گھی اور آئل کا چکر Saturated and Un-saturated Fats

0
  • 1
    Share

عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے ’’خبر‘‘ کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ شاہد اعوان


گھی اور آئل کا چکر Saturated and Un-saturated Fats

دانش پر کوکنگ آئل پر ایک پوسٹ میں ہم نے یہ بتایا تھا کہ یہ انڈسٹری ہماری صحت کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتی ہے ،آج ہم اسکی اُس تاریخی بنیاد پر بات کریں گے جس پر اس کی ساری عمارت کھڑی ہے۔

قدیم دور سے انسان fats کیلئے زیادہ چربی دار یعنی saturated fats کا استعمال کرتا تھا جو جانوروں کی چربی دودھ سے نکلا گھی،مکھن زیتون، ناریل کا تیل وغیرہ ہوتا تھا۔ 1900 تک سائنس میں شاندار ترقی کا دور شروع ہوچکا تھا۔ اس میں کمرشل مارکیٹ کے تاجروں نے اپنا مفاد دیکھنا بھی شروع کر دیا۔ بڑی مقدار میں un saturated fats جو آج ویجیٹبل آئل کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو بڑے پیمانے پر مارکیٹ کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ لوگ یہ پسند نہیں کرتے تھے۔

پہلی بار 1908 میں ایک روسی سائنسدان ایگناٹوسکی کی ریسرچ سامنے لائی گئی جس نے تجربات کر کے یہ ثابت کیا کہ قدیم saturated fats دل کی بیماریوں اور کولیسٹرول کی بڑی وجہ ہے۔اسکی بنیاد پر بعد میں ملتی جلتی اور تحقیقات آتی رہیں۔بتدریج ترقی کرتے میڈیا کے ذریعہ یہ سب پبلک کیا جاتا رہا۔ لیکن اس دستیاب پہلی تحقیق پر بھی اعتراض یہ ہےکہ سائنسدان صاحب نے سارے تجربات خرگوشوں اور بکریوں پر کئے تھے۔ان کو پروٹینز کیپسول کھلا کھلا کر ایک مخصوص مدت کے بعد ریسرچ کی تھی۔جس پر یہ کہنا بنتا ہے کہ قدرت نے جن جانوروں کو سبزی خور پیدا کیا، آپ انکے جسم پر ہائی پروٹین ویلیو ٹیسٹ کیسے کررہے ہیں؟؟

لیکن 1950 میں ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر اینسل کیز نے lipid پر اپنا مفروضہ دیا،جو مارکیٹ میں ایک انقلاب لے آیا۔ کیز نے سات ممالک میں fats کے استعمال کی مقدار اور اموات پر ایک ریسرچ بنائی جسکے نتائج کیلئے جو لفظ استعمال ہوئے وہ ” قریبی تعلق ” تھے۔ڈاکٹر موصوف بھی دل کی جملہ بیماریوں کو یکمشت saturated fats پر نہیں ڈال پائے۔لیکن میڈیا نے اسے سات ممالک کی تحقیق کے نام سے عام کرنا شروع کردیا۔

جبکہ اُس وقت بھی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ایک اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر جیکب نے حیرت سے کہا تھا کہ اسے 22 ممالک کی تھیوری کیوں نہیں کہتے؟ہمارے پاس 22 ممالک کا ڈیٹا ہےلیکن اُنکی تحقیق کو زیادہ اہمیت تب نہ دی گئی کہ اُس وقت یہ مفاد میں نہ تھی۔ڈاکٹر کیز نے مفروضہ پر تحقیق کی تھی۔اُس کیلئے سات وہ ممالک چنے تھے، جنکے نتائج انکے مفروضے کو سپورٹ کررہے تھےجب کہ ڈاکٹر جیکب کے 22 ممالک کی تحقیق سے یہ مفروضہ مشکوک ہوجاتا۔

یہ میڈیا، تجارت اور مارکیٹ بنانے کے گٹھ جوڑ کی داستان تھی۔1950 کے بعد ویجٹیبلز آئل نے مارکیٹ پر قبضہ جمالیا۔اس فتح کی بنیاد اسکی خوبیاں نہیں، متبادل کو مشکوک بنانے پر رکھی گئی۔اور ایسی کمال کامیابی سے بنائی گئی کہ پولی انسیچرویٹڈ فیٹس کو قدرتی سیچرورٹڈ فیٹس کا متبادل ہی نہیں وقت کی ضرورت بنادیا گیا۔یہ وہ مارکیٹ ہے جہاں مکھن بچارہ اب منہ چھپا لیتا ہے۔اور مارجرین بلیو بینڈ کے ریپر میں اسکی جگہ ناشتے کی ٹیبل پر جگہ بنالیتا ہے۔ہم قدرتی مکھن کو نقصان دے سمجھ کر ہٹا لیتے ہیں۔اور کیمیکلز سے مزئین مارجرین طلب بنالیتے ہیں۔ ایسے ہی آج saturated fats گالی بن گئے، اور مکئی سے لے کر سویابین آئل تک ہمارے روزمرہ کا استعمال اور صحت کی نام نہاد علامت۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس کاروباری مفاد کی بنا پرکیے جانے والے فریب کو جاننے کے بعد بھی ہم اپنی زندگی اور صحت کے بچاو کے لئے برسوں پرانی عادت اور ’سہولت‘ کے چکر سے نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔


اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی دوسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

 اس سلسلہ کی تیسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی چوتھی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی پانچویں تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: