۔۔۔تو پھرالگ ملک کیوں بنایا تھا؟ ابن انشا جدید

0

یہ کونسا ملک ہے”ابن انشا سے ایک مکالمہ
ابن انشا کو کون ایسا ہے جو نہیں جانتا ہو… اور جو نہیں جانتے ان کا ہم کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتے ..خیر ابن انشا پرانے وقتوں کا پرانے خیالات کا اکلوتا مالک ایک شخص ہوا کرتا تھا۔۔ ابن انشا نے “ہمارا ملک” کے نام سے ایک طنزیہ مضمون لکھا تھا جس میں نہ صرف مرض کی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ علاج بھی بتایا گیا ہے۔۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے موقع پر پاکستانیوں نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے کافی دھول اڑائی۔۔ صرف دھول اڑانے پر اکتفا کیا جاتا تو گزارہ ہوجاتا مگر ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتے دکھاتے خوب سر پھٹول دیکھنے کو ملی۔کسی کا جھکاؤ سعودی کی طرف تو کوئی ایران کے چرنوں میں گرا ہوا پایا گیا۔۔ ہم نے غیروں کے اس ہجوم میں تنگ آکر دوبارہ ابن انشا کو عالم لاہوت سے عالم ناسوت پر اتر آنے کی زحمت دی۔۔تاکہ وہ اس پر ایک اور مضمون باندھے اور ہمارے دل کا بوجھ ہلکا کردے۔۔ پہلے تو ابن انشا آرام میں خلل ڈالنے پر سخت ناراض ہوے۔۔ قریب تھا کہ وہ ہم پر ایک طنزیہ مضمون لکھ ڈالتے ہم نے جھٹ سے پاکستان کے حالات حاضرہ ان کے سامنے رکھ دئیے۔۔ نقشہ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی اور اردگرد کا جائزہ لینے لگے۔۔ اپنے اردگرد ہجوم غیراں کو دیکھ کر پہلے تو بہت گھبرائے۔۔ مگر صورتحال جان کر ایک آہ بھری پھر ہم سے یوں مکالمہ شروع کیا۔۔!!!
ابن انشا:۔یہ کونسا ملک ہے؟
میں: یہ پاک۔۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔۔پاکستان نہیں ہے۔۔
ابن انشا: اچھا تو پھر یہ دوسرا کونسا ملک ہے۔۔۔؟؟
میں: جو بھی کہہ لیں مگر پاکستان مت کہیں۔۔بس عربستانی۔۔ایرانیستانی۔۔افغانستانی۔۔انڈینستانی۔۔مغربستانی کا دیس بولیں۔۔چلے گا۔۔۔!!!
ابن انشا: دیس بولے تو۔۔۔۔!!
میں: بولے تو ملک۔۔۔۔(اس پر ابن انشا نے ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔اور اٹھ کر تلاشی لی کہ کہیں ہم نے خودکش جیکٹ نہ پہن رکھے ہوں۔۔۔قریب تھا کہ ہمارا “وہ” نکلتا ہم نے دوبارہ موضوع چھیڑ دیا)
ابن انشا: کیا اس میں آج بھی سندھی۔بلوچی پنجابی۔پختون رہتے ہیں
میںں: نہیں آپ کے دور کے پاکستان میں رہتے ہونگے آج کل وہ کہاں ہوتے ہیں نہیں پتا
ابن انشا:پھر اس میں کون بستے ہیں
میں: اب اس میں آدھا ایرانی اور ادھا سعودی والے بستے ہیں
آدھے لوگ افغانی ہیں تو ادھے لوگ انڈین آدھے لوگ مغرب والے رہنے لگے ہیں
ابن انشا: تو آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی کوئی بھی نہیں ہے
میں:جی ایسا ہی کچھ ہے۔۔!!
ابن انشا: اپنے زرداری اور نواز کا کیا حال ہے؟
میں: ان کو قومی خزانہ لوٹنے سے فرصت ہی کب ملی ہے۔۔ایک کا بھٹو ابھی تک زندہ ہے تو دوسرے کا شیر درندہ ہے۔۔بس عوام کا یہ حال ہے کوئی سعودی ہے تو کوئی ایرانی ہے
ابن انشا۔۔۔۔کیا یہ بات اقبال اور قائداعظم جانتے ہیں
میں:یہ دونوں کون ہیں؟؟ اچھا ایک وہ اقبال جو شاعر واعر ہے وہ آج کل ادھر نہیں ہوتا یہاں آج کل حسن نثار کو سنا اور پڑھا جاتاہے۔۔اور دوسرے کا مجھے نہیں اس کے بارے میں بس اتنا سناتے آئے ہیں کہ وہ صرف 11 آگست کو پیدا ہوا اور تقریر کرکے پھر سے مرگیا تھا۔۔خیر رہنے دیں ان کو کیوں خوامخوہ پریشان کریں۔۔
ابن انشا۔۔پریشانی سے آپ کی مراد کیا ہے
میں:وہ کیا ہے نا کہ انھوں نے انگریزوں ہندؤں اور غیروں سے نجات کےلئے یہ ملک بنایا تھا۔۔یہاں آکر یہ حالت دیکھیں گے تو پھر نئے سرےسے آذادی کی تحریک چلائیں گے۔۔۔
ابن انشا::اگر یہ سب کچھ کرنا تھا تو پھرالگ ملک کیوں بنایا تھا؟؟؟

میں:غلطی ہوئی۔۔ معاف کر دیجئےـــ آئندہ نہیں بنائیں گے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: