مکالمہ کا کلچر ——– سلمان عابد

0

کسی بھی جمہوری او رمہذہب معاشرہ کی تشکیل میں سماج میں موجود مکالمہ کا کلچر، سوچ، فکر اور فہم ہی اسے طاقت فراہم کرتا ہے۔بالخصوص ایسا معاشرہ جو مختلف خیال، رنگ، نسل، مذہب، کلچر، زبان پر مشتمل ہو وہاں ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور سمجھنے کے لیے مکالمہ کا کلچر ہی اہم کنجی سمجھا جاتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے پاکستانی معاشرہ میں جو انتہا پسندی اور تشدد سمیت جارحیت کا مزاج اختیار کرچکا ہے اس نے ایک دوسرے کے خیالات کے بارے میں عدم برداشت کا کلچر مضبوط کیا ہے۔ہر کوئی اپنے سچ کو ہی اصل سچ مان کر نہ صرف آگے بڑھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی خواہش ہے کہ اس کے سچ کو دوسرے بھی قبول کریں۔ یہ کام وہ دلیل کی مدد سے بھی کرنا چاہتا ہے،لیکن اگر دلیل کے مقدمہ میں اس کو ناکامی ہوتو وہ طاقت کے انداز میں بھی اپنی بات کو منوانا اپنا حق سمجھتا ہے۔
یہاں لو گ بہت زیادہ مذہبی انتہا پسندی کی بات کرتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے کھیل نے معاشرے کو ایک سنگین صورتحال سے دوچار کیا ہوا ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ لیکن یہ جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا بیانیہ ہے یہ محض مذہب کے نام تک ہی محدود نہیں۔ سیاسی، سماجی، لسانی اور علاقائی سیاست کے نام پر بھی جو فکر پروان چڑھ رہی ہے اس میں انتہا پسندی کو فوقیت حاصل ہے۔پاکستانی سماج سے مکالمہ کا کلچر کمزور ہورہا ہے اور اس کی جگہ ایک دوسرے سے ٹکراو کی پالیسی پنپ رہی ہے۔بطور سماج ہمیں قبول کرناہوگا یہ ناکامی کسی ایک طبقہ کی نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہم سب اس ناکامی کے ذمہ دار ہیں جو مکالمہ کے کلچر کو طاقت نہیں دے سکے۔

مکالمہ کے کلچر کی کمزوری کی کئی وجوہات ہیں۔ اول یہ جو معاشرے میں عدم برداشت کا کلچر ہے اس کی جڑیں مضبوط کرنے میں ہماری ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی پالیسیوں کا بڑا عمل دخل ہے۔کیونکہ ہم نے اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے لوگوں میں اتفاق پیدا کرنے کی بجائے ان میں تقسیم کا کارڈ کھیلا ہے۔ایک خاص نقطہ نظر کو بالادست کرنے کے لیے ہم نے دوسروں کو نقطہ نظر کو حقیر جان کر جو آگے بڑھنے کی کوشش ہے اس کا نتیجہ آج بطور ریاست او رمعاشرہ ہم بھگت رہے ہیں۔ دوئم جب بالادست طبقہ بھی طاقت اور بندوق کے زور پر اپنی سوچ اور فکر کو دوسروں پر مسلط کرے گا تو اس کا براہ راست اثر نیچے کے طبقوں یا معاشرے کے دیگر طبقات پر بھی پڑے گا اور وہ بھی وہی کچھ کریں گے جو بالائی طبقہ کرے گا۔ سوئم جب یہ سوچ اور فکر تقویت پکڑے گی کہ ہمیں دوسروں کے جذبات، خیالات اور سوچ کو عزت و احترام کی بجائے ان کو برا سمجھنا ہے تویہ عمل لوگوں میں بڑی خلیج اور تعصب پیدا کرتا ہے۔
ہماری سیاسی، سماجی، مذہبی اور فکری قیادت یا ان میں موجود اہل دانش سمیت سکھانے والے استادوں کی طرف دیکھیں تو ہمیں خاص طو رپر ان میں جو جذباتیت کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ یہ عناصر لوگوں کے مزاج میں ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کے رجحان کو پیدا کرچکے ہیں او راس کا نتیجہ مکالمہ کا قتل ہے۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کا سارا معاشرہ ایک جیسے خیالات اور فکر کے ساتھ نہیں رہ سکتا، اس میں تقسیم ہوتی ہے۔لیکن اس کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے سے ہی انکار کردیں۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں میں بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ نفرت او ر بغاوت کی سوچ مضبوط ہوتی ہے اور وہ اس ردعمل کے نتیجے میں مکالمہ سے گریز کرکے خود ہی اپنی حکمت کے ساتھ مسئلہ کا حل نکالتے ہیں، جس میں طاقت کی حکمت بھی شامل ہے۔
تعلیم پر ہم سب کا اتفاق ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔ کچھ عرصہ تک ہم صرف انتہا پسندی میں مدارس کو ہی ذمہ دار قرار دیتے تھے، لیکن اب تو آپ کی رسمی تعلیمی اداروں سے بھی مکالمہ یا بات چیت کا کلچر ختم ہورہا ہے۔ یہاں حساس موضوعات پر گفتگو کرنا آسان نہیں اور لوگ اب تو برملا ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنا سچ بولا تو ہمیں اس پر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہوگیا ہے کہ جو بھی فرد ریاستی دائرہ کار یا اس کے طے کردہ اصولوں سے باہر نکل کر یا متبادل رائے کے ساتھ بات کرے تو ہم اس کو نہ صرف سنتے نہیں بلکہ اس پر الزامات اور فتووں کی بارش کردیتے ہیں۔
ہر فرد میں جو اس وقت غصہ ہے اس کی وجہ سیاسی، سماجی،معاشی اور عدم انصاف پر مبنی پالیسیاں بھی ہیں۔ لوگوںکو لگتا ہے کہ بات چیت کی مدد سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے، اس کے لیے ہمیں طاقت اور بندوق کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔پاکستانی سماج کو اس وقت تمام تر تعصبات اور تضادات کو پیچھے چھوڑ کر حقیقی معنوں میں مکالمہ کے کلچر کو طاقت فراہم کرنا ہوگی۔ یہ کام ریاست، حکومت اور ادارے سب سے پہلے اپنی پالیسیوں اور ریاستی نظام میں وضع کریں پھر سماج کے دیگر طبقات میں۔ اسی طرح معاشرے کے اہل دانش، علمائے کرام اور فکری محاذپر کام کرنے والے تمام طبقات کو ایک بڑی لڑائی لڑنی ہوگی، کیونکہ مکالمہ کا کلچر ہی پاکستان کی ریاست کو مہذہب اور سب کے لیے قابل قبول ریاست کے طور پر اپنی ساکھ منواسکتا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: