دردِ بے زباں —— حیا ایشم — قسط 4

0

“آپا کوئی بری نظر کھا گئی ہے ہماری خوشیوں کو” عابدہ بیگم پلو سے اپنی آںکھیں خشک کرتی بولیں، نسیمہ بیگم بس انکے کندھے پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں۔ ہر کوئی اپنا جگہ پریشان تھا۔
حبہ رات میں سوتے سوتے ڈر جاتی، اکثر وہ اپنی ماں کے پاس سونے لگی، بھوک پیاس تو دور اب تو اسے کپڑے بدلنے یا بیڈ تک سے اٹھنے کی ہمت جواب دیتی لگتی تھی۔ تاریک کمرہ کئے وہ اپنے کمرے میں ہر قسم کی ایکٹیویٹی سے دور پڑی رہتی، حنظلہ خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا، مگر اسکے ہاتھ کوئی سرا نہیں لگ رہا تھا۔ عابدہ بیگم اور نسیمہ بیگم اپنی جگہ پریشان تھے۔

“کہیں کسی نے کوئی جادو وادو تو نہیں کروا دیا؟ اچھی بھلی تھی میری حبہ، سب آپکے سامنے ہی تھا آپا۔۔” عابدہ بیگم اب ازحد پریشان رہنے لگی تھیں، حبہ کی نیند بھوک سب ختم ہوتا جا رہا تھا، اسکا وزن تیزی سے گر رہا تھا۔ حنظلہ کی سب کی اپنی سی کوششیں بیکار جا رہیں تھیں،
“اللہ پر بھروسہ رکھو عابدہ، بھلا ہماری حبہ سے کسی کو کیا پرخاش جو کوئی اس معصوم پر جاو کروائے گا، ہاں مگر بری نظر سے اللہ اپنے حصار میں رکھے، میں اسکو پانی دم کر کے دے رہی ہوں، صبح شام” نسیمہ بیگم نے انہیں وسوسوں سے نکالنا چاہا۔ کہ اندھیرے میں کامل ایمان نہ ہو تو سانپ بھی رسی سمجھ کر اس پر لوگ توکل کرنے لگتے ہیں۔ حنظلہ خاموشی سے انکی گفتگو سن رہا تھا، پھر بولا
“ممانی میں نے ایک سائیکائٹرسٹ سے ٹائم لیا ہے حبہ کے لئے۔” عابدہ اور نسیمہ بیگم چونک کر اسکی جانب مڑیں، حسب توقع یہ بات ان دونوں کے لئے ناقابل ہضم تھیں۔
“لو حبہ کوئ پاگل ہے جو وہ پاگلوں کے ڈاکٹر کے پاس جائے گی” انھوں نے ناگواری سے کہا، حنظلہ ان دونوں کے رسپانس کے لئے تیار تھا، سو آرام سے بولا
“امی، حبہ میری بیوی ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ ذہنی طور پر اپ سیٹ ہے، کیوں اپ سیٹ ہے ہم میں سے کوئی نہیں سمجھ پا رہا، مگر ایک سائیکالوجسٹ کے پاس انسان آرام سے اپنے دل کی بات کہہ دیتا ہے، سو میں نہیں کہہ رہا کہ وہ پاگل ہے اسے اس وقت اپنا دل ہلکا کرنے کی ضرورت ہے”
حنظلہ کو کہیں نہ کہیں لگ رہا تھا کہ حبہ شادی سے ناخوش ہے، اس نے اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو وہ ہر صورت حبہ کی رائے کا احترام کرے گا، رشتے زبردستی کے نہیں محبت و رضا کے ہونے چاہیے، یہ اسکا خیال تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ماہم سے شادی نہیں کی اور حبہ کی بھی رضا کا احترام کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حبہ سپاٹ چہرہ لئے ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئی۔ ڈاکٹر نے کچھ بنیادی سوال کرنے کے بعد اور دوا لکھنے کے بعد اسے ایک سائیکالوجسٹ کو ریفر کر دیا، وہ اس کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔ جو بھی وجہ تھی مگر واحد حنظلہ تھا جس کی کسی بات کو وہ انکار نہیں کرتی تھی۔

جب سائیکالوجسٹ نے پہلے حنظلہ کو اندر بلایا تو اسے سمجھ نہیں آرہی تھی آخر اسکے زندہ رہنے کا کیا مقصد ہے، اس نے حنظلہ کو بھی اپنی وجہ سے مصیبت میں ڈال دیا ہے، سب اسکی وجہ سے پریشان رہتے تھے۔ اسے یہ سوچیں بری طرح نڈھال کر رہی تھیں۔ کافی دیر وہ اکیلی بیٹھی رہی پھر سائیکالوجسٹ نے اسے اندر بلوایا، اور تھوڑی دیر دونوں سے اکٹھے گفتگو کے بعد حنظلہ کو اشارتا باہر جانے کو کہا، جس پر حبہ بہت ڈر گئی اس نے ایک دم حنظلہ کا بازو پکڑ لیا۔ حنظلہ اسکا یہ رسپانس ایکسپیکٹ نہیں کر رہا تھا، وہ رات کو تو ڈرتی تھی مگر دن میں کسی کے سامنے اس طرح کا رویہ اس نے کبھی نہیں کیا تھا، حنظلہ نے سائیکالوجسٹ کے کچھ بھی کہنے سے پہلے فورا حبہ کو ساتھ لگایا، اسے پیار سے سہلایا اور کہا میں یہیں تمہارے ساتھ بیٹھتا ہوں، جب تک تم چاہو گی، اس نے آںکھوں ہی آنکھوں میں سائیکالوجسٹ کو بھی یہی کہا، دوسری طرف بھی شاید یہی رسپانس ہونا تھا، سو ایسا ہی ہوا۔ حبہ مضبوطی سے حنظلہ کا بازو پکڑے رہی، حنظلہ کو محسوس ہوا وہ کپکپا رہی ہے، پتہ نہیں اسکے دل کو کیا ہوا کہ سب سے چھپا کر اسکے سارے خوف دور کر دے، اچانک اسکو اپنی آںکھوں میں نمی محسوس ہوئی جسے اس نے اندر دھکیلا، اس نے بہت محبت سے حبہ کا ہاتھ تھاما اور نرمی سے سہلاتا رہا، حبہ غیر محسوس طریقے سے پرسکون ہونا شروع ہو گئی تھی، اب سائیکالوجسٹ سے کچھ رسمی سوالات کرنا شروع کئے، آہستہ آہستہ وہ سائیکالوجسٹ کو چھوٹے چھوٹے جواب دینے لگی، پھرسائیکالوجسٹ نے اسے دوا جاری رکھنے کا کہتے اسے اگلے ہفتے کا ٹائم دیا۔ حبہ کو سمجھ نہیں آئی یہ کیا سیشن تھا، یا شاید اس نے ہی کوئی خرابی کر دی، اسے حنظلہ کی طرف سے ڈانٹ کا خوف محسوس ہونے لگا، وہ خوف جو اسے سائیکالوجسٹ سے تھا اب حنظلہ کی طرف ہو گیا، کار میں بیٹھتے بیٹھتے حبہ واپس اپنے خول میں سمٹ گئی تھی۔ حنظلہ کچھ کہے بنا بغور اس کا رویہ محسوس کر رہا تھا، کچھ ہی لمحوں میں اسے محسوس ہوا تھا حبہ اسکے لئے بہت اہم ہے، اور اسکی تکلیف اسکا خوف اسے بے چین کرتا ہے، مگر اب وہ سچویشن کو کسی اور رخ سے دیکھ رہا تھا سو خاموش رہنے کی بجائے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔
“کیا ہوا؟ اس وقت تو بڑی مضبوطی سے میرا بازو پکڑا ہوا تھا، اب کیوں ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں” اسکا خوف دیکھتے ہوئے بھی حنظلہ نے جانتے بوجھتے شرارتی لہجہ اختیار کیا،
حبہ کچھ چونکی تھی مگر خاموش رہی،
“کچھ پوچھا ہے میں نے؟” حنظلہ کے چہرے پر ابھی بھی مسکراہٹ تھی۔ وہ جیسے اس لمحے کو محسوس کر رہا تھا
“مجھے آپ سے ڈر لگ رہا ہے” حبہ نے سادگی سے کہا
“مجھ سے؟” حنظلہ حیران ہوا۔۔
“میں کوئی آدم خور ہوں یا ۔۔۔ وہ سڑیل ڈاکٹر ہوں” حنظلہ اس کو بے حد پرسکون رکھنا چاہتا تھا۔ سو مذاق کو جان بجھ کر طول دے رہا تھا
“آپ ناراض ہیں ناں مجھ سے؟” حبہ نے ڈرتے ڈرتے تصدیق چاہی
“ناراض؟ میں؟ تم سے؟ کیوں؟ تمہیں ایسا کیوں لگا” حنظلہ نے موڑ کاٹتے پوچھا
“وہ ۔۔ وہاں۔۔ سائیکالوجسٹ کے پاس میں نے آپکو شرمندہ کروایا۔۔ اور پھر انھوں نے مجھ سے کچھ پوچھا بھی نہیں۔۔اور آپکی فیس ضائع ہوئی” حبہ نے ہلکا سا ہکلاتے اپنی بات مکمل کی
حنظلہ اس کے ذہن کی نئی سن کر کھلکھلا کر ہنس دیا

“پاگل لڑکی ۔۔۔ ” حنظلہ نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما اور ہلکا سا دباتا ہوا بولا،،
جن سے محبت ہو ان سے ناراض ہونا آسان نہیں ہوتا” حبہ حنظلہ کے اس روئیے کو ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی، سو اسکی بات سے ایک دم چپ رہ گئی ۔۔۔ اس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ اسک گرفت سے نکالا تھا۔
“کیا ہوا۔۔ سائیکالوجسٹ کے پاس تو میرا بازو پکڑتے آپکو حیا نہیں آئی ۔۔” حنظلہ آج جیسے کسی نئے ہی شرراتی موڈ میں تھا، چہرہ دوسری طرف کرتی حبہ اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کرتے بھی مسکرا دی۔

حبہ نے دوائی لینا شروع کر دی تھی۔ حنظلہ نے محسوس کیا حبہ کو اسکا ساتھ اچھا لگتا ہے۔ کبھی آفس سے اسکو دیر ہو جاتی تو وہ پوچھتی کہ آج دیر ہو گئی، یہ الگ بات تھی کہ یہ نہ کہتی کہ میں آپکا انتظار کر رہی تھی، حنظلہ کے لیے یہ بھی بہت تھا، آہستہ آہستہ دوا یا اس کے ساتھ سے اس میں کچھ بہتری آ رہی تھی۔ عابدہ بیگم اور نسیمہ بیگم کو اب حنظلہ کے صحیح فیصلے کی قدر ہو رہی تھی۔ حبہ مکمل نہ سہی مگر کسی حد تک بہتر تھی اب رات کو بنا ڈرے اور چیخیں مارے سو جاتی تھی۔ کھانا بھی ہلکا پھلکا شروع کر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آج آپ بہتر لگ رہی ہیں” سائیکالوجسٹ نے مسکراتے ہوئے اسے کہا تھا
پھر حنظلہ کی طرف شرارت سے مسکراتے کہنے لگیں
“بھئی آپ کی بیگم تو بہت رومینٹک ہیں ۔۔ کیا آج بھی آپ اپنے شوہر کو بٹھا کر ہی سیشن کرنا چاہیں گی؟” ان دونوں کو بے اختیار اس دن والی حرکت یاد آ گئی،
حبہ نے ہلکا سا مسکراتے اور جھینپے ہوئے انداز میں نفی میں سر ہلایا، سائیکالوجسٹ نے گویا اس بات کو حنظلہ کو باہر بھیجنے کے لئے یاد کروایا تھا۔ حنظلہ حبہ سے اجازت لے کے باہر چلا گیا، اب کی بار حبہ کو جیسے یقین تھا کہ حنظلہ باہر پاس ہی ہے، دوا کا اثر تھا یا کیا وہ آج نسبتا بہتر محسوس کر رہی تھی،

اسے سائیکالوجسٹ آج کچھ اچھی تو لگ رہی تھی مگر وہ خوف واپس اسے اپنے اندر کھینچ رہا تھا۔ کچھ حلق میں نگلتے اس نے اسکے چھوٹے چھوٹے سوالوں کا جواب دینا شروع کیا، اور پھر اسے پتہ بھی نہیں چلا کب وہ اس کے ساتھ آرام دہ محسوس کرنے لگی، وہ سب سوالوں کا جواب دے رہی تھی کہ اچانک اسکے بچپن پر بات آتے ہی وہ چپ ہو گئی، اور سوال سننے کے کچھ لمحوں بعد بولی
“میں باہر کب جاؤں گی؟ اب میں جانا چاہتی ہوں” یکدم اسے سب گھٹا گھٹا لگنے لگا تھا، اسے یاد آیا اسے حنظلہ کے پاس جانا ہے، شاید سائیکالوجسٹ کو سرا مل گیا تھا۔ اس نے اپنا سوال بالکل گول کر دیا، اور اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا دیا، اسے محسوس بھی نہیں ہوا کہ وہ کسی سوال پر بوکھلائی تھی، اور فرار کی تلاش میں تھی۔ مزید باتوں کے بعد اس نے آرام سے سیشن ختم کیا، اور مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔۔ “آپ تو پہلے سے بہتر ہیں۔ میں اب آپکے شوہر کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ ٹھیک ہونا شروع ہو گئیں ہیں۔ ٹھیک ہے؟ آپ باہر بیٹھیں” حبہ کو تسلی سی ہوئی، اس نے باہر آ کر اندر حنظلہ کو بھیجا ۔۔۔
” وہ حادثہ انکے بچپن سے منسلک ہے، والد کی دوسری شادی سے بڑا کوئی سانحہ ہے، اور شاید میں محسوس کر سکتی ہوں کہ وہ کیا ہے، لیکن ابھی صرف مفروضہ ہے، فی الحال یہ وہ بتانے کے لئے راضی نہیں، مگر چونکہ آپ کزنز ہیں اور بچپن سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ ایک گھر میں رہے بھی ہیں، سو میں آپ سے اسلئے پوچھ رہی ہوں کیا بچپن میں کوئی غیر معولی واقعہ ہوا انکے ساتھ؟” سائیکالوجسٹ کو حنظلہ کے انداز میں گہری میچورٹی نظر آئی تھی سو وہ کھل کر سارا کیس ڈس کس کر رہی تھی، دوسری طرف وہ حبہ کو ری کور ہونے میں واقعی مدد بھی کر رہا تھا۔
“میری یاداشت کے مطابق تو والد کی دوسری شادی ہی ایک واقعہ ہے، ہاں اسکے ساتھ دکھ یہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے پھر پلٹ کر انہیں اور انکی والدہ کو دیکھا بھی نہیں، ابھی تک بس فون پر عید تہوار یا خوشی غمی پر رابطہ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ ہماری شادی پر بھی نہیں آئے، اور میں جانتا ہوں حبہ ایک حساس لڑکی ہے ۔۔۔ سو۔۔۔۔”
“ہممم صحیح۔۔۔ ہم کبھی کبھی صرف سطح کو ہی دیکھ پاتے ہیں، جب کہ اصل گرہ کہیں اندر لگی ہوتی ہے، مجھے امید ہے کہ ایک سے دو سیشنز میں حبہ مزید کمفرٹیبل محسوس کریں گی۔ بہرحال آپ انہیں یہی بتایا کریں کہ وہ پہلے سے بہتر ہو رہیں ہیں۔ تاکہ ان کے اندر مزید موٹیویشن بڑھے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واپسی پر کار میں حنظلہ کی سائیڈ پر ایک فقیر نے دستک دی،
“اللہ کے نام پر مدد کر دو” حبہ حنظلہ کو اسے پیسے دیتے دیکھتی رہی
“ہاں اللہ ہی تو ہے جو ہم سب کی مدد کرتا ہے ۔۔ میں خوش ہوں تم بہتر ہو رہی ہو” حنظلہ نے سائیکالوجسٹ کے کہے کے مطابق اسے پیغام دیا،
“اللہ؟ یہ اللہ کیسے کر رہا ہے ۔۔ یہ تو آپ مجھے سیشنز پر لے کر جارہے ہیں، اور دوا لے رہی ہوں، اس لئے۔ اس نے مدد کرنی ہوتی تو وہ تب نہ کرتا جب ۔۔۔ ” خودکلامی کے سے انداز میں کہتے کہتے وہ ایک دم چپ ہو گئی،، حبہ نے بے اختیاری میں کہہ تو دیا، مگر اب سوچ رہی تھی کیا ضرورت تھی بولنے کی، حنظلہ کو سن کر ازحد حیرت ہوئی، مگر اس نے فورا اپنی حیرت چھپائی، اور اسکا جملہ پکڑا
“جب۔۔۔؟”
“نہیں کچھ نہیں ۔۔۔” ابھی ہم گھر جائیں گے؟ “حبہ نے بات گول کر دی،
کیوں کہیں جانا چاہتی ہو؟” حنظلہ نے اسکی رائے پوچھی،
“نہیں ویسے ہی پوچھ رہی تھی” حنظلہ نے محسوس کیا آج حبہ کچھ کھوئی کھوئی سی ہے
اگلے سیشن کا کچھ ہوم ورک تھا جو حبہ کو کرنا تھا، حبہ کی وہ کیفیت اگلے سیشن تک رہی، لیکن حنظلہ نے اسے بالکل نہیں کریدا، مگر اس نے سائیکالوجسٹ کو حبہ کی کیفیت اور اللہ کے حوالے سے اس رات کا واقعہ بتایا۔
“ڈپریشن ایک ایسی ہی بیماری ہے کہ اس میں زندگی ہر پہلو سے متاثر ہوتی ہے مسلہ یہ نہیں کہ ایمان کی کمزوری ہوتی ہے، یا قوت ارادہ کی کمزوری ہوتی ہے، یہ بیماری ہوتی ہے جو ہر شے کو دھیرے دھیرے مفلوج کرتی جاتی ہے انسان جسمانی طور پر ہائی جِین سے لاتعلق ہو جاتا ہے، روحانی طور پر اللہ سے بھروسے دعا امید توکل سے خالی ہو جاتا ہے، معاشی طور پر کام نہیں کر پاتا، اور سماجی طور پر بالکل تنہا ہو جاتا ہے، یہ ڈپریشن وہ نہیں ہوتا جو لوگ سوشل سائیٹس پر اپ دیٹ کرتے نظر آتے ہیں، اصل ڈپریشن آپ کو اس قابل نہیں چھوڑتا کہ آپ کسی کو یہ بتا بھی سکیں کہ آپ ڈپریسڈ ہیں، اور رہی بات انکی اللہ سے تعلق کی ۔۔ سو آپ کی بتائی گئی علامات، مکمل ہسٹری، انکے رویوں اور رسپانسز کو دیکھتے ۔۔ یہ تو میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ان کے برین کے نیوروٹرانسمٹرز میں کیمیکل امبیلنس کی وجہ سے اتنی طبیعت ایک دم اتنی خراب ہو گئی، مگر انکی نفسیاتی گرہ کھولنے کے لئے، اس کے پیچھے میرا ایک مفروضہ ہے جسے میں فی الحال نہیں بتانا چاہتی، مگر زندگی میں کچھ ایسے حادثات ہوتے ہیں جو ہمیں ہمارے سچ سے خالی کر جاتے ہیں۔ مگر ان شاء اللہ وہ اس حوالے سے بھی ٹھیک ہو جائیں گی”
حنظلہ کسی سوچ سے ابھرا۔۔ اسے محسوس ہوا جیسے سائیکالوجسٹ دانستہ طور پر مفروضے کا نام لے کر اسے کسی چیز کے لئے تیار کرتی ہو مگر بتاتی بھی نہیں۔ یا شاید بتانا ہی نہ چاہتی ہو، وہ کچھ سمجھ نہیں پایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حبہ اب سائیکالوجسٹ کے ساتھ کافی کمفرٹیبل محسوس کرنے لگی تھی، اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے سگریٹس بھی پینا چاہی، اپنی رسٹ بھی کبھی سخت اذیت میں بے حس محسوس کرنے کے لئے سلیش کی۔ اور وہ اپنے آپ کو اعتماد سے بالکل خالی محسوس کرتی ہے، اور یہ کہ حنظلہ تک کے حوالے سے اسے اکثر اوقات خوف جکڑے رہتے ہیں، کہ وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے گا یا اس سے بیزار ہو جائیگا۔ اور یہی خوف اسے کُھل کر حنظلہ کے قریب نہیں ہونے دیتا، کہ وہ بعد میں آنے والے ٹرومہ سے پہلے ہی خود کو محفوظ کر لے، اسے اپنا آپ پاک اور صاف نہیں لگتا، اور یہ بھی کہ پہلے شدت سے خودکشی کے خیالات آتے تھے۔
آج کے سیشن میں سب بتانے کے بعد حبہ کافی ہلکا محسوس کر رہی تھی، مگر کبھی کبھی یہ خوف اس جکڑ لیتے تھے۔ اسکی کیفیت دیکھتے ہی سائیکالوجسٹ نے بات شروع کی۔
” پتہ نہیں میں کب ان سب کیفیات سے نکلوں گی، مجھے اچھا نہیں لگتا یہ سب میری وجہ سے پریشان ہوں” حبہ بے بسی سے کہہ رہی تھی۔۔۔
“ہمم آپ کو بھی تو اچھا نہیں لگتا ناں کہ آپ پریشان رہیں، نہ ہی آپ اسکی مستحق ہیں کہ آپ بلا وجہ پریشان ہوں، ہاں اگر وجہ ہے تو اس کا سامنا کر لینے میں بھلائی ہے”
حبہ خاموش ہی،،،وہ خود کیا چاہتی تھی وہ خود کس کی مستحق تھی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔
“حبہ ۔۔۔۔۔ زندگی میں کبھی کبھی ہمارے ساتھ ایسے واقعات یا حادثات ہو جاتے ہیں، جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا، جس میں ہماری غلطی بھی نہیں ہوتی لیکن ہمیں ہمارا اپنا آپ قصوروار لگتا ہے، ہمیں یہ خوف تک گھیر لیتا ہے کہ اگر کسی کو اس بارے میں بتایا تو کوئی ہمیں جھٹلائے گا اور ہمارا یقین نہیں کرے گا” سعدیہ اپنی بات نرم لہجے میں کہتے حسب توقع حبہ کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ رہی تھی،

“یہ وہی وقت ہوتا ہے جب ہم بے بس ہوتے ہیں، اور اپنے لئے کچھ نہیں کر پاتے، ” حبہ کی آںکھوں کے سامنے جیسے کوئی واقعہ گھوم رہا تھا۔۔ سعدیہ بغور حبہ کے تاثرات دیکھ رہی تھی،
اس واقعے کے بعد ہمیں خود سے سب سے نفرت سی ہو جاتی ہے، ہم یقین سے خالی ہو جاتے ہیں، پھر یقین کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے” حبہ کو لگ رہا تھا کوئی اس کے احساسات کی ترجمانی کر رہا ہو۔۔ اس کے اندر سے چیخیں اور بے آواز سسکیاں بلند ہوا چاہتی تھیں، مگر وہ خود کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی کہ اچانک ایک بے اختیار سا آنسو اس کی ساکت سی آنکھوں میں کہاں سے امڈ آیا تھا۔۔
“ہاں تب ہمارا دل چاہتا ہے ہم سب کی اپنی نظروں سے بھی غائب ہو جائیں، ہم مر جائیں، لیکن ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ نہ کہہ سکتے نہ سہہ سکتے ” اچانک حبہ ایک غیر مرئی طاقت سے بولی تھی، اسے اپنی آواز اجنبی لگی تھی مگر جیسے وہ بولتی جا رہی تھی

جاری ہے


اس کہانی کا تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: