اجتماعی خوف اور ریاست کی عدم فعالیت: نعمان علی خان

0

پاکستان کے نظریاتی دشمنوں نے پاکستان کے شہریوں کے درمیان باہمی اعتماد کےمعاشرتی رشتے کمزور کردئیے ہیں۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کی نیت پر شک کرنے کی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ہماری اس معاشرتی نفسیاتی بیماری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ریاستی اداروں کے درمیان جو باہمی اعتماد ایک زمانے میں موجود تھا وہ ہمیں دن بدن کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ سنہ ۲۰۰۷ کے بعد سے جوں جوں ہمارے ریاستی ادارے آپسی عدم اعتماد میں مبتلا ہوتے گئے ہیں توں توں ہمارے عوام کا ریاست پر سے اعتماد کمزور پڑتا گیا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا بالعموم اور خصوصاً مڈل کلاس کے تعلیم یافتہ لوگوں کا خصوصاً رجحان یہ ہوچکا ہے کہ ایک دوسرے کے معاشرتی مسائل میں ساتھ دینے کی بجائے اپنے اپنے معاملات خود ہی نمٹانے پر توجہ دیتے ہیں۔ آج ہماری مڈل کلاس، ریاستی اداروں کے باہمی ربط و اشتراک کی عدم موجودگی کے باوجود اگر ریاستی امور کی جانب متوجہ ہوتی بھی ہے تو فقط ان کی آپسی عدم مطابقت اور باہمی ٹکراوٰ کی صورتحال پر تبصرے کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عرصے سے جاری، اداروں کے باہمی عدم اعتمادکے مسائل میں الجھے ہونے کی وجہ سے ریاست عوام کے اصل مسائل کی جانب سے مغائرت کی بیماری میں مبتلا ہوچکی ہے اور اسی بنا پر شہری، ریاستی امورسے مغائرت [ایلئینیشن] میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ عوامی چائے خانوں اور باربر شاپس پر لوگ آپس میں تمام ریاستی امور پر تبصرہ کرتے تھے اور خود کو ریاست کا شریک کار سمجھتے تھے۔ آج کسی عام آدمی کو یہ بات معلوم کرنے میں دلچسپی ہی نہیں کہ پنامہ سکینڈل یا ڈان لیکس کا اصل مسلہ کیا ہے کیونکہ اسے یہ نہیں معلوم اور نہ وہ امید رکھتا ہے کہ اس کے بچوں کی خوراک کے حصول اور بیماری میں علاج کیلئیے ریاست، آئین اور ریاستی اداروں کے کوئی فرائض بھی ہیں اور اس معاملے میں ان کا کوئی کرداربھی ہے۔ جب ریاست دن بدن لوگوں کی مسائل سے مغائرت برتتی ہوئی دکھائی دے تو شہریوں کے پاوٰں زمین پر جمے نہیں رہ پاتے اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جو خوف کی نفسیات معاشرے میں جنم لیتی ہے وہ ان کے آپسی سماجی رشتوں اورمعاشرے کے تاروپود کو بکھیرنے لگتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عام شہریوں کے بیچ دوستی اور بھائی چارے میں پہلے جو باہمی اعتماد ہوتا تھا وہ آج تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ اس عدم اعتماد اور خوف کی نفسیات کا جو طبقہ سب سے زیادہ شکار ہوا ہے وہ مڈل کلاس کا نوجوانوں پر مشتمل وہ گروپ ہے جس کی رسائی جدید تعلیم اور سوشل میڈیا تک ہے۔ ہمارے یہ نوجوان ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے چوکس رہتے ہیں اور خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ کہیں میرا کہا ہوا فلاں جملہ کوئی اس وقت میرے خلاف استعمال کرکے مجھَے بلیک میل نہ کرے جب کبھی میں سچ کا اپنا ورژن کسی فورم پر رکھوں۔ کوئی ڈرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اللہ اور رسول صلعم کے خلاف کسی دھرئیے کی بات کو ٹوکوں تو وہ طالبان سے مجھے ملا کر کسی ریاستی آپریشن کا رخ میری جانب نہ موڑدے اور کوئی دوسرا خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ اگرمیں کسی اقلیتی فرد پر ہونے والے ظلم یا کسی روشن خیال مسلمان کے ناحق مارے جانے کی اپنے اظہار خیال میں مزمت کروں توکوئی مجھے توھین کی پاداش میں سزا دینے پر نہ اتر آئے۔


بیرونی اور اندرونی سازش کے ذریعے آج ہمارے درمیان جعلی، سرخے، جعلی سبزے اور جعلی لبرلز انسٹال کردئیے گئے ہیں۔ جو مستقل نان ایشوز کا ایک بازار گرم کئیے رکھتے ہیں۔ یہ پس منظر میں پوشیدہ نظریاتی پراکسیز ہیں جو کھل کر خود سامنے نہیں آتے مگر بہت سے مخلص مگر پرجوش نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اپنے نان ایشوز کے جال میں یوں پھانس چکے ہیں کہ اب خوف کی اس نفسیات میں ان کے پاس واپسی کا خیال بھی نہیں رہا۔


اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے اور شاید اسی مقصد کے حصول کیلئیے ہمارے درمیان اس شک کے فساد کا بیج بھی بویا گیا ہے کہ ہماری نگاہوں سے ہمارے اصل ایشوز غائب کردئیے گئے ہیں۔ اب ہم اپنے اصل مسائل کہ جنہیں حل کرنا ہماری ہر حکومت کا اولین آئینی فرض ہے انہیں پہچانتے بھی نہیں؛ آج ہم عوام کے اصل مسائل، یعنی بنیادی آئنی فلاحی حقوق، سوشل سیکیورٹی، روزگار روٹی کپڑا مکان تعلیم علاج، عدل و انصاف اور مساوی مواقع تک رسائی، کی غیر اعلانیہ مگر عملاً معطلی، جیسے مسائل پر بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی حکومت کا حمایتی اسے ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کا رنگ نہ دے دے۔ ہم عوام کے اِٰن آئنی فلاحی حقوق کی مسلسل معطلی پرعدالت کی توجہ نہ ہونے پر کوئی سوال نہیں اٹھاتے کیونکہ ڈر ہوتا ہے کہ عدالت کی توھین میں نہ دھر لئیے جائیں۔ ہم اجتماعی طور پر آپسی اعتماد کے بحران میں مبتلا کردئیے گئے ہیں۔ ہمیں کسی بھی بامعنی اور آئینی فلاحی حقوق سے متعلق اجتماعی سوشل چینج کی کوشش کرنے کے قابل نہیں رہنے دیا گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا ہمارے درمیان اعلٰیِ کردار کے لیفٹسٹس، مثلاً فیض، ملک خالد، اسلامسٹس، مثلاً سید مودودی رح، ارشاد حقانی اور لبرلز، مثلاً غلام اسحاق اوراے کے بروہی، اپنی تمام تر نظریاتی تفاوت کے باوجود پاکستان اور اس کے عوام کیلئیے اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جبکہ بیرونی اور اندرونی سازش کے ذریعے آج ہمارے درمیان جعلی، سرخے، جعلی سبزے اور جعلی لبرلز انسٹال کردئیے گئے ہیں۔ جو مستقل نان ایشوز کا ایک بازار گرم کئیے رکھتے ہیں۔ یہ پس منظر میں پوشیدہ نظریاتی پراکسیز ہیں جو کھل کر خود سامنے نہیں آتے مگر بہت سے مخلص مگر پرجوش نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اپنے نان ایشوز کے جال میں یوں پھانس چکے ہیں کہ اب خوف کی اس نفسیات میں ان کے پاس واپسی کا خیال بھی نہیں رہا۔ اس سوشل میڈیا اور جدید سوشل انجینئِرنگ کی ٹکنیکس کے ذریعئیے ایک ایسی فیک اور ڈیسپٹو، سوشل پولرائزیشن جنریٹ کی گئی ہے، جس نےھمیں آپس میں ایک دوسرے سے اور ریاستی اداروں سے خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ اب ہم ہر بات میں انتہائی حساس اور ڈیفنسو رہتے ہیں۔ اس خوف کی نفسیات نے بہت قریبی امن پسند دوستوں کوسوشلی ایکٹودوستوں سے دور کردیا ہے۔ یہ نفاق کی وہ صورت ہے جس میں ہم ایک دوسرے کی بری گھڑی میں ساتھ دینے کی روایت سے کنی کترانے لگے ہیں۔ ہم جس خوف، نفاق، نان ایشوز کے عزاب اور معاشرتی ابتری میں مبتلا کردئیے گئے ہیں اس کا صرف اور صرف ایک علاج باقی بچا ہے اوروہ یہ امید کہ ان خاص حالات میں، سووٰموٹو لیتے ہوئے عدلیہ، عوام اور فوج کی طاقت کے ساتھ اس ملک کے، مخصوص گرینڈ نیریٹوکا واشگاف اعلان کرے گی اور جو حلقے بھی اس گرینڈ نیریٹو پر شب خون مارنے کی کوشش کریں ان کوریاست کے بیانئیے کا پابند کرے گی اور نظام میں آئین پر مکمل عملدر آمد کا اور عوام کے فلاحی آئنی حقوق واجگزار کروانے کا بندوبست کرے گی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: