نئی نسل کے صحافیوں اورلکھنے والوں کے لیے: خرم سہیل

0

منافق معاشرے میں سچ یتیم ہوتا ہے
(نئی نسل کے صحافیوں اورلکھنے والوں کے لیے)

میں نے جب ہوش سنبھالا توریڈیو پاکستان اورپاکستان ٹیلی وژن سمیت پاکستان کے نمائندہ اخبارات کے ذریعے ہمیں اندازہ ہوتاتھا، ملک میں کیا ہورہاہے۔ تھیٹراورفلم میں کیا سرگرمیاں ہیں، موسیقی کے شعبے میں کون سی آوازیں اپنا جادو جگا رہی ہیں، کون سے مصوراپنے پسندیدہ رنگ استعمال کررہے ہیں۔ ڈراما، کہانی، افسانہ، ادب اورتحقیق کے شعبوں میں کون کون سے معرکے سرہورہے ہیں۔ یہ نوے کی دہائی تھی اورمیرے ادراک کاابتدائی دورتھا۔ یہ دہائی خود کومتعارف کروانے کے مرحلے سے گزری۔ اکیسویں صدی کی پہلی مکمل دہائی، ان تمام شعبوں، موضوعات، بالخصوص ملکی حالات کے فہم وادراک میں گزری۔ اس عرصے میں مطالعہ اورمشاہدہ کادوردورہ رہا۔ دوسری دہائی میں، صحافت کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، میدان صحافت میں، مجاہدہ کا مرحلہ شروع ہوا، جوتاحال جاری ہے۔
عملی صحافت سے وابستہ ہونے پر اندازہ ہوا، معاشرے پراترنے والا زوال، صرف سماجی رویوں اورحالات تک ہی محدود نہیں، بلکہ افراداورادارے بھی اس کے منفی اثرات کے براہ راست زیراثرہیں۔ دھیرے دھیرے چیزوں کوسمجھنا شروع کیا۔ میرے موضوعات چونکہ فنون لطیفہ سے متعلق ہیں، اس لیے میری ساری دلچسپیاں اسی پرمرکوزرہیں۔ عملی میدان میں مشاہدے کی آنکھ سے چیزوں کوذرا باریکی سے دیکھنا شروع کیا، تو نتائج ہوشربا تھے، اب میرے سامنے دو ہی راستے تھے، یا تومیں خاموشی سے اس ہجوم کا حصہ بن جائوں ۔
اس صورتحال میں رضاکارانہ طورپرہتھیارڈالنے کے کچھ ثمرات بھی ہوتے ہیں۔ ذاتی حیثیت میں، آپ کے مراسم بہترہوجائیں گے، وقتی فوائد بھی ہوں گے، کچھ لوکچھ دوکی پالیسی کے تحت، معاشرے کے میل جول میں، آپ کا دال دلیا چلتا رہے گا، مگرآپ کو’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اورکھانے کے اور‘‘ مصداق زندگی بسرکرنا ہوگی۔ دوسری طرف جانے کی خواہش رکھتے ہیں، جومخالف سمت ہے، یعنی جودیکھنے وہی بولنے کی خواہش رکھتے ہیں، تو یہ بھی یاد رکھیں کہ پھر نہ کسی صلے کی تمنا رکھیں، یا ستائش کی پرواہ، کیونکہ منافق معاشرے میں سچ یتیم ہوتاہے۔
صحافت کی ابتدامیں شوبز اورادب کے میدان میں قدم رکھا، اپنے ساتھی سینئر صحافیوں سے مدد مانگی، جواب ندارد۔ کچھ غیر صحافی دوستوں نے مدد کی اورہماری گاڑی بھی چلنے لگی۔ اب تک سینکڑوں شخصیات سے انٹرویوز کرچکاہوں، ہر طرح کارویہ دیکھنے کوملا۔ کہیں توایسی اپنائیت، یہ احساس ہونے لگا کہ ہم بڑے طرم خاں ہیں، کہیں ایسی انانیت اورتکبر، خود کو کیڑامکوڑامحسوس کیا۔ شوبز میں بناوٹ کے سارے پہلو، تہہ در تہہ کھلنے لگے، اس لیے اس کی رنگینیاں میرے لیے مانند پڑگئیں، اس کے باوجود کئی شخصیات دوست بھی بنیں۔
موسیقی اورادب میں بھی یہی ہوا۔ خاص طورپر شعروادب کے معاملے میں میری دلچسپی زیادہ تھی، اس لیے بہت تیزی سے اس شعبے کی مکاریاں اورفنکاریاں سمجھ آنے لگی، جن کو میں بہت تفصیل سے بالترتیب لکھا، جس کو سراہا بھی گیا، لیکن نتائج کے طورپرکئی ادبی حلقوں اوراداروں میں غیر اعلانیہ پابندیوں کا سامنا بھی کیا۔ شعر و ادب کی صورتحال تو اب یہ ہے کہ دھول اڑ رہی ہے، خوشامدیوں اور درباریوں کا ایک ریوڑ ہے، کانفرنسوں، ادبی میلوں اورجلسوں کے نام پر، ان کی آمد آمد ہے۔
نئی نسل میں لکھنے پڑھنے والے اورصحافت میں آنے کے خواہش مند نوجوانوں کو خاصے مسائل کاسامنا ہے۔ میں چونکہ مختلف فورمز پر ان نوجوانوں سے بات کرتا ہوں، متعدد نوجوان مجھ سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ میں ہیں، جس کی وجہ سے مجھے ان مسائل کا اندازہ ہے۔ سینئرز کی اکثریت صرف نوجوانوں کو روٹی پکانے کے روایتی طریقے بتاتی ہے، روٹی کمانی کیسے ہے، یہ بتانے سے گریزاں ہے۔ یہ حضرات حقیقی رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔ راستے کیسے تلاش کیے جائیں اوراپنے ہنر کو کیسے نکھاراجائے، نہیں بتاتے۔ اب سوشل میڈیا پر نئی نسل اپنے ہنر کو آزمارہی ہے، مگربغیر ریاضت اور تربیت کے، وہ تکنیکی غلطیاں کرتے ہیں، جس کے ردعمل میں انہیں پھرانہی سینئرز کی تنقید کا سامنا ہوتا ہے۔
نئی نسل کے وہ نوجوان جوصحافت کے شعبے میں آنا چاہتے ہیں، انہیں سب سے پہلے یہ طے کرنا چاہیے، وہ کرنا کیا چاہتے ہیں، کیونکہ جامعات میں پڑھانے والے اساتذہ کی اکثریت بھی ذہنی طورپر فارغ ہے، نہ وہ خود پڑھتے ہیں، نہ طلبا کو کچھ بتاتے ہیں، بلکہ کوئی طالب علم باشعور ہو تو اس سے خوف زدہ ہوجاتے ہیں، کیونکہ وہ صرف اپنی روٹی پر دال گھسیٹ رہے ہیں۔
اس ماحول میں نوجوان نسل کو اپنے لیے خود راستے تلاش کرنے ہوں گے، وہ طے کریں، انگریزی زبان میں صحافت کریں گے یا پھر اردو زبان میں۔ صحافت میں الیکڑونک میڈیا کی طرف جائیں گے یا پرنٹ میڈیا کی طرف، پھر دونوں شعبوں میں ہونے والے کام کا روزانہ کی بنیاد پر تجزیہ کریں۔ دنیا بھر میں اس شعبے میں کیا ہورہا ہے، اس کاجائزہ لیں۔ اس موضوع پر کیا کتابیں شایع ہو رہی ہیں، ان کا مطالعہ کریں۔ فنون لطیفہ میں ملکی اور بین الاقوامی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، جو بھی فلسفہ یا نظریہ اچھا لگے، اس کو براہ راست ماخذات سے سمجھنے کی کوشش کریں۔
پاکستان میں چاہے بنیاد پرست ہوں، یا روشن خیال لبرل، اکثریت جعلی اور جہالت زدہ ہے، کیونکہ یہ ادھورے لوگ ہیں، یہ پورے پیکج کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، جس میں سب کچھ تھوڑا تھوڑا شامل ہو، یعنی سادہ لفظوں میں کہاجائے تو منافق ہیں۔ ان کے اپنے اپنے رانجھے ہیں، جن کو راضی کرنے کے لیے وہ ان نظریات کا سہارا لیتے ہیں، ان کی نظریے سے جذباتی وابستگی کی بجائے پلاننگ ہوتی ہے، اس سے کیا فائدے حاصل کرنے ہیں، اس چکر میں، ان کے ہاتھوں نئی نسل بھی گمراہ ہوتی ہے۔
نوجوان اپنی قسمت کارونا رونے کی بجائے، محنت کریں، مشاہدے اور مجاہدے کو اپنی زندگی کا عملی حصہ بنائیں۔ دیکھیے پھرکیسے ذہن کے دریچے وا ہوتے ہیں اور دنیا آپ پر اپنے رنگ میں کھلتی ہے۔ فنون اور نظریے آپ کی شخصیت کو بہتر کریں گے اور روزگار کے لیے راہیں بھی خود بخود نکلیں گی، آپ کو اس سے اعتماد ملے گا اور معاشرے میں ہونے والی علمی چالاکیوں اور منافقانہ رویوں کے پردے بھی چاک ہوں گے۔
صرف اور صرف اپنے رنگ سے، اپنے پہلو سے چیزوں کو دیکھیں ورنہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں بہت دیر میں خبر ملتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور تھا۔ اس صورتحال سے بچنے کا صرف ایک ہی حل ہے، محنت اور ذہن کی یکسوئی اور نظریات کا صاف اور یکجا ہونا۔ کسی ایک طرف ہونا، تیتر اور بٹیر کی زندگی گزارنے کی بجائے، کسی ایک طرف ہونا، ورنہ دو کشتیوں کے سوار منہ کی کھاتے ہیں اور ہمارا معاشرہ اسی طرز زندگی میں جی رہا ہے، سب سے پہلے اس طرز سے خود کو محفوظ کرنا ہوگا، باقی تو آپ سمجھ دار ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: