آپ اپنے دام میں صیاد آگیا ۔۔۔۔ حبیبہ طلعت

0

دو اکم دو، دو دونی چار، دو تیا چھ، یہ پہاڑے ہم بچپن سے رٹتے رٹتے آرہے ہیں تو اب غلطی سے بھی غلط نہیں سناتے ہیں۔۔ دنیامیں جتنے بھی ممالک ہیں یا زبانیں بولی جاتی ہیں ہر جگہ ریاضی کے جدول یکساں طے شدہ فارمولوں پر مبنی ہیں۔۔۔ دو میں دو جمع کئے جائیں یا دو کو دو سے ضرب کیا جائے۔۔۔۔ یا چار کو ہی دو سے تقسیم کیا جائے ہمیشہ جواب فارمولے کے مطابق رہےگا۔۔۔۔ تو سوچئے کہ دو ہمسائیہ ممالک کے بالفرض ( آپسی دونوں جاسوسوں کو) پکڑے جانے پر دونوں ہمسایہ ممالک میں دو اہم کیسز پر ایک ہی سزا سنائی گئی۔۔ ایک نے اپنے ملکی آئین اور سلامتی کی خاطر اجمل قصاب کو نومبر دو ہزار بارہ میں پھانسی کی سزا پر عملدرامد کرنا مناسب گردانا تھا۔ اب جبکہ دوسرے ملک نے جب اپنی قومی سلامتی کے لئے گرفتار جاسوس کو پھانسی کی سزا سنا دی ہے تو اب قیدی کے حقوق کی دہائی دے کر فیصلہ کو رکوانے کے لئے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے۔

آٹھ مئی دو ہزارسترہ کو بھارت کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت رواں ماہ ہی ہوئی۔ اٹھارہ مئی دو ہزار سترہ منعقدہ سماعت میں عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں گرفتار کلبھوشن یادو کو سنائی جانے والی سزائے موت کو اس وقت تک روکنے کا عبوری حکم دیا ہے جب تک کہ عدالت بھارتی درخواست پر اپنا فیصلہ نہیں سنا دیتی۔

یہ عدالت کی جانب سے فیصلہ نہیں سنایا گیا ہے بلکہ ایک عبوری حکم کے ذریعے بھارتی جاسوس کی سزا کو مقدمے کے مکمل تصفیہ تک روکا گیا ہے۔ گویا کہ اسے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

بنچ کے سربراہ رونی ابراہم نے بتایا کہ بھارتی درخواست کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ جلد ہی کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔بھارت کی جانب سے دلائل پیش کئے گئے تھے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے جاسوس قیدی تک قونصلر کی رسائی دینے کی پندرہ سے زائد درخواستوں کو نظر انداز کیا ہے چنانچہ جاسوس قیدی کے بنیادی حقوق مجروح قرار دیئے جانے اور پھانسی کی سزا رکوانے کے لئے عبوری حکم کی درخواست کی تھی۔

جب کہ پاکستان کی جانب سے درخواست کی سماعت کے لئےعدالت کے دائرہء کار کو چینلج کیا گیا کہ آئی سی جے اس درخواست کی سماعت نہیں کر سکتی کیونکہ پاک بھارت معاہدہ2008 کے مطابق یہ دھشت گردی سے متعلق معاملہ ہے۔ کلبھوشن ایک بھارتی جاسوس ہے جس نے دھشت گردی پھیلانے کا اعتراف بھی کیا تو یہ کیس پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق تھا۔ اب آئی سی جے اسے ویانا کنونشن کے تحت سماعت کا اختیار نہیں رکھتی ہے جب کہ بھارت کی جانب سے قبل ازیں ایسے تمام معاملات میں متعدد بار یہ کہا جا چکا ہے کہ عالمی عدالت دولت مشترکہ ممالک کے تنازعات میں نہ پڑے۔ جس پر عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کا مؤقف رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان میں سے کوئی بھی تسلیم نہیں کر سکتا کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل36 کا اطلاق اس کیس پر نہیں ہوتا تاہم مکمل شواہد کی فراہمی کے بعد ہی بھارت کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

عالمی عدالت نے واضح کیا کہ عدالت درخواست کی سماعت کی مجاز ہے اور جاسوسی کے الزام میں گرفتار افراد کو ویانا کنونشن سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ویانا کنونشن آرٹیکل 36 سیکشن 8 کے پہلے پیرا کے تحت مختلف ممالک کے قیدیوں کویہ حق حاصل ہے کہ ریاست اس کو کونسلنگ دے سکے گی اور ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے تحت ریاست ان حقوق کے تمامتر حقوق بیان کر سکے گی۔

اس ضمن میں ایک اہم پش رفت یہ  رہی  کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں تک رسائی کا معاہدہ بھی موجود ہے۔ یہ معاہدہ 2008 میں ہواتھا معاہدے کی ایک شق کے مطابق سیکیورٹی سے متعلقہ معاملات میں قیدیوں تک رسائی کا انحصار کیس کی نوعیت پر ہے۔ اسی بنیاد پر بھارت نے اجمل قصاب کیس میں پاکستان کی جانب سے مکمل شواہد مانگنے اور قونصلر کی رسائی پر تعاون کرنے سے متعدد بار انکار کیا تھا۔

۔ اجمل قصاب مبینہ طور پر ایک عام شخص تھا جس کی شناخت کبھی چیلنج نہیں کی جا سکتی تھی۔ جس کے بارے میں مکمل شواہد بھی پاکستان کو فراہم نہیں کئے گئے تھے۔۔ اس کے برعکس کلبھوشن یادو ایک حاضر سروس نیول آفیسر تھا۔ جو گزشتہ برس مارچ کو پاکستانی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اس نے اپنی شناخت بھی ظاہر کی جس پر پاکستانی فوج نے مروجہ ضابطوں کے تحت اسے قیدی کی حیثیت میں مکمل حقوق دیئے گئے۔۔ پاکستانی فوج کے حسن سلوک کا اعترافی بیان ویڈیو کی صورت میں اہم اداروں کو بھجوایا گیا۔ اس ویڈیو میں اس نے اعتراف بھی کرلیا کہ فوج سے ریٹائرمنٹ دلا کر اسے ایران بھیجا گیا۔ بلوچستان میں حالیہ بد امنی میں اس کی پشت پر را کی مکمل معاونت رہی۔ مروجہ طور پر فوجی عدالت نے ملٹری لاز1952 کے تحت مقدمہ چلایا جو کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ ہے۔ اسے مقدمے میں صفائی کا مکمل موقع دیا گیا۔ اس کے پاس شناختی دستاویزات تک مشکوک تھیں۔اس کے انکشافات پر دھشت گردی کا نیٹ ورک بھی توڑا گیا ہے۔ کلبھوشن کے انکشافات نے دنیا کے سامنے بھارت کی جانب سے پڑوسی ممالک کے اندر عدم استحکام کی سازشوں اور بالخصوص دھشت گردی کی نا پاک کوشش بے نقاب ہو سکی ہے۔ جب کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر یہی الزام لگایا کہ پاکستان در اندازی کی سازش میں ملوث ہے۔ اسی جواز پر اس نے پاکستان کو عاملی فورمز میں تنہا کیا۔ کبھی مذاکرات کے عمل کو سبو تاژ کیا۔اب جب قومی سلامتی کے تحفظ کی خاطر ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے بعد اسے پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔

اب بھارتی سرکار نے حسب توقع اپنے پر بات آتی۔ دیکھ کر واویلا مچا کر دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا چاہی ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج اپریل میں پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دے چکی ہیں۔ مزید یہ کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مووی نے بھی دو ہزار سترہ کے آغاز میں پاکستان کو بوندبوند پانی کے لئے ترسانے کی دھمکی دی۔ بھارتی طرز عمل کے پیش نظر پاکستان نے مکمل احتیاط اور منصوبے کے ساتھ اہم عالمی اداروں جی سیون ممالک، اور دوست ممالک کے ساتھ شواہد اور معلومات میں شریک کیا۔۔ بھارت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کا رخ کرنے پر بھیپاکستان نے اپنا وفد مقدمے کی سماعت کے لئے بھیجا۔ اب اس اہم کیس میں بہ طور فریق شریک ہونے پر بھی بھارتی میڈیا نے اسے پاکستان کی کمزوری سے تعبیر کیا۔ آئی سی جے میں بھارتی حکومت کی جانب سے درخواست دائر کرتے ہی انڈین میڈیا کے زریعے ڈس انفارمیشن پھیلا دی گئی کہ آئی سی جے نے کلبھوشن یادو کو سنائی جانے والی سزائے موت معطل کر دی ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے اگلے دو روز میں انڈین میڈیا اور عالمی میڈیا میں پھیلائی جانے والی تمام خبروں کی تردید کی۔ جبکہ مقدمے کے دوران پاکستانی وفد کا پر اعتماد اور محتاط انداز مکمل شواہد لئے آنا بھارتی وفد کے لئے خفت کا باعث بنا۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق بھارتی کمیشن کے چیئر مین جسٹس ایس چوہان کہتے ہیں کہ بھارت کا مقدمہ کمزور ہے۔

بی بی سی کے مطابق بھارتی ٹیم کے اوسان خطا ہونا ہی پاکستانی مؤقف کی فتح ہے۔ آئی سی جے کو بجا طور پر باور کرایا گیا ہے کہ کسی ملک میں دھشت گردی کا اعتراف کرنے والے کلبھوشن جیسے لوگوں کو سزا دینا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔

مزید پاکستان کی جانب سے ماضی قریب میں آئی سی جے کے ایسے فیصلوں کی مثال پیش کی مثلا ہندوستان کے خلاف ایک درخواست پر عدالتی فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے جو کہ رن آف کچھ میں پاکستانی طیارہ مار گرائے جانے والے واقعے سے متعلق ہے۔ آئی سی جے نے اس درخواست پر سماعت سے انکار کا یہ جواز دیا تھا کہ ہندوستان کی مرضی کے خلاف سماعت نہیں کر سکتی ہے۔

اب بالفرض مغرب بھارت کی حمایت میں فیصلہ کر بھی دے تو تب بھی کیس از سر نوپاکستان میں ہی چلایا جائے گا یا یہ کہ مقدمہ کی کاروائی لمبے عرصے تک چلے لیکن پاکستانآئی سی جے کے فیصلہ کی بنیاد پر مزید تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات کےدور چلانے کا اخلاقی جواز مل جائے گا۔جو باہمی تصفیہ طلب معاملات کے ضمن میں 9/11 کے بعد سے معطل تھے۔

سوشل میڈیا پر بھی کبھی پھانسی کی سزا معظل کر دینے کی متضاد خبریں پھیلانے اور اس پہ بغلیں بجانے والوں کو بھارت نواز ہونے کا تاثر دینے پر بصیرت کا مظاہرہ ہوگا۔ کبھی مقدمے کی پیروی کے لئے پاکستانی وفد کے جانے کی بابت بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو مقدمہ تسلیم ہی نہیں کرنا چاہئے تھا۔ یا یہ کہ پاکستانی وفد با صلاحیت نہیں تھا یا حب الوطنی کے حساب سے بھارتی وفد کے قائد وکیل کو سراہنے اور ایسی ہی بے شمار ڈس انفارمیشن سے پاکستانی مؤقف کو کمزور تر ثابت کیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے آئی سی جے میں پیش ہو کر بھارت کو کامیابی سے گھیر لیا ہے۔سبھاش یادیو کے مسئلہ کو اگر طویل دیا بھی جائے تو انڈیا اس میں ڈیفینسو ہوتا جائے گا اور پاکستان اپنے مقاصد بتدریج حاصل کرتا جائے گا۔

کیا یہاں پاکستان کے طرز عمل کو سراہنا نہیں چاہئے تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن اور خیر سگالی کے اقدامات کی حمایت کی۔ عالمی اداروں سے ہمیشہ تعاون کیا۔ یہ بھارت ہی تھا جس نے ہمیشہ متنازعہ معاملات پر ثالثی قبول کرنے سے انکار کیا۔

پانی کے مسئلہ پر بھی بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے پانی روکنے اور پاکستان کو بوند بوند پانی کے لئے ترسانے کی دھمکی دی گئی۔ تب عالمی اداروں کی جانب سے ثالثی کی واضح پیشکش اور کلبھوشن یادو کی گرفتاری کی آڑ میں مذاکرات ہی معطل کر دیئے گئے تھے۔۔

اس سے قبل رن آف کچھ میں پاکستانی طیارہ مار گرائے جانے والے واقعے پر پاکستان عالمی عدالت انصاف تک گیا تو آئی سی جے نے اس درخواست پر سماعت سے انکار کا یہ جواز دیا تھا کہ ہندوستان کی مرضی کے خلاف سماعت نہیں کر سکتی ہے۔پاکستان نے حالیہ درخواست کی سماعت میں بھی عدالت میں ریکارڈ اس فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔

سب سے زیادہ اہم کیس تو کشمیر کا ہے جس پر بھارت ہی نے عالمی اداروں سے رجوع کیا تھا جب عالمی اداروں نے کشمیر کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے استصواب رائے کرانے کا فیصلہ دیا تب بھارت ہی تھا جو ایسے تمام فیصلوں اور ثالثی کی پیشکش سے منحرف ہو جاتا ہے۔

کیس پر منفی نوعیت سے اثر انداز ہونے والے خبروں اور تبصروں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت خطے کی مضبوط معاشی قوت ہے۔ شاندار جمہوری روایات کی بناء پر بھارتی مؤقف مغرب میں پسندیدہ۔ قرار دیا جا سکتا ہےاور پاکستان میں دی جانے والے بھانسی کی سزا کی بنیاد پر عالمی اداروں کی جانب سے اقتصادی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ تو کیا ان خدشات کی بنیاد پر قومی سلامتی کے حساس معاملات سے کنارہ کش ہونے کا جواز بن سکتا ہے؟ کبھی حکومت اورفوج کے مابین اختلافی نوعیت کے معاملات کو اچھالا جاتا ہے۔جب کہ کلبھوشن کے معاملے پر فوج اور حکومت کا مؤقف یکساں، دو ٹوک اور باہمی تعاون کا مظہر ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں متنازعہ امور خصوصا ہندوستان کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی نیٹ ورک بنانے اور دھشت گردی میں تعاون فراہم کرنے کے بارے میں پاکستانی مؤقف کو ضمانت دی جائے گی کہ دھشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث جاسوسوں کو سزا دینا ہی انسانیت کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف عالمی امن کے لئے لازمی ہوگا اس سے قبل ہمیشہ بھارت کی جانب سے یہ شور مچایا جاتا رہا کہ پاکستان دھشت گردی میں ملوث ہے۔ اب طے شدہ فارمولے کے مطابق نتیجہ دو اور دو چار ہی نکلنا چاہئے یا یہ کہ چارو نا چار نئےمعاہدات کئے جانے یا مزید مذاکرات کا ڈول ڈالا جا سکے گا۔ یعنی وہی صورتحال سامنے آچکی ہے کہ؛

دو دونی چار

ٹوپیاں مک گئیں

شملے آگئے وچ بازار

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: