پروفیسر ہودبھائی، سوال اور چیلنج — عاطف حسین

0
  • 1
    Share

اسلام آباد میں ایک تقریب میں پروفیسر پرویز ہودبھائی کی تقریر اور ان کے کچھ الفاظ کو لے کر اٹھ کھڑا ہونے والا ہنگامہ ابھی تک جاری ہے اور اس کا دائرہ اس قدر پھیل چکا ہے کہ انکی قابلیت، کارکردگی، ذاتی زندگی اور دیانت سب کچھ ہی زیرِ بحث آگیا ہے۔  ہمارے لیے یہ تنازعہ ذاتی طور پر اس لیے اذیت ناک ہے کہ ہمارے کئی قریبی دوستوں کے تعلقات میں اس تنازعے کی وجہ سے ایسی دراڑیں پڑ گئی ہیں جن کے ختم ہونے کا امکان کم نظر آتا ہے۔

ہماری پروفیسر ہودبھائی سے کوئی ذاتی  واقفیت یا ملاقات  ہے نہ ہی طبیعات یا دینیات میں کوئی ایسی دسترس کہ ان کے علمی مقام و مرتبہ کا حتمی تعین کرسکیں یا ان کے اقوال و افعال کی شرعی حیثیت پر کوئی حکم لگاسکیں۔  تاہم یہ بحث چونکہ اب عوامی سطح پر ہورہی ہے تو ہم  بھی اس میں ایک عام آدمی کے طور پر کچھ حصہ ڈالنے کی ہمت کررہے ہیں۔

عمر ناکارہ کے مختلف حصوں میں ہماری  پروفیسر ہود بھائی سے شدید محبت اور ان سے شدید نفرت  دونوں جذبوں سے آشنائی رہی ہے۔  محبت اور نفرت کی وجوہات کم و بیش وہی تھیں جنکی بنا پر لوگ اب بھی ان سے محبت یا نفرت کرتے ہیں۔ تاہم خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اب ان میں سے کوئی بھی کیفیت  باقی نہیں رہی۔

 بعض احباب کی طرف سے بہت زیادہ زور اس چیز پر دیا جارہا ہے کہ پروفیسر ہودبھائی ایک اچھے طبیعات دان ہیں لیکن انہیں طبیعات تک محدود رہنا چاہیے اور سماجی معاملات پر رائے زنی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جیسا کہ “دانش” کے برادر بزرگ عثمان سہیل   بھی  وضاحت کرچکے ہیں  یہ ایک نہایت  عجیب وغریب اور ناممکن العمل مطالبہ ہے کہ کوئی بھی اپنے تخصص کے میدان سے باہر کسی دوسری چیز پر کوئی رائے نہ دے۔  ہمارا احساس یہ ہے کہ اگر یہ اصول بنا دیا جائے تو جہاں اخباروں کےایڈیٹوریل صفحات  خالی ہوجائیں گے وہیں  چائے خانوں اور ڈرائنگ رومز میں بھی لوگوں کو زیادہ تر خاموش ہی بیٹھنا پڑے گا۔

اسی طرح ہماری ناچیز رائے میں پروفیسر ہودبھائی یا ان جیسے کسی بھی ایک سے زائد دائروں میں سرگرمِ عمل شخص کی زندگی کے مختلف حصوں کے درمیان عموماً کوئی واضح حد ِ فاصل کھینچنا ممکن نہیں ہوتا  کیونکہ وہ سب کسی نہ کسی ربط میں بندھے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ماہر طبیعات دان اور ایک یونیورسٹی  کے پروفیسر کی حیثیت سے ان کا معاشرے میں ایک مقام ہے جسکی بدولت انہیں ایک آڈینس میسر ہے اور  وہ کسی بھی موضوع پر رائے دیتے ہیں  تو اسے  کم ازکم سنا جاتا ہے اور حامی اور مخالفین دونوں اسے اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ان سے کم سماجی مرتبے کا کوئی شخص مثلاً کوئی پرائمری ٹیچر اگر انہی موضاعات پر اپنی آراء دے تو اسے اتنی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ پھر جیسے لوگ  طبیعات میں انکے کام کی وجہ سے سماجی معاملات میں انکی آراء کی طرف متوجہ ہوتے ہیں بالکل  اسی طرح  جن لوگوں کا ان  سے تعارف ان کے سماجی ایکٹیویزم کی وجہ سے ہوتا ہے وہ  طبیعات میں ان کے کام کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

 برآں مزید، پروفیسر ہودبھائی  جہاں تک ان کی تحریروں اور تقریروں سے اندازہ ہوتا ہے ایک خاص سائنسی مکتبہ فکر سے تعلق سے رکھتے ہیں اور سماج کے بارے میں انکی اکثر آراء بھی انکے اسی خاص سائنسی نقطہ نظر  ہی کے مطابق  ہیں ۔ سائنس نے جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کے بعد  اس نقطہ نظر کا  پیدا ہوجانا   بالکل بھی  حیران کن نہیں ہے اور نہ ہی  پروفیسر ہودبھائی اس  کو اپنانے میں اکیلے ہیں۔ آپ اس پر تنقید کرسکتے ہیں اور  اسکی کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں  تاہم اب یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ آپ سائنس یا سائنسدانوں کو ان سوالات پررائے زنی سے روک سکیں جو کبھی  صرف مذہب کے دائرہ اختیار میں آتے  تھے۔ سائنس اب حقیقت کی بلند تر جہات کے متعلق سوالات  سے تعارض کرتی ہے اور ظاہر ہے اس کے سماج پر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔


اب یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ آپ سائنس یا سائنسدانوں کو ان سوالات پررائے زنی سے روک سکیں جو کبھی  صرف مذہب کے دائرہ اختیار میں آتے  تھے۔


اس صورت ِ حال میں مذہب کا دفاع پیش کرنا اور اسے ریلیونٹ رکھنے کی کوشش کرنا یقینا ً مذہب سے محبت رکھنے والوں  کا ایک جائز حق اور ایک عظیم مقصد ہے۔ تاہم اس مقصد کیلئے اب علمی دلائل مہیا کرنے پڑیں گے۔ ورنہ ہم نے صرف الحاد اورغداری کے الزامات سے  پروفیسر ہودبھائی کا منہ اگر بند بھی کرادیا  تو بھی سوالات اپنی جگہ پر قائم رہیں گے اور ان کی جگہ کوئی اور یہی سوالات کرنا شروع کردے۔

لہذا ہم بصد احترام مذہبی طبقے سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اب  آپ کو سوال کا حق سب کیلیے تسلیم کرلینا چاہیے اورغداری اور الحاد کے الزامات سے معترضین کے سر کچلنے اورزبانیں بند کرانے  کی بجائے  مذہب کو درپیش بڑے علمی چیلنجز کا کچھ ادراک کرکے ان سے عہدہ برآ ہونے کی فکر کرنی چاہیے۔ جبر سے ہمیشہ کسی چیز کو قابو میں نہیں رکھا جا سکتا اور ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو ایک دن  بغاوت اس پیمانے پر پھوٹ پڑے گی  جس کے سامنے کوئی بند نہیں باندھا جاسکے گا۔

رہے پروفیسر ہودبھائی تو اگر ہمارے دوست گالی اور الزام کی بجائے کچھ وقت پڑھنے پڑھانے  میں صرف کریں تو ان کے نظریات پرعلمی تنقید کا کافی اسکوپ موجود ہے۔  اور کئی ایسے نظریات  جن کے وہ قائل ہیں ان پر پہلے سے ایک تنقیدی روایت موجود ہے جس سے تھوڑی سی کوشش سے واقفیت پیدا کی جاسکتی ہے۔ لہذا ہماری گزارش یہی ہے کہ بطور طبیعات دان ان کا مقام گھٹانے کی کوشش یا انکی ‘بدعنوانیوں’ کے متعلق تحقیق کے جوہر دکھانے میں وقت صرف کرنے کی بجائے ان مباحث سے کچھ واقفیت پیدا کرلی جائے۔ اس سے شاید کچھ تیاری اس سے کہیں بڑے ان چیلنجز سے نمٹنے کی بھی ہوجائے جو اس وقت مذہب کو درپیش ہیں۔

باقی جہاں تک موجودہ قضیے کا تعلق ہے تو جیسا کہ ہمارے ایک دوست نے نشاندہی کی ہے کہ یہ سوشل میڈیا کی ہلاکت خیزی کا ایک ثبوت ہے۔ صرف  ایک پوسٹ سے شروع ہو کر گروہی نفسیات، لائکس اور شیئرز کی دوڑ، صفائیوں اور وضاحتوں  اور طعن و تشنیع کے زیر اثر ایک ایسا  ہنگامہ برپا ہوا جو اب تک رکنے کا نام  نہیں لے رہا اور خدانخواستہ اس سے بدتر صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔  اس سے جہاں  سوشل میڈیا کے مزید گہرے مطالعے کی ضرورت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں قابلِ ذکر فالونگ رکھنے والی شخصیات کی جانب سے ذمے داری کے مظاہرے  کی ضرورت کی نشاندہی  بھی ہوتی ہے۔ انکی ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ نہ صرف ایک بڑے ہنگامے کا باعث بن سکتی ہے  بلکہ دوستیاں بھی تڑوا سکتی ہے اور کئی لوگوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: