فطرت بطور معیار: عرفان شہزاد

0

فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی اقدار اور معاملات میں بنیادی نوعیت کی رہنمائی مہیا کرتے ہیں۔

فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں:

عقیدہ

اخلاق

قانون

فطرت درحقیقت، ان تمام اقدار کے لیے بنیاد اور زمین کا کام دیتی ہے جس پر وحی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان کرتا ہے۔ کبھی اس میں مغالطہ بھی لاحق ہو جاتا ہے، اس صورت میں بحث کی ضرورت پڑتی ہے اور درست نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے مغالطے لیکن بہت کم ہوتے ہیں۔ ان کم پیش پیش آنے والے مغالطوں کی وجہ سے اس حقیقت کا انکار کرنا کہ فطرت، ایمان و عقیدہ، خیر و شر، اور عدل و ظلم کے لیے معیار نہیں بن سکتی، ایک بدیہی بات کا انکار ہے۔

ساری انسانیت ان تمام اقدار کے معیارات طے کرنے میں فطرت کی اسی بنیادی رہنمائی پر عمل کرتی ہے۔ اس میں وہ کوتاہی کی مرتکب بھی ہوتی ہے، یہی وہ مقام ہوتا ہے جب وحی کی ضرورت پڑتی ہے، یا اس بحث کی ضرورت پڑتی ہے کہ درست فطری پوزیشن کیا ہے۔ ہر عم و فن میں ایسا ہوتا ہے کہ جس چیز کو معیار تسلیم کیا جاتا ہے، اسی کے اطلاق میں بعض اوقات اختلاف بھی رونما ہوتا ہے۔ آئین و قانون کی بحث میں ہر جگہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے بنیادی امر کا انکار نہیں کر دیا جاتا۔

یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی ہوتی ہےِ اس لیے اصلًا یہ بحث کہ فطرت انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں عیقدہ اور اخلاق سے متعلق ہے۔

ہمارے فاضل احباب نے فطرت کو قبل از وحی فطرت اور بعد از وحی فطرت میں تقسیم کیا ہے اور اصرار ہے کہ معیار اگر ہے تو بعد از وحی فطرت ہی بن سکتی ہے، جب کہ پوائنٹ آف ریفرینس شارع کو بنایا گیا ہو۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا قبل از وحی فطرت عقیدہ و اخلاق کے لیے معیار ہے یا نہیں؟

ہمارے مخاطبین نے بھی قبل از وحی فطرت کو نہ صرف بطور صلاحیت تسلیم کر لیا ہے، بلکہ ایمان و عقیدے کے معاملے میں قبل از وحی فطرت کو معیار بھی تسلیم کیا ہے، تاہم، اخلاق و قانون میں وہ قبل از وحی فطرت کو بطور معیار تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

ان کی طرف سے یہ اعتراف سامنے آیا ہے کہ دین و ایمان کی دعوت و تبلیغ کے لیے فطرت کا معیار ہونا ضروری ہے، ورنہ کسی کو خدا کے وجود اور توحید کی دعوت اس بنا پر نہیں دی جا سکتی ہے کہ خدا کے وجود اور توحید کا ماننا حق ہے اور اس کا انکار اور شرک باطل ہے۔ توحید و شرک کے لیے معیار فطرت نہ ہو تو دین و ایمان کی دعوت کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔

یہاں ظاہر ہے کہ فطرت سے مراد قبل از وحی فطرت ہی ہے جو حق و باطل کا معیار تسلیم کی گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ قبل از وحی فطرت کو اگر ایمان و عقیدہ کے لیے معیار تسلیم کر لیا گیا ہے تو اخلاق و قانون کے لیے اسے معیار تسلیم نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ فطرت کی تعیین اور تعریف کی جن مشکالات اور ابہامات کی بنا پر اخلاق اور قانون کے لیے فطرت کو معیار ماننے سے انکار کیا جاتا ہے وہ درحقیقت، عقیدے کے دائرے میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ انسان نے اخلاق اور قانون سے زیادہ عقیدہ کے میدان میں اپنی توحیدی فطرت سے انحراف کیا ہے۔ دنیا میں قتل، جھوٹ اور چوری کو درست اور جائز قرار دینے والا کوئی ایک بھی صحیح الدماغ انسان نہیں ملے گا، قانون میں بھی انسان اپنی فطرت سے بہت کم منحرف ہوا ہے، خیر و شر، عدل و انصاف کے تعین میں اس نے بہت ہی کم خطا کی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ انحراف اگر ہوا ہے تو وہ عقیدے میں ہوا ہے۔ دنیا میں توحید پرستوں کے مقابلے میں غیر توحیدی عقائد کے حامل افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود فطرت کو بطور معیار ماننے سے انکار کرنے والے بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ انسانی کی اصلی فطرت توحید پر ایمان لانا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ اس لیے تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اس بارے میں قرآن و حدیث میں چند بیانات آ گیے ہیں۔ قرآن میں عہد الست کا ذکر اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ روایت، جس میں خبر دی گئی ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین یعنی اس کا ماحول اس کو یہودی، نصرانی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتا ہے۔

یہ بھی دیکھیے کہ وحی کی رہنمائی سے ہٹ کر بھی بشریات و دینیات کے محققین، مثلا کیرم آرم سڑانگ اور دیگر بہت سے، بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر دور اور ہر جگہ کے انسان کا پہلا عقیدہ توحید ہی تھا، شرک اور الحاد بعد کے انحرافات ہیں۔

ہمارا مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ بچے فطرت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی وہ ذرا شعور سنبھالتے ہیں تو خالق کے بارے میں سوال کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اقرار خداوندی پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ یہ سب کیسے بن گیا، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ کس نے بیایا۔ نیز، وہ چاند سورج سے لے کر اپنی تخلیق تک ہر مخلوق کے لیے ایک خالق کو تصور کر کے سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کے سوالوں میں ان کے الفاظ کے چناؤ پر غور کیجیے۔

بہرحال مدعا یہ ہے کہ فطرت کو ایمان و عقیدہ کے باب میں معیار ماننے کے نتیجے میں بھی تعریف اور تعیین کے انہیں منطقی اور فلسفیانہ ابہامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اخلاق و قانون میں فطرت کو معیار ماننے کے خلاف پیش کیے جاتے ہیں۔ تس پر بھی اگر فطرت عقیدے کے لیے معیار بن سکتی ہے تو اخلاق و قانون کے لیے بھی بن سکتی ہے۔ عقیدے کے باب میں قرآن و حدیث میں آنے والے بیان فطرت کا محض ذکر ہی کر رہا ہے، اس کی تعیین تو وہ بھی نہیں کرتے۔

مسئلہ در حقیقت یہ نہیں کہ فطرت معیار ہے یا نہیں، اس کو معیار مانے بغیر آپ دو قدم نہیں چل سکتے۔ بحث اس پر ہونی چاہیے کہ فطرت کی تعیین کے پیمانے کیا ہونے چاہیئں۔ اس پر بحث کی بجائے یہ حل پیش کر دیا گیا ہے کہ جہاں وحی خاموش ہے یا اجمالی حکم دے دیا گیا ہے جیسے طیبات اور خبائث اور فحاشی کی تعیین وغیرہ تو وہاں قبل از وحی نہیں، بلکہ بعد از وحی ماحول میں وحی کی رہنمائی میں تربیت پانے والے علم و فہم کو یہ منصب عطا کیا جائے کہ وہ وحی کو بنیاد پر بنا کر ان اجمالی اور غیر منصوص مسائل میں خیر و شر اور عدل و ظلم کے معیار طے کرے اور ان کی بنا پر قانون سازی بھی کرے۔

اس میں کوئی حرج نہیں ہے ایسا کر لیا جائے۔ لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوتا۔ وحی کی روشنی میں تربیت پانے والے اذہان بھی خیر و شر، عدل و انصاف میں ہر بار درست نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے۔ بلکہ ایسا بھی ہوا کہ ان اذہان کی اکثریت جس مسئلے پر متفق ہوئی وہ بعد میں خلاف فطرت ثابت ہوا اور فطرت کے دباؤ پر انہیں اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا۔ وحی کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا لینے سے بھی انسانی عقل و فہم کی آمیزش، معاملہ کو پھر اسی جگہ پہنچا دیتی ہے جہاں سے مسئلہ شروع ہوا تھا۔

مثال کے طور پر فقہ حنفی نے مفقود الخبر (گم شدہ) شوہر کی بیوی کے لیے تنسیخ نکاح کی مدت 90 سال مقرر کی گئی تھی۔ اس فتوی کو جان کر اس کے خلافِ فطرت ہونے میں کس کو شبہ ہو سکتا ہے؟ لیکن شارع کو پوائنٹ آف ریفرینس بنا کر فقہا کا یہ فتوی برسوں کار فرما رہا تا آں کہ جنگ عظیم میں جب ہندوستانی مسلمان سپاہی برطانیہ کے پرچم تلے معمولی اجرت پر مختلف بین الاقوامی محاذوں پر داد شجاعت دیتے ہوئے بڑی تعداد میں مفقود الخبر ہونے لگے، اور ان کی خواتین کو معلوم ہوا کہ دوسری شادی کے لیے انہیں 90 سال انتظار کرنا ہوگا، تو انہوں نے اسلام سے ارتداد اختیار کرنا شروع کر دیا۔ اس پر اس وقت کے بیدار مغز علما کو احساس ہوا کہ اگرچہ فنی بنیادوں پر شارع کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر یہ فتوی منطقی بنیادوں پر ثابت ہوتا ہے، لیکن یہ فتوی خلافِ فطرت ہے، چنانچہ انہوں نے فطرت کی پیروی میں اس میں ترمیم کر کے ایسی خاتون کے لیے شوہر کے انتظار کی مدت 7 سال کر دی، جسے اب اور بھی کم کر دیا گیا ہے۔

اب یہاں دیکھیے کہ اس مسئلے کے درست یا غلط ہونے کے لیے معیار کوئی فنی بنیاد نہیں بنی، فنی و منطقی لحاظ سے مسئلہ درست تھا۔ اس کے نا درست ہونے کے لیے معیار پھر وہی فطرت بنی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ کوئی دلیل، کوئی مقدمہ قائم کرنے سے پہلے انسانی فطرت نے یہ فتوی دے دیا کہ یہ درست نہیں ہو سکتا، اس کو درست کرنے کے لیے دلیل بعد میں تلاش کی گئی۔ اور یہ فطرت وہی عام فطرت ہے جو قبل از وحی بھی یہ رہنمائی دینے سے قاصر نہیں۔

اسی طرح ایک صاحب علم نے توجہ دلائی ہے کہ متوسط آمدنی رکھنے والے کچھ لوگ ایک پلاٹ لے کر رکھ لیتے ہیں کہ اچھی قیمت ملے گی تو بیچ کر چار پیسے کما لیں گے۔ لیکن فقہ کے مطابق یہ تجارتی سامان ہے اور ہر سال اس پر زکوۃ عائد ہوتی ہے۔ اس طرح زکوۃ ادا لاگو ہونے سے اس پر منافع تو کیا الٹا اپنے پلے سے پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہاں بھی دیکھیے کہ منطقی طور مسئلہ ثابت ہے، شارع پوائنٹ آف ریفرنس ہے، لیکن مسئلہ فطرت کی بنیاد پر درست معلوم نہیں ہو رہا اور اسی وجہ سے خود اہل فقہ و افتا کی طرف سے سوال اٹھایا گیا ہے۔ اس کا نا درست ہونا بھی فطرت میں پائے جانے والے خیر و شر، نفع و نقصان کے اندازے سے طے ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کے نا درست یا نا مناسب ہونے کی کوئی فنی دلیل تلاش کی جائے گی۔ یہ بھی درست ہے کہ اس نا درست کو درست کرنے کے لیے جو ترمیم لائے جائے گی اس کی بنیاد بھی شارع کو پوائنٹ آف ریفرینس بنا کر کوئی دوسرا فنی استدلال ہوگا، لیکن وہ بھی اس لیے تسلیم کیا جائے گا کہ عقل و فطرت کے نزدیک وہ درست ہوگا۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہ عقل و فطرت کا وہ معیار ہے جو آفاقی ہے، دوسرے لفظوں میں یہاں درست اور نادرست کا فیصلہ کرنے میں، ‘بعد از وحی فطرت’ کی بجائے عام فطرت نے یہ فتوی دیا ہے۔

اس لیے حقیقت یہی ہے کہ فطرت کو بطور معیار تسلیم کرنے سے انکار کرنے کے بعد بھی عین اسی لمحے اس کا اقرار ہر لمحہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس لیے اصولی بات یہی ہے کہ نہ صرف عقیدے بلکہ اخلاق اور قانون کی بنیاد بھی فطرت ہے۔

یہ دعوی کہیں نہیں کیا گیا کہ فطرت مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ ایسا ہوتا تو وحی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہمیشہ یہ کہا گیا ہے کہ دین کے احکامات فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہم ان معاملات اور اطلاقات میں جہاں وحی خاموش ہوتی ہے، فطرت کے مطابق اخلاق و قانون کے معاملات طے کرتے ہیں۔

فطرت سے کی جانے والی تعیین میں بھی غلطی کا امکان اسی طرح موجود ہوتا ہے جیسے بعد از وحی، شارع کو پوائنٹ آف ریفرینس بنانے کے بعد فقہا کے درمیان کسی چیز کے خیر و شر یا مبنی بر عدل ہونے، یا حلال و حرام کی تعیین میں ہوتا ہے۔ اس معاملے میں درست طرز عمل، درست تر نتیجے تک پہنچنے کا کوشش کرنا ہوتا ہے نہ کہ سرے سے بنیاد ہی کا انکار کرنا۔

فطرت کی تعیین کی بحث ریاضیاتی اور منطقی اصولوں پر نہیں ہو سکتی۔ یہ معاشرتی علوم کی طرح ہے، جہاں درست سے درست تر کا سفر جاری رہتا ہے۔ اور یہی خدا کی آزمایش ہے جس کے لیے اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔

فطرت ک تعیین امکانات کا دائرہ ہے نہ منطق اور ریاضی کا فارمولہ۔ اس معاملے میں ایک سے زائد آرا ہو سکتی ہیں۔ ہمارے نزدیک جن علاقوں اور قوموں میں وحی کا سلسلہ تازہ رہا، یعنی وہ فطرت کے ساتھ وحی کی رہنمائی سے بھی مسلسل مستفید اور ان کے انحرافات پر تنقید ہوتی رہیں، ان کی فطرت بہت حد تک معیاری ہوتی ہے۔ یہاں یہ نہ کہا جائے کہ یہ معیار بھی وحی کی روشنی میں یہ طے ہوا ہے اس لیے معیار تو وحی ہوئی، نہیں، بلکہ وحی نے اس فطرت کی حفاظت کیے رکھی، اس لیے ان کی فطرت معیار ہوئی۔ یہ بھی درست ہے کہ وحی کی رہنمائی اور اس کی تنقید کے ماحول میں پرورش پانے والا انسان اور معاشرہ انسان کی اصلی فطرت کو زیادہ محفوظ رکھنے کا امکان رکھتا ہے لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس کے بغیر انسان کی اصلی محفوظ فطرت نہیں پائی جاتی یا اس کی تعیین کرنا ناممکن ہے۔

اصول میں فطرت کو معیار تسلیم کر لینے کے بعد اب اس کے اطلاقات میں اختلاف بھی ہوگا۔ اختلاف کی صورت میں ہم وہی طرز عمل اختیار کریں گے جیسے عقیدے کے باب میں کرتے ہیں کہ باوجود بیشتر انسانوں کے غلط عقائد کے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قبل از وحی فطرت، اقرار خدا اور اقرار توحید پر مبنی ہے، اور وہی معیار ہے۔ غلط عقائد کے جمگھٹے میں ہم اس فطرت سلیم کو کھوجتے ہیں، تعیین کرتے ہیں، اور اس کے لیے عقلی اور فکری بنیادیں فراہم کرتے ہیں، اس سے کم، بہت کم تگ و دو ہمیں کرنا پڑتی ہے جب اخلاق اور قانون میں فطرت سلیم کی تعیین میں اختلاف ہو جاتا ہے۔

اخلاق اور قانون کے لیے بھی فطرت میں پائے جانے والے بنیادی تصوراتِ خیر و شر، اور عدل و ظلم ہی معیار ہیں۔ جب اطلاق میں اختلاف ہو جائے تو جس طرح فقہا کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے تو ہم دلائل کی بنیاد پر کوئی رائے اختیار کرتے ہیں، یہاں بھی ہم ایسا ہی کریں گے۔ اس میں ہم وحی، وحی کے اثر سے قائم ہونے والی تہذیب اور اجتماعی شعور سب سے مدد لیں گے۔ لیکن ایسے اختلافی مقامات، اتفاقی مقامات سے کہیں کم پیش آتے ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: