داستان گو —- قسط نمبر 2 — ادریس آزاد

1
  • 2
    Shares

دانش، ایلس، انیتا اور ’’پروجیکٹ اینڈرومیڈا‘‘ کی پوری ٹیم ایک بجرے میں سوار تھی۔ بجرہ ایک نہایت شفاف ندی میں تیر رہا تھا۔ ندی اتنی شفاف تھی کہ دانش کو ندی کی تہہ میں پڑے جواہر صاف دکھائی دے رہے تھے۔ بجرے کی چھت منقّش تھی اور فرش پر سُرخ رنگ کا دبیز قالین بچھا تھا۔ دائیں بائیں دو خاصے بڑے محرابی دروازے تھے۔ دانش اور پروفیسر وِلسن آمنے سامنے بیٹھے باہر ندی کی سطح پر کھیلتے پرندوں کو دیکھ رہے تھے۔ ساری ٹیم خاموش تھی۔
یہ لوگ ندی کے ساتھ ساتھ کچھ دیر سفر کرتے رہے پھر ندی ایک بہت بڑی جھیل میں داخل ہوگئی۔ یہ جھیل نہیں دراصل ایک چوڑی آبنائے تھی جو آگے جاکر سمندر میں اُتر رہی تھی۔ بجرہ پانی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ معاً پروفیسرولسن نے دانش سے کہا،
’’لگتاہے انسان فطرت کی طرف دوبارہ لوٹ آیا ہے۔ یہ لوگ ہمیں کسی برق رفتاری سواری میں بھی تو کانفرنس ہال تک لے جاسکتے تھے‘‘
دانش پروفیسر ولسن کی بات سے پہلے ہی یہی کچھ سوچ رہا تھا۔ دُور سمندر کی سطح پر اِن لوگوں کو پانی کا ایک فلک بوس بلبلہ دکھائی دیا۔ سب دیدے پھاڑے پانی کی سطح پر تیرتے، بلبلے کو دیکھنے لگے۔ اتنا بڑا بلبلہ؟ یہ دراصل بلبلہ نہیں تھا بلکہ شیشے کا ایک ہال تھا۔ یہ لوگ اسی ہال کی طرف جارہے تھے۔
بجرے میں صرف ایک نوجوان لڑکی بطور میزبان اِن لوگوں کے ساتھ تھی۔ میزبان لڑکی کسی خاص قسم کی یونیفارم میں تھی۔ اسی وجہ سے ایلس نے اُس سے پوچھ لیا،
’’آپ سرکاری ملازمہ ہیں؟‘‘
لڑکی کے چہرے پر عجب سی مسکراہٹ لہرائی،
’’نہیں، اب کوئی سرکاری ملازم نہیں ہوتا۔ لوگ اپنی مرضی سے جیتے ہیں۔ میں ’مَدر‘ ہوں‘‘
پروفیسر ولسن کو لگا جیسے ’مدر‘ بھی کسی خاص قسم کے عہدے کا نام ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے سوال کیا،
’’آپ مدر ہیں۔ کیا یہ کسی عہدے یا ڈیوٹی کا نام ہے؟‘‘
’’نہیں! اپنی خوشی سے دوسروں کی خدمت کرنے والی عورتوں کو مدر کہا جاتاہے‘‘
لڑکی کے جواب پر سب مہمانوں کے چہروں پر تحسین آمیز تاثرات نظر آئے۔ کسی خیال کے تحت انیتا نے ایک سوال کردیا،
’’آپ ہماری زبان بول رہی ہیں۔ اس سے پہلے شِپ میں جو نوجوان ہمیں ملنے آیا تھا وہ بھی ہماری زبان بول رہا تھا۔ کیا ابھی تک دنیا میں انگلش ہی بولی جاتی ہے؟‘‘
لڑکی نے انیتا کی بات سُنی تو مُسکرائی اور پھر قدرے توقف سے جواب دیا،
’’نہیں ہماری زبان الگ ہے۔ ہماری زبان کو ’وارسائی‘‘ کہتے ہیں۔ وارسائی انگلش سے بالکل مختلف ہے۔ آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی۔ میں انگلش جانتی ہوں۔ آپ نائتلون کی بات کررہی ہیں وہ بھی انگلش جانتاہے۔ ہم میں سے جو جس زبان کو سیکھنا چاہتاہے چند دنوں میں سیکھ سکتا ہے۔ میں تاریخ کی طالب رہی ہوں اس لیے مجھے انگلش سیکھنا پڑی‘‘
پروفیسر ولسن کے قافلے میں ڈاکٹر بوسٹن نامی ایک ماہرِ فزکس بھی تھے جو پروفیسر ولسن کے بعد قافلے کے سب سے سینئر رکن تھے۔ ڈاکٹر بوسٹن جو کل سے خاموش تھے، اِس میزبان لڑکی باتیں توجہ سے سن رہے تھے۔ انہوں نے پہلی بار اپنی خاموشی کا قفل توڑا اور لڑکی سے پوچھا،
’’مِسٹر نائتلون کے بقول ہم لوگ سٹیٹ گیسٹس ہیں، کیا یہ سچ ہے؟‘‘
یونیفارم والی میزبان لڑکی نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
’’بے شک! آپ لوگ سٹیٹ گیسٹس ہیں بلکہ آپ لوگ تو ہماری پوری کاسمو پولیٹن کمیونٹی کے لیے خاص مہمان ہیں۔ آج تک جتنی شِپس ہمیں ملی ہیں ان سب کو ہم نے خود ڈھونڈا ہے۔ ہمارے پاس ناسا اور بعد کے خلائی اداروں کی پوری تاریخ ہے۔ آپ لوگوں نے جس جذبے سے خلا کو تسخیر کیا تھا ہم آج تک حیران ہوتے ہیں۔ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد بھی بہت سی شِپس خلائی سفر کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو ہم نے تلاش کرلیا ہے۔ آپ پہلا قافلہ ہیں جنہیں ہم نے نہیں ڈھونڈا بلکہ جو خود زمین کی طرف واپس لوٹ رہاتھا۔ آپ لوگ ہمارے لیے لیجنڈز کا درجہ رکھتے ہیں‘‘
یکایک قافلے کے تمام ارکان کو فخر کا احساس ہونے لگا۔ پروفیسر ولسن نے نہایت پُرجوش لہجے میں کہا،
’’کیا آج کی کانفرنس میں ایسے لوگ بھی ہونگے جنہیں آپ نے دوبارہ پیدا کیا ہے؟ مطلب جو ہماری طرح کے لوگ تھے اور ہمارے دور میں مر گئے تھے یعنی ہمارے زمانے کے لوگ؟‘‘
لڑکی سوچ میں پڑگئی۔ سب لوگوں نے گویا سانسیں روک لیں۔ سوال ہی ایسا تھا۔ سب کا تجسس ٹھاٹھیں مارہا تھا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد لڑکی نے سوال کیا،
’’آپ کے زمانےکے لوگ؟ مطلب جب آپ لوگ سروائیو کررہے تھے، اُس زمانے کے؟‘‘
لڑکی کے منہ سے ’’جب آپ لوگ سروائیو کررہے تھے‘‘ کے الفاظ سن کر سب کو کچھ انوکھا سا لگا، لیکن سب خاموش رہے۔ پروفیسر ولسن نے کہا،
’’ہاں! ہمارے ہی زمانے کے‘‘
’’آپ کے زمانے سے آج کی کانفرنس میں ایک مشہور نام ایلن گوتھ ہونگے صرف۔ اگرچہ آپ کے عہد کے اور بھی لوگ ’’سڈرہ‘‘ میں ہیں لیکن آج کی کانفرنس میں صرف ایلن گوتھ آرہے ہیں۔ ہاں آپ کے زمانے سے آگے پیچھے کے کچھ اور لوگ بھی ہونگے‘‘
’’سڈرہ؟۔۔۔ یہ کس چیز کا نام ہے؟‘‘
ایلس نے، لڑکی کی بات ختم ہوتے ہی سوال کردیا، تب لڑکی نے سمجھایا،
’’سڈرہ ہماری پوری کاسموپولٹن سوسائٹی کا نام ہے۔ ہرسیّارے پر جہاں کوئی بھی انسان موجود ہے وہ سڈرہ کمیونٹی کا رکن ہے‘‘
ان لوگوں نے ایلن گوتھ کا نام سنا تو ان کے چہروں پر جوش سا لہرایا۔ ایلس نے مزید سوال کیا،
’’آگے پیچھے سے آپ کی مُراد؟‘‘
’’مطلب انیسویں صدی یا بائیسویں صدی عیسوی کے لوگ بھی ہونگے‘‘
’’اوہ اچھا اچھا‘‘
اب بجرہ ہال کے قریب آلگا تھا۔ سامنے ہی مرمریں فرش پر کچھ لوگ غالباً آنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ اب یہ ہال پانی کے بلبلے کی بجائے شیشے کی ایک عالیشان عمارت لگ رہا تھا۔ بجرہ ربڑی تختوں سے آ کر جُڑ گیا۔ یہ لوگ اب بجرے سے اُتر رہے تھے۔ میزبانوں میں زیادہ تر لوگ جوان العمر تھے۔ ہر مردو زن کے چہرے پر پرجوش قسم کی مسکراہٹ تھی۔ وہ میزبان لڑکی جو پروفیسر ولسن کے قافلے کے ساتھ آئی تھی جونہی ہال کے دروازے پر پہنچی سب لوگ مؤدب ہوگئے۔ دانش کو حیرت سی ہوئی۔ وہ تو سمجھ رہا تھا کہ ان کو ہال تک لانے والی لڑکی کوئی عام سی ورکر ٹائپ لڑکی ہوگی۔ یہ تو کوئی اہم ہستی معلوم ہوتی تھی۔ کچھ دیر میں سب کو معلوم ہوگیا کہ ان کے ساتھ ’’سِڈرہ‘‘ کی سب سے بلند مرتبہ ہستی مائمل سفر کررہی تھی۔ نائتلون دانش کو بتا چکا تھا کہ ان کی کاسموپولیٹن سوسائٹی کی سربراہ ایک جوان العمر خاتون ہیں، جن کا نام مائمل ہے اور دنیا کا ہرچھوٹا بڑا انہیں براہِ راست نام سے پکارتاہے۔
ہال کے دروازے پر موجود لوگوں میں ایک شخص مہمانوں کو بہت گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ یہ چالیس کے پیٹے کا ایک کلین شیوڈ توانا شخص تھا۔ مہمانوں نے بھی اس شخص کی نظروں کی تاثیر کو محسوس کیا۔ بالآخر وہ شخص اور اس کے ساتھ ایک خوبصورت لیڈی آگے بڑھ آئے۔ تب تک مہمان ہال میں داخل ہوچکے تھے۔ گھورنے والا شخص قریب آیا تو پروفیسر ولسن نے مسکرا کر اسے انگریزی میں ’’ہائے‘‘ کہا۔ وہ شخص قدرے بے صبری کے ساتھ بولا،
’’ہیلو!‘‘
اور پھر اس نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ تمام مہمانوں نے جب اس کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تو وہ بولا،
’’آئی ایم چارلس ڈارون اینڈ شی اِز مائی وائف ایما‘‘

ڈارون نے جیسے اُن لوگوں کے قدموں میں بم پھوڑدیا۔ ساتوں کے ساتوں مہمان جہاں تھے وہیں رُک گئے۔ اور چُپ ایسے کہ گویا ہرایک کو سانپ نے سُونگھ لیا۔ آس پاس موجود لوگ بھی چونک گئے۔ مہمان عظیم الہییت دروازے میں ہی رُک گئے۔ آخر اس مہیب سکوت کو دانش نے توڑا،
’’مسٹرڈارون؟؟؟؟ مائی گاڈ!۔ ایم آئی ڈریمنگ؟، او مائی گاڈ، او مائی گاڈ!!‘‘
لیکن باقی لوگوں میں تو اتنا کہنے کی بھی حاجت نہیں تھی۔ سب سے برا حال انیتا کا تھا۔ اس کا پورا منہ کھلا ہوا تھا اور یوں ساکت تھی گویا پتھر بن گئی ہو۔
*************

سب لوگ اپنی اپنی نشتوں پر بیٹھ گئے تو وہی لڑکی جو مہمانوں کے ساتھ آئی تھی اور جس کانام مائمل تھا، سامنے بلند سٹیج پر نمودار ہوئی۔ ہال کی نشتوں میں پہلی رو میں ہی پروفسرولسن اور اُن کے ساتھی بیٹھے تھے۔ مائمل نے سب سے پہلا جملہ ہی یہی بولا،
’’پروجیکٹ اینڈرومیڈا! ویلکم بیک ٹُو ہوم‘‘
مائمل کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ ہال تالیوں کی آواز سے گونجنے لگا۔ تالیاں تھیں کہ گونجتی جارہی تھیں اور پروفیسر ولسن کی ٹیم کو یہ سب کچھ طلشم ہوشربا لگ رہا تھا۔ پچھلی نشتوں سے سیٹیوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ دانش کو سیٹیوں کی آواز سن کر حیرت بھی ہوئی اور وہ جذباتی بھی ہوگیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ دانش نے پاس بیٹھی ایلس کا ہاتھ تھام لیا۔ ایلس کی بھی لگ بھگ یہی کیفیت تھی۔ کافی دیر میں تالیاں اور سیٹیاں تھمیں تو مائمل نے دوبارہ کہنا شروع کیا،
’’ ویلکم بیک پروفیسر ولسن، ویلکم بیک ڈاکٹر بوسٹن، ویلکم بیک ڈاکٹرکیمیلا، ویلکم بیک ڈاکٹر ایلس، ویلکم بیک ڈاکٹر دانش، ویلکم بیک ڈاکٹر انیتا اینڈ ویلکم بیک ڈاکٹر چینگ‘‘
مائمل نے سب مہمانوں کو نام بنام واپسی کی مبارک دی۔ ہرنام کے ساتھ الگ الگ تالیاں گونجتی چلی گئیں۔ اور پھر مائمل نے کہنا شروع کیا،
’’تاریخِ انسانی حیرتوں کی دنیا ہے۔ ہمارے معزز مہمان صرف اینڈرومیڈا سے ہی نہیں لَوٹے بلکہ یہ لوگ ماضی سے سفر کرکے مستقبل میں وارد ہوئے ہیں۔ یہ ورژن ون کی وہ خالص نشانیاں ہیں جو آج پوری سڈرہ کمیونٹی میں کہیں موجود نہیں۔ ہم ماضی کے لوگوں کو نیند سے جگا کر اپنے ساتھ شامل تو کرلیتے ہیں لیکن ہمارے مہمانوں کی جماعت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو اپنی اُسی کلاسیکی جسمانی ساخت کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان میں سے کسی بھی فرد کی جینٹک موڈیفکیشن نہیں ہوئی۔ آج کی یہ شام ہمارے انہی مہمانوں کے نام ہے‘‘
ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونجنے لگا۔ اس بار تالیوں کی آواز میں سیٹیوں کی آوازیں شامل نہیں تھیں۔ دانش کو دوبارہ حیرت ہوئی۔
کچھدیر میں مائمل نے پھر کہنا شروع کیا،
’’معزز مہمانان ِ گرامی! اِس وقت سڈرہ کمیونٹی کے چالیس سیّاروں پر ساٹھ ارب لوگ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ جو آج کی اِس تقریب کے لیے سب کام چھوڑ کر بیٹھے ہیں۔ میری سپیچ اس وقت نو ہزار زبانوں میں ترجمہ ہوکر حاضرین، سامعین اور ناظرین تک پہنچ رہی ہے۔ یہ آپ لوگوں کے ساتھ ہمارے تجسس اور ہماری عقیدت کا اظہار ہے‘‘
پروفیسر ولسن اور اُن کے ساتھی ساٹھ ارب انسانوں کا ذکر سن کر گویا سُن ہوگئے۔
’’ساٹھ ارب؟؟؟؟؟ مائی گاڈ!!!‘‘
ڈاکٹر چینگ سے رہا نہ گیا۔ پروفیسر ولسن نے ہنستے ہوئے کہا،
’’یہ تو ابھی چالیس سیّاروں پر اُن لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو اِس تقریب کو براہِ راست دیکھ رہے ہیں جو لوگ تقریب کو نہیں دیکھ رہے وہ الگ ہیں۔اور اِن لوگوں کے پاس کُل دوسوبیالیس سیّارے ہیں چینگ!! مجھے تو لگتاہے انسان کھربوں کی تعداد میں ہونگے‘‘
مائمل کی آواز پھر بلند ہوئی،
’’سِڈرہ کمیونٹی کے معزز شہریو! ہمارے مہمان آخری برونز ایج کے زمانے سےخلاؤں میں موجود ہیں۔ جیسا کہ آپ میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ ماضی میں تقویم صرف سیّارہ زمین کے سالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی تھی۔ ان میں ایک مشہور تقویم، عیسوی تقویم کہلاتی تھی۔ عیسوی تقویم کے مطابق سات اپریل 2049 کے روز صبح سات بج کر پانچ منٹ پر ہمارے لوکل گروپ کی سب سے عظیم کہکشاں ’’اینڈرومیڈا‘‘ کے سفر پر روانہ ہونے والا یہ پروجیکٹ آج پندرہ سوسال بعد واپس سُورج کے پڑوسی سیّارے الفا سینٹوری پرکامیابی کے ساتھ لوٹاہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اینڈرومیڈا کا قُطر یعنی ڈایا میٹر دولاکھ بیس ہزار نوری سال پر محیط ہے اور پروفیسر ولسن کی ٹیم گیارہ ہزار نوری سال کا سفر کرکے لوٹی ہے۔ یہ اپنے زمانے کے اعتبار سے بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ ایک وارم ہول عبور کرنے کی وجہ سے ٹائم ڈائیلیشن کے شدید ترین عمل سے گزرے ہیں۔ ایک وارم ہول سے گزرنا گویا کسی ٹائم مشین میں سفر کرنے جیسا ہے۔ اس لیے پروفیسر ولسن اور ان کے قافلہ کے لوگوں کا وقت اَرتھ کے سال کے مطابق صرف چار برس اور پانچ مہینوں پر مشتمل ہے لیکن سپیسٹائم فولڈ نے انہیں پندرہ سو سال بعد کے مستقبل میں آن اُتارا ہے۔
آج ہمارے درمیان یعنی پوری سِڈرہ کمیونٹی میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو پروفیسر ولسن اور ان کے ساتھیوں کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یقیناً پروفیسر ولسن اور ان کے ساتھیوں کو اپنے زمانے کے لوگوں سے مل کر بے پناہ خوشی ہوگی۔ اِس ہال میں بھی اِس وقت ہمارے ساتھ پروفیسر ایلن گوتھ موجود ہیں جو اُس وقت زمین پر سروائیو کررہے تھے جب پروفیسر ولسن اور ان کے ساتھی سروائیو کررہے تھے۔ ہم سب جانتے ہی کہ وہ بڑا کٹھن دور تھا۔ لیکن ہم اپنے مہمانوں کو خوش خبری سناتے ہیں کہ اب دنیا بالکل مختلف ہے اور بے پناہ خوبصورت ہے۔ اب انسان سروائیول کی مشکل سے نکل آئے ہیں اور باقاعدہ ’جیتے‘ ہیں۔ زندگی کا ہر ہر پل جینے والی سِڈرہ کمیونٹی پوری کائنات کا فخر ہے۔
معزز معمانانِ گرامی! آج انسانی تہذیب کی یہ بلندو بالا اور عظیم الشان عمارت جن بنیادوں پر کھڑی ہے وہ بنیادیں آپ لوگوں نے ہی رکھی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں سِڈرہ کمیونٹی کے ایک کھرب انسانوں کی طرف سے آپ دوستوں کو خوش آمدید کہتی ہوں‘‘
ہال میں تالیوں کی گونج ایک مرتبہ پھر بلند ہوئی۔ دانش کو سب کچھ خواب خواب سا لگ رہا تھا۔ وہ سوچوں میں گم تھا، ’’ایسا کیسے ہوسکتاہے؟‘‘۔ ’’یہ سب کیسے ممکن ہے؟‘‘، ’’اتنے عرصہ میں ان لوگوں کی شکلیں کیوں نہیں بدلیں؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ قافلے کے تمام لوگ اسی طرح کی سوچوں میں مبتلا تھے۔ ایلس سوچ رہی تھی کہ، ’’پورے ہال میں سب سے بوڑھا شخص پروفیسر ولسن ہے۔ تو کیا یہ لوگ بوڑھے نہیں ہوتے؟ اگر یہ لوگ عرصہ سے زندہ ہیں تو پھر ان کی عمریں کتنی ہونگی؟ مائمل کی عمر کتنی ہوگی؟‘‘۔ انیتا سوچ رہی تھی کہ، ’’کسی طرح اگر واپس جایا جاسکے اور اُسی گندے مُندے معاشرے میں، انہی جاہل اور گنوار لوگوں کے ساتھ واپس رہنے کا موقع مل جائے تو کتنا اچھا ہو‘‘۔ پروفیسر بوسٹن اور ان کی وائف ڈاکٹر کیمیلا البتہ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ چینگ سوچ رہا تھا کہ، ’’چائینہ کہاں ہوگا؟، اس ہال میں کسی شخص کی شکل چائنیز سے کیوں نہیں ملتی؟، کیا چائنہ کے لوگ فنا ہوگئے ہیں؟‘‘۔ ہر کوئی اپنی جگہ مختلف قیافے لگا رہا تھا۔ زندگی میں ایسا انوکھا تجربہ کبھی ہوگا اِن میں سے کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ بہت ممکن تھا کہ یہ لوگ اپنے حواس کھو بیٹھتے۔ مائمل کی تعارفی تقریر کے ساتھ ہی رسمی تقریب کا خاتمہ ہوگیا۔ اب سب لوگ کانفرنس ہال سے نکل کر ’اوپن فلورہال‘ کی طرف جارہے تھے۔
پروفیسر ولسن اور ان کے ساتھیوں کے آس پاس لوگوں کا رش لگ گیا۔ جوان العمرحسین خواتین اور خوش پوش مرد حضرات مہمانوں کے گرد جمع ہوگئے اور ایک فطری نظم کے ساتھ مہمانوں سے سوالات کرنے لگے۔ یہ لوگ ہنس ہنس کر سب کی باتوں کے جواب دے رہے تھے لیکن یہ سب لوگ دِل سے چاہتے تھے کہ ان سے سوال پوچھنے کی بجائے اِنہیں جواب دیے جائیں۔ دانش تو یہی چاہتا تھا۔ ایلس بھی یہی چاہتی تھی اور پروفیسر ولسن نے تو آخر کہہ دیا،
’’اچھا! اب آپ لوگ ہمارے سوالوں کے جواب دیں۔ ہم بہت الجھن کا شکار ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ کسی بھی بات پر یقین نہیں آرہا۔ آپ ہمارے میزبان ہیں، ہمیں سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ سیّارۂ زمین کا کیا ہوا؟ آپ لوگ زمین کو ’’مانومینٹ‘‘ کیوں کہتے ہیں؟‘‘
سب سے پہلے ایک بُردبار قسم کی خاتون نے بتایا،
’’زمین کو کچھ نہیں ہوا۔ زمین ہماری پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی کا سب سے خوبصورت سیّارہ ہے۔ دوسوبیالیس سیّاروں میں سب سے زیادہ پھول زمین پر کھِلتے ہیں۔ اب زمین پر ہرطرف ندیاں بہتی ہیں۔ دریا بہتے ہیں۔ شفاف سمندر ہیں، گھنے جنگل جو پھلدار درختوں سے لدے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے ہر اس شخص کو خوش قسمت سمجھا جاتاہے جس کو زمین پر جانے یا رہنے کا موقع مل جائے‘‘
پروفیسر ولسن اور ان کے ساتھی مسحور ہوکر زمین کی تازہ خبریں سن رہے تھے۔ سب کے دیدے پھٹے اور مُنہ کھُلے تھے۔ خاتون خاموش ہوئی تو ایک خوش پوشاک مرد نے بولنا شروع کیا،
’’زمین کو مانومینٹ اس لیے کہا جاتاہے کہ وہ ہم سب کے آباؤ اجداد کی جائے پیدائش ہے۔ ویسے بھی ابھی تک زمین پر بہت سی ایسی یادگاریں باقی رکھی گئی ہیں جو عہدِ قدیم کی یاد دلاتی ہیں‘‘
خوش پوشاک مرد کی بات ختم ہوئی تو ڈاکٹر کیمیلا نے سوال کیا،
’’کیا ہم زمین پر جاسکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے گھروں کو ایک بار دیکھ سکتے ہیں؟ کیا ایسا ممکن ہے؟‘‘
لیکن اس سے پہلے کہ ڈاکٹر کیمیلا کو کوئی جواب دیتا دُور سے مائمل آتی ہوئی دکھائی دی۔ سب لوگ خاموش ہوگئے۔ مائمل قریب آئی تو اس نے بڑی بے تکلفی کے ساتھ پروفیسر ولسن سے کہا،
’’پروفیسر! آپ صبر تو کریں۔ میں نے آپ کو ساری داستان سنانے کا بندوبست کیا ہے۔ آپ سے تو ابھی بہت باتیں ہونی ہیں۔ ابھی فی الحال آپ لوگ میرے ساتھ چلیے! کچھ پیتے پلاتے ہیں‘‘
اور پھرمہمانوں کا قافلہ مائمل کے ساتھ چل پڑا۔ مجمع نے درمیان میں سے راستہ بنادیا اور سب لوگ شیشے کی اِس عظیم عمارت میں ہی ایک تیسرے ہال کی طرف بڑھنے لگے۔
**************
سڈرہ کمیونٹی پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی کو کہا جاتا تھا۔ یہ کمیونٹی دوسوبیالیس سیّاروں پر مشتمل تھی۔ مرکزی مجلسِ شُوریٰ میں صرف پچیس سیّاروں کے ناظمین شامل تھے۔ لیکن عمومی شوریٰ میں ایک سو ساٹھ سیّاروں کے ناظمین شریک ہوتے تھے۔ سڈرہ کمیونٹی میں وائیلنس کا تصور نہیں تھا۔ وائیلنس صرف اُن لوگوں میں، شروع شروع میں پایا جاتا جو قدیم زمانے کے لوگ تھے اور جنہیں سائنسدانوں نے قبروں سے جگا دیا تھا۔ ان لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ صرف ایک سیّارۂ زمین پر ان لوگوں کے ڈی این اے دستیاب تھے یا کبھی کبھار کوئی ایک آدھ ڈی این اے مِلکی وے کہکشاں میں کہیں اُڑتاہوا مل جاتا تھا۔ آج سے صدیوں پہلے جب سِڈرہ کمیونٹی کی ابتدأ ہوئی تھی قدیم انسانوں کے مسئلہ کو لے کر مجلس شوریٰ میں کئی سال تک بحث ہوتی رہی تھی۔ ایک گروہ کا مؤقف تھا کہ اُن تمام انسانوں کو دوسری زندگی کا موقع ملنا چاہیے کیونکہ اُن لوگوں کی بدولت ہی آج یہ عظیم معاشرہ وجود میں آیا ہے۔ لیکن دوسرا گروہ مخالف تھا۔ ان کے پاس یہ دلیل تھی کہ اگر زمین پر پائے جانے والےسب انسانوں کو اُٹھا دیا گیا تو سوسائٹی کو تباہ ہونے کا خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ وہ لوگ وائیلنٹ ہیں۔ وہ جب سابقہ یاداشتوں کے ساتھ جاگیں گے تو ان کی اپنی اپنی عادات اور طبیعتیں ہونگی۔ وہ لوگ دنگا فساد کرینگے اور خون بہائینگے۔ کئی سال کی طویل بحث کے بعد آخرکار یہ فیصلہ ہوا کہ سب لوگوں کو نہ جگایا جائے بلکہ پہلے صرف ان لوگوں کو جگایا جائے جن میں وائیلنس پر قابو پانے کی شکتی ہے۔
تب پہلی بار ’’پرسنٹیج‘‘ کا ادارہ وجود میں آیا تھا۔ پرسنٹیج کے ذریعے ’عادین‘، کسی ڈی این اے کے بارے میں جو ڈیٹا مہیا کرتے اُس کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا کہ کس کو جگایا جائے اور کس کو نہ جگایا جائے۔ عادین سڈرہ کے ماہرین ِ ریاضی کو کہا جاتا تھا۔ پھر چند صدیاں بعد یہ فیصلہ بھی ہوگیا کہ جگایا تو سب کو جائے لیکن جن لوگوں کا پرسنٹیج کم ہے ان کو پہلے وائیلنس پر قابُو پانے کی تربیت دی جائے۔ چنانچہ ساٹھ پرسینٹ سے کم پرسٹنٹیج والوں کو دُور دراز کے نودریافت سیّاروں پر بھیجا جانے لگا اور ان کو اس بات سے بھی بے خبر رکھا گیا کہ وہ اب کبھی نہیں مرینگے۔ وہ نودریافت سیّاروں پر کَانوں سے معدنیات نکالنے کا کام کرتے اور بڑی بڑی کمیونٹیز کی شکل میں رہتے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردیتے یا حادثے میں مرجاتے تو مرنے والے کو وہاں سے غائب کردیا جاتا۔ اس کا ڈی این اے لے کر اسے دوبارہ زندہ کیا جاتا اور کسی اور سیّارے پر بھیج دیا جاتا تاکہ پچھلے سیارے والوں کو یہ خبر نہ ہوسکے کہ وہ لازوال ہیں اور کبھی نہیں مرتے۔ موت کا وجود نہیں ہے، اس بات سے اُنہیں اس لیے بے خبر رکھا جاتا تاکہ اُن کی تربیت اچھی طرح سے ممکن ہوسکے۔ وہ موت سے ڈریں اورنتیجتاً اس ڈر کے خلاف ان میں ایک خاص قسم کی قوت ڈیولپ ہوسکے۔ ایسی قوت جو انہیں بہادر بنادے اور بہادر بننے کی وجہ سے اُن میں صبر کا مادہ پیدا ہوسکے۔ تا کہ وہ جلد خود کو اس قابل بنائیں کہ ان کی طبیعتوں میں سے وائیلنس ختم ہوجائے اور وہ باقی ماندہ سِڈرہ سوسائٹی کے ساتھ رہ سکیں۔
آج ایلفا سینٹوری کے اِس سیّارے ’جبرالٹ‘ پر اُنہیں پانچواں دن تھا۔ یہ سیّارہ کمال شان سے آباد کیا گیا تھا۔ کوئی وِلا کسی دوسرے وِلا کے ساتھ جڑا ہوا نہیں تھا۔ سب گھروں کے درمیان خاصے گھنے، لمبے چوڑے باغات تھے، جوہمہ وقت ہزارہا قسموں کے رنگارنگ پھلوں اور پھولوں سے لدے رہتے۔ ایک مکان اور دوسرے مکان کے درمیان فاصلہ کئی کئی سو گز تھا۔ یہاں تیس گھنٹے کا دن اور بارہ گھنٹے کی رات تھی۔ وہ دن میں دوبار اور رات میں ایک بار سوتےتھے۔ زمین کے حساب سے تو انہیں پانچ سے زیادہ دن ہوگئے تھے۔ یہ لوگ ابھی تک مہمان خانے میں مقیم تھی۔ لیکن یہ لوگ کہیں بھی آنے جانے کے لیے آزاد تھے۔ تقریب والے دن یہ لوگ کافی دیر تک ڈارون اور ایما کے ساتھ بیٹھے رہے تھے۔ ڈارون نے انہیں بتایا تھا کہ وہ اور لوگوں سے بھی اُنہیں ملوا سکتاہے جو جبرالٹ پر ہی مقیم ہیں اور اٹھارویں صدی کے بعد کے زمانوں سے اُٹھائے گئے ہیں۔ یہ لوگ بے پناہ متجسس تھے۔ یہ سب سے ملنا چاہتے تھے۔ آج اِن لوگوں کو ڈارون کے وِلا جانا تھا، جہاں دیگر کئی مہمان بھی جمع ہونے والے تھے۔ دانش جانتا تھا کہ آج کی محفل میں تمام لوگ وہی ہونگے جنہیں سِڈرہ کمیونٹی کے سائنسدانوں نے دوبارہ زندہ کردیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ لوگ ڈارون کے گھر جانے کے لیے بے تاب تھے۔
سڈرہ کمیونٹی میں ٹرانسپورٹیشن کے متعدد طریقے رائج تھے۔ شہروں میں زیادہ طرف سفر ندیوں کے ذریعے کیا جاتا۔ جس شہر میں یہ لوگ مقیم تھی اس میں ہرطرف ندیاں ہی ندیاں تھی۔ نہایت صاف ستھری، شفاف اور خاصی چوڑی نہریں۔ عام طور پر لوگوں کو کہیں جانے کی کوئی جلدی نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ زیادہ تر لوگ بَجروں میں سفر کرتے تھے۔ لیکن ٹرانسپورٹیشن کے باقی ذرائع بھی موجود تھے البتہ کسی قسم کی آلودگی یا رَش کا کہیں بھی تصور نہیں تھا۔
یہ لوگ ایک بے آواز موٹر بوٹ میں سوار ہوئے اور لگ بھگ آدھے گھنٹے بعد ڈارون کے باغات میں جاپہنچے۔ کمیونٹی نے ڈارون کو اس کے ذوق کے مطابق بہت بڑے بڑے باغات سے آراستہ وِلا الاٹ کر رکھا تھا، جہاں ڈارون اپنی بیوی ایما کے ساتھ رہتا تھا۔ ڈارون کی زندگی یہاں بھی خاصی مصروف تھی۔ وہ یونیورسٹی میں لیکچرز دیتا اور پودوں، پھولوں، بیجوں، جانوروں اور پرندوں پر مختلف تحقیات کرتا رہتا تھا۔ ابھی تک تو وہ گزشتہ صدیوں کی تاریخ ِ حیاتیات پوری نہ پڑھ پایا تھا۔
ڈاروان اور ایما خود نہر کے کنارے اِن لوگوں کو لینے کے لیے آئے۔ یہ سب لوگ ڈارون کی معیت میں اُس کے وِلا پہنچے۔ یہاں تو خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ چالیس کے قریب لوگ جمع تھے۔ ڈارون نے ایک ایک کا تعارف کروانا شروع کیا،
’’مسٹر پرتاب انیسویں صدی عیسوی، مسٹر سعد بیسویں صدی عیسوی، مسٹرایبسولن بیسویں صدی عیسویں۔۔۔۔۔ ‘‘
ڈارون ایک ایک کا نام اور زمانہ بتاتا گیا۔ سب لوگ نہایت متجسس تھے۔ پروفیسر ولسن اور ان کے ساتھی اِن چہروں میں شناسا چہرے ڈھونڈنے کی کوشش کررہے تھے لیکن ڈارون اور ایلن گوتھ کے علاوہ انہیں کوئی شناسا چہرہ نظر نہ آیا۔ آخر دانش نے سوال کردیا،
’’مسٹر ڈارون، کیا یہاں موجود سب لوگ اپنے وقت کے مشہور انسان نہیں ہیں؟ میں تو یہ توقع کررہا تھا کہ آپ کی طرح اور بہت سے مشہور لوگ بھی ہمیں یہاں ملینگے؟‘‘
ڈارون کی بجائے ایما نے جواب دیا،
’’اصل میں آپ کے سوال کا جواب دو طرح سے دینا پڑیگا۔ نمبر ایک یہ کہ پرسنٹیج کا تعلق شہرت کے ساتھ نہیں ہے۔ مطلب، مثلاً مسٹر ایبسولن پہلی جنگ ِ عظیم میں ایک عام سپاہی کی حیثیت سے شریک ہوئے اور مارے گئے لیکن ڈی این اے کے مطابق ان کا پرسنٹیج اَسی فیصد تھا سو انہیں جگا دیا گیا اور یہاں رکھا گیا۔ جبکہ دوسرا جواب یہ ہے کہ لوگ تو بہت زیادہ جگائے گئے ہیں لیکن ہمارے ہاں یعنی اِس سیّارے ’جبرالٹ‘ پر جن لوگوں کو سیٹل کیا گیا ہے ان میں سے ہمارے عہد کے یہی احباب ہیں‘‘
ایما کی بات نے سب کو مبہوت کردیا۔ ہر قدم پر عجائبات تھے۔ پانچ دنوں میں ہی یہ لوگ اپنے آپ کو غاروں کے زمانے کا انسان سمجھنے لگے تھے۔ ڈارون کی محفل میں چند ایک جیسی پوشاک والے لڑکے خدمت پر مامُور تھے۔ وہ طشتریاں لیے اِدھر سے اُدھر گھوم رہے تھے۔ جس کسی کو عمدہ شراب سے شغف کرنا تھا وہ جام اُٹھالیتا تھا۔ دانش نے گزشتہ چند دنوں میں محسوس کیا تھا کہ یہاں کے کھانے اور مشروبات حد سے زیادہ لذیذ تھے۔ اتنے لذیذ کہ اس نے زندگی میں ایسے ذائقے کبھی نہ چکھے تھے۔ یہی سوچ کر اس نے شراب کا جام اُٹھا لیا۔
کچھ ہی دیر بعد دانش کے ساتھی اِدھر اُدھر بکھر گئے۔ سب ٹولی در ٹولی دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھے پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ نئی دنیا کی داستانیں سُن رہے تھے۔ دانش اور ایلس مسٹرایبسولین کے ساتھ بیٹھ گئے جبکہ پروفیسر ولسن، ڈاکٹر بوسٹن اور کیمیلا ڈارون اور ایما کے ساتھ چوکڑی لگائے بیٹھے تھے۔ شراب کے نشے نے کچھ ایسا سُرور دیا تھا کہ تجسس کا رنگ پریشانی اور فکر مندی کی بجائے خوشی اور اُمید میں بدل گیا تھا۔ ایک مَستی تھی جو جینے کی اُمنگ پیدا کرتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ ’جلدی کہیں جانے کی‘ فکر ختم ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ دانش نے ایلس کی طرف مُسکراتے ہوئے دیکھا توایلس بھی پوری طرح مسرور تھی۔ جبکہ مسٹرایبسولین دانش کو بتارہے تھے کہ،
’’پہلی جنگِ عظیم کے دوران میں فرانس کی بارڈر پر تھا۔ میں فرانسیسی ہوں اور انگلش میں نے یہاں آکرسیکھی ہے۔ میں اس وقت خندق میں تھا جب مجھے سَر میں گولی لگی تھی۔ ہم بہت جذبے سے لڑ رہے تھے۔ ہمارے وطن کا دفاع فقط انہی خندقوں پر موقوف تھا۔ ہم نے پوری بارڈر پر خندق کھود ڈالی تھی اور جگہ جگہ خاردارتاروں کی باڑھ بچھا دی تھی۔ جرمنوں کو ہم نے خندق تک بھی نہ آنے دیا۔ ہمارا دفاع بہت مضبوط تھا‘‘
مسٹرایبسولین جنگِ عظیم کے قصے سنارہے تھے اور دانش سوچ رہا تھا۔ ’’کہیں یہ فی الواقعہ اگلا جہان تو نہیں؟۔ اگر یہ اگلا جہان ہے تو پھر میں مَرا کب ہوں؟‘‘
یہ لوگ کافی دیر تک مسٹر ایبسولین کے واقعات سنتے رہے۔ یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہوگیا اور ایما نے سب کو بڑے ہال میں بلا لیا۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. دانش کے ملکی و غیر ملکی قارئین بالخصوص محترم جناب ادریس آزاد صاحب کے شاہکار ‘داستان گو’ کو پڑھنے والے احبابِ کرام کی جانب سے بطور دانش-پی کے-2 کی گروپ ماڈیریٹر ہونے کے ناطے دانش۔ پی کے کی انتظامیہ سے ملتمس ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ‘داستان گو’ کی ایک ہفتے میں دو اقساط پبلش کی جائیں تاکہ انتطار کا دورانیہ گھٹایا جاسکے اور ‘داستان گو’ کی داستان سے ہمہ وقت محظوظ ہونے کا موقع حاصل کیا جاسکے۔۔۔۔ بہت عرصے بعد ایک ایسی تحریر پڑھنے کو میسر آئی ہے کہ جس کا انتظار کرنا انتہائی کٹھن محسوس ہو رہا ہے، دانش پی کے ہماری التجا کو قطعی طور پر سنجیدہ لیتے ہوئے قبول فرمایئں اور ہمیں شکریہ کہنے کا موقع فراہم کریں۔۔!!

Leave A Reply

%d bloggers like this: