ہے کہ جوبات وہ ایک دوسرے سے کرہی نہیں سکتے تھے وہ انہوں نے تیسرے فریق یعنی مجھ سے کی تو مسئلہ کتنی آسانی سے حل ہو گیا۔ اس وقت ہمارے گھروں میں یہی دوریاں ہیں جو رشتوں کوپاوں کی زنجیر بنا رہی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ۔۔۔ہمارے گھر مکاں ہونے لگے ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: