مذہبی بنیاد پرستی، اسباب اور سدباب … فارینہ الماس

0

بنیاد پرستی کا مطلب کسی بھی نظرئیے یا عقیدے کی اصل بنیادوں یا نظریات پر قائم رہنا ہے۔ یہ کسی حد تک تو قابل عمل ہے۔لیکن جہاں اس کے وجود سے تنگ نظری اور نظریات کی سطحی اورغلط تشریحات جنم لینے لگیں اور اس کا اظہار پر تشدد ہونے لگے تو دیگر عقائد و نظریات اور ان کے حامل افراد بنیاد پرستی کی اس لپیٹ میں آنے لگتے ہیں۔ عموماً مذہبی بنیاد پرستی سے وابستہ رجعتی نظریات ذہنی و تمدنی پسماندگی، غربت، جہالت اور سماجی بوسیدگی میں پرورش پاتے ہیں۔ لیکن اس کے پر تشدد ہونے میں انسان کے اس ردعمل کا بھی ہاتھ ہوتا ہے جس کا اظہار وہ معاشرے کے ظالم، استبدادی نظام سے نفرت کے طور پر کرتا ہے۔ یوں تو مذہب سے اس کا تعلق تقریباً 1910کے زمانے سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن تاریخی شواہد کے مطابق انسانی مزاج یا رویوں میں اس کا پایا جانا اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود مذاہب کی اپنی تاریخ۔ بنیاد پرستی نے عیسائیت کی شکل میں بھی دیگر مذاہب پر غلبہ پایا۔ ایک طویل مدت تک لوگ چرچ کی استبدادی اور انتہا پسند رویے کا شکار رہے۔ جو کہ بنیادی طور پر جاگیردارانہ اور شہنشا ہانہ نظام کو تقویت دینے کی آڑ میں قائم کیا گیا۔ اس کے جبر و ظلم کے خلاف نشاۃ ثانیہ کے دور میں ایک خاص انقلابی طبقہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جاگیردارانہ نظام سرمایہ دارانہ نظام میں بدل گیا۔ عظیم انقلابات انسانی سوچ اور فکر کو نئے پیمانوں میں ڈھالنے لگے اور سماجی ترقی کے نئے افق تلاش کئے جانے لگے۔ اس کے بعد سوشلزم کا دور شروع ہوا اور سائنسی و عقلی دلائل کو عروج ملنے لگا۔اٹھارہویں صدی کی روشن خیالی نے مذہبی بنیاد پرستی کو سرے سے ہی رد کر دیا۔ کارل مارکس نے اپنی ایک کتاب میں تحریر کیا ہے کہ “کیا یہ سمجھنے کے لئے غیر معمولی بصیرت کی ضرورت ہے کہ آدمی کی مادی زندگی کی حالتوں،اس کے سماجی رشتوں اور اس کی سماجی زندگی میں جب کبھی تبدیلی آتی ہے تو اس کے ساتھ اس کے خیالات، تصورات، نظریات حتیٰ کہ اس کا شعور تک بدل جاتا ہے۔ مادی پیداوار کی نوعیت بدلتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی ذہنی پیداوار کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے” انقلاب فرانس انسان کے سماجی رویوں میں ایک بہت بڑی تبدیلی لے کر آیا۔ جسے دنیا نے تسلیم بھی کیا اور دوسری طرف اس سوچ اور نظام کے خلاف ایک رائے عامہ کو مزید ہموار بھی کیا۔اور یہ دو قوتیں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار دکھائی دینے لگیں۔ ایک طرف تو بوژووا انقلاب نے ریاست کو مذہب سے دور کر دیا اور دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی ایک قوت بن کر نمو پانے لگی۔ اس نے جہاںنئے نظام کے خلاف نفرت کے طور پر اپنا اظہار پایا وہیں دیگر عوامل بھی اس کے لئے کارگر ثابت ہوئے۔ جن میں معاشی و تمدنی عوامل بھی شامل ہیں اور قوموں کی تیز ی سے تبدیل ہو تی نفسیات بھی۔اس میں احساس محرومی اور احساس برتری دونوں ہی کے عوامل بھی موجود رہے ہیں۔ اور عالمی نظام کی بے رحمی و نا انصافی کی مجرمانہ کا وشیں بھی۔ انسانی استحصال کے لئے بنائے گئے نوآبادیاتی و استعماری نظام بھی انسان کی رواداری، برداشت اور افہام و تفہیم جیسے اوصاف کو تلف کرتے رہے۔ جس سے مقامی آبادیاں شدید قسم کے انتشار و محرومی کا شکار ہوئیں۔اسے نبھانے کو کبھی انسان صلیبی یا دیگر مذہبی جنگوں میں خود کو جھونکتا رہا تو کبھی دیگر نظریات کے ٹوٹ جانے کے بعد، ان انتہا پسند نظریات سے فائدہ اٹھاتا رہا۔ مسلمانوں نے تاریخ میں ایک طویل مدت تک سپین پر حکومتیں کیں لیکن انہوں نے مذہبی انتہاپسندی کی بجائے مذہبی رواداری کا چلن اپنایا۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو حکومت کے اہم عہدے دئے اور معاشرتی طور پر نہ صرف انہیں تمام تر حقوق ادا کئے بلکہ ان کا تحفظ بھی کیا۔ لیکن بدقسمتی سے حکومتیں چھن جانے کے بعد انہیں شدید قسم کے ثقافتی، معاشی و سماجی بحران سے گزرنا پڑا۔ نئے حاکموں کے بد ترین رویے نے انہیں شدید قسم کے احساس کمتری میں مبتلا کر دیا جس کے نتیجے میں مختلف اسلامی تحریکوں نے جنم لیا۔ جن میں سے کچھ اسلامائزیشن کے لئے مسلمانوں کو غلط راستوں پر بھی ڈالنے لگیں۔ برصغیر میں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے حامل مسلمان حکمران آئے جنہوں نے مذہبی بنیاد پرستی کی بجائے روحانیت کوفرو غ دیا کیونکہ یہاں ایک بکھرا ہوا سماجی نظام موجود تھا اور ایک اجتماعی عقیدے اور مذہب کی کمی تھی۔اس لئے اس بکھرے سماج کو سمیٹنے کے لئے مذہبی رواداری اور معتدل رویے کو اپنانے کی اشد ضرورت تھی۔مسلمان حکمرانوں نے اس خطے کی نفسیات کو دیکھتے ہوئے یہاں مذہب سے زیادہ روحانیت کو رواج دیا۔ نو آبادیاتی نظام کے آ نے سے برطانوی حکومت کے ڈھائے ظلم و جور نے مقامی آبادی کو احساس کمتری اور ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا۔ اس کے ردعمل کے طور پر بغاوت نے جنم لیا لیکن اس بغاوت میں مذہبی بنیاد پرستی کا عنصر خود ہندووں نے شامل کیا۔یہ عنصر بال گنگا دھر تلک،لالہ لجپت رائے اور بپن چندر پال کے ” ہندو راج ” کے نعرے سے ابھر کر سامنے آیا۔ اس کے علاوہ بھگتی تحریک،ویانک دامودر سورکار کی ہندو توا تحریک،اور آر۔ ایس۔ایس تحریک اس نظرئیے کو ترویج دینے کے لئے چلائی گئیں۔ انہوں نے محکومی سے نجات کا راستہ ہندو بنیاد پرستی میں تلاش کیا۔ جس سے برصغیر کی بڑی اقلیت مسلمان شدید متاثر ہوئے اور اسی انتہا پسندی کی چلنے والی ہوا نے انہیں علیحدہ وطن کے حصول کی طرف مائل کیا۔

بنیادی طور پر اسلامی بنیاد پرستی کا آغاز جنگ عظیم دوم سے شروع ہوا۔ جب زرائع ابلاغ اور جدید ٹیکنالوجی کے نئے مغربی رحجانات نے غلبہ پایا تو مسلمانوں نے انہیں اسلام اور اسلامی ثقافت کے لئے خطرے کا باعث جانا۔ 1970ء کے عشرے میں اخوان المسلمین نے مصر میں اس کے متعلق شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ 1979ء کا ایرانی اسلامی انقلاب بھی ایسے ہی خطرات سے تحفظ کے لئے برپا کیا گیا۔ اسلامی عظمت اور ثقافت کی بحالی کے لئے چلائی جانے والی باقی تحریکوں کو بھی مغرب نے اسلامی بنیاد پرستی ہی کا نام دیا۔ حالیہ بنیاد پرستی کے محرکات میں امریکی سپرپاور کے مفادات کی جنگ کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ امریکہ نے سپر پاور بننے کے لئے کمیونزم کا مقابلہ کیا اور اس مقابلے میں اس کی مددگار رہی وہ بنیاد پرستی جس کا پودا امریکہ نے خود اپنے ہاتھوں سے خصوصاً پاکستان اور افغانستان میں لگایا۔ امریکہ نے اسے معاشی و سیاسی طور پر سپورٹ بھی کیا اور فنانس بھی۔ گلبرٹ آرچر بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اسلامی بنیاد پرستی کی موجودہ مضبوطی امریکی پالیسیوں کا براہ راست پراڈکٹ ہے۔ بنیاد پرستی کو ایک حد تک استعمال کر چکنے کے بعد امریکہ نے اس کے خلاف خود محاذ آرائی شروع کر دی۔ جو اسلامی ریاستیں سب سے زیادہ امریکہ کے استعمال میں رہیں بعد میں امریکہ نے انہیں ہی نیست و نابود کیا۔ اس تضاداور استحصال نے مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے تمام تر معاشی،سماجی اور نفسیاتی مسائل اور اپنے عدم استحکام کا حل بنیاد پرستی کو انتقام بنا کر حاصل کریں۔ مذہبی بنیاد پرستی کی بڑھتی فضا کے اسباب کو جانچتے ہوئے دنیا کے چند تحقیق کاروں نے ایک ایسی تحقیق پیش کی ہے جو بنیاد پرستی کو ایک ذہنی عارضے سے منسوب کرتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی دماغ کا ایک خاص حصے prefrontal corte کو نقصان پہنچنا یا کسی خرابی کا شکار ہونا بلواسطہ طور پر مذہبی بنیاد پرستی کو جنم دیتا ہے۔ دراصل یہ نقصان انسان کی شخصیتی خاصیتوں میں شامل دماغی کشادگی اور سوچ و رویے کی لچک کے اوصاف کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس طرح کی کمی انسان کو جستجو اور تخلیق سے بھی دور کر دیتی ہے۔ اس کمی کے پیش نظر انسان پرانے خیالات اور نظریات کو اپ ڈیٹ کرنے سے گریزاں ہو جاتا ہے۔ اور بہت مضبوط قسم کی کٹر اور دقیانوس سوچ سے جڑا رہتا ہے۔ وہ اس وابستگی کو بچانے کے لئے کسی حد تک متشدد رویہ بھی اپنانے لگتا ہے۔ پھر بعد میں اسے ملنے والا ماحول اور وابستگی اور ان کے اثرات اسے مذید انتہا پسند بنا دیتے ہیں۔جو نئی تبدیلیوں اور ایجادات کو دماغی طور پر قبول نہیں کرتے اور نہ ہی نئی سوچ اور فکر سے اثر قبول کرتے ہیں۔ اس ریسرچ کے لئے مختلف تجربات اور تجزیات بھی کئے گئے۔ کچھ ماہرین اسے محض مذہب سے نہیں بلکہ انسان کے ذاتی احساس کمتری یا احساس برتری سے بھی جوڑتے ہیں۔ یہ احساس انسان کو فرقہء پرستی سے جوڑ دیتا ہے جو بعد میں فرقہ ورانہ فسادات کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ یہ فسادات ملکی صورتحال سے نکل کر عالمی صورتحال کی شکل بھی اختیار کر جاتے ہیں۔ اور اس میں کوئی ایک قوم نہیں بلکہ دنیا کی کئی قومیں مبتلا ہیں۔ یہ کبھی یہودی بنیاد پرستی تو تبھی ہندو بنیاد پرستی کبھی عیسائی بنیاد پرستی یا اسلامی بنیاد پرستی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ یہ سنگین صورتحال اس وقت اختیار کرتی ہے جب قومیں اسے اپنا فخر بنانے لگیں۔ مذہبی انتہا پسندی خواہ ہندوستان میں ہندووں کی قائم کردہ ہو یا یہودیوں کی فلسطین و اسرائیل میں۔ اس کا تعلق خواہ عیسائیت سے ہو یا مسلمانوں سے، اس کے نتائج ہمیشہ انسانوں ہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس کا نشانہ ہمیشہ انسانی آبادیاں ہی بنتی ہیں اس لئے اسے کسی صورت قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔ کیونکہ یہ صرف نفرت اور انتشار کو ہی جنم دیتی ہے۔ گو کہ اس سلسلے میں دنیا کا رویہ دوہرے معیار قائم کئے ہوئے ہے اور اسے صرف مسلمان ہی بنیاد پرست دکھائی دیتے ہیں۔لیکن اس کا شکار دونوں طرف سے ہی مظلوم اور بے قصور مسلمانوں اور انسانوں کو بنایا جاتا ہے۔ اس لئے دنیا کو اب تحمل مزاجی سے اس عفریت کے اسباب اور سدباب پر سوچنا ہو گا۔

دنیا میں بڑھتی بنیاد پرستی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ دہشت کو وحشت سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔جیسا کہ خود امریکہ نے اسے ختم کرنے کی خواہش میں افغانستان اور عراق جیسے ملکوں پر چڑھائی کر دی۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ اس دہشت کو نفرت یا ظلم سے ختم کرنا ممکن نہیں۔ اسکے لئے حقیقی وجوہات اور عوامل پر غور کرنا ہو گا۔مادی اور سماجی وجوہات کو سمجھنا ہو گا۔ ایک طرف غربت کا خاتمہ ضروری ہے اور دوسری طرف دہشت پھیلانے والوں کے مادی وسائل کو ختم کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔اس کے علاوہ انتہا پسندی کے بنیادی اسباب غربت، ذلت اور محرومی کا خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان میں بھی انہی اسباب پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ قدیم قبائلی نظام کو نئے تصورات و خیالات سے متعارف کر وانا اور جدت پسندی کی طرف لانا ضروری ہے جس کا سب سے بڑا ذریعہء بلا شبہ تعلیم ہی ہے۔ نوجوان نسل جو ہر طرح کی اثر پزیری تلے جلد آنے کی خوبی رکھتی ہے اسے انتہا پسندی کی بجائے جدیدیت کے تصورات کے قریب لانے کی اشد ضرورت ہے۔ معاشرے میں فنون لطیفہ اور ثقافتی سرگرمیوں کو عروج دینا بھی ضروری ہے۔ جب تک ہماری نسلیں فنون اور ثقافت کے قریب رہیں،جب تک خالص ادب اور فن تخلیق ہوتا رہا ہمارا معاشرہ کھلے دماغ سے نئے تصورات اور تحقیقات سے اثر لیتا رہا،جہاں اس پر قدغنیں لگیں، نظام اور سماج دونوں ہی فرسودگی کی جانب چلتے گئے۔ گھٹن ذدہ ماحول معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ ایک دہشت و خوف کی فضا جنم لینے لگتی ہے۔ طاقت کے مظاہرے کے لئے اقلیتوں کو نشانہ بنایا جانے لگتا ہے۔ پاکستان سے عرب معاشروں کی طرف جانے والے پاکستانی اور افغانستان سے ا?نے والے افغانی بہت بڑے مسئلے کا باعث بنے۔ ایک نے کٹر خیالات کو پاکستان میں پھیلانے کا انتظام کیا تو دوسرے دہشت پھیلانے میں آلہء کار بننے لگے۔ فرسودہ قبائلی اور جاگیردارانہ نظام بھی ان مسائل کی جڑ ہے جو بنیاد پرستی کا باعث بنے۔ جب لوگوں کو مایوسی اور فسردگی ملے گی تو وہ معاشرے کو بدلے میں نفرت، غصے اور تشدد کے سوا کچھ دینے کے قابل نہیں رہیں گے۔ جس معاشرے میں تخلیقیت کو پیروں تلے روندا جائے وہاں تخریب جنم لیتی ہے اور انسانوں اور انسانیت کو اپنے قدموں تلے روندنے لگتی ہے۔ سو دہشت گردی کے خلاف کئے جانے والے آپریشنز کی طرح ان عوامل کو بھی کسی طاقتور آپریشن کی ضرورت ہے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: