گناہگار یا شہید؟ ثمینہ ریاض احمد

0

داغ دل۔۔۔ ہم کو۔۔۔ یاد آنے لگے ۔۔۔
لوگ اپنے دیے۔۔۔۔۔ جلانے لگے۔۔۔
بیساکھی کے دن اور قریب کی زمینوں میں گندم کی کٹائی ہو رہی تھی، کوئی صاحب ذوق دل جلا بھی کٹائی میں شامل تھا جو رات کے تین بجے کسی ٹیپ پر یہ سن رہا تھا۔
صحن میں چارپائیاں بچھائے سارا خاندان سو رہا تھا سوائے دو آنکھوں کے، ابتدائی تاریخوں کا چاند رات کے آغاز میں ہی طلوع کے کچھ دیر بعد ہی غروب ہو چکا تھا…

ثمینہ ریاض احمد

آسمان پر اس وقت ترنگل (موٹے موٹے بڑے ستارے) اور کھیٹیاں (چھوٹے چھوٹے ستاروں کے جھرمٹ یا ننھی کہکشائیں) موجود تھے، پورب سے چلنے والی بیساکھی کے دنوں کی قدرتی تیز ہوائیں فضا کو انتہائی درجے خوشگوار کر چکی تھیں، اور یہی ہوا کسی دل کے دیے کو مزید تیز جلانے میں مددگار تھی…

ساری رات کے سود و زیاں کے بعد اس وقت ایک فیصلہ کن ساعت میں خود کو محسوس کرتے ہوئے وہ بجائے کروٹ لینے کے اٹھ بیٹھی، درد کرتی آنکھوں کو ہتھیلیوں سے دبا کر تھوڑی دیر کے لئے سکون دینا چاہا، اور پاوں چارپائی سے لٹکا لئے، کہنیوں کو رانوں پر رکھے، ہتھیلیاں جوڑ کر، ان کی اوک میں آنکھوں کو ڈبو دیا اور کئی لمحات بعد چہرہ اٹھایا تو آنکھیں مکمل خشک تھیں۔۔۔
سر اٹھا کر آسمان پر ستاروں کو دیکھتے دیکھتے اسے کان میں ماضی کی ایک آواز آئی۔۔۔ “دیکھو میں نعت خواں ہوں، اللہ نے میرے گلے میں اپنے محبوب کی ثنا کا نور اتارا ہے، میرا یقین کرو میں تمہیں اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں” یہ سنتے ہوئے اس کی آنکھیں انہی ستاروں سی چمکی تھیں، اور جب وہ کھلکھلا کر ہنسی تو لگا کسی نے وہی ستارے کوٹ کر اس کی آنکھوں میں بھر دئیے ہوں، ذرا کی ذرا اس نے اپنے آفس ٹیبل کی دوسری طرف بیٹھے اس خوبصورت، قد آور شخص کو دیکھا جو دو ہفتوں کے منت ترلے کے بعد آج اس کی اجازت سے اس کے آفس آیا تھا، اور اس کی بات کے جواب میں دھیرے سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے اس مرد کے چہرے کو جوش سے سرخ ہوتے دیکھا۔۔۔۔
اگلے ہی دن وہ اپنی بوڑھی ماں کو ان کے گھر لایا، اس سے پہلے فون پر اسے کہا کہ فی الحال میں تعارف کروانا چاہتا ہوں، امی کا چیک اپ تھا، ہم لیٹ ہو گئے، تو انہیں بہانے سے یہاں لے آیا، بھنڈی کے سالن اور سلاد کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے اس کی سادہ سی ماں نے کھانے کے ذائقے اور جس ہاتھ سے وہ بنا تھا، ان ہاتھوں کو پکڑ کر تعریف کی تو وہ اپنی قسمت پر نازاں ہوئی۔۔۔
اور پھر وہی محبت کی کہانی تھی، دن رات فون پر باتیں، دو ایک بار ماں نے بھی بات کی اور پیچھے سے وہ شرارت سے بولتا رہا کہ امی ان کے ہاتھ سے بھنڈی پکوا کر کھائیں گے، اور وہ خوشدلی سے ہنستی ہوئی وعدہ کرتی رہی کہ ہاں ایک دن ضرور ۔۔۔۔۔
اور پھر ایک دن۔۔۔۔۔
وہ اسے امی کے لئے بھنڈی پکوانے اپنے گھر لے آیا، ڈرائینگ روم میں بٹھانے سے پہلے ہی گھر میں داخل ہوتے ہوئے امی کو آوازیں دیں اور جواب نا ملنے پر کچن سے کچھ پینے کے لئے لینے چلا گیا، اور وہ کنفیوز سی اس کی دلنشین مسکراہٹ کو دیکھتی ہوئی سارا جوس پی گئی کہ عجیب سی حالت میں خشک ہونے والا گلہ کچھ تو تر ہو۔۔۔
شائد صدیاں گزر گئی تھیں جب اسے ہوش آیا تھا، اور قیامت سا احساس ہوا کہ عزت، مان، سکون، اور خودی لٹا بیٹھی ہے، اور گدھ سامنے بیٹھا کہہ رہا تھا “دیکھو یہ صرف میرا قصور نہیں ہے، تم بھی برابر کی شریک ہو، کیا جواب دو گی کسی مرد کے ساتھ اکیلے گھر میں آنے کا؟ تم کیا کسی کے ساتھ بھی چل پڑو گی جو بھی شادی کا کہے گا؟” اور وہ بے نور آنکھوں سے اسے تکتی ہی رہی تو اس بھاری ہوتی خاموشی سے اکتا کر وہ بولا “چلو گھر چھوڑ آوں تمہیں” اور وہ گھیسٹتے پاوں کے ساتھ جب اپنے گھر میں داخل ہوئی تو صحن کے درختوں سے پرندے عجیب وحشت ناک شور مچاتے ہوئے ایسے اڑے کہ اس کی چیخ نکل گئی۔۔۔


“دیکھو یہ صرف میرا قصور نہیں ہے، تم بھی برابر کی شریک ہو، کیا جواب دو گی کسی مرد کے ساتھ اکیلے گھر میں آنے کا؟ تم کیا کسی کے ساتھ بھی چل پڑو گی جو بھی شادی کا کہے گا؟”


وہ آج تک اس بات کا اندازہ نہیں لگا پائی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے دھوکہ کھانا زیادہ تکلیف دہ ہے، عزت کا لٹنا، یا اس کے بعد بلیک میل ہونا یا ہمہ وقت اس اذیت میں رہنا کہ ابھی وہ اس کی ویڈیو اور تصاویر انٹرنیٹ پر ڈال دے گا، یا شہر میں پھیلا دے گا، یا پھر۔۔۔۔ یا پھر آج ہی شہر میں ہونے والے اس خودکش دھماکے میں مارے جانے والے افراد کے گھر والوں کے بین۔۔۔۔۔۔
ٹی وی سکرین پر اس نے پہچان لیا تھا وہ اس کی ماں تھی، جو صدمے کی وجہ سے نیم پاگل ہوتی ایک عورت کو اپنی بہو بتا رہی تھی، جس کے گلے میں وہی لاکٹ تھا جو اس نے اپنی جمع پونجی ختم ہونے کے بعد اس کی تیسری دھمکی آمیز کال پر اسے دیا تھا، دو بچیاں جو چیخ چیخ کر اپنے باپ کو بلا رہی تھیں، اور کہہ رہی تھیں۔۔۔۔ “ہمارے بابا بہت اچھے ہیں، کوئی ہمارے بابا واپس لا دو” ان کے کانوں میں بھی چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈ لگے ٹاپس تھے، اس کی ماں کے ہاتھوں میں بھی سونے کے کڑے تھے، جب کہ وہ سکرین پر یہ سب دیکھنے والی خود خالی تھی، اعتبار، عزت نفس، انا جیسی چیزیں بھی ان سات مہینوں میں جاتی رہی تھیں، وہ ابھی تک اپنی ماں کو بتا نہیں سکی تھی کہ تین مہینے پہلے چوری ہو جانے والا سونا نشئی چچا نے نہیں چرایا تھا، بلکہ۔۔۔۔۔۔
لیکن آج ان کے بین سن سن کر اس کے دل نے دوبارہ دھڑکنا شروع کیا تھا، ان کے ہر بین پر اس کی سانس کا آنا جانا آسان ہو رہا تھا، ان کے ہر آنسو پر اس کے دل پر جمی کائی اتر رہی تھی، وہ ہلکی ہو رہی تھی، جس لمحے اس کی بیٹی نے کہا تھا “ہمارے بابا ہماری ہر خواہش پوری کرتے تھے” تب اس نے کراہیت سے تھوک دیا تھا، اور اینکر پرسن خود بھی روتے ہوئے جب مرنے والے کو شہید کہہ رہی تھی تو اس نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے آسمان کی طرف ایک انصاف طلب نگاہ اٹھائی تھی۔۔۔۔۔۔ انہی لمحات کو یاد کرتے ہی وہ رات کے اس آخری پہر اٹھی تھی، صرف اور صرف دو نوافل شکرانے کے ادا کرنے، اپنے ہاتھوں کے سہارے چارپائی سے اٹھتے ہوئے وہ بغیر آواز کے اپنی دعا دہرا رہی تھی۔۔۔۔۔ ” میرے اللہ تو گواہ ہے، وہ شہید نہیں ہے، میرے اللہ بس ایک بار یوم آخرت اس کا گریبان ہو اور میرا ہاتھ ہو، میں اپنے ہاتھوں اس کے گلے میں سے نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعمت نوچ کر نکالوں گی، میرے اللہ بس ایک بار”۔۔۔۔۔۔۔
اور وضو کرنے چلی گئی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: