میرا مجلسی تکلّم —– شکور پٹھان

0

“اوہو۔ کہاں ہو بھئی۔ لانگ ٹائم نو سی ”
” جی واقعی۔۔ بڑے دنوں بعد ملے ہیں۔ کیسے ہیں آپ “

مجھے اپنی خوش بختی پر ناز ہورہا تھا۔ بشیر شمسی جو کبھی ہمارے کالج میں ہوتا تھا اب ایک کامیاب اور بڑا بزنس میں بن گیا تھا۔ میرے ایک اور دوست سے اس کی بے تکلفی تھی اور اسی کی بناء پر مجھے بھی اس دعوت میں بلا لیا تھا۔۔ میں اپنے آپ کو اہم محسوس کررہا تھا۔
اس وقت تک مہمان آنا شروع نہیں ہوئے تھے۔ میں اس کے بنگلے پر پہنچ کر کچھ دیر باہر چکر لگاتا رہا کہ کچھ وقت گذاری کرلوں۔ ایسی دعوتوں میں، اور خصوصا” اپنے ہاں کے لوگوں کی دعوتوں میں لوگ باگ عموماً ڈیڑھ دو گھنٹہ دیر سے ہی پہنچتے ہیں۔ میں یہ جانتا تھا لیکن عادت سے مجبور تھا۔ میں یہاں شروع دن سے ہی گوروں کے ساتھ کام کرتا آیا تھا۔ اور گورے کی ڈکشنری میں نو بجے کا مطلب پونے نو تو ہوسکتا ہے، سوا نو کبھی نہیں ہوسکتا۔
میں پہلا مہمان تھا اور مجھے کمپنی دینا اس کی مجبوری تھی۔
” اور کیا نئی تازی ہے؟ “
“نہیں، بس کوئی خاص نہیں۔ آپ سنائیں۔ ”
” بس گذر رہی ہے۔ اور سناؤ”
” جی بس، چل رہا ہے۔ آپ کی کیا خبریں ہیں ؟”
” بس کیا بتائیں تم تو جانتے ہی ہو”
” جی واقعی۔یہ بات تو ہے”

یقین جانئیے مجھے شمہ برابر بھی علم نہیں تھا کہ میں کیا جانتا ہوں۔

” اور بہت مصروف ہو آج کل”
” ہاں بس تھوڑا بہت۔۔اور آپ ؟ ”
” ہاں شکر ہے۔ بس چل رہا پے۔ تم سناؤ کیا خبریں ہیں۔ کوئی نئی تازی”
” ہاں جی، خبریں کیا ہونی ہے۔ آپ کو تو پتہ ہی حالات کیسے چل رہے ہیں”

میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ میں کن حالات کا ذکر کررہا ہوں۔ لیکن میری اس بات پر شمسی نے زوردار قہقہہ لگایا، گویا میں نے کوئی زبردست اور مزیدار نکتہ بیان کیا ہے۔ میں بھی قہقہے میں شامل ہوگیا۔۔۔
اور پھر دونوں خاموش ہوگئے۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا بات کریں۔
” ملا کرو یار۔ بڑے آدمی ہوگئے ہو، ہم غریبوں کے لئے تو وقت ہی نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔ ارے ہاں میرا نمبر لے لو۔
ہم دونوں ایک دوسرے کے نمبر اپنے موبائل فون میں محفوظ کرتے ہیں۔ ( میں نے ذرا دوسری طرف مڑ کے یہ کام کیا تھا۔ میرا ‘نو کیا ‘ فون پانچ سال پرانا تھا)
مہمان آنا شروع ہوگئے تھے اور بشیر شمسی ہر ایک سے ” لانگ ٹائم نو سی۔۔۔اور کیا نئی تازی” کررہا تھا۔
آہستہ آہستہ لان بھرتا جارہا تھا اور مہمان مختلف ٹولیوں میں کھڑے سرگوشیوں میں باتیں کررہے تھے۔ بیرے ہر مہمان کو مشروبات اور، چھوٹے چھوٹے سموسے اور ” چکن ونگز” پیش کررہے تھے۔
کچھ بشیر کے بے تکلف دوست بھی پہنچ گئے تھے۔ یہ وہ ہیں جن کے نام، ٹکی، جمی اور نکی وغیرہ تھے( طارق’ جمشید اور نیلوفر)
ایک طرف زرق برق ساڑھیوں اور قیمتی ڈزائنر سوٹس میں خواتین محو گفتگو تھیں۔
مرد وار کرنے میں کچھ دیر لگاتے ہیں۔ خواتین چھوٹتے ہی حملہ کرتی ہیں۔

“ارے واہ ربیعہ۔۔۔بڑی اچھی لگ رہی ہو( گویا کہ اچھی ہیں نہیں، لگ رہی ہیں ) ”
” تھینک یو” ربیعہ اٹھلائی کر کہتی ہے۔
‘ یہ لاکٹ بڑا خوبصورت ہے۔ وہی ہے ناں جو تم نے سفینہ کی شادی پر پہنا تھا”
دوسری خاتون اندر سے تلملا جاتی ہے لیکن فورا” ہی وار خالی دیتی ہے۔ ” نہیں وہ جیڈ کا تھا۔ یہ ایمیزونائٹ ہے۔ ایسے چار ہیں میرے پاس مختلف ” اسٹونز” میں۔ ارے تمہیں کب پہچان ہوگی ڈائمنڈز کی؟” وہ بےتکلفی سے ہنستی ہے۔ یہ لیجئے جوابی وار بھی ہوگیا۔
‘ لیکن تم نے ساڑھی صحیح رنگ کی نہیں پہنی۔ تمہارے ” کمپلکشن” سے میچ نہیں کررہی۔
پہلی خاتون اپنی سانولی رنگت کے بارے میں کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن مجھے ایک اور واقف نظر آئے اور میں ان کی طرف چلا گیا۔

اور یہ مردوں کی ٹولی ہے، ٹریفک سے بات شروع ہوکر، گاڑیوں، کے نئے ماڈلز، قومی بجٹ کی خامیوں، کرکٹ میں ناقص کارکردگی، شرک اور بدعت، اور مذہبی لوگوں کی تنگ نظری اور جہالت سے ہوتی ہوئی سیاست پر ختم ہوئی، بلکہ یوں کہئے کہ سیاست پر آکر اٹھہر گئی۔ سب ابتدائی جملوں میں اندازہ کررہے ہیں کہ کون کس لیڈر یا جماعت کا حامی ہے۔ ہر کوئی ایسے تیقن سے بات کررہا ہے گویا سارے قومی اور سیاسی فیصلے اس کی آنکھوں کے سامنے ہی ہوئے ہیں۔ ہر ایک کا انداز تبصرہ کرنے کا نہیں، بریکنگ نیوز” کا ہے۔ گویا کہ سب سے پہلے ہم نے خبر دی ہے۔
ہر کوئی اپنی ہی کہے جاتا ہے۔ دوسرے کی بات سن کر اخلاقا” کہتا ہے آپ کی بات درست ہے ” لیکن” اور لیکن کے ساتھ ہی وہ بالکل متضاد بات کرتا ہے۔ گفتگو مختلف پہلو بدلتی ہے۔ بات سب کررہے ہیں، سن کوئی نہیں رہا ہے۔

” سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی
اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے”

چند ایک کا انداز کچھ ایسا ہے کہ ” اندر کی” ساری باتیں انہیں کسی مصدقہ لیکن خفیہ زریعے سے ملی ہیں۔
یاد آیا کہ دو سال قبل ایک افطار پارٹی میں ایک صاحب کچھ دیر سے آئے، لیکن آتے ہی چھاگئے۔ کچھ مہمان ان کی باخبری سے بہت متاثر نظر آتے تھے۔
” کیوں بھئی کیا ہونے والا ہے؟”
” بس اس ہفتے کے آخر تک کی بات ہے”
” واقعی؟ ” کئی متجسس آوازیں ابھرتی ہیں۔
” جی بالکل پکی خبر ہے۔ لکھ لیں ”
” کیا ہونے والا ہے! اس ہفتے کے آخر میں ؟” میں آہستگی سے پوچھتا ہوں۔ میرے گھر اخبار نہیں آتا اور ٹی وی پر بچے کارٹون لگائے رکھتے ہیں یا میری بیگم ڈرامہ دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ مجھے خبروں کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔
” بس چھٹی ہونے والی ہے”
” کس کی؟ ” میں کچھ سمجھ نہیں پاتا۔
” ارے بھئی میاں صاحب کی، اور کس کی”
پھر وہ مزید بتاتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر زاہد محمود اور ڈاکٹر آتش کے پروگرام باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔
میں منتظر ہوں کہ دوبارہ کہیں ان سے ملاقات ہو تو پوچھوں کہ وہ کن میاں صاحب کی بات کررہے تھے۔

کچھ ہوتے ہیں جو مجلسی گفتگو کے ماہر ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں میں ظرافت کے ساتھ علمیت بھی نظر آتی ہے۔ حاضرین ان کی باتیں شوق سے سنتے ہیں۔
لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جو محفل کو ہائی جیک کر لیتے ہیں اور اپنے پسندیدہ موضوع پر سامعین کو بور کرتے ہیں۔ آپ موضوع بدلنا چاہیں لیکن وہ ریسلنگ کے ریفری کی طرح گھسیٹ کر اکھاڑے کے درمیان، یعنی ان کے اپنے موضوع پر لے آئیں گے۔ حاضرین اپنے آپ کو یرغمالی محسوس کرتے ہوئے پہلو بدل رہے ہوتے ہیں لیکن وہ صاحب اپنا ہی ‘ بیانیہ” مسلط کئے رہتے ہیں۔
میں ہونقوں کی طرح کبھی سیاسی بحث سنتا کبھی ان صاحب کی گفتگو سنتا جنھیں کوئی بہت بڑا پروجیکٹ ملا ہے اور وہ اس کی تفصیلات اور جزئیات سے ساری محفل کو آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور لوگوں کی جماہیوں کو کمال بے نیازی سے نظر انداز کررہے ہیں۔
اتنے میں اپنی طرف کے ایک بزرگ مجھ سے مخاطب ہوئے۔
” تم شکور پٹھان ہو ناں؟’
” جی۔۔سلاں علیکم”
“سنا ہے تم نے کوئی کتاب لکھی ہے؟”
میرے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ اب میں بھی اپنے ذوق کے مطابق باتیں کرسکوں گا۔ حاضرین میری بات بھی دھیان سے سنیں گے۔ میں اثبات میں جواب دیتا ہوں۔
” کس چیز پر لکھی ہے”
” جی کراچی کے بارے میں لکھی ہے”
” کراچی کھلاس ہوگیا۔ اب سالا وہاں کیا بچا ہے”
” میں نے کراچی کے مشہور لوگوں کے بارے میں لکھا ہے”
” کون لوگ؟”
” جیسے ڈی جے اور این ای ڈی کالج کے بانیان کے بارے میں ”
“کن کے بارے میں ”
“ڈی جے اور این ای ڈی کالج کے بنانے والوں کے بارے میں ”
‘ وہ جو برنس روڈ پر ہے”
” جی، وہی”
” ارے سالا برنس روڈ پر کیا کھانے ملتے ہیں !!”
” میں نے کھانوں کے بارے میں بھی لکھا ہے، بندو خان اور گھسیٹے خان کا بھی ذکر ہے”
میں انہیں کتاب پر لانا چاہتا ہوں۔
” ارے بندو خان تو ادھر بھی ہے۔ ایک دم بے کار ہے۔ ہاں باربی کیو ٹونائٹ کا کھانا اچھا ہے،
” لال قلعہ بھی اچھا ہے” ایک اور بزرگ شریک گفتگو ہوگئے۔ اب دوبئی کے مختلف ریسٹورنٹس کی باتیں ہورہی تھیں،

لیکن یہ بات چیت اتنی بے کار بھی نہیں ہوتی۔میں اگلی محفل میں یہی باتیں میں دوسروں کو سنا رہا ہوتا ہوں کہ ” کل کوئی بتارہا تھا کہ۔۔بس ایک ہفتے کی بات ہے”

یہ محفلیں، دعوتیں، گپ شپ ایک غیر محسوس طور پر خبریں، بلکہ افواہیں پھیلانے کے کارخانے ہیں۔
کسی کے بارے میں آپ اچھی بات بتائیں، لوگ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دینگے۔ لیکن کسی سے کوئی بری بات منسوب ہو تو فورا” یقین کرلیں گے اور ساتھ ہی تبصرہ سنائی دے گا کہ یار وہ بندہ ہی کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ ایک بار میں نے۔۔۔۔۔۔”
ہماری مجلسی گفتگو میں نظریات پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ تھوڑا بہت علم رکھنے والے، واقعات پر بات کریں گے اور مجھ جیسے کند ذہن صرف شخصیات پر بات کرتے ہیں۔ افواہ سازی کی ان فیکٹریوں میں کوئی کسی سے مخاصمت یا نفرت کی بناء پر کوئی ہوائی چھوڑ دے گا، جسے دوسرے بصد شوق لے اڑیں گے اور ان سے کہیں زیادہ بے خبر لوگ اس پر صدق دل سے ایمان لے آئیں گے۔
بتیس دانتوں کے درمیان یہ جو گوشت کا لو تھڑا ہے، اس کا وزن بظاہر تو کچھ نہیں، لیکن بنی آدم میں شاید ہی کوئی ہو جو اس کا وزن سہار سکے۔ یہ بات بے بات، موقع بے موقع پھسل پھسل جاتی ہے اور بعض اوقات یہ پھسلن، تباہی کے گڑھے تک لے جاتی ہے۔
یہ گپ شپ، یہ ہوائی باتیں یا افواہ جب کسی ہوش مند اور بردبار شخص تک پہنچتی ہیں تو دم توڑ دیتی ہیں لیکن۔

ایسا کہاں سےلاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے

ایسے تو دوا میں ڈالنے جوگے بھی نہیں ملتے۔ شاید ایسے بھی لوگ ہوں مگر

” ملنے کے نہیں نایاب ہیں ‘وہ”۔
ہم جن کے بارے میں بات کررہے ہوتے ہیں، وہی کہیں اور ہماری بات کررہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ بندہ ایسے موقعوں پر لب سی لے، کہ خاموش رہنے والے کی بات کو غلط انداز میں بیان کرنے کے امکانات بہرحال بہت کم ہیں۔ گو کہ خبریں گھڑنے والے یہ بھی کر گذرتے ہیں۔
پرانی کہاوت ہے ” ہونٹوں نکلی،کوٹھوں چڑھی۔ جب کوئی آپ سے کہتا ہے کہ یہ آپس کی بات ہے، کسی سے کہنا مت، تو اس سے یہی وعدہ کوئی پہلے لے چکا ہوتا ہے، اور آپ سنتے ہوئے ہی فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کس کو یہ بات بتاتے ہوئے کہنا ہے کہ کسی اور کو نہ بتانا۔
یاروں نے عیب جوئی کے اپنے ہی انداز بنا رکھے ہیں۔ کسی کے بارے بری خبر دینی ہو یا بری بات کہنی ہو تو بڑے ہمدردانہ انداز میں کہیں گے کہ یار فلاں دوست کے لئے دعا کر نا، وہ آج کل بڑی مشکل میں ہے، ٹیکس والے تو اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں
دوسرا ہمدردی جتائے گا لیکن ساتھ ہی بتائے گا۔ کہ یار ان تمام مصیبتوں کا وہ خود ذمہ دار ہے اور کالج کے زمانے سے ہی غلط کاموں میں تھا،
لیکن اپنے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے ڈنڈی مار جائیں گے۔ دوست اگر پوچھے کہ بچے کیا کررہے ہیں تو بتائیں گے کہ بڑا لڑکا ماسٹرس کے آخری سال میں ہے۔ لیکن یہ نہیں بتائیں گے کہ کتنے سال سے، آخری سال میں ہے۔
اور کوئی اگر یہ پوچھے کہ آج کل کس پوسٹ پر ہو، تو وہ دراصل آپ کو اپنی نئی ترقی کی اطلاع دینے کے لئے تیار کررہا ہوتا ہے۔

ہر محفل سے ایسی ہی کوفت بھری باتیں لے کر اٹھتا ہوں، لیکن کچھ عرصہ بعد پھر کوئی دعوت آتی ہے اور پھر کوئی بشیر شمسی سوال کررہا ہوتا ہے

” اوہو، کہاں ہو بھئی۔ لانگ ٹائم، نو سی”

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: