ظالم، جھوٹی، بے حس اور ناانصاف ماں کا تذکرہ: ثمینہ ریاض

0

صحن میں سوئے ہوئے ہلکی ہلکی ٹھنڈ محسوس ہونے پر سفید سوتی کھیس اوڑنے کی کوشش کرنا لیکن مٹی کی چاٹی میں لکڑی کی مدھانی چلنے کی گرر گرر کی آواز سے اپنی اس کوشش میں ناکام ہونا۔۔۔ اور ساتھ ہی ایک تنبیہی آواز بھی۔۔۔۔ اونہوں۔۔۔۔۔ اب اور سونا نہیں، اٹھ جاو، سکول کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔۔ مندی مندی آنکھوں سے بولنے والی کو دیکھنا اور منہ بنا کر پھر سے سو جانا، لیکن تھوڑی دیر بعد ہی آواز کی سمت سے ہی ہلکے ہلکے پانی کے چھینٹے آنے لگنا۔۔۔۔ اٹھ جاو بارش ہو رہی ہے، دیکھو کتنی موٹی موٹی “کنیاں” ہیں۔۔۔۔۔۔ شروع شروع میں واقعی لگتا تھا بارش ہے، پھر پتا چل گیا یہ تو “پانی کی دہشت گردی” ہے۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی ظالم ہوتی ہیں۔۔۔۔

گندم اور مونجی خریدنے کے بعد اسے صاف کرنا، مونجی کے چاول چھڑوا کر انہیں ہلدی یا دھریک و نیم کے پتوں کے ساتھ محفوظ کرنا ہے، اور گندم کو صاف کر کے بھڑولوں میں ڈالنا، بغیر پیشگی اطلاع یہ کام شروع کرنا اور کئی دن کی محنت کے بعد اس کام کو انجام دینا، بیٹیوں کو بھی ساتھ لگانا، بسورے چہرے نظر انداز کرنا، شکایتی لفظوں پر خاموش رہنا، لیکن پورے سال کا کام ایک دو دن میں نمٹا کر سکون کا سانس لینا۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی ڈھیٹ ہوتی ہیں۔۔۔۔۔

کچے آم آتے ہی محلے کی کسی عورت سے بیس بیس کلو آم منگوانا، پانچ پانچ کلو سبز مرچ اور لیموں بھی ساتھ، اپنے ہاتھوں سے مرچوں کو کاٹنا، انہیں نمک اور ہلدی لگانا، اور یہ کہنے پر کہ آپ کو مرچیں کاٹتی نہیں؟ کچھ لمحات آنکھوں میں دیکھتے رہنا، ایک پھر ایک لمبی سانس کھینچنا اور کہنا۔۔۔۔ “نہیں”۔۔۔۔۔ اور یہی “نہیں” چھینکیں مارتے ہوئے اور بہتی آنکھوں سے اس وقت کہنا جب سوکھی سرخ مرچوں کو بڑے سے لنگرے میں موٹا موٹا پیسا جاتا۔۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی جھوٹی ہوتی ہیں۔۔۔۔

سردیاں آنے پر پیٹیوں سے رضائیاں اور تلائیاں نکالنا، کچھ کو دھوپ لگوانا، کسی کو ادھیڑ کر روئی نکالنا، دھو کر مشین پر دھنکنے بھیجنا، واپس آنے پر چھت پر لے جا کر، موٹی سی سوئی سے انہیں دوبارہ سینا، اور اس طرح کے دھاگہ اوپر نظر نا آئے، اولاد کو پڑھتے دیکھنا اور خاموشی سے نئی سوئی میں دھاگہ ڈال لینا۔۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی سخت جان ہوتی ہیں۔۔۔۔

لکڑیاں سلگاتے، ان پر توا رکھے، دھڑا دھڑا ہاتھوں سے پیڑا بنا کر، پیڑے کی روٹی بناتے، کچھ کوئلے باہر نکال کر ان پر سالن گرم کرتے، “پہلی روٹی میری” کی ایک آواز سننی، اور پھر اس کے بعد تین چار آوازیں اسی صدا کے ساتھ سن کر، توے سے اترتے ہی انتہائی گرم روٹی کو ہاتھ سے چار حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے، چار اولادوں کے آگے چنگیر میں رکھ دینا۔۔۔۔ یہ مائیں بہت بے حس ہوتی ہیں۔۔۔۔۔

رات کو سونے سے پہلے، سارے دن کے کام کے بعد شل بازوں کے ساتھ، دونوں اطراف بازوں میں ایک ایک بچے کو لئے سورہ فاتحہ اور آیت الکرسی یاد کروانا، سیف الملوک، یا میاں محمد بخش کے دوہے پڑھنا، دو تین بڑے بچوں کو دوسرے بستر پر بھی وقفے وقفے سے چہرہ سہلاتے ہوئے دیکھنا۔۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی نا انصاف ہوتی ہیں۔۔۔۔۔

یہ ظالم، ڈھیٹ، جھوٹی، سخت جان، بے حس اور نا انصاف ماں پتا نہیں آپ کی ہے یا نہیں، لیکن میری ماں ایسی ہی ہے۔۔۔۔ یہ ماں پچھلی کئی صدیوں کا اثاثہ ہے، اگلی نسلوں کو ایسی مائیں نہیں ملیں گی، ہم پتا نہیں ماں کی قدر کر پائیں یا نہیں، لیکن اس ورثے کی قدر ہمیں بالکل نہیں۔۔۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: