میرا دل چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید کی نظم

1
  • 5
    Shares

“میرا دل چاہتا ہے
گالیوں کی ایک قمیص تیار کروں
اور ان جذامی مجسموں کو پہنا دوں
جو ہمارے دارالحکومتوں کے قلب میں نصب کر دیے گئے ہیں

نجاست کے یہ مینار
خون آشام چمگادڑوں کے کابک ہیں
اور ایسی آوازوں سے بھرے ہوئے ہیں
جو کسبیوں کے رحم میں گونجتی ہیں

مگر میں کیا کروں
گالیاں بوئی نہیں جاتیں
انہیں کاتا نہیں جا سکتا
اور مجھے خیاطی بھی نہیں آتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
انسان نے اگر صحیح سمت میں ترقی کی ہوتی
تو مجھے ان مجبوریوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا
جن کی وجہ سے میری نفرت بانجھ عورتوں کی طرح
ایک خود سوزہ شعلہ بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے ایک آتش فشاں پہاڑ کی تلاش ہے
میں اسے شہد کے چھتّے کی طرح نچوڑوں گا
اور اس کا سارا لاوا ان ایوانوں پر انڈیل دوں گا
جہاں چھپکلیاں فائلوں پر دستخط کرتی ہیں
اور بھیڑیے قوم سے خطاب کرتے ہیں

میں ایک بھونچال بھی ڈھونڈ رہا ہوں
اُن دیواروں پر دے مارنے کے لیے
جن کے پیچھے غلامی کی تاج پوشی ہوتی ہے
اور غداری کو سلامی دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کاش یہ چیزیں مجھے جلدی مِل جائیں
ورنہ ریاض اور کویت ہم نسب گیدڑوں کا بیت الخلا بن جائیں گے
دوحہ اور بحرین امریکیوں کے زخم سے ابلتی پیپ میں بہہ جائیں گے
میں اُس دن کے سُورج کو روکنے نکلا ہوں
جو تمہیں دِکھانے آ رہا ہے
قاہرہ اور عمان پر حکومت کرنے والے چوہوں کو
طاعون کا فرمان جاری کرتے ہوئے
بغداد اور تہران کے مسند نشین کوّوں کو
متروک قبرستان میں جفتی کرتے ہوئے
دمشق اور اسلام آباد میں مبروص بوزنوں کو
صدارت کا حلف اُٹھاتے ہوئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں سوچتا ہوں آوازیں جمع کر لوں
لیکن زمین پر زیادہ آوازیں دستیاب نہیں
اور جو ہیں ان میں منمناہٹ بہت ہے
ویسے بھی مٹّی کو بولنے یا چیخنے کی مشق نہیں ہے
مجھے تو ایسی آوازوں کی ضرورت ہے
جن میں میرا غصہ پورا سما جائے
جو میری آگ کو خیانت کے بغیر
میرے دشمنوں تک پہنچا دے
ایسی قتال آوازوں کے لیے
مجھے کئی سیارے چھاننے ہوں گے
مگر کہیں یہ نہ ہو کہ آوازوں کا ایک جہنم اٹھائے
میں واپس آؤں
تو اس وقت تک یہ بے شرم کباڑیے
سماعت کا بھی سودا کر چکے ہوں”

احمد جاوید

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. کمال ۔
    تو اس وقت تک یہ بے شرم کباڑیے سماعت کا بھی سودا کر چکے ہوں۔❤۔۔۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: