قصہ ہاسٹل کی لڑکیوں کی شب گزاری کا: فارینہ الماس

1

گذشتہ دنوں ایک ویب سائیٹ پر شائع ہونے والا ایک آرٹیکل نظر سے گزرا۔ اس کے دوحصے تھے لیکن دونوں کا باہمی تعلق یونیورسٹیوں کی کار گزاری سے ہی تھا۔ اول حصے میں پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل کی لڑکیوں کی بے راہ روی کا من گھڑت قصہ سنایا گیا اور دوسرے حصے میں ان یونیورسٹیوں کے طلبہ کو فراہم کردہ تربیت کے ناقص اور کمتر ہونے کا خمیازہ معاشرے کو بدقماش اور بدکردارلوگوں کی صورت بھگتنے کا احوال بتایا گیا۔
کہنا یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیاں اگر شراب کے نشے میں دھت پائی جاتی ہیں یا یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ اگر بعد ازاں رشوت خور، دھوکے باز، بے ایمان ،ملاوٹ خور ،شرابی و زانی بن کر سامنے آتے ہیں تو اس میں یونیورسٹیوں کی تربیت سے کہیں ذیادہ قصور طلبہ کی اس پرورش اور تربیت کا ہے جو وہ 20 یا 22سالوں میں پہلے سے ہی اپنے والدین ،گھر بار ،خاندان ،محلے ،دوست احباب اور ان درسگاہوں کے ماحول سے حاصل کر چکتے ہیں جہاں وہ پہلے اپنے قیمتی تعلیمی و تربیتی 11 یا 12سال اور بعد ازاں کالجوں کے چار یا پانچ سال بیتاتے ہیں۔اس لحاظ سے یونیورسٹیاں تربیت گاہ نہیں بلکہ گزشتہ سالہا سال کی تربیت کی مظاہر گاہیں ہیں کیونکہ یہاں لوگ اسکول،گھر اور کالج کی تربیت سے اپنے اذہان پختہ کر کے آتے ہیں۔ یونیورسٹیاں آپ کے تعلیمی نقطہء نظر کو جدت دے سکتی ہیں، دنیا میں ہونے والی ریسرچز سے آگاہ کر سکتی ہیں ،آپ کو ملازمت کے حصول کے طریقہء کار کے تحت تربیت مہیا کر سکتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ فارن کوالیفائیڈ اساتذہ آپ کو اپنے تجربات اور کامیابیوں کی کہانیاں سنا کر ان سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں، لیکن آپ کا ذاتی کردار اس تربیت کا عکاس ہوتا ہے جو آپ نے 20 یا 22 سالوں تک گھر اور تعلیمی اداروں سے پایا۔ میں نے بذات خود یہاں آئے ہوئے بگڑے لڑکوں اور لڑکیوں کے ہاتھوں انتہائی میچیور اور یورپ کے پی ایچ ڈی اساتذہ کو ذلیل و خوار ہوتے دیکھا۔ میں نے ایک انتہائی قابل اور نہایت تجربہ کار استاد کو بگڑے ہوئے طلبہ و طالبات کے ہاتھوں ذلت اٹھاتے اور اپنی آنکھوں میں اپنے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے بھی دیکھا۔ایک انتہائی قابل اور مخلص استاد کی زبانی ان کے ماضی کی کہانی بھی سنی جس میں انہوں نے بتایا کہ اپنی زندگی کے سنہرے سال محض اس لئے یورپ میں ملازمت کر کے گزار دئے کہ یونیورسٹی کے خودساختہ صالحین نے انہیں اپنے ایک احتجاج کے دوران احتجاج سے روکنے پر خوب مار کٹائی کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس قدر بد دل اور مایوس ہوئے کہ یونیورسٹی تو کیا وطن بھی چھوڑ کرچلے گئے۔یہ شاید ضیاء دور کا قصہ تھا جب تعلیمی اداروں میں بھی اجارہ داری کو منظم طور پر قایم کیا گیا ۔ الزام محض دینی فکر کے لوگونںکے سر ہی نہیں جاتا ،بلکہ استاد کو عزت نہ دینے کا الزام ہماری ایلیٹ اور سیکیولر کلاس کے الٹرا ماڈرن طلبہ کے سر بھی جاتا ہے۔ جن پر دیگر ساتھی طلبہ یا اساتذہ کی کوئی بات کوئی نصیحت کار گر ثابت نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی یا یونیورسٹی کا استاد طلبہ کی تنظیم سازی نہیں کرتا اس کا رویہ پر تشدد نہیں بناتا بلکہ یہ طلبہ سیاسی تنظیموں اور جماعتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں۔یونیورسٹی اساتذہ ،کتابوں کی صورت مغرب کا اخلاق سوز یا فحش لٹریچر نہیں پڑھاتے بلکہ وہ طلبہ کو انتہائی محنت سے تیار کردہ وہ لیکچر فراہم کرتے ہیں جو جدید تعلیمی تقاضوں کو پورا کر سکے ،جو معلومات کو اپ ٹو ڈیٹ رکھ سکے ،جو طلبہ کو ریسرچ کی طرف لے جا سکے۔ ہم اپنی تمام تر نالائقیاں اور کمزوریاں اسکول اور کالج کی ناقص تعلیم سے ہی لے کر اس دانش کدہ میں داخل ہوتے ہیں۔ آپ کسی ایک وائس چانسلر یا کسی نا اہل ایڈمن کی نا اہلی اور بد فعلی کا الزام تمام تر اساتذہ کو نہیں دے سکتے۔
اب بات رہی گر لز ہاسٹل کی چند لڑکیوں کی نشے میں دھت ایک شب گزاری کے قصے کی۔ تو یہاں بھی محض پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل کو مورد الزام ٹھہرا کر آپ معاشرے کی مجموعی طور پر بدلتی روش یا دیگر اداروں کے ہاسٹلز میں رہنے والی لڑکیوں کی کارگزاری سے چشم پوشی نہیں کر سکتے۔ گو کہ ان لڑکیوں کو اپنی آنکھوں سے اس حالت میں نہ دیکھنے اور محض قصے کہانی کو سن کر کسی کے کردار کو بیان کر دینے کی صورتحال محض ایک تہمت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حقیقت سے تو چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ گزشتہ کچھ سالوں سے ہماری درسگاہوں کے ہاسٹلز میں رہنے والی لڑکیوں کا ماحول کچھ حد تک بے راہ روی کی طرف مائل ہو رہا ہے۔یہ لڑکیاں دوسرے شہروں اوردور دراز قصبوں سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی غرض سے ماں باپ کے اعتماد کے ساتھ ان درسگاہوں تک آتی ہیں ،اکثر تو معاشی طور پر اس قدر مفلس گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں کہ والدین کو ان کی تعلیم سے وابستہ اپنے گراں بہا خواب کی تعبیر کے واسطے خود اپنا آپ بھی وڈیروں کے آگے رہن رکھنا پڑتا ہے۔
میں بذات خود پنجاب یونیورسٹی میں ایک ڈے سکالر کے طور پر دو سال بیتا چکی ہوں۔ کیونکہ میرا شعبہ نیو کیمپس میں تھا سو ہاسٹل کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمارے شعبے کی دس سے بارہ لڑکیاں ہاسٹل میں رہائش پزیر تھیں۔ اور ذیادہ تر کا تعلق پنجاب کے انتہائی پسماندہ علاقوں سے تھا۔ اور اکثر انتہائی غریب گھرانوں سے بھی تعلق رکھتی تھیں اور نجانے والدین کس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر بخوشی انہیں تعلیم دلوا رہے تھے۔ میں نے ان دوسالوں میں خود اپنی آنکھوں سے انتہائی سادہ لوح اور دیہاتی تمدن میں پرورش پانے والی لڑکیوں کو کچھ ہی عرصے میں جینز کلچر اپناتے بھی دیکھا۔شروع میں ان کی شہر میں عیاشی محض انارکلی کی چاٹ اور لبرٹی کے جوتے خریدنے تک ہی رہتی ہے بعد ازاں وہ شہر میں جا بجا منڈلاتی خوبرو اور خوش لباس لڑکیوں سے متاثر ہو کر جدید لباس خریدنے اور جدید رنگ ڈھنگ اپنانے اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے شہر کے رئیس زادوں سے دوستیاں بھی کرنے لگتی ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ یونیورسٹی کی ایک کلاس میں ایک ہی وقت میں ایلیٹ کلاس ،مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کی لڑکیاں اپنی اپنی کلاس سے وابستہ گھرانوں اورکالجوں کے کلچر اور روایات لے کر وارد ہوتی ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی لڑکیاں وہ ہوتی ہیں جن کا پس منظر دیہات سے وابستہ ہوتا ہے۔وہ شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو کر خود کو بدلنے اور ان جیسا بننے کی ٹھان لیتی ہیں۔ وہ اپنے گاوں جاتے ہوئے پردے کو بالکل ویسے ہی ملحوظ خاطر رکھتی ہیں جس پردے کو لے کر وہ شہر وارد ہوتی ہیں لیکن وہ پردہ شہر میں داخل ہوتے ہی اس کی ہوا میں کہیں کھو جاتا ہے۔ اپنے گھر والوں سے دور رہ کر وہ بھرپور طریقے سے شہر کی آذادی سے لطف اندوز ہونے لگتی ہیں۔لیکن محض ہوسٹل میں رہنے والی لڑکیاں ماحول کی خرابی کی ذمہ دار نہیں ٹھہرائی جا سکتیں ،کیونکہ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں اسی طرح ہاسٹل میں رہنے والی ہر لڑکی میں خرابی نہیں۔
مجموعی طور پر طالبات کی بڑی تعداد ایسی لڑکیوں پر مشتمل ہے جو اپنے خاندانی اور گھریلو رکھ رکھاو اور تہذیب کا دامن کسی طور ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ ان کی توجہ کا مرکز صرف تعلیم ہی ہوتی ہے۔وہ بلا وجہ شہر میں گھومنا پھرنا بھی پسند نہیں کرتیں۔ اور خرابی تو ان لڑکیوں میں بھی پائی جا تی ہے جو ہاسٹلوں میں نہیں بلکہ اپنے ہی گھروں میں اپنے والدین اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ آباد ہیں۔ اگر ہم نے ہاسٹل کی لڑکیوں کو ہی برائی کی مثال بنا لیا تو ایسے کئی والدین جو اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے واسطے بڑے شہروں میں بھیجتے ہیں ان کا اعتماد ان اداروں سے اٹھ جائے گا۔ ہمیں مجموعی طور پر نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچانے کے لئے برائی کی جڑ کی طرف توجہ کرنی ہو گی۔ میڈیا کی وہ ترغیب جو نوجوان نسل کو مادیت پرستی اور خود نمائی کی طرف لے جا رہی ہے۔ وہ بھی اس نئے اور بھیانک چلن کا باعث ہے۔ والدین کی اولاد کی سرگرمیوں سے لاعلمی اور بے خبری، درسگاہوں میں استاد کا علم کے ساتھ تربیت کا اہتمام نہ کرنا ،یہ اور ایسے کئی عوامل ہیں جو نوجوان لڑکیوں تک کو نشے اور بے راہ روی کی لت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ موصوف نے ملاوٹ خوروں ،کاروباریوں ،مردہ مرغیوں کو ہوٹلوں کے کھانوں میں استعمال کرنے والوں کے کردار کی ذمہ داری بھی تعلیمی اداروں کے سر دھر دی حالانکہ ان میں سے اکثر تو تعلیم یافتہ ہی نہیں۔اور اگر تعلیم حاصل کر بھی رکھی ہے تو اعلیٰ اداروں سے نہیں عام گورنمنٹ سکولوں کالجوں سے۔سو مجموعی طور پر ایک قوم کے بگڑے چلن کی وجہ صرف تعلیمی ادارے نہیں ،بلکہ معاشرے میں تربیتی نظام کا ناپید ہونا ہے جس کا باعث استاد بھی ہے اور استاد سے کہیں ذیادہ والدین بھی ہیں۔ مذکورہ آرٹیکل میں دینی مدارس کے کردار کو جس انداز میں پیش کیا گیا اس پر بحث کا ذمہ پھر کسی وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. نعمان علی خان on

    اچھی تحریر و تجزیہ ہے لیکن اس آرٹیکل کا عنوان اگر ریڈر شپ بڑھانے کی حرص میں نہ بھی رکھا گیا ہو تب بھی کم از کم الفاظ میں انتہائی غیر ذمے دارانہ ہے۔ ایسی جنرلائزیشنز سے اجتناب ضروری ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: