کیا جمہوریت اور انتخابات لازم و ملزوم ہیں؟ منور رشید کا نقطہ نظر

0
  • 1
    Share

دنیا کے کسی بھی ملک میں جمہوریت ایک عوامی حکومت کا تصور پیش کرتی ہے۔ ایسی حکومت جو عوام کے “منتخب” نمائندوں پر مشتمل ہو۔ چونکہ جمہوریت کی بنیادی تعریف عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل حکومت کا قیام ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کے ان نمائندوں کو کیسے منتخب کیا جائے؟
جمہوری یا عوامی حکومتوں کے قیام کے لیے عوامی نمائندوں کو منتخب کرنے کے لیے دنیا میں جو غالب، منظم اور باضابطہ طریقہ کار رائج ہے وہ “انتخابات” کا انعقاد ہے۔
جب جمہوریت کی تعریف عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل حکومت کا قیام ہو اور ان نمائندوں کو منتخب کرنے کے طریقہ کار کو انتخابات کا نام دیا جائے تو ایک سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ کیا جمہوریت کے لیے انتخابات ضروری ہیں؟
ہمارے محترم دوست اور ایک انتہائی قابل لکھاری عاطف حسین نے دانش پر اپنے کالم میں بالکل اس ہی سوال کو موضوع بحث بنایا ہے اور جمہوریت کے لیے انتخابات کو بالواسطہ ایک ناکام تصور کے طور پر پیش کیا ہے۔ میں نے بالواسطہ کا لفظ جانتے بوجھتے استعمال کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس طریقہ کار سے منتخب ہونے والے نمائندوں اور حکومتوں کی کارکردگی پر صرف اعتراضات کیے ہیں اور براہ راست اس کو ایک ناکام ماڈل کہنے سے گریز کیا ہے۔ کسی بھی ماڈل کو کلی طور پر ناکام قرار دینے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اس میں بہتری کا کوئی امکان نہیں دیکھتے۔ میری ناقص رائے میں انتخابات ایک قابل عمل طریقہ کار ہے اور اس میں موجود خرابیوں کو اس ہی طریقہ کار میں رہتے ہوئے باآسانی دور کیا جا سکتا ہے۔
عاطف حسین نے جہاں انتخابات پر اعتراض کیا ہے وہیں اس کے متبادل کے طور پر بذریعہ قرعہ اندازی عوامی نمائندوں کے انتخاب کو تجویز کیا ہے اور بقول انکے یہ طریقہ کار اپنے اندر جمہوریت میں بہتری کا امکان رکھتا ہے۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ عاطف حسین نے جہاں انتخابات سے قائم ہونے والی حکومتوں کی کارکردگی پر ایک محفوظ انداز میں مختصر تبصرہ کیا ہے وہیں اپنے تجویز کردہ قرعہ اندازی کے ماڈل کی کوئی ایک بھی خصوصیت بتانے سے مکمل گریز کیا ہے۔
عاطف حسین لکھتے ہیں کہ کیا انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے سیاستدان واقعی عوامی نمائندے ہوتے ہیں؟
میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کو عوام اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں وہ عوامی نمائندے ہی ہوتے ہیں۔ یہ نمائندے عوام کی درست نمائندگی کرتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ بھی عوام نے ہی کرنا ہےجو کہ قرعہ اندازی سے بالکل ممکن نہیں۔ مثال کے طور پرآپ کی گاڑی کا ڈرائیور وہ ہی بندہ ہو سکتا ہے جو ڈرائیونگ جانتا ہو۔ وہ کیسا ڈرائیور ہے یہ آپ کو اس کی ڈرائیونگ دیکھ کر ہی پتہ چلے گا۔ اگر وہ اچھی گاڑی نہیں چلاتا تو آپ اس کو فارغ کر دیں گے اور بہتر ڈرائیور کی تلاش کریں گے۔ اور اگر آپ کو بہتر ڈرائیور نہیں مل رہا تو آپ وہ اقدامات کریں گے کہ آپ کو بہتر ڈرائیور کے انتخاب کے مواقع میسر آئیں نہ کہ دس ڈرائیوروں کو کھڑا کر کے کسی ایک کو قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کر لیں گے۔ اور یاد رہے قرعہ اندازی کے لیے بھی آپ کو دس ڈرائیوروں کی ہی ضرورت پڑے گی کیونکہ اگر آپ دس عام انسانوں کو کھڑا کر کے قرعہ اندازی کرتے ہیں اور جس کا نام نکلتا ہے وہ ڈرائیونگ جانتا ہی نہ ہو تو آپ کیا کريں گے۔ لہذا قرعہ اندازی کے مرحلے سے پہلے بھی آپ کو انتخاب کے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا جو کہ randomness کے کلیے کی مکمل نفی کررہا ہوگا اور انتخاب کا عمل بحرحال اس میں ضرور شامل ہوگا۔
اگر سیاست کی بات کریں تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ جس random بندے کو آپ قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کریں گے وہ واقعی عوامی نمائندگی کے قابل ہوگا۔ جبکہ انتخابات کے عمل میں بہت حد تک عوامی نمائندگی کے امیدوار کو ووٹ دینے سے پہلے اسکی صلاحیتوں کے حوالے سے پرکھا جا سکتا ہے۔ اسکے منشور کو موضوع بحث بنایا جا سکتا ہے اور اسکی بنیاد پر آپ ایک بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ آپ اپنے ووٹ کا ٹھیک استعمال کرتے ہیں یا نہیں اس کا سارا اختیار آپ کے پاس ہوتا ہے جبکہ قرعہ اندازی میں آپ کے پاس ایسا کوئی اختیار سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔
عاطف حسین موجودہ نظام میں حقیقی عوامی نمائندگان کے فقدان کی ایک وجہ انتخابات میں ہونے والے اخراجات بتاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انتخاب لڑنے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کہ ظاہر ہے امیروں کے پاس ہوتا ہے۔ اور وہ انتخابات لڑتے ہیں اور پیسے، دھونس، دھاندلی اور چالاکی کے ذور پر جیتتے ہیں۔ اگر اس اعتراض کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ قرعہ اندازی کے عمل کی شفافیت کو ان امیروں کے شر سے محفوظ رکھا جا سکے گا میری ناقص رائے میں قرعہ اندازی میں تو دھاندلی، دھونس اور چالاکی کے امکانات موجودہ انتخابی طریقہ کار سے بہت ذیادہ ہیں۔
دوسرا میں ذاتی طور پر اس اعتراض کو درست نہیں سمجھتا کہ انتخاب لڑنے کے لیے آپ کو قارون کے خزانے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ حالیہ انتخابات میں ہم نے ایک کثیر تعداد میں ایسے نئے چہروں کو دیکھا ہے جو مالی طور پر کسی بھی صورت میں امیر خاندان سے تعلق نہیں رکھتے۔ موجودہ امیر جماعت اسلامی اس کی ایک عمدہ مثال ہیں۔ ہنگو سے منتخب ہونے والے فرید خان جن کو بعد میں کسی نے قتل کر دیا تھا کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا۔ اسکے علاوہ بھی تحریک انصاف میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ غرضیکہ اگر ایک ممبر اسمبلی بھی غریب خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود انتخابات میں حصہ لے کر ملکی سیاست کا حصہ بنا ہےتو یہ نقطہ بے معنی ہو جاتا ہے کہ غریب لوگوں کے لیے انتخابات کے ذریعے عوامی نمائندگی کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔
قرعہ اندازی کے ذریعے عوامی نمائندوں کے انتخاب کا جو سب سے بڑا نقصان ہے وہ اس میں احتساب کی موجودگی کا کلی فقدان ہے۔ میں قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہوتا ہوں تو جوابدہ کس کو ہونگا ناکامی کی صورت میں۔۔۔۔ کیونکہ اگلا انتخاب میری کارکردگی پر نہیں دوبارہ قرعہ اندازی سے ہونا ہے۔ قرین قیاس ہے کہ مجھے دوبارہ اس نمائندگی کا موقع کبھی نہ ملے تو پھر کیوں نہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا ہی کچھ بھلا کر لوں. موجودہ انتخابی نظام میں احتساب کا عملی اطلاق بہت موثر نہیں ہے لیکن موجود ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی پی کے سے باہر ہوگئی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہوگئی ہے۔ اور مذھبی جماعتوں کا تو تقریبا صفایا ہی ھونے والا ہے۔ اس کو ہی احتساب کہتے ہیں اور یہ ہی اصلاح کی جانب بڑھتے ہوئے قدم ہیں۔ اور اگر ہم قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب نمائندوں کے ليے احتساب کا کوئی عمل متعارف کرنے کا سوچ رہے ہیں تو پھر اسکو موجودہ طریقہ انتخاب میں متعارف کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔
۵۰۷ قبل مسیح میں جب ایتھنز میں جمہوریت کا جنم ہوا تھا تو قانون سازی اور خارجہ پالیسی ایک خود مختار مجلس انتظامیہ کی ذمہ داری تھی اور معلوم ہوتا ہے کہ قرعہ اندازی کے زریعے صرف عدالت کی معاونت کے لیے جیوری کے ارکان کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ آپ کے شاید علم میں ہو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ اور کینیڈا میں آج بھی یہ روایت قائم ہے اور عدالتوں میں جیوری کے ارکان کو ایسے ہی randomly منتخب کیا جاتا ہے. اور جیوری کے فرائض ادا کرنے کے لیے آپ کا employer آپ کو چھٹی دینے کا بھی پابند ہوتا ہے۔ اور آپ خود بھی کسی معقول وجہ کے بغیر اس فرض کو ادا کرنے سے انکار نہیں کر سکتے۔
تیرویں سے اٹھارویں صدی کے آخر تک جس قرعہ اندازی سے حکمرانوں کے انتخاب کا حوالہ عاطف حسین نے اپنے کالم میں دیا ہے اسمیں انہوں نے ساتھ میں یہ بھی خود ہی بیان کر دیا ہے کہ یہ قرعہ اندازی اشرافیہ کے ارکان میں سے ہی ہوتی تھی لہذا قدیم معاشروں کے اس طرز عمل کو میں ایک تاویل کے طور پر بھی پیش کرنے کو درست نہیں سمجھتا کیونکہ اس طرز عمل کا اطلاق صرف ایک خاص طبقے تک محدود تھا جو کہ موجودہ انتخابی نظام کے مقابلے میں یقیناﹰ ایک ادنیٰ حیثیت رکھے گا کیونکہ موجودہ انتخابی نظام پر اس وقت بظاہر اشرافیہ کے ارکان ہی قابض نظر آتے ہوں لیکن اپنے اصول اور اطلاق میں یہ ہر خاص و عام کو عوامی نمائندگی کا حق دیتا ہے اور یہ حق عوام نے عملی طور پر استعمال کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: