مانچسٹر دہشت گردی کی لپیٹ میں: ثمینہ رشید

0

کل رات مانچسٹر میں ہونے والا خودکش دھماکہ برطانیہ کی تاریخ میں 7 جولائی 2005 کے بعد ہونے والا سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ جس کی گونج شاید ابھی لمبے عرصے تک یاد رکھی جانے والی ہے۔ کل بروز بائیس مئی مانچسٹر ایرینا کے ہال میں ایک امریکی سنگر کے کانسرٹ کی فورا بعد خودکش دھماکہ ہوا۔ ہال کے دروازے کے باہر ہونے والے اس دھماکے میں بائیس لوگ ہلاک اور ساٹھ افراد زخمی ہوئے۔

دہشت گردی کی وبا پھیلتے پھیلتے یورپ تک آ پہنچی ہے۔ پچھلے ایک سال میں فرانس جرمنی اور برطانیہ اس کی زد میں آچُکے ہیں۔ مانچسٹر پہ حادثے کے فورا بعد جائے حادثہ پر دردناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ مانچسٹر ایرینا میں اکیس ہزار لوگوں کی گنجائش ہے اور کل حادثے کے وقت بھی ہزاروں لوگ ہال میں موجود تھے۔ جن میں سے زیادہ تر لوگوں کی عمر دس سال سے پچیس سال کے درمیان تھی۔

کل رات جائے حادثہ کے اطراف میں رہنے بسنے والے لوگوں کی ہمت اور جذبہ انتہائی قابل ستائش تھا۔ جنہوں نے حادثے کے فوری بعد اپنے گھروں کے دروازے اجنبی لوگوں کے لئے کھول دئیے تھے۔ اس دوران سوشل میڈیا کا انتہائی مفید استعمال کیا گیا ۔ فیس بک خصوصا ٹوئیٹر پہ اطراف کے رہائشی لوگوں نے اپنے گھروں میں رات کے وقت کھانے پینے، سونے اور فون کو چارج کرنے کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کی ۔ جس شہر میں دہشت گردی کے واقعے کو صرف چند منٹ گزرے ہوں اس کے رہائشیوں کا یہ عمل یقیناً سنہرے لفظوں سے لکھنے کے قابل ہے۔ پولیس، ایمولینسز اور میڈیکل اسٹاف نے جائے حادثہ پہ پہنچ کر فوری امداد فراہم کرنا شروع کی۔ ان تمام لوگوں کے ساتھ ساتھ جائے حادثہ کے قریبی علاقوں میں موجود کیب ڈرائیورز جن میں ہر کمیونٹی اور مذہب کے لوگ شامل تھے فوری طور پر وہاں پہنچے اور اپنے طور پہ لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے بہت سے خوفزدہ حادثے کے متاثرین کو بلا معاوضہ ان کے گھروں تک پہنچایا۔

دہشت گردی کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب برطانیہ میں جنرل الیکشن میں صرف دو ہفتے باقی ہیں۔ حادثے کے فورا بعد انتخابی مہم سے متعلق ہر قسم کی سرگرمی کو چوبیس گھنٹوں کے لئے معطل کردیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم تھریسا مے اور اپوزیشن لیڈر جرمی کوربن نے سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کے حوالے سے آپس میں بات چیت کی ہے۔ اور حادثے کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ گو ابھی خودکش حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئ ہے اور قوی امید ہے کہ الیکشن تک شاید اس کو ظاہر بھی نہ کیا جائے۔ تاکہ الیکشن میں کسی خاص کمیونٹی پہ پڑنے والے منفی اثرات سے بچا جاسکے۔ کیونکہ اچھے حکمران اوررہنمااپنی ملک میں بسنے والے ہر شخص کے محافظ ہوتے ہیں اور ہر اس بات اور عمل سے گریز کرتے ہیں جو انہیں تقسیم کردے۔

حادثہ تو ایک دن ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات قوموں پہ بہت عرصے تک بھلائے نہیں جاتے۔ مرنے والوں کے لواحقین کا غم۔ زخمی ہونے والوں کے بھر جانے والے زخموں کے نشان ان کو یہ حادثہ نہیں بھولنے نہیں دیتے۔ لیکن ملک کے حکمرانوں کے سخت اقدامات ان کی ہمتیں جوان رکھتے ہیں۔ اور وہ ان حادثوں سے گرتے نہیں ایک نئے عزم سے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

میں ہمیشہ سوچا کرتی تھی کہ ایک اچھی قوم ہونے کا، ایک ملک کی سرحدوں کے اندر رہنے بسنے والے لوگوں کے ایک قوم ہونے کا فارمولا کیا ہے۔ رنگ، نسل مذہب یا کچھ اور۔ لیکن کل رات اس حادثے کے بعد مجھے میرے سوال کا جواب ملا کہ ایک قوم بلکہ ایک اچھی قوم ہونے کا ایک فارمولا صرف ایک ہے انسانیت اور ایک دوسرے کا احساس جو کسی بھی رنگ و نسل اور مذہب سے بالا تر ہے۔

ثمینہ رشید

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: