سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات

0

· ڈان لیکس کے متعلق آئی ایس پی آر کی طرف سے دست برداری
· پاکستان کے لئے بیرونی خطرات میں اضافہ
· سندھ اسمبلی کے اراکین کی تربیت کے لئے بھی ایک اسکول کھولنے کے ضرورت ہے۔
· محکمہ آبپاشی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے

تحریر آغا نور محمد پٹھان
ڈان لیکس کے متعلق آئی ایس پی آر کی طرف سے دست برداری ۔
روزنامہ عوامی آواز کراچی نے اپنے 11 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں ڈان لیکس کے متعلق آئی ایس پی آر کی طرف سے اپنے 29 اپریل کے ٹوئیٹ واپس لینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو فیصلے کرتے وقت حالات اور ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے یک طرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے متفقہ فیصلہ طور پر ایک پیج پر آنا پڑے گا ورنہ عوام کے اندر چہ مگوئیاں اور غلط فہمیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس لئے آئندہ اس چیز پر دھیان رکھا جائے کہ ایساقدم نہ اٹھایا جائے جس کو پھر واپس لیا جائے۔
روزنامہ عبرت حیدرآبادنے اپنے 11 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ٹوئیٹ کی واپسی کی خبر کو سیاسی اور عسکری اداروں کے لئے نیک شگوں قرار دیا ہے اخبار کے مطابق اس وقت ہمارا ملک شدید کشیر الجہتی الجھنوں کا شکار ہے ایک طرف افغانستان نے چمن کے سرحد سے بلاجواز فائرنگ کرکے عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا جس سے کئی معصوم شہری ہلاک ہوگئے تھے اب ایران کے طرف سے اس طرح کی دھمکیاں آ رہی ہیں۔ اس لئے ہماری وزارت خارجہ کو ان ملکوں سے متعلقہ شعبوں کے سربراہوں سے گفتگو کرکے معاملات کو ٹھیک کرنا ہوگا کیونکہ جب پوری دنیا نے ایران پر پابندیاں لگائیں تھیں اور افغانستان پر روس نے حملہ کیا تھاتو ہم پاکستانی ہی تھے جس کی عوام اور حکومت نے دونوں مسلمان بھائی ممالک کا ہر طرح سے ساتھ دیا تھا۔ افغانیوں کو پناہ دی اور ایران کے ساتھ لاکھوں پاکستانی زیارتوں کو لئے ان کے ساتھ تعاون کرتے رہے، ان کے لئیزرمبادلہ فراہم کرتے رہے اور ان کے ساتھ بھائی چارہ قائم رکھا۔
روزنامہ مہران حیدرآبادنے اپنے 11 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ یہ بات بظاہر تو اچھی نظر آتی ہے اور ملک میں وزیر اعظم نواز شریف اس بحران سے باہر نکل آئے لیکن ایک بار پھر مخالف سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ابھرا ہے کے لاہور اور لاڑکانہ میں واضع فرق ہے اور ہم یہ ضرور کہیں گے کہ امپائر کی انگلی نواز شریف کے خلاف نہیں اٹھتی اور وہ ہمیشہ بچ جاتے ہیں اور پاک فوج نے آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے یہ قدم اٹھا کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ پاک فوج اور سیاسی حکومت ایک پیج پر نہیں ہیں۔
روزنامہ جیجل کراچی نے اپنے 11 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ اداروں کے درمیاں کشمکش نہیں ہونی چاہیے۔ اخبار نے ڈان لیکس والے معاملے پہ تبصرہ کرتے ہوئے ہے کہ اس طرح کے خبریں لیک کرنے سے اداروں کے درمیاں کشمکش پیدا ہوجاتی ہے جو ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہے اور اس پر جلد بازی سے فیصلے کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے مذاکرات کرکے اعتماد والی فضا کو قائم رکھا جائے جس طرح حال میں ڈان لیکس والے اشو کو حل کیا گیا آگے بھی اسی طرح ساتھ مل کر کے معاملات کو حل کیا جائے۔

پاکستان کے لئے بیرونی خطرات میں اضافہ
روزنامہ عبرت حیدرآبادنے اپنے 10 مئی 2017کے ادارتی نوٹ میں پاکستان کے لئے بیرونی خطرات کے عنوان سے بھارت، افغانستان کے بعد اب ایران کی فوج کے سربراھ میجر جرنل باقری کے بیان کا حوالے سے لکھا ہے کہ اب ایران نے بھی “جیش العدل “کی پناھ گاہوں پر براہ راست حملے کرنے کی بات کی ہے۔اس سے نہ فقط اندرونی بلکہ بیرونی خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اخبار نے تجویز دی ہے کہ اس طرح کے سرحدی تنازعات و مسائل کو باہمی گفتگو کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں فوج اور سیاسی حکومت کو ایک گھاٹ پر ہونا چاہیے۔
دوسرے ممالک کی اس طرح کی مثالیں موجود ہیں جیساکہ دوسری عالمی جنگوں میں کئی ممالک کے تنازعات ڈائلاگ کے ذریعے حل کئے گئے تھے ہمیں بھی اس طرح کے سلسلہ سفارتی ڈائلاگ کے ذریعے حل کرنے ہونگے اس کے لئے مستقل فعال وزیر خارجہ کی ضرورت ہے۔
روزنامہ مہران کراچی نے اپنے 10 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے مشرقی سرحدیں پہلے ہمیشہ محفوظ رہی ہیں کیونکہ ایران و افغانستان والے مسلمان ہمسایہ ممالک ہیں اور چین ہمارا دوست ملک ہے اس لئے ہمیں ان سرحدوں سے کبھی بھی خطرہ نہیں رہا فقط بھارت سے ہمیں خطرہ رہتا تھا لیکن اب افغانستان کی سرحدوں سے بھی حملے شروع ہوگئے ہیں اور ایران بھی اس طرح کی باتیں کر رہا ہے۔ یہ دونوں ممالک ماضی میں ہمارے دوست رہے ہیں اب مشرقی و مغربی سرحدیں جن تین ممالک سے مل رہی ہیں۔ اب ایک زبان بول رہے ہیں اور یہ بھارت کی بڑی کامیابی ہے اور ہم اپنے روایتی دشمن (بھارت) کے نشانے پر ہیں اس کے مقابلے کے لئے ہم سود پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بڑے بڑے قرضے لے کر اصلحہ کے خریداری کرنے پڑتی ہے جس سے ہمارا دفاعی خرچ بڑھ جاتا ہے ۔

سندھ اسمبلی کے اراکین کی تربیت کے لئے بھی ایک اسکول کھولنے کے ضرورت ہے۔
روزنامہ کاوش حیدرآبادنے اپنے 11 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں سندھ اسمبلی کے اراکین کی تربیت کے لئے بھی ایک اسکول کھولنے کے ضرورت ہے۔ اخبار کے مطابق اگر اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ ممبر حضرات اس طرح کی بازاری زبان استعمال کرتے ہیں تو اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے علاقے کے ووٹرزکے ساتھ ان حضرات کا رویہ کیا ہوگا۔ اس لئے اخبار نے لکھا ہے کہ اسمبلی کے ممبران کے لئے کوئی اخلاقی تربیت کے اسکول کھولنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر تو یہ بڑے لوگ، وڈیرے، رئیس اور بھوتار ہیں لیکن ان کو یہ معلوم نہیں کہ قانون بنانے والے اسمبلی میں کس طرح کی جملے بازی کرتے ہیں، سندھ اسمبلی میں عورت اراکین پر بازاری اوربدتمیزی والی گفتگو کئی بار ہوچلی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اس طرح کے کام کے لئے بھی کچھ اراکین کی کوٹہ رکھی ہوئے ہے۔
اخبار نے اپنے دوسرے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ سندھ کے محکمہ صحت میں انجنیئرز کا کام بھی ڈاکٹر کرتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ نئے قائم کردہ اضلاع میں ضلعی اسپتالوں کے قیام کے لئے اسپتال کے ڈاکٹرروں کو پروجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے جس کو صوبائی وزیر نے بعد میں ہٹایا۔ اس طرح کے حالات کی وجہ سے اب تک سانگھڑ، خیرپور، شکارپور، گھوٹکی، ٹھٹہ، دادو، ٹنڈو محمد خان کی ضلعی اسپتالوں کے تعمیر مکمل نہیں ہو سکی ہے اس لئے وہاں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدوں پر اچھی ساکھ رکھنے والے انجنیئرس کو مقرر کیا جائے۔

محکمہ آبپاشی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے
روزنامہ کاوش حیدرآبادنے اپنے 10 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ محکمہ آبپاشی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ سندھ کو پانی کے سلسلے میں ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے او راس کو پورا پانی نہیں دیا جاتا اور تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی جب گڈو تک پہنچتا ہے تو اس کا اچھا خاصہ حصہ چوری ہوجاتا ہے سندھ میں پہچنے والا پانی بڑے بااثر زمینداروں کی لفٹ مشینوں سے براہ راست چوری ہوجاتا ہے اس کے بعد سرکاری سرپرستی کے ذریعی سیاسی مداخلت اور کرپشن کے ذریعے پانی کے چوری سندھ کے غریب اور بے سہارا لوگوں کے لئے بڑے نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے بعد جن زمینداروں پر حکمران طبقہ ناراض ہے ان کا پانی بند کیا جاتا ہے تاکہ ان کی واحد آمدنی کا ذریعہ ختم کیا جائے اور ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ حکمرانوں کے ستاھ ہم قدم رہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پانی کی ان چوری کی وارداتوں اور سیاسی مداخلت کو روکنے کے لئے رینجرز کے خدامات حاصل کی جائیں اور سندھ کے آبپاشی نظام کو بہتر بنایا جائے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: