گھن چکر: لعنت صرف جہیز ہی نہیں ہے

0

یہ درج ذیل چند جملے پڑھئے — کافی مانوس اور سنے سنے معلوم ہونگے۔ ان سے انکار بھی مشکل ہے – کیوں کہ یہ تمام حقائق ہیں
جہیز ایک لعنت ہے، جہیز کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کے سر میں چاندی اتر آتی ہے، لڑکے والوں کی خواہشات کی لسٹ پوری کرتے کرتے، با پ کی کمر جھک جاتی ہے، بھائی کی عمر گزر جاتی ہے، ماں کی مامتا روٹھ جاتی ہے، لیکن لڑکے والوں کا لالچ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔۔ لڑکیاں بے چاریاں، اپنےخوابو ں کے شہزادے کا انتظار کرتے کرتے یا تو گمنام راہوں کی طرف عازم سفر ہوجاتی ہیں یا پھر جذبات کو آنکھوں میں جذب۔ کرلیتی ہیں۔ ایسی لڑکیوں کی آنکھوں کے گرد جو سیاہ حلقے پڑتے ہیں وہ ان کے ارمانوں کا مرقد ہوتے ہیں، ان کی خواہشیں وہاں زندہ دفن ہوتی ہیں۔۔ یہ حلقے نہیں ان کے احساسات کا اہرام ہوتے ہیں۔ جو کبھی کبھار جنسیت کے مدار میں داخل ہو کر رشتوں کا احترام تک کھا جاتے ہیں۔

مذکورہ بالا باتیں – ہم بارہا پڑھ چکے، سن چکے، مان چکے اور یہ سب درست بھی ہے۔۔ ہمارے سامنے بارہا ایسے کیسز بھی آتے ہیں – یعنی اخبار، سوشل میڈیا یا ٹی وی کےتوسط سے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح بظاہر مناسب رشتہ، جہیز کی لالچ کی وجہ سے ہوتے ہوتے رہ گیا۔۔ یا اگر کوئی لڑکی ناکافی جہیز لے کر سسرال پہنچی تو لگاوٹ کے بجائے ہتک اس کا نصیب بنی۔۔ یا پھر اس کا موازنہ پہلے سے موجود بہووں کے ساتھ محسوس اور غیر محسوس انداز میں اس طرح شروع کردیا گیا کہ وہ لڑکی جو بظاہر نارمل اور خوش باش تھی، آہستہ آھستہ دائرے میں سمٹنے پرمجبور ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ معاملات میں یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ کہ ایسے موقعوں پر مرد اپنی نوبیاہتا کے لیے ہمدردی اور خاموش طرف داری سے زیادہ کچھ نہیں کرپاتا – جبکہ اس لڑکی کو ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی جاندار اور پرزور حمایت کی جائے تاکہ اس کے چہ مگوئیاں کرتے سسرالی کسی حد تک تھم جائیں – یہ کنٹرول کرنا مرد کا کام ہوتا ہے اور نیا نویلا شوہر اکثر ناکام ہوجاتا ہے— آج کل کی نسل میں جو مارکیٹ میں مرد آرہے ہیں –سب تو نہیں لیکن اکثر کیسز میں ان کا رویہ مصالحت پسندی کا ہوتا ہے جو گھگیانے پر جا کر ختم ہوتا ہے – پھر وہ بےچارہ ماں اور بیوی کے بیچ پس کر ایک طرف سے ماں کا لاڈلا دوسری طرف سے بیوی کا غلام جیسے طعنے جھیل رہا ہوتاہے۔۔ اور خوش بھی اسی


اگر جہیز ایک لعنت ہے تو ناشکری ایک ذلت ہے۔ اس کھیل میں دونوں ہی فریق ظالم اور دونوں مظلوم ہیں


میں رہتاہے – میانہ روی اور فیصلے کرنے کی قوت کی سختی کو ایسا گھوٹ گھوٹ کر ملایا گیا ہے کہ یہ حدیں اب سمجھ آنا تو درکنار نظر آنا ہی بند ہوگئی ہیں۔۔
اب آتے ہیں ان خواتین کی طرف جن کا پیا دیس کسی دوسرے شہر یا ملک میں ہوتا ہے
اسطرح کی نوبیاہتا خواتین کے لیے جہیز کا مسئلہ اس وقت پیچیدگی اختیار کرجاتا ہے
جب ان کی ضروریات کا سامان یا جہیز اسی شہر سے خریدا جاتا ہے جہاں وہ بیاہ کرجاتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سامان مثلا روزمرہ کے استعمال میں آنے والی چیزیں مثلا فریج واشنگ مشین مائیکروویو وغیرہ وغیرہ جو کہ اصولی طور پر تو لڑکی کی پسند سے خریدا جانا چاہئے۔ اس کی پسند کو ایک طرف رکھ کر اپنی ذاتی پسند نا پسند کو فوقیت دی جاتی ہے حتی کے لڑکی فرسٹ فلور پر رہتی ہے اور ساس سسر گراونڈ پر رہتے ہیں تو وہ فریج وغیرہ بجائے اوپر جا کر پہلے ہی فلور پر کھل جاتا ہے، کہ جی ٹھیک ہے سب ہی استعمال کرلیں گے تم بھی تو اسی گھر کی فرد ہو وغیرہ وغیرہ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مل بانٹ کر ہی رشتے پنپتے ہیں لیکن کیا دوسرے کی بیٹی جو آپ کی بہو ہوتی ہیے اس کے ساتھ کیا جانے اس طرح سلوک آپ اپنی بیٹی کے ساتھ برداشت کرسکیں گے ؟
چھوڑئیے یہ سب باتیں – اب اس جہیز ایک لعنت والے مقولے کو الٹ کر اگر ہم دیکھیں تو مشاہدہ یہ کہتاہے کہ شادی سے پہلے لڑکی کو بلوغت کے آغاز سے ہی تفریحا ہی صحیح لیکن اس بات پر ثابت قدم کیا جاتا ہے کہ ابھی کام کرو عیاشی اگلے گھر جا کر کرنا، یہ ناز نخرے شوہر سے اٹھوانا، سسرال میں راج کرنا وغیرہ وغیرہ ان سب باتوں میں اتنا مگن کردیا جاتا ہے کہ یہ بات ان کے ذہن سے ہی محو ہوجاتی ہے کہ راج کرنالفظی معنوں میں نہیں بلکہ معنوی یا شعوری معنوں میں ہے – یعنی اچھی تربیت، گرہستی، سگھڑپن، رشتوں کو جوڑ کر رکھنا۔ جیسی چیزوں سے سسرال یا کم ز کم شوہر کے دل پر راج کرنا ہے۔۔ بجائے اس۔ کے یہ سکھا یا جا رہا ہوتا ہے کہ شوہر کی جیب قبضے میں لے کر ارمان پورے کرنا، محبت کے معنوں میں نہیں بلکہ مادیت پرستی کے لبادے میں۔۔ جب اس طرح کی ذہن سازی کے ساتھ لڑکی شادی کی عمر کوپہنچتی ہے تو اس کے دماغ میں شوہر ایک پارٹنر، دکھ سکھ کے ساتھی، راحت کا ذریعہ، محافظ کے بجائے اے ٹی ایم کارڈ کے روپ نقش ہوجاتا ہے۔
پھر ہر آنے والے رشتے کو کیلکولیٹر پہ رکھ کر جانچا جاتا ہے۔۔ خلوص کوچاپلوسی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔ لڑکے والے اگر جہیز کی لسٹ لئے گھومتے ہیں تو لڑکی والے نخروں اور دور بین والی امیدوں اورغیر ضروری خواہشات کی۔۔
اگلے مرحلے میں نکاح کی سادگی کے ساتھ جڑی برکت کو ہفتوں جاری رہنے والی پری اور پوسٹ ویڈنگ تقریبات میں مذا ق بنادیا جاتا ہے۔۔ بے برکتی اور بے حسی کی ایسی انتہا قائم کی جاتی ہے کہ ایک طرف میوزیکل نائٹ یا سنگیت سٹائل ناچ گانا ہوتا ہے تو دوسری طرف دلہن کو قرآن تلے گزارا جارہا ہوتا ہے۔ ورنگی اور کنفیوژن سے عبارت ان تقریبات کے ذریعے جو رشتے بنیں گے – وہ کیسے اور کہاں تک ایک دوسرے کو نبھانے کا سبق دیں گے – اورپھر شادی میں موجود کنوارے لڑکے لڑکیاں ظاہر چکاچوند کے اس طلسم ہوشربا کا شکار ہو بیٹھتے ہیں۔اور شکوہ یہ کہ آج کل رشتوں میں سے خلوص اڑگیا ہے، ناپائیداری در آئی ہے۔۔ ون ڈش کو بے عزتی سمجھا جاتا ہے، جو مہنگی شادی نہیں کرسکتا یا تو وہ کرتا نہیں یا قرض لیتا ہے کہ ناک نہ کٹ جائے نہ نہ کرتے کرتے بھی جہیز کو لاد کر دیا جاتا ہے — لڑکے والے منع بھِی کردیں تو “ہم اپنی خوشی سے دے رہے ہیں ” کہ پردے میں اپنی ناک بچائی جاتی ہے، جہیز کو ایک لعنت قرار دیتے دیتے ہم قناعت، صبر اور کم پر خوش ہونے کا درس دینا بھول چکے ہیں۔۔ شادی دکھ سکھ کا نام ہے کہ جگہ رشتہ اب صرف سکھ کا نام رہ گیا ہے – جہاں سختی آئی وہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔۔
اس طرح کی صورت حال میں جب کچھ نہیں بن پڑتا تو نعرہ لگایا جاتا ہے جہیز ایک لعنت ہے۔
اور تو اور اگر لڑکا چھوٹی عمر یا اپنے کیرئر کے آغاز میں ہی نکاح کے واسطے کسی لڑکی کا ہاتھ ہمت کرکے اس کے ماں باپ سے مانگے یا اپنے ماں باپ سے بات کرے – تو اسے “ابھی چار پیسے تو کما لو – پاوں پر تو کھڑے ہوجاو” ۔ جیسے جملے سننے کو ملتے ہیں – تنگ آکر وہ پیسے کمانے کی ریس میں لگ جاتا ہے – اور پھر جب اس کی جیب میں پیسے آجاتے ہیں تو فطری طور پر اس کی امیدیں اور چوائس لڑکیوں کے معاملے میں مہنگی ہی ہو جاتی ہے – رشتہ رشتہ نہیں تجارت بن جاتا ہے پھر وہ جب کسی قابل ہوتا ہے تو پراڈکٹ یعنی لڑکی بھی مہنگی چاہتا ہے جسے لڑکی والے چاند سی دلہن کہہ کر لڑکے والوں کی برائی کرتے ہیں کہ ان کے تو مزاج ہی نہیں ملتے انہیں تو حور پری چاہئے وغیرہ وغیرہ – لڑکے کو دیکھو تو عمر سے بڑا لگتا ہے لیکن لڑکی کمسن کلی چاہئے – ایسی باتیں کرتے ہوئے لڑکی والے یہ بھول جاتے ہیں کہ پیسے کمانے کی اندھی ریس سب سے پہلا وار ہی چہرے کی شگفتگی اور بالوں کی کثر ت پر کرتی ہے بال جھڑ جاتے ہیں، وجاہت ڈھلک جاتی ہے لیکن پیسہ ضرور کما لیا جاتا اب یا تو آپ امیر داماد منتخب کرلیں یا تازہ جوان۔۔ یوں یہ شیطانی چکر چلتا رہتا ہے۔ کہاں تک گنواوں اس چکر کی آلودگیاں جس کی وجہ سے نکاح مشکل ہوتا جا رہا ہے اور بے راہ روی آسان – شادی کا خرچہ زیادہ اور ناجائز تعلق کے لیے لفاظی اور چند گفٹ آئٹم کافی ہوتے ہیں۔۔ بہرحال یہ موضوع بہت طویل ہے اور وسیع بھی۔ اس کے بہت سے پہلو ہیں جن میں سے کچھ پر ہی روشنی اس تحریر میں ڈالی جاسکتی ہے مختصر یہ کہ اگر جہیز ایک لعنت ہے تو ناشکری ایک ذلت ہے۔ اس کھیل میں دونوں ہی فریق ظالم اور دونوں ہی مظلوم ہیں – یہاں سوچنا لڑکی والوں کو زیادہ چاہئے کیوں کہ عورتوں کی تعداد آبادی کے تناسب میں بڑھتی جارہی ہے اور مناسب رشتوں میں کمی ہوتی جارہی ہے۔۔

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہی ہے کہ لعنت صرف جہیز ہی نہیں ہے۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: