ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا مسئلہ ۔۔۔۔ اعجازالحق

0
  • 1
    Share

اعجازالحق اعجاز ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا دبستان اقبال میں لیکچر تھا۔میں بھی مدعو تھا۔ موضوع تھا کشش ثقل کی لہریں  (Gravitational Waves)۔ لیکچر بہت اچھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بہت عمدہ لب و لہجے میں موضوع سے متعلق معلومات کا دریا بہا رہے تھے۔ مجھے ان کی جس بات نے خاص طور پر متاثر کیا وہ تھی ان کی نستعلیق اردو جسے وہ بہت روانی سے بول رہے تھے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ سلائیڈز بھی بنا کر لائے تھے جن کا وہ برمحل استعمال کررہے تھے۔انھوں نے ایک پیچیدہ موضوع کو جس عام فہم انداز میں پیش کیا اس بات کی وہاں موجود سہیل عمر صاحب نے بھی تعریف کی۔ اس موقع پر میں نے اپنی کتاب “اقبال اور سائنسی تصورات” بھی انھیں پیش کی۔ لیکچر کے بعد سوالات کا سیشن چلا۔ دو ایک سوالات میں نے بھی کئے. ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے بطور ایک ماہر طبیعیات اتنی بڑی کائنات کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کی ہے کیا سر جیمز جینز کی طرح آپ کا ذہن اس کے خالق کی حقانیت کی طرف منتقل نہیں ہوتا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ یہ میرا شعبہ نہیں۔ چند روز پہلے اسلام آباد کی ایک کانفرنس میں ایک تقریر کے آخر میں انھوں نے چند نامناسب الفاظ ادا کیے۔وہ جو کچھ کہ چکے تھے اس جذباتی جملے نے اس پر پانی پھیر دیا۔ اب انھیں چاہیئے کہ وہ یہ الفاظ واپس لے لیں اس سے ان کا بڑا پن ظاہر ہوگا۔

ایک سائنس دان کو جن خوبیوں کا مالک ہونا چاہئے ان میں غیر جذباتی پن ،اعتدال ، غیر شخصی پن (impersonality)، انتہا پسندانہ بیان بازی سے گریز اور توازن شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بحیثیت استاد اور سائنس دان اچھی شہرت کے مالک ہیں اور ہم ان کے ان پہلووں کو ستائش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں نہ الجھیں جن سے وہ متنازعہ ہوتے چلے جائیں ۔ انھیں اپنے شعبے میں رہتے ہوئے ملک وقوم کی خدمت کرنی چاہیے۔ سائنس دان کا میدان تجربہ گاہ ہے۔ اگر انھوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہے تو پھر ہر طرح کے ظلم کے خلاف اٹھائیں۔ بغیر کسی تخصیص کے۔ ایک مشال ہی کیا۔ عافیہ صدیقی بھی تو اس قوم کی بیٹی ہے۔ کشمیر میں جو ظلم کی داستانیں کئی عشروں سے رقم ہورہی ہیں اس پر بھی کبھی لب کشائی کر لیں تو ان کے بارے میں یہ تاثر پختہ ہوگا کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں تخصیص یا انتخابیت کے قائل نہیں۔

آخر میں ایک بات کہ یہ قوم نہ ملاوں کی ہے نہ ملحدوں کی بلکہ یہ اعتدال پسند مسلمانوں کی اکثریت کی قوم ہے جو اپنے مذہب ،اپنی روایات میں دلچسپی رکھتے ہیں، جو ایک خدا کو مانتے ہیں، جو اپنے پیغمبرص سے محبت کرتے ہیں اور جو قائد اور اقبال کا پاکستان چاہتے ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: