چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 7

1

باجی کا چامکا:
صادق آباد میں فلم کی ریکارڈنگ کے دوران ایک بندے نے مجھے بہت حد تک متاثر کیا۔ وہ خدمت میںپیش پیش رہتا۔ ایک رات آیا تو فرصت کے لمحوں میں مجھ سے کہا’’سر جی! میں چاہتا ہوں آپ کے یونٹ کو ایک ایک کپڑوںکا جوڑا گفٹ دوں۔‘‘
پچیس تیس بندوں کو ایک ایک جوڑا گفٹ کرنے کا مطلب کم سے کم بھی بیس بائیس ہزار کانقصان تھا اور یہ سراسر مجھ پر ہی احسان چڑھتا اور میری عادت نہیں کہ کسی دوسرے کے پیسے پر عیاشی کروں اور احسان فراموشی کروں اس لیے معذرت کرلی۔ لیکن وہ اگلے دن پھر آ پہنچے اور ہاتھ میں پکڑا شاپر مجھے دیا۔ میں نے پوچھا’’یہ کیا ہے؟‘‘
اس نے فرمایا’’یہ صادق آباد کی مشہور چاٹ ہے۔ آپ باجی عظمیٰ اور باجی ستارہ جو کھلادیں۔‘‘
اس وقت کام کرتے ہوئے دوپہر آن پہنچی تھی، اسٹاف کو بھوک بھی ستا رہی تھی۔ لیکن ڈائریکٹر کا خیال تھا کہ ایک آدھ گھنٹے میں آئوٹ ڈور کام ختم کرکے پھر ایک ساتھ ہی کھانا کھا کر آرام کرلیں گے۔ ہاتھ میں پکڑے شاپر کو دیکھا اور آئوٹ ڈور کام کرتے ہوئے اسٹاف کو دیکھا تو خود سے شرمندگی ہوئی کہ صرف خواتین تو چاٹ کھائیں اور باقی اسٹاف منہ دیکھے۔ میں نے شاپر لے کر ایک طرف رکھ دیا۔ پندرہ بیس منٹ بعد وہ پھر آئے ، سر جی اداکاروں کو چاٹ کھلادیں۔ میںنے پھر ٹال دیا۔ آخر ان سے رہا نہیں گیا اور شاپر لے کر چلے گئے اور جیسے ہی سین ختم ہوا خواتین کے پاس جا پہنچے۔ چونکہ لوکیشن انہوں نے ہی فراہم کی تھی اس لیے یہ گستاخی معاف کی جاسکتی تھی۔
اگلے دن پھر وہ صاحب تین چار افراد کیلئے فروٹس لے کر آگئے۔ میں نے ڈائریکٹر سے پوچھا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ اسٹاف اتنا زیادہ ہے اور مہمان نوازی کرتے بھی ہیں تو خود ہمیں باقی اسٹاف کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا ہے ۔ڈائریکٹر ہنسا اور کہا’’تم سے کس نے کہا یہ تمہارے لیے تحفے تحائف، کھانے پینے کا سامان لاتا ہے۔‘‘
’’تو پھر کس کیلئے ہے؟ احسانات تو مجھ پر ہی بڑھتے جارہے ہیں کہ میری فلم کے یونٹ کی مہمان نوازی ہورہی ہے۔‘‘
ڈائریکٹر ہنسا اور پھر اُن صاحب کو سمجھا دیا کہ آئندہ کوئی چیز لے کر نہ آئیں۔ پھر ایسا نہیں ہوا، البتہ ریکارڈنگ ختم ہونے سے دو دن پہلے میں کراچی واپس آگیا اور بعد میں علم ہوا کہ محترم آصف صاحب نے عظمی باجی کو اُن کے دوست سمیت خوب شاپنگ کروائی۔ فون پر آصف صاحب مجھے آم کھلانے کا وعدہ کرتے، اتفاق کے آم کے موسم میںفلم ڈائریکٹر کے ساتھ صادق آباد جا پہنچے۔ آصف صاحب نے پھر مہمان نوازی کی تو ڈائریکٹر نے کہا’’آج خالص ہم پر مہربانی ہے، ورنہ آپ نے باجیوں کے چکر میں ہمیں بھی خوب شرمندہ کیے رکھا ۔‘‘
اور پھر یہ انکشاف بھی ہوا کہ مجھے تو آم کے دلاسے ہی دیتے رہے، البتہ آم کی پیٹیاں کراچی میں باجی عظمیٰ کے پاس پہنچ بھی گئی ہیں۔ آخر میں ڈائریکٹر نے آصف کو کچھ ذلیل کرنا شروع کیا تو وہ مان گئے کہ ان کا دل باجی عظمی پر آگیا ہے اور وہ چاہتے ہیںکہ اُن سے دوستی ہوجائے۔
یہ باجی عظمیٰ کراچی میں تیسرے درجے کی اداکارہ ہے ، بس ہمارے ٹیکنیل اسٹاف کی دوست ہونے کے ناطے دیہاتی ماحول انجوائے کرنے گئی تھی لیکن اُسے باجی بنا کر اس کا چامکا اپنی طرف مائل کرتا رہا۔ ابھی سنا ہے کہ دونوں کے رابطے بڑے گہرے ہیں۔ اور ہوں بھی کیوں ناں۔’’وہ مطلب سے ملتا تھا ، اور ہمیں ملنے سے مطلب تھا‘‘ کہ مصداق دونوں میں دوستی پکی ہوتی جارہی ہے۔
٭٭

ظالم چامکے:
جن دنوں قسمت بیگ پر قاتلانہ حملہ ہوا، انہی دنوں بھارتی بھٹنڈہ پنجاب کی ایک ڈانسر پر بھی دورانِ شو فائرنگ کی گئی۔ یہ واقعہ بھارت کے ایک مقامی کمیشن ایجنٹ کے بیٹے کی شادی کے موقع پرپیش آیا جس میں ہلاک ہونے والی 22سالہ ڈانسر کی شناخت کلویندر کور کی حیثیت سے کی گئی جو اپنے ٹروپ کے ساتھ ڈانس کررہی تھی۔مگر شراب کے نشے میں دھت بِلا نامی شخص کو یہ پسند آگئی اور اس نے ڈانسر کو اسٹیج سے نیچے آکر اس کے منچلے دوستوں کے قریب رقص کرنے پر زور دیا اور انکار پر ڈانسر پر فائرنگ کردی۔ پیٹ میں لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔پولیس نے بِلا سمیت چار لوگوں پر مقدمہ درج کیا لیکن تاحال وہ اپنے دوستوں سمیت فرار ہے۔
بھارتی ڈانسر کے ساتھ ساتھ قسمت بیگ کی خبر تو کافی دنوں تک میڈیا کی زینت بنی رہی مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہی دنوں فیصل آباد کی ایک گمنام ڈانسر نادیہ بھی قتل ہوئی تھی جس کی ایک کالمی خبر شائع ہوئی اور پھر وہ مرحومہ اپنی خبر کے ساتھ خود بھی دفن ہوگئی۔
20جنوری 2017ء کی رات فیصل آباد میں نامعلوم افراد نے خاتون اسٹیج ڈانسر نادیہ کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔ رضا آباد کے علاقہ کوکیانوالہ کی رہائشی 35سالہ نادیہ شادی، مہندی کی تقریبات اور اسٹیج پر ڈانس کا کام کرتی تھی۔ منڈی کوارٹر ذوالفقار کالونی میں کرایہ کے مکان کی دوسری منزل پر رہائش پذیر تھی لیکن کسے معلوم تھا کہ کتنے چامکے اس پر مرتے ہیں اور کون اسے مارنے پر تیار بیٹھا ہے۔ وہ رات نادیہ کی آخری رات ثابت ہوئی جب اس کے کسی گمنام چامکے نے پیٹ میں چھری مار کر قتل کر دیا اور فرار ہوگیا۔ صبح محلہ داروں کی اطلاع پر پولیس نے نعش تحویل میں لی اورپوسٹ مارٹم کروا کے اس کے ورثا کے حوالے کر دی۔ چونکہ یہ اسٹیج ڈانسر اتنی مشہورنہیں تھی اس لیے اس کی خبر بھی چھوٹی بنی اور پولیس کارروائی بھی رسمی ہوئی۔ کیا خبر، وہ گمنام چامکا اب کہاں ہوگا ؟ البتہ اس کی کارستانی سے ایک جیتی جاگتی، اپنے رقص سے دلوں کو لبھاتی اداکارہ خدا کے حضور پیش ہوچکی۔ اس پر مجھے ایک تصویر یاد آگئی جس میں معصوم ہرنی آگے آگے بھاگتی دکھائی دے رہی تھی اور پیچھے ایک خوفناک چیتا اس پر لپکتا نظر آرہا تھا۔ اس تصویر کے نیچے درج تھا’’ضروری نہیں کہ آپ کے فالوورز آپ کے چاہنے والے ہی ہوں۔‘‘

چھٹی قسط یہاں ملاحظہ کریں  

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. چامکا۔۔۔۔
    خوب جا رہا ہے سفر ۔۔ہمارے معاشرے میں تو جانے چامکے کہاں کہا ہیں۔۔ خوبصورت جملہ “وہ مطلب سے ملتا تھا اور ہمیںں ملنے سے مطمب آہ۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: