تعلیمی ادارے, مزاحمت اور ہود بائی تنازعہ – عثمان سہیل

0
  • 1
    Share

ڈاکٹر ہود بائی کی حالیہ تقریر اور اسے سے پیدا ہونے والے بحث پہ دانش کے سینیئر ایڈیٹر عثمان سہیل کی خصوصی تحریر۔


اقبال احمد صاحب پاکستان سے تعلق رکھنے والی ان معدودے چند شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف علمی اور دانشورانہ حلقوں میں عالم گیر شہرت حاصل کی بلکہ الجزائر کی فرانسیسی استعمار کے خلاف مزاحمتی جدوجہد میں عملی حصہ بھی لیا۔ حیات اقبال احمد کا یہ باب ان کو دیگر قلم کے سپاہیوں میں ممتاز کرتا ہے۔ پروفیسر اقبال نے ویت نام اور کمبوڈیا میں امریکی جنگوں پر کی بھی ببانگ دہل مخالفت کی۔ ان کا نام نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید اور ہاورڈ زن جیسے بائیں بازو کے ممتاز دانشوروں سے جڑا ہوا ہے۔

عثمان سہیل، سینیر ایڈیٹر دانش۔پی کے

چند روز قبل اکادمی ادبیات میں ان کی یاد میں ایک تقریب برپاکی گئی جس کا موضوع تعلیمی ادارے اور مزاحمت تھا۔ غیر تحریری انگلستانی دستور کی طرز پر یہ بھی ایک غیر تحریر شدہ دستور ہے کہ اسلامی تحاریک کو جہاد، لبرل تحریک کو آزادی کی تحریک اور بائیں بازوکی تحریک کو مزاحمت لکھا جائے گا۔ چنانچہ اقبال احمد کی یاد میں منعقد ریفرنس، جس کے مقررین جناب پروفیسر پرویز ھودبائے اورجناب پروفیسر اے ایچ نئیر تھے، کو بجا طور پر تعلیمی اداروں اور مزاحمت Academia And Resistance کا عنوان دیا گیا۔ فکری مناسبت سے مقررین کا انتخاب بجا تھا۔
راقم قومی عادت کے عین مطابق تاخیر سے پہنچا تب تک پروفیسر نئیر کی تقریر اختتامی مراحل پر تھی۔ مقررین نے پروفیسر اقبال احمد کی فکری و عملی زندگی پر روشنی ڈالنے کے علاوہ تعلیمی اداروں میں طلباء کی فکری پرداخت میں تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو پروان نہ چڑھانے پر اساتذہ کی کوششوں میں کوتاہی اور نصاب کی کمیوں و نادرستگیوں کا شکوہ کیا۔ مقررین کی رائے میں نصاب تعلیم میں مختلف سماجی و سائنسی علوم میں مذہبی مواد کی شمولیت سے ریاستی سطح پر طلباء کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنے کی کوشش سے ان کی آزادانہ سوچ و فکر پر قدغن لگ جاتی ہے اور یوں طلباء کے اذہان نہ صرف بدلتے حالات میں نئے خیالات اور تخلیقی اپچ سے عاری ہو جاتے ہیں بلکہ تنگ نظری بھی پروان چڑھتی ہے۔ ازبسکہ راقم التحریر کا درس و تدریس سے باقاعدہ تعلق نہیں چنانچہ اس ضمن میں اساتذہ کے کردار اور نصاب پر براہ راست تبصرہ تو نہیں کر سکتا تاہم باقاعدہ تعلیم کے مختلف مدارج میں ذاتی تجربہ کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہ سکول سے جامعہ کی سطح تک رٹا لگانے اور زیادہ سوال نہ پوچھنے میں ہی کامیابی اور عافیت ہوا کرتی تھی۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں اوائل عمری کے ڈر خوف سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ سو راقم ھذا بھی اپنے تعلیمی کیرئیر کے تجربات کے زیراثر پروفیسر ھودبائے سے ایک مؤدبانہ سوال محض زبان میں لکنت اور اور ٹانگوں میں کپکپاہٹ کے اندیشہ کے باعث پوچھتے پوچھتے رہ گیا کہ پروفیسر صاحب مذہب نے آئن سٹائن کی کریٹیکل تھنکنگ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی نہ ہی پروفیسر عبدالسلام کی فزکس میں تحقیق میں خلل ڈالا تو پھر آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ مذہب کی تعلیم سے ہمارا طالب علم کریٹیکل تھنکنگ میں کامیاب نہ ہوسکے گا۔


مذہب نے آئن سٹائن کی کریٹیکل تھنکنگ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی نہ ہی پروفیسر عبدالسلام کی فزکس میں تحقیق میں خلل ڈالا تو پھر آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ مذہب کی تعلیم سے ہمارا طالب علم کریٹیکل تھنکنگ میں کامیاب نہ ہوسکے گا۔


پروفیسر ھودبائے مختلف سماجی و ملکی معاملات پر اپنی آراء کی وجہ سے اکثر باقاعدہ اور سوشل میڈیا کی توپوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ اس تقریب میں اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے مردان میں مشال خان کے قتل کے واقعہ پر قوم کے متعلق ایک ملامتی فقرہ کیا کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر سے ان پر گولہ باری شروع ہوگئی ہے اور تادم تحریر مختصر وقفوں کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے۔ میری ناچیز رائے میں یہ گولہ باری انتہائی غیر ضروری اور بلا اشتعال ہے۔ایسے ملامتی فقرے نہ صرف ہر مکتبہ فکر کی نجی محافل میں عام ہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت، جس سے ناچیز بھی ہلکی پھلکی وابستگی رکھتا ہے، کے کارکنان مخالف پارٹی کی کسی ضمنی انتخاب میں کامیابی پر سوشل میڈیا پر ارزاں کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ چیز سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس سے پروفیسر ھودبائے پر ملک و ملت اور مذہب سے غداری کے مقدمات کیونکر بنائے جاسکتے ہیں۔ جو واقعہ ان کے اس ملامتی فقرہ کا باعث بنا وہ ایک اندوہناک واقعہ تھا جس میں یہ رجحان اپنی پوری قوت سے سامنے آیا کہ نازک و حساس مذہبی موضوع پر لوگوں کے جذبات کس اونچی حد تک اٹھائے جا سکتے ہیں کہ بغیر آزادانہ تحقیق کے صرف الزام ہی کو نہ صرف حقیقت سمجھ لیا جائے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے فوری طور پر انصاف بھی موقع پر کردیا جائے۔ پروفیسر ھودبائے یا اور بہت سے دیگر دانشور ایسے ہی واقعات کو مذھبی تعلیم کے حوالے سے اپنے خدشات پر مبنی مفروضات کی تصدیق کے لیے پیش کرتے ہیں۔ نتیجتا وہ ایسے رجحانات کا قلع قمع کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں مذھبی تعلیمات کی سماجی تعلیم کے شعبوں میں شمولیت اور سائنسی موضوعات پر مذھبی حوالوں کی تعلیم کی اس بنا پر مخالفت کرتے ہیں کہ اس سے نہ صرف انتہاپسندی کی ترویج ہوتی ہے بلکہ نئے خیالات کیلیے طالب علم کا ذہن بھی تیار نہیں ہو پاتا ہے۔
یہاں وہ لوگ جو شعلہ بیاں ہیں ان کو کچھ توقف کرکے سوچنا چاہیے کہ کیا ان کا محض مخاصمانہ نعرے بازی پر مبنی ردعمل پروفیسر ھودبائے کے موقف کی ہی سیدھی سادی تصدیق نہیں ہے؟ سماج میں ہر وہ فرد زندگی کے مختلف پہلؤں پرکچھ نہ کچھ غور و فکر ضرور کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک رائے بھی قائم کرتا ہے جسے آپ جبر سے دبا تو سکتے ہیں لیکن ختم نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس رائے قائم کرنے کے عمل کو ایک فرد کے کم از کم حقوق میں سے ایک مان لینے میں آخر کیا امر مانع ہے۔ پروفیسر ھودبائے فکری تعصبات رکھتے ہوں گے لیکن کیا یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ہر شخص اپنی رائے کے حق میں تعصب رکھتا اور اس کے حق میں وہی دلائل سامنے لاتا ہے جو اس کی رائے کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر یہ بات ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے کہ پیچیدہ انسانی تعاملات پر مختلف افراد کے تفکرات سے ہمیشہ بہت سی آراء کا سامنے آنا ہی ایک مکالمہ کا باعث بنتا ہے۔ ان پر چراغ پا ہونے کے بجائے اس پر سنجیدہ مباحث بھی ہوسکتے ہیں بشرطیکہ آپ استدلال پر آمادہ ہوں۔ پروفیسر ھودبائے پہلے سائنسدان نہیں ہیں جنہوں نے مختلف سماجی یا سیاسی معاملات پر لب کشائی کی ہے۔ ہمارے نیوکلیائی سائنسدان سلطاں بشیرالدین محمود بھی تو مذھبی امور پر رائے دیتے ہیں اور جنوں کے بارے سائنسی نظریات بیان کرتے ہیں۔ نیوٹن، آئن سٹائن اور سٹیفن ہاکنگ بھی مختلف غیر سائنسی معاملات پر اپنی آراء پیش کرتے رہے ہیں۔ ایک انجنئیر، ڈاکٹر، وکیل اور اکاؤٹنٹ کے پاس سماجی معاملات پر بات کرنے کیلئے کونسا لائسنس ہوتا ہے۔ آخر دیگر دنیا کی طرح سماجیاتی امور پرہم بھی سائنسی تحقیق و تجزیہ کرکے کسی موجودہ نظریہ کے رد و اثبات یا نئے نظریات کی تشکیل کیوں نہیں کر سکتے۔


ہمارے نیوکلیائی سائنسدان سلطاں بشیرالدین محمود بھی تو مذھبی امور پر رائے دیتے ہیں اور جنوں کے بارے سائنسی نظریات بیان کرتے ہیں۔ نیوٹن، آئن سٹائن اور سٹیفن ہاکنگ بھی مختلف غیر سائنسی معاملات پر اپنی آراء پیش کرتے رہے ہیں۔


راقم السطور کا پروفیسر ھودبائے کے بارے پہلے یہ گمان تھا کہ وہ ہماری سوسائیٹی میں مذھب کو تشدد پسندی کا باعث سمجھتے ہیں ازبسکہ ہمارے ہاں اکثریتی مذھب اسلام ہے سو اس بات کا سادہ سا یہ نتیجہ نکالا تھا کہ وہ مذھب اسلام کے خلاف ہیں۔ حالانکہ یہ رجحان تو یہودیوں، بدھوں، عیسائیوں کے علاوہ مارکسیوں اور لبرلوں میں بھی ہے تو وہ اخر کیوں اسلام ہی کے خلاف ہیں۔ مذکورہ تقریب میں انہوں نے بھارت میں گاؤرکھشا جیسی مہم کی بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم ایسے رجحانات کا بھرپورحوالہ بھی دیا۔ یہ میرے لیے ایک نئی بات تھی۔ اس واسطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس تقریب میں شرکت سے مجھے ان کا موقف بہتر طور پرجاننے کا موقع ملا۔ اس سے ایسی تقریب میں جانے کی افادیت معلوم ہوئی جہاں مقررین سے آپ فکری طور پر زیادہ ہم آہنگ یا بالکل متفق نہ ہوں۔ متضاد فکر اور استدلال کو سمجھ کر ہی آپ اپنی فکر تشکیل دے سکتے اور اپنا استدلال پیش کرسکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عدمیت اور وجود ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہمیں کسی کاز کا چیمپئن بننے کی بے جا انانیت کو ایک طرف رکھ کرمعاملہ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جب کوتوال یا مسلح ڈاکو سے واسطہ پڑ جائے تو ہم اپنی بہادری ایک طرف کرکے ایک گونہ جی حضوری کے ساتھ معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی رویہ علمی مباحث میں اپناتے جانے کیوں ہماری انا کے نازک آبگینوں کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔ معاملات کو تشدد کے بغیر سلجھانے کیلیے پرامن طور پر افہام و تفہیم کا راستہ ہمارے لیے کھلا ہے۔ لیکن شاید ایسے مراحل سے پرامن طور پر نبٹنا نسل انسانی کے لیے کبھی ممکن نہ ہوگا۔
ایک جدلیاتی عملی ٹکراؤ کی بنیاد پر زندگی کا رُخ ہمیشہ کی طرح جبری طور پر متعین کرتا چلا آیا ہے اور شاید یہ جبریت ہم پر روبہ عمل آنا ٹھہر چکی ہے۔
آخر میں یہ وضاحت پیش کرتا چلوں کہ راقم السطور اس بات کا قائل ہے کہ معاشرہ میں پرامن بقائے باہمی کیلئے اخلاقی برتاؤ moral conduct سکھانے کیلیے مذہب کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔

About Author

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: