ڈاکٹر ہود بھائی کا علمی قد کیسے ناپیں؟ کبیر علی

0
  • 46
    Shares

چونکہ ہود بھائی نے کوئی شے “ایجاد” نہیں کی، پس وہ ایک ناکام آدمی ہیں۔  مگر یہ ایک مغالطہ ہے کہ فزکس کا ہر آدمی چیزیں ایجاد کرتا رہتا ہے۔  کچھ سال قبل تک میں بھی ڈاکٹر صاحب کے بارے یہی سوچتا تھا مگر ایک روز اپنے سطحی خیالات کا اظہار ایک ایسے دوست کے سامنے کر بیٹھا جو گورنمنٹ کالج لاہور سے چار سال فزکس پڑھنے کے بعد  ایک دوسری یونیورسٹی سے ایم۔فل کر رہا تھا۔ اس نے میری کچھ اس انداز سے گوشمالی کی کہ مجھے خود ڈاکٹر صاحب کی ریسرچ کے بارے معلوم کرنا پڑا۔ اب چونکہ پھر ان کے علمی قد کو ماپنے کے لیے بعض دوست ا کٹھے ہو گئے ہیں اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے بعض گزارشات پیش کر دوں۔ امید ہے ہمارے دوست کھلے ذہن کے ساتھ ان گزارشات پہ غور فرمائیں گے اور اس کی تصدیق خود انٹرنیٹ سے کر کے کسی ہم وطن کے بارے اپنی بدگمانی کو کم کریں گے۔   

میں ہیومن ریسورس میں اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی سے ایم۔ایس کر رہا ہوں اور بہت سے پی۔ایچ۔ڈی کے لوگ میرے دوست ہیں، جن کے تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں چھپ چکے ہیں پس میں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ مجھے اندازہ ہے کہ تحقیقی مقالہ کس طرح لکھا جاتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے۔  ہمارے ہاں عام طور پہ ترتیب کچھ یوں ہوتی ہے۔ چار سال کے بی۔ایس کے دوران ہر طالب علم کو  کم و بیش چار درجن مضمون (سبجکٹ) پڑھنے پڑتے ہیں تا کہ وہ اپنے میدان کی بنیادی باتوں سے شناسائی حاصل کر لے۔اس دوران عام طور پہ طلبا سے مشق کے طور پہ ایک آدھ تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتا ہے۔اس کے معیار کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ اگر طالبعلم اپنی تعلیم جاری رکھے اور اچھی تحقیق کرنا سیکھ جائے تو وہ اپنے اس “تحقیقی مقالے” کو چھپاتا پھرتا ہے، شرماتا پھرتا ہے یا پھر اپنی” اعلی تحقیق” کو پرانی یاد سمجھ کے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایم۔ایس /ایم۔فل کا دور آتا ہے۔ اس دوران طالب علم اپنے مضمون کا زیادہ اختصاص سے مطالعہ کرتا ہے۔ اصول تحقیق کے ایک دو مضمون پڑھتا ہے، ایک آدھ برا بھلا تحقیقی مقالہ لکھتا ہے۔ مزید محنت کرے تو یہ مقالہ کہیں چھپ بھی جاتا ہے، مگر کسی اچھی جریدے  میں نہیں۔ خود میرا ایک مقالہ بھی ایک ایسے جریدے میں چھپ چکا ہے کہ جس کانام ہی انٹرنیشنل جرنل آف فلاں اینڈ فلاں ہے۔ اب یہ تو میں جانتا ہوں کہ وہ جریدہ کس قدر “بین الاقوامی” ہے اور خود میرے مقالے کا “تحقیقی” معیار کیا ہے۔ مگر یہ سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ طالب علم پی۔ایچ۔ڈی میں داخلہ لیتا ہے اور تب کہیں محنتی طلبا کے مقالے اچھے جرنلز میں چھپنا شروع ہوتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹی کے ایک طالب علم ان دنوں اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے ہیں اور چند مہینوں میں ان کی ڈگری مکمل ہو جائے گی۔ یہ صاحب تین امپیکٹ فیکٹر مقالے شائع کروا چکے ہیں اور طلبا میں ریسرچ گرو کے طور پہ جانے جاتے ہیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اچھی تحقیق مذاق کی بات نہیں۔

بات کو مزید کھولنے کے لیے میں دو تین نکات مزید بیان کیے دیتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیجئے کہ امپیکٹ فیکٹر کیا ہوتا ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی جریدے میں دو سال میں چھپنے والے مقالوں کی کل تعداد دیکھی جاتی ہے اور پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ تیسرے سال  ان کو حوالے کے طور پہ دیگر بین الاقوامی جرائد کے مقالوں میں کتنی بار درج کیا گیا، اس طرح ایک جریدے کی اوسط نکل آتی ہے اور یہی جرائد کی درجہ بندی یا امپکیٹ فیکٹر ہے، جو ایک عدد کی صورت میں ہوتی ہے اور کسی بھی جریدے کے معیار کے بارے فوری طور پہ معلوم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پہ میرے خاص میدان( یعنی او۔بی اینڈ ایچ۔آر) میں بین الاقوامی معیار کے کل 146 جرائد ہیں جن میں سے سب سے کم امپیکٹ فیکٹر اعشاریہ ایک ہے جب کہ سب سے زیادہ کا ساڑھے پندرہ۔ یہ درجہ بندی ہر سال بدلتی رہتی ہے پس جرائد بھی اسی تگ و دو میں رہتے ہیں کہ ایسے منفرد موضوعات پہ مقالے چھاپے جائیں جنہیں زیادہ سے زیادہ  لوگ حوالے کے طور پہ اپنے مقالوں میں جگہ دیں تاکہ جریدے کی درجہ بندی بہتر ہو۔ اس سلسلے میں بعض دلچسپ واقعات بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پہ ہمارے ایک سینئر کے دو مقالے ایک ہی جرنل نے چھاپنے کے لیے منظور کر لیے، تب اس جریدے کا امپیکٹ فیکٹر اعشاریہ آٹھ تھا۔ مگر منظوری کے بعد اگلا شمارہ آنے سے پہلے ہی نئی درجہ بندی ہو گئی اور خوش قسمتی سے اس جریدے کا امپیکٹ فیکٹر ایک اعشاریہ  سات تک جا پہنچا جو نہایت مسرت کن تھا اور یوں ہمارے سینئر کو چپڑی ہوئی ملیں اور وہ بھی دو دو۔

اب یہ دیکھئے کہ بین الاقوامی جریدے میں چھپنے کا کیا مطلب ہے اور اس کا کیا طریقہ ہے۔ بعض استثنائی ا سکینڈلز سے قطع نظر، بین الاقوامی جریدے میں چھپنے کا مطلب ہے کہ آپ نے یقینا کوئی قابلِ قدر کام کیا ہے جو آئندہ سے انٹرنیٹ کے ذریعے ساری دنیا کے انسانوں کے لیے ( مفت یا تھوڑے سے پیسوں کے عوض) دستیاب ہو گا۔ لوگ، حکومتیں اور ادارے  اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں نیز ہر مقالے میں مستقبل کے لیے بعض خطوط پہ کام کرنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پہ تجاویز دی جاتی ہیں، ان خطوط پہ کام کر کے اسی کام کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور یوں ہر مقالہ، علم کے تاج محل کی عمارت میں ایک خوبصورت اینٹ کا اضافہ کرتا ہے۔  ایک معیاری تحقیقی مقالہ لکھنے کے لیے ایک مخصوص طریق کار اور ڈھانچہ موجود ہے۔  محقق کو اچانک سے چھلانگ لگانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور نہ ہی کسی قسم کی بے بنیاد بات کرنے دی جاتی ہے۔  پہلے سے موجود علم سے آپ کو اپنی دلیل باندھ کے چلنا پڑتا ہے۔ تحقیق کر لینے کے بعد اس کو لکھتے ہوئے فارمیٹ تک طے شدہ ہے اور اس کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے بلکہ فارمیٹ کو جاننا تحقیق کی پہلی سیڑھی سمجھا جاتا ہے اور اس سے نابلد ہونے کو بد تہذیبی گردانا جاتا ہے۔ مقالہ لکھنے کے بعد  اس موضوع سے متعلقہ کسی مناسب جریدے کو بھیجا جاتا ہے اور فقط بھیجنے کے لیے بھی درجنوں سوالات کے جوابات دینے پڑتے ہیں۔ ڈیڑھ دو مہینے کے بعد جواب آتا ہے، پہلی دفعہ بہت کم مقالے منظور کیے جاتے ہیں۔ اگر جریدے کے مدیر کو مقالہ قابلِ اشاعت نظر آئے تو  ریویورز کو بھیجا جاتا ہے جو خود اس شعبے کے ممتاز محقق ہوتے ہیں۔  یہ لوگ بغور پڑھ کر  مناسب ترامیم  تجویز کرتے  ہیں۔ ان تجاویز پہ عمل کر کے مقالہ دوبارہ بھیجا جاتا ہے اور یوں ایک اچھے جریدے میں مقالہ شائع ہوتے ہوتے ایک سے ڈیڑھ سال لگ جاتا ہے۔

اس طویل کہانی سے آپ اندازہ لگا چکے ہونگے کہ بین الاقوامی معیار کے مقالے لکھنا اور شائع کروانا بچوں کا کھیل نہیں۔ اب دوبارہ ڈاکٹر ہود بھائی کی طرف چلتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نظری فزکس کے آدمی ہیں پس ان کا کام ایجادات کرنا نہیں بلکہ تحقیق کرنا ہے۔ ان کے پانچ درجن سے زائد مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔  اکثر ان مقالوں میں دیگر ملکوں کے محققین بھی ان کے ساتھ “ساتھی محقق” کے طور پہ موجود رہے ہیں اور ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنا بذات خود ایک قابلِ فخر بات ہے، جس سے ریسرچ کے لوگ بخوبی واقف ہیں۔ ان مقالوں  کو سینکڑوں بار حوالے کے طور پہ دوسرے مقالہ نگاروں نے استعمال کیا ہے۔  مثال کے طور پہ ہمارے صدر شعبہ کے کل مقالات کو قریبا چار سو بار حوالے کے طور پہ استعمال کیا گیا ہے اور وہ پاکستان میں چوٹی کے محقق مانے جاتے ہیں (آنے والوں برسوں میں یہ تعداد بڑھتی ہی جائے گی)۔ جبکہ ڈاکٹر ہود بھائی کے فقط دو مقالے ہی  کم و بیش چار سو دفعہ حوالے کے طور پہ استعمال ہو چکے ہیں۔  یہ تو فقط ان کے مقالوں کا سرسری سا تذکرہ ہے۔ دنیا کی مشہور جامعات میں کورسز پڑھانا، مہمان مقرر کے طور پہ بلایا جانا، بین الاقوامی شہرت کے حامل مفکرین سے ذاتی تعلقات کا ہونا، یہ سب کس بات کا غماز ہے؟ غالبا ان “فضول” تفصیلات کی ہمارے دوست کوئی نہ کوئی تاویل کر کے اپنے اسی نتیجے پہ ڈٹے رہیں گے کہ ڈاکٹر ہود بھائی ایک ناکام فزکس دان ہیں اور انہوں نے کوئی ایجاد  نہیں کی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے ہم تماش بینی کر کے خوش رہتے ہیں۔ اپنے ہی لوگوں کا مذاق اڑانا اور پھر خود ہی منفی قسم کی تسکین حاصل کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ کاش ہم مثبت سوچ اپنا کر اپنے  قابلِ قدر ہم وطنوں کی حوصلہ افزائی کریں اور خود بھی زندگی میں کچھ قابلِ فخر کام کر کے اس جہان سے رخصت ہوں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: