ملالہ یوسفزئی کا واقعہ طے شدہ تھا۔ ممبر قومی اسمبلی مسرت زیب

0

پی ٹی آئی کی قانون ساز ممبر مسرت زیب صاحبہ نے ملالہ یوسفزئی کو گولی لگنے کےواقعے کو پہلے سے طے شدہ قراردیاہے۔ اس خبر کو ایکسپریس ٹرائبیون نے بھی شایع کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی میڈیا میں ایک ہلچل کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس کی ابتدا مسرت زیب کے ٹویٹ سے ہی ہوئی ہے۔ جس میں انھوں نے اس سارے کھیل کو ایک ڈرامے کا نام دیا۔
ملالہ اپنے سکول خوشال پبلک سکول سے واپس آرہی تھی جب اس کو متشددگروپس کی طرف سے جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ اسے پشاور ملٹری ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں اس کولندن مزید علاج کے لیے منتقل کردیا گیا۔ اس واقعے کی زمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی جن کے مطابق یہ لڑکی مغربی سوچ کی حامل تھی اس لیے اس پر حملہ کیا گیا۔ مسرت زیب اس بات پر بضد ہیں کہ ملالہ پر حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تھا۔
سوات کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی پی ٹی آئی کی قانون ساز ممبر نے ایکسپریس ٹرائیبیون کو بتایا کہ اس سارے واقعے میں ان کو بھی شامل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا جس میں غیرملکی شہریت اور سیاسی پناہ جیسی سہولیات شامل تھیں مگر انھوں نے اس سارے واقعے کا حصہ بننے سے انکارکردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملالہ کا میڈیکل چیک اپ کرنے والاساراعملہ حکومت کی طرف سے تعینات تھا اور پہلے سےباخبرتھا جن کو بعد میں حکومت کی طرف سے پلاٹ الاٹ کیے گئے۔
یادرہے کہ اس سارے واقعے کو پہلے دن سے کچھ لوگ پلانٹڈ کہہ رہےتھے اور اسے ایک بہت بڑی سازش قرار دے رہےتھے۔ اور ان کا احتجاج آج بھی ریکارڈ پر ہے یہ الگ بات ہے کہ تب سے اب تک ملالہ کے حق اور مخالفت میں دونوں طرف بڑی تعداد موجودرہی ہے۔
زیب صاحبہ نےکہا کہ اتنے عرصےبعد خاموشی توڑنے کی وجہ یہ ہے کہ جواصل عزت اور توقیر دوسروں کو ملنی چاہیے اس کی حق دار ملالہ نہیں ہیں۔
میرے ضمیر نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں اب خاموش نہ رہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ انکو اس لیے بھی بولنا پڑا کہ سی ایس ایس میں ٹاپ کرنے والی زرمینہ کا کہنا تھا کہ وہ ملالہ سے بہت متاثرہیں مگر وہ بتانا چاہتی ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ زرمینہ خان ملالہ کی طرح ڈرائنگ روم کی ہیرونہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس طبقے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو محض میٹنگز اور مجالس کر کے عوام میں ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتےہیں۔ ایسے ہی انھوں نے پشاور پبلک سکول میں زخمی ہونے والے بچوں کے متعلق کہا کہ وہ آج بھی وہیں پڑھ رہے ہیں اور وہ یقیناٰ ملالہ کی طرح نہیں ہیں۔
ایک ایسی بچی جو نہ ٹھیک سے لکھ سکتی نہ پڑھ سکتی ہے “گل مکئی” کیسے لکھ سکتی ہے؟
اس سارے تناظر میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر سب پہلے سے پلانٹڈ تھا تو پھر سچ کیا ہے؟ کچھ سال قبل سوات میں ہی ایک عورت کوڑے مارنے کی وڈیو سامنے آئی وہ بھی بعد میں جعلی نکلی اب ملالہ پر بھی ایک زمہ دار ممبرقومی اسمبلی کی طرف سے الزام آیا ہے۔ ایسے میں ہر ہونےوالا واقعہ اپنے اندر یہ سوال لے کر ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ ہم کس واقعے کو سچ مانیں اور کس کو پہلے سے طے شدہ؟

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: