خلافت والوں کی ملوکیت: کبیر علی

1

ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ساری عمر خلافت کے داعی رہے۔ جماعت اسلامی سے ان کی علاحدگی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ جماعت قومی انتخابات میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس پہ اچھا خاصا اختلافِ رائے ہوا۔ مگر آخری فیصلہ مودودی صاحب ہی نے کیا اور یوں جماعت انتخابات کے راستے پہ چل نکلی اور باقی سب تاریخ ہے۔ البتہ اس بابت مجھے معلوم نہیں ہو سکا کہ جب آخری فیصلہ امیرِ جماعت ہی نے کرنا تھا تو اراکینِ شوریٰ اور ا ن کے اختلافِ رائے کی حیثیت کیا تھی۔ خیر اس دوراہے پہ بعض بڑے لوگوں نے جماعت کا ساتھ چھوڑ دیا جن میں سے ایک شخصیت ڈاکٹر اسرار احمد کی بھی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے خلافت کے لیے جدو جہد شروع کی اور تنظیم اسلامی کی بنیا د رکھی۔ ان کے ہاں بیعت کا نظام تھا اور اب تک ہے۔ تنظیم کے امیر وہ خود بنے اور شعبہ خواتین کے لیے ان کی بیگم صاحب تاحیات امیر رہیں۔ بیگم کے تاحیات شعبہ خواتین کی امیر رہنے پہ جب ان سے سوال کیا جاتا تو ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ کسی نا محرم سے بات کرنے سے بہتر تھا کہ اپنی لائق بیگم کو یہ ذمہ داری سونپی جائے تا کہ خواتین کے شعبے کے متعلق بغیر کسی دقت کے ڈاکٹر صاحب ہدایات دے سکیں۔

ڈاکٹر صاحب کی جدو جہد کے دو مراکز تھے۔ ایک قرآن کی دعوت، دوسرے خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد۔ مجھے اول الذکر پہلو سے تو کافی مناسبت رہی مگر دوسرے پہلو یعنی قیامِ خلافت کے جدوجہد کا میں کبھی قائل نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی جماعت، دونوں خلافتِ راشدہ کے فضائل گنواتے رہے۔ حالانکہ تاریخ یہ کہتی ہے کہ خلافت کے مثالی نمونے میں تو پہلے دو خلفاء کے بعد ہی وہ فرق آنا شروع ہو گیا تھا اورجنابِ سرکارﷺ کے وصال کے فقط تیس سال بعد ہی خلافت ختم ہوئی، ملوکیت جاری ہوئی۔ جب یہ صورتحال رہی ہے تو پھر ڈاکٹر صاحب کا یہ طرزِ عمل کیا معنی رکھتا ہے کہ مسلمانوں کو خلافتِ راشدہ کے سبز باغ دکھا کر ایک لایعنی جدوجہد میں لگا دیا جائے۔ ان کے ہاں یوٹوپیا قائم کرنے کے لیے ناسٹلجیا سے خوب مدد لی جاتی ہے مگر اپنے عصر کے تقاضوں کا سامنا وہ ایک کبوتر کی طرح کرتے ہیں۔ خلافت کی اصطلاح سے ڈاکٹر صاحب اور ان کے مریدین کی محبت کچھ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ  خلافت کی پیکنگ میں جو مرضی بھر کے دے دیں، ان لوگوں کو قبول تھا اور آج تک ان کا یہی رویہ ہے۔ افغانستان میں طالبانی خلافت کی حمایت تو کچھ یوں کی گئی کہ تنظیم کے حلقوں میں یہ جملہ نہایت مسرت سے بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بریف کیس میں کرنسی نوٹ بھر کر طالبان کو پہنچانے کے لیے ڈاکٹر صاحب خود گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی تنظیم کے نمائندوں کو جب کبھی طالبان کا ذکر مقصود ہوتا تو صحابہ کی جماعت سے تشبیہ دی جاتی اور طالبان کے فضائل کچھ اس انداز سے بیان کیے جاتے گویا وہ کوئی قرون اولیٰ کی یادگار ہیں۔ پھر داعش کی سرگرمیوں سے اپنی پالیسی میں لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود، تنظیم کے اندرنی حلقوں میں داعش کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ مگر اس تحریر کا مقصد ایک خاص معاملے کے بارے کچھ سوالات کرنا ہے جب ڈاکٹر صاحب نے اپنے بیٹے عاکف سعید کو اپنی زندگی ہی میں امیر جماعت بنا دیا اور اس عمل کے لیے تنظیم کے لوگ اور خود ڈاکٹر صاحب طرح طرح کی تاویلیں کرتے رہے مگر یہ سوال آج بھی قائم ہے کہ ساری زندگی خلافت کا نام لینے والے ڈاکٹر صاحب نے عملا ملوکیت ہی کا طرزِ عمل کیوں اختیار کیا؟ آئیے اس کی دلچسپ تفصیلات دیکھیں۔


ان کے ہاں یوٹوپیا قائم کرنے کے لیے ناسٹلجیا سے خوب مدد لی جاتی ہے مگر اپنے عصر کے تقاضوں کا سامنا وہ ایک کبوتر کی طرح کرتے ہیں۔


٭ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی ہی میں آئندہ امیر کا مسئلہ اپنی مجلسِ شوریٰ کے سامنے رکھا، جو کہ چند افراد پہ مشتمل تھی۔

٭پھر یہ مسئلہ منتظم رفقاء کے ایک اجتماع کے سامنے رکھا گیا جن کی تعداد سات آٹھ سو بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے پرچی پہ اپنے پسندیدہ آدمی کانام لکھ دیا اور یوں چھ آدمی سامنے آئے۔ چونکہ میں تنظیم اسلامی کو قریب سے جانتا ہوں اس لیے مجھے شدید تحفظات ہیں کہ اس عمل میں ہر آدمی نے کس قدر اپنی آزادانہ رائے دی ہو گی۔ لیکن بہرحال ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ سبھی نے اپنی آزادانہ رائے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح پرچی پہ اپنی رائے لکھنے کے عمل کو تنظیم کے لوگ “الیکشن” کا عنوان دینے سے کیوں بھاگتے ہیں۔ خیر ان چھ ناموں میں ڈاکٹر صاحب کے بیٹے حافظ عاکف سعید کا نام بھی شامل تھا۔

٭سامنے آنے والے چھ لوگوں نے تقاریر کیں، اپنا تعارف کروایا اور یوں تین لوگ شارٹ لسٹ کیے گیے، تاہم یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ تین لوگ کس بنیاد پہ شارٹ لسٹ کیے گئے۔ مگر ان تین لوگوں میں بھی حافظ عاکف سعید کا نام شامل تھا۔

٭پھر ڈاکٹر اسرار مرحوم نے اپنے خصوصی “اختیارات” کا استعمال کرتے ہوئے ان تین لوگوں میں سے اپنے بیٹے حافظ عاکف سعید کو چن لیا۔( اس سارے عمل کی تفصیلات یوٹیوب پہ تنظیم کے وڈیو چینل پہ ایوب بیگ مرزا صاحب کی زبانی سنی جا سکتی ہیں اور خود ڈاکٹر صاحب بھی اس سوال کا کئی دفعہ جواب دے چکے ہیں)

اس سارے عمل کی تفصیلات تو آپ پڑھ چکے ہیں،اب خود فیصلہ کیجئے کہ یہ عمل کہاں تک موروثیت سے تعلق رکھتا ہے اور کہاں تک خلافت سے۔ ڈاکٹر صاحب اس کی دلیل یوں لاتے کہ کسی بزرگ نے انہیں سمجھایا کہ بیٹا ہونا اگر قابلیت کا کوئی معیار نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ بیٹا ہونے کا لازمی مطلب ناقابلیت ہے۔ پس ڈاکٹر صاحب کو سینکڑوں لوگوں میں سے فقط اپنا بیٹا ہی سب سبے زیادہ قابل نظر آیا، حالانکہ اس وقت تنظیم میں بہت سے سینئر لوگ بھی موجود تھے جو تجربے اور قابلیت میں عاکف سعید صاحب سے کہیں بڑھ کر تھے۔ تنظیم کے لوگ اس سارے عمل کے لیے دلیل قرون اولیٰ سے لاتے ہیں حالانکہ تاریخ سے معمولی واقفیت رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ سلف کے اس دور میں کس نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے کو امیر مقرر کر کے اس کے لیے بیعت لی تھی۔

میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ جب اس وقت عاکف سعید سے سینئر لوگ موجود تھے تو ڈاکٹر صاحب کو اپنے بیٹے کا نام ہی اس سارے مقابلے سے باہر رکھنا چاہیے تھا۔ تنظیم اسلامی کا فکری دائرہ پورے پاکستان میں چند ہزار لوگو ں سے زیادہ نہیں مگر پھر بھی خلافت کے اصولوں کی پیروی تو کر ہی لینی چاہیے تھی۔ ساری زندگی میں ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک موقع آیا تھا کہ عملی طور پہ موروثیت سے خود کو دور رکھتے مگر اس وقت بھی خوبصورت مثالوں، نقلی و عقلی دلیلوں سے ایک ناقص عمل کی تاویلیں کی گئیں اور قول و فعل میں تضاد کا یہ داغ آج بھی خلافت کی نام لیوا تنظیم اسلامی کے ماتھے پہ موجود ہے۔ کیا تنظیم کے لوگ ان سوالوں کا جواب دینے اور اس غلطی کا تدارک کرنے پر غور کریں گے؟

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. کبیر صاحب نے درست سوال اٹھایا ہے۔ اگرچہ تنظیم کی جانب سے اس کے تسلی بخش جواب کی امید نہیں لیکن بجائے خود یہ سوال ہمارے اجتماعی ضمیر کو جگانے کی مخلصانہ کوشش ہے۔
    تاریخی واقعات پر نقد مستقبل میں مثبت امکانات پیدا کرتی ہے۔ اس سے تاریخ کو بھی فائدہ پہنچتا ہے کہ اس کا قاری یک طرفہ خیالات کا شکار نہیں ہوتا۔
    تنظیمِ اسلامی مخلص اور دیندار لوگوں کا معتبر گروہ رہی ہے اس لیے اس پر بات کرنا دراصل اس کی اہمیت کا اعتراف بھی ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: