طلاق ۔۔ طلاق ۔۔ طلاق

0

یوں تو اگر پاکستانی معاشرے پر نظر دوڑائی جائے تو مسائل کا ایک انبار نظر آتا ہے۔ لیکن طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ تھوڑی سی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ گزشتہ چند سالوں سے طلاق کی شرح میں تیس فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔۔ بات کچھ آگے بڑھی تو معلوم ہوا کہ جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں طلاق کی, وہاں ایک بڑی وجہ لڑکے اور لڑکی کی تعلیمی قابلیت میں تفاوت کا ہونا بھی ہے۔ یہاں پر یہ امر زیر غور ہے کہ آخر تعلیمی قابلیت کا طلاق سے کیا تعلق؟ تو اس کے لئے کچھ کیسز میں شوہر بیوی کی نسبت زیادہ پڑھا لکھا ہوتا ہے اور بعض کیسز میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔۔ دونوں ہی صورتوں میں جس کی تعلیمی قابلیت زیادہ ہوتی ہے، اسے دوسرے پر نفسیاتی برتری حاصل ہوتی ہے۔۔ جو کہ سارے مسائل پر حاوی ہوکر طلاق کا سبب بنتی ہے۔۔۔ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والوں سے جب اس مسئلے پر بات ہوئی تو انہوں نے بہت سی وجوہات سامنے رکھیں۔ جن کوفردا فردا زیربحث لائیں گے۔۔
طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافے کی پہلی وجہ جو سامنے آئی وہ لڑکی کے ساتھ سسرالیوں کا نازیبا رویہ ہے۔ ہمارےمعاشرے میں لڑکی جب کسی کی بیوی بن کر دوسرے گھر جاتی ہے تو اس کے ساتھ زیادہ تر عجب نازیبا سلوک رکھا جاتا ہے۔ ایسے میں شادی اگر پسندکی ہو تو پھر تو لڑکی کا جینا محال ہوجاتا ہے۔۔ اس پر اگر وہ لڑکے سے زیادہ پڑھی لکھی ہو تو مزید پریشانیاں اور مشکلات منہ کھولے کھڑی ہوتی ہیں۔۔ ادھر لڑکی نے گھر کے کسی معاملے میں مداخلت کی، ادھرلڑکے کے گھر والے طنزو تیر کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر لڑکی کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ اپنا پڑھاکو پن اپنے پاس رکھے۔ بھلے دیا جانے والا مشورہ کتنا ہی صائب کیوں نہ ہو۔ تو ایسی صورتحال کا نتیجہ آخر میں طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے کڑوا گھونٹ بھر کر تسلیم کرنا ہو گا۔۔
دوسری وجہ اگر خوش قسمتی سے لڑکی کی شادی مہذب گھرانے میں ہو گئی اور لڑکی اتفاق سے زیادہ پڑھی لکھی ہوئی تو فطری طور پر لڑکی کو لڑکے پر نفسیاتی برتری ہو گی۔ وہ گھر کے امور سمیت باہر کے معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی۔۔ جسے شوہر اور اس کے گھر والے صرف ایک حد تک برداشت کریں گے۔چونکہ لڑکی زیادہ پڑھی لکھی ہے تو وہ اپنی واضح برتری اور منفرد ہونے کے زعم میں سمجھوتہ کرنے یا تحمل اور برداشت کرنے جیسی نزاکتیں بھول بیٹھتی ہے۔۔ جو کہ ہمارے معاشرے میں عموما دیکھنے کو مل رہا ہے۔۔۔ نتیجتا دونوں کوعلیحدگی جیسا کڑا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔۔
تیسری وجہ جو سامنے آئی وہ ذمہ داریوں سے بھاگنے والے مردوں کے بارےتھی۔ آج کل اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے گریجویشن کر لیتے ہیں۔۔ ماسٹرز کرنے کے بعد وہ عملی زندگی میں قدم رکھ دیتے ہیں۔۔ اور تقریبا پچیس سال سے بھی کم عمر میں عام طور پر گھر والوں کے دباؤ میںشادی کر لیتے ہیں۔ اس طرح کے کیسز میں زیادہ تر مرد شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے۔۔ اور اس میں اگر بیوی کے کم پڑھے لکھے ہونے کا امر بھی شامل ہو تو بات کچھ زیادہ ہی بگڑ جاتی ہے۔۔ کیونکہ معاملہ فہمی نہ ہونے سے ایک دوسرے سے ذہنی ہم آہنگی پروان نہیں چڑھ پاتی۔ تو پھر برداشت،قربانی دینے کا عزم، اور فلموں ڈراموں کے اثرات کے باعث معمولی باتوں پر تلخ کلامی اور نفسیاتی احساس برتری کا زعم رشتے کو طلاق کی نہج تک لے جاتا ہے۔۔۔۔۔
چوتھی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ لڑکا اور لڑکی دونوں برابر تعلیم یافتہ ہیں۔۔ ایک ساتھ ہی گریجویشن یا ماسٹرز کیا۔ جامعہ میں کئی کئی گھنٹے ایک ساتھ گزارنے والے جب شادی کے بندھن کے بندھتے ہیں تو زیادہ تر کیسز میں انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ شائد کہیں غلطی کر دی۔ جامعہ، پارکس اورتھیٹر وغیرہ میں خوش گپیوں میں وقت گزارنے والوں کو عملی زندگی میں چوبیس گھنٹے ساتھ رہنا پڑتا ہے توایک دوسرے کا وجود بھی ناگوار گزرتا ہے۔۔ تب جو چارم شادی سے پہلے دکھائی دیتا ہےوہ شادی ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ باہمی افہام و تفہیم کہیں دور دور تک بھی دکھائی نہیں دیتی۔۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نہ تو لڑکی پوری طرح سے اس رشتے کے تقاضے نبھانا چاہتی ہے اور نہ ہی لڑکا۔۔ اور آخر میں حالات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ باہمی رضا مندی سے طلاق حاصل کر لی جاتی ہے۔
صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کی بات کی جائے تو ایک تحقیق کے مطابق روزنہ بارہ سے سولہ جوڑے طلاق کے لئے قانون چارہ جوئی کرنے کے لئے عدالت کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔۔۔۔
وجوہات تو اور بھی بہت سی ہیں۔۔ جیسے کہ مرد اگر عورت سے زیادہ پڑھا لکھا ہے تو اسے بھی عورت نفسیاتی برتری حاصل ہو گی۔۔ اگر تو اس کی تربیت بہترین ہاتھوں میں ہوئی ہے تو زیادہ چانسز ہوں گے کہ رشتہ پائیدار اور دیرپا ہو گا۔۔۔ لیکن اگر کہیں تربیت میں جھول رہ گیا تو پھر زندگی سے عورت کو یہ کہہ کر نکال دیا جائے گا کہ یہ برابری کا رشتہ نہیں ہے۔۔۔
اور بات یہاں ختم نہیں ہوئی موجودہ دور میں کی لڑکیوں کو ضرورت سے زیادہ اپنے حقوق کا جو علم حاصل ہو گیا ہے وہ بھی گھریلو ناچاقی اور طلاق جیسے قبیح فعل کی ایک بڑی وجہ ہے۔۔۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اولادوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنا، صبر اور برداشت کرنا بھی سکھائیں۔۔۔ اگر ابھی سے اس طرف توجہ نہ دی گئی تو آئندہ نسلیں گھر بسانے جیسی خوبصورت نعمت سے محروم بھی ہو سکتی ہیں۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: