فلمی محبت، حقیقی موت: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ زارا مظہر

1

ابھی ایک خبرنظر سے گذری۔
ّّّّّّّْْْْْشیخوپورہ کے نواحی علاقہ جاتری کہنہ میں اٹھارہ سالہ نوجوان نے سرکاری سکول کی پندرہ سالہ طالبہ کو گولی مار کر خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔بتایا گیا ہے کہ جاتری کہنہ گاوں کے رہائشی ابوبکر نے اپنے ہی گاوں کی پندرہ سالہ لڑکی اقصی سے تعلقات میں ناکامی اسے چھٹی کے بعد سکول سے واپس آتے ہوے گولی مار دی اور پھر خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا-تھانہ صدر فاروق آباد پولیس دونوں نعشوں کو تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ منتقل کردیا ہے۔
پڑھ کر دل سخت کبیدہ خاطر اور دماغ ژولیدگی کا شکار ہو گیا۔ بچوں والے ہیں تو بچوں کے حوالے سے اس طرح کی خبریں چونکا دیتی ہیں۔ دماغ میں طرح طرح کے وسوسے اٹھنے لگتے ہیں اور کئی طرح کی بدگمانیاں جگہ پانے لگتی ہیں۔ گھبرا کر بیٹی کو فون کر دیا۔۔۔ امّاں کیا ہے کلاس ہو رہی ہے وقت بےوقت کیوں کھڑکا دیتی ہیں فون شرمندگی ہوتی رہتی ہے۔۔ ابھی صبح تو ناشتے کے ساتھ لمبی گردان سنائی تھی۔ اب کلاس نہیں ہو رہی میں نے چڑ کر پوچھا۔ اور فون۔۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔
مگر خبر نے دماغ کا احاطہ کئے رکھا۔ اسطرح کے واقعات روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ بچے اتنے پگلا گئے ہیں کہ جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں رہی نظر میں۔ اس میں قصور وار کون ہے گھر کا ماحول، میڈیا یا ریاست۔ پتہ نہیں کس کو موردِ الزام ٹہرایا جائے گا کس کا قصور ثابت ہوگا کتنا لمبا کیس چلے گا متوقع باریکیاں سوچ کر دماغ مزید پراگندگی کا شکار ہو گیا۔ مگر ایک بات تو مسّلمہ ہے کہ دو خاندان تباہ ہوئے جسکا خمیازہ نسلوں تک جائے گا پھر علاقہ چونکہ دیہاتی ہے تو مزاجاً نسبتاً مختلف ہیں۔ شہری علاقہ تو ہے نہیں کہ ناخوشگوار صورتحال پر نقلِ مکانی کر لی جائے۔ اور ناہی لوگوں کے حافظے کمزور ہوتے ہیں کہ فراموش کر دیں۔ سو پسماندگان سے بہت ہمدردی ہے جن کے لیئے مسائل کا انبار کھڑا ہو گیا ہے۔

پتہ نہیں ماں باپ نے کتنے جتنوں سے بڑا کیا تھا کیا کیا قربانیاں دی تھیں اور کتنے ارمان بچے کے ساتھ جوان کیئے تھے۔ کیا گزری ہو گی جب جوان بچے کا لاشہ طرح طرح کے الزامات اور، وچلی گل، جاننے کے شوقینوں کے درمیان سوالیہ نشان بن کے دھرا ہوگا۔
دیکھا جائے تو ابھی پندرہ اور اٹھارہ سال کی عمر کوئی ایسی نہیں ہوتی کہ لڑکی کو اتنی جرات عطا کرے کہ وہ اپنے خاندان سے باغی ہو جائے۔ پھر گھر کی تربیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ بچی یقینا کسی باشعور ماں کی بیٹی تھی جو اپنی تربیت دکھا رہی تھی۔ مگر لڑکے نے انا کا مسئلہ بنا لیا اور شیشے میں نا اتار سکنے کا غم یوں غلط کیا کہ اپنے ساتھ معصوم اقصیٰ اور دونوں خاندانوں کو بھی لے ڈوبا۔
میری نظر میں دیہاتوں میں اس طرح کے واقعات ہونے کا ایک خاص سبب ہے۔ لوگ اچھی بھلی زمینوں کے مالک ہوتے ہیں مگر مزید کے چکر میں قربانیاں دیتے ہیں حیثیت رکھتے ہوئے بھی کم ہی گھرانوں میں ملازمین رکھنے کا رواج ہے اور گھر کا ہر فرد ڈیرے پر زمینداری کے دھندے نبٹاتا ہے۔ ڈیرہ رہائشی ایریا سے ذرا ( اور بعض اوقات کافی ہٹ کر ہوتا ہے) تو آ تے جاتے رستوں پر، کھڑی فصلوں اور گھنے کمادوں میں عیاشی اور زور زبردستی کے بہترے مواقع مل جاتے ہیں۔ مزید براں کام کے دوران خواتین اور لڑکیوں کی زیب و زینت نمایاں رہتی ہے جو کسی بھی عمر کے لڑکوں اور مردوں کے جذبات کو بھڑکانے، بھٹکانے کا سبب بن سکتی ہے۔
دیکھا جائے تو ایک ناپسندیدہ واقعے کے پیچھے کافی سارے عوامل ہوتے ہیں۔ اور آ ج کل موبائل فونز نے کام اور بھی آ سان کر دئیے ہیں۔ میڈیا پر چلتے ڈرامائی موضوع ہر نوجوان لڑکے لڑکی کو گرل اور بوائے فرینڈ کی ضرورت و اہمیت پہ راغب کر رہے ہیں۔ اسی نسبت سے قتل اور گھر سے بھاگ جانے کے واقعات تواتر کے ساتھ دیکھنے سننے میں آ تے ہیں۔ کبھی قصور وار لڑکا ہوتا ہے۔ ( زیرِ نظر خبر کے حوالے سے ) کسی کیس میں زیادتی لڑکی کی طرف سے ہوتی ہے۔
میرے خیال میں اس طرح کے زیادہ تر کیس ٹین ایج میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ بچے جوانی کی حدود پر پہنچ جاتے ہیں مگر سوچ انتہائی باغی اور ناپختہ ہوتی ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم، عقل کی لگام جذبات کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ سو ایسے واقعات پہ قابو پانا ذرا مشکل امر ہے۔
شہروں میں ان حالات پر کنٹرول نسبتاً آ سان ہے۔ گھروں میں کھلا ماحول نہیں ہوتا کہ مواقع میسر آ ئیں۔ٹین ایج کے ذیادہ تر بچے بچیاں اسکول کالج جاتے ہیں۔ لڑکیاں حفاظتی حصار میں ہوتی ہیں اور پک اینڈ ڈراپ رکشہ یا باپ بھائی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دیہاتوں میں اسکول کالج جانے والے طالب علموں کو صبح سویرے گزرنے والی پہلی بس پکڑنی ہوتی ہے اپنے ادارے تک جانے کے لئیے، اب وہ ادارے میں جائیں یا بھاڑ میں باپ کو زمیندارہ سنبھالنا ہے اور ماں کو اسکا ہاتھ بٹانا ہے۔ اسکول کالج سے واپسی پر ڈیرے کی حاضری لازمی ہے۔ بہت سے دھندے منتظر ہوتے ہیں۔ چاہے آ پ آ فیسرانہ جاب کر رہے ہیں یا یونیورسٹی کے طالب علم ہیں تب بھی کچھ گھرانوں کو چھوڑ کر سب کو کام کرنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی عیاشی کے کافی مواقع مل جاتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کر چکی ہوں۔
مگر جو بھی بے بسی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے جن والدین کے بچے ان عمروں میں ہیں انکے لئیے ہر ایسی خبر خطرے کی گھنٹی ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ بچوں کو خدا کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ ان کے لیئے عقل و فہم اور ردِ بلا کی دعا کرتے رہنا ماں باپ کا کام ہے سو اپنے اپنے انداز میں کرتے رہتے ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: