کھیل کچھ بدل گیا، مگر مزہ اتنا ہی ہے۔ محمود فیاض

0

بچپن میں ہم ایک کھیل کے میدان یا کسی قریبی خالی پلاٹ میں اکٹھے ہو جاتے تھے۔ جی ہاں، اس وقت آبادیوں میں خالی پلاٹ ہوا کرتے تھے اور کوئی ان پر قبضہ بھی نہیں کرتا تھا، نہ ان پر مسجد/مدرسہ خودبخود اگ آیا کرتا تھا۔ بس بچے کھیلا کرتے تھے۔
تو ہمارا کھیل ہوا کرتا تھا، ہم کچھ ٹولیوں میں بٹ جایا کرتے، پھر جو بھی کھیلنا ہوتا، فٹبال، کرکٹ، یا کچھ اور کھیلنا شروع کر دیتے۔ کھیل آہستگی سے شروع ہوتا، پھر کسی جوشیلے کی بھرپور شاٹ اور بعد میں اکسانے والے نعرے سے کھیل میں جیسے بجلی دوڑ جاتی۔
اب کھیل میں دونوں طرف سے آوازے بھی لگنا شروع ہو جاتے، جوکھلاڑی اچھا کھیلنا جانتے وہ ہمیشہ اچھے کھیل سے مخالف کا منہ بند کرنے کی کوشش کرتے، مگر باقی جو کھیل میں پھسڈی ہوتے، انکے گلاپھاڑ آوازے چلتے رہتے۔
کھیل اور آگے بڑھتا تو معاملات مزید زاتیات کی طرف جانے لگتے، اور دونوں طرف کے کچھ کھلاڑی ایک دوسرے کی ماں بہن کی لفظی تصاویر کھینچنا شروع کر دیتے۔ چونکہ ان دنوں ماؤں بہنوں کا سیلفی اور ”تو کھینچ میری فوٹو“ والا رجحان نہیں تھا، اس لیے بات بڑھنے لگتی۔
ایک وقت آتا کہ آدھے کھلاڑی کھیل رہے ہوتے اور باقی آدھے پلاٹ کے کنارے لڑ رہے ہوتے۔ بالآخر مغرب ہونے تک کھیل میں ایک ٹولی جیت چکی ہوتی اور ریسلنگ اور دشنام طرازی میں دوسری۔
اب زمانہ بدل گیا ہے،۔۔۔
پلاٹوں پر قبضہ مافیا، یا مدرسہ مافیا کا راج ہے، کھیل کے میدان بھی خال خال ہی ہیں، اور کھیل کے میدان میں جانے والے بھی نا پید۔
مگر کھیل اب بھی جاری ہے،۔۔۔

اب یار لوگ فیس بک نامی پلاٹ میں اکٹھے ہوتے ہیں، جو مارک نامی ایک یہودی لونڈے لپاڑے نے اپنی عیاشی کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔ اب بھی کھلاڑی ٹولیوں کی شکل میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک ٹولی لبرل بن جاتی ہے تو دوسری اسلامسٹ۔ کبھی ایک ٹولی رافضی کہلانے لگتی ہے تو دوسری کچھ اور۔
بحرحال ٹولیوں میں بٹنے کے بعد کھیل شروع ہوتا ہے، اور دونوں جانب سے شاٹس کا سلسل شروع ہو جاتا ہے۔ جن کو دلیل دینی آتی ہے، وہ چاہتے ہیں دلیل کی شاٹس چلتی رہیں، اور کھیل کا کچھ نتیجہ نکلے۔ مگر کچھ لوگ صرف مزہ لینے کے لیے کھیل میں شامل ہوئے ہوتے ہیں، انکو کھیل کا یہ بور طریقہ کچھ اچھا نہیں لگتا، وہ جگت بازی بھی بیچ میں لے آتے ہیں، ایک دوسرے کی ماؤں بہنوں کی ”کھیچ میری فوٹو“ کر کے کمنٹ میں ڈالنے لگتے ہیں۔
پھر کھیل کا رنگ بدلنے لگتا ہے، دلیل والے کنارے لگ جاتے ہیں، اور ماؤں بہنوں والے، ایک دوسرے کی نسلوں اور جائے پیدائیش پر اپنے شکوک کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ اپنی اپنی دلیل کو غلیل میں کھینچ کر مخالف کے ماتھے پر دے مارا جاتا ہے، اور نہ ماننے والے کو ملحد کا خطاب دے کر اسکی پروفائل اپنے ”ڈھونڈو اور مار دو“ والے شعبے کے حوالے کردی جاتی ہے۔
اس کھیل کے آخر میں ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے جیت چکا ہوتا ہے۔ لبرل چند اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو شک کا انجکشن لگا کر خوش ہوچکے ہوتے ہیں۔ اسلامسٹ چند اور دہریوں کو جہنم میں جلنے اور انکی ماؤں بہنوں کے بھاگ جانے کی خوشخبری سنا کر مطمؑن و مسرور ہوتے ہیں۔
واقعی کھیل بہت بدل چکا ہے، مگر مزہ بہت بڑھ گیا ہے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: