بے سرو ساماں پناہ گزین اور نفرت کا جوالا ۔۔۔ فارینہ الماس

0

27اپریل 2017ءکے دن جرمن پولیس کو ایک ایسے کیس کا سامنا کرنا پڑا جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کیس تھا ۔ اس کیس کا اہم کردار جرمن آرمی کا ایک 28 سالہ آفیسر،لیفٹیننٹ فرانکو اے تھا ۔یہ نوجوان ایک ایسے دہشت گرد حملے کی تیاری کرتے ہوئے پکڑا گیا جس میں اسے ایک شامی ٹرک ڈرائیور بن کر جرمن ہجوم پر چڑھائی کرنا تھی۔اس سلسلے میں وہ پہلے سے ہی ایک شامی پناہ گزین کا بھیس اپنائے ہوئے تھا۔ تاکہ حملے کا مورد الزام شامی پناہ گزین کو ٹھہرایا جا سکے ۔ وہ ایک کی بجائے دو شہروں میں ایک شامی پناہ گزین کے فرضی نام سے رجسٹر تھا ۔ یہ دو طرح کی رجسٹریشن جرمنی کے صوبہ ہیسے اور صوبہ با ویریا میں حاصل کر رکھی تھی ۔ اسے باویریا ہی کے قصبے میلبرگ میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ فرانکو اس سے پہلے سیکیورٹیز کی نظر میں اس وقت آیا تھا جب آسٹرین پولیس نے اسے ویانا ایئر پورٹ کے ایک ٹوائلٹ میں اسلحہ چھپاتے ہوئے گرفتار کیا ۔لیکن اس وقت کی تٓحقیقات کے بعد اسے آذاد کر دیا گیا تھا ۔ اس کے اس سارے منصوبے میں اس کا ایک شریک 24 سالہ طالبعلم بھی تھا جو اس کے ہی قصبے سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس سارے کیس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ یہ واقعہ کسی عالمی سازش کا حصہ تھا ۔جسے ڈرامائی طور پر اسی واقعے کا تسلسل قرار دلوانے کی تیاری تھی ، جو برلن میں کرسمس کی تقریبات کے دوران ایک تیونسی شخص کے ہجوم پر ٹرک چڑھا دینے سے پیش آیا،جس میں 12افراد کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو فرانکو کی گرفتاری اور اس کے رچائے اس سارے منصوبہ کے منظر عام پر آنا ناممکن ہوتا۔ خود جرمن پولیس اور ایجنسیاں سر جوڑے اس واقعے کے تناظر میں یہ جانچنے کی کوشش میں تھیں کہ ایک سفید فام جرمن نسل شخص جسے عربی تک بولنی نہیں آتی وہ کیسے پناہ گزینوں میں اپنا نام شامل کروا پایا۔اور کس طرح وہ فرانس میں اپنی فوجی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے جرمنی کے مہاجر کیمپ میں اپنی حاضری ممکن بناتا رہا ۔ اس کے بعد جرمنی نے ملک میں موجود تمام تارکین وطن لوگوں کی شناخت، قومیت اور دیگر معلومات کی ازسر نو تحقیقات کا نظام استوار کیا۔ اگریہ کوئی عالمی سازش ہوتی تو اس قدر کمزور نہ ہوتی اسی لئے اسے ایک دوسرے تناظر میں پرکھنے کی رائے ذیادہ مضبوط ہے اور وہ ہے تارکین وطن اور پناہ گزینوں سے مقامی نفرت کا عنصر ۔ اس میں ذیادہ شواہد جرمنی میں پائی جانے والی غیر ملکیوں سے نفرت کے احساسات اور جذبات ہیں۔خود اس کیس کی تفتیش کے دوران فرینکو اور اس کے ساتھی کے موبائل کے پیغامات میں بھی غیر ملکیوں کے متعلق نفرت آمیز خیالات کے شواہد ملے۔

اقوام متحدہ کے” ادارہ برائے پناہ گزیناں” کے مطابق دنیا میں رونما ہونے والی حالیہ جنگوں اور تنازعات کے نتیجے میں گزشتہ کچھ عرصے سے بے گھر افراد کی تعداد اپنی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ 2015ءکے آخر تک ان کی تعداد چھ کروڑ 53 لاکھ سے بھی ذیادہ تھی۔ ایک سال کے اندر 50 لاکھ افراد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ اعدادو شمار کے مطابق دنیا میں ہر 113 میں سے ایک آدمی بے گھر ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد نقل مکانی کا یہ سب سے بڑا سیلاب ہے جسے سمیٹنے میں دنیا ناکام ہے۔ 54 فیصد پناہ گزینوں کا تعلق محض تین ممالک شام،افغانستان اور صومالیہ سے ہے۔اکثریت کا رحجان یورپ کی طرف نقل مقانی کا ہی رہا لیکن ان میں سے ذیادہ تر کی پسندیدہ منزل جرمنی تھا۔ جس کی ایک بڑی وجہ اس کی چانسلر انجیلا مرکل کا پناہ گزینوں کے لئے مشفقانہ رویہ بنا۔ جس نے اپنے ملک میں پناہ گزینوں کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہا عین اس وقت جب دیگر یورپی ممالک نے اپنے ملکوں کی مہاجرین کی آمد کے خوف سے سرحدیں تک سیل کر دیں۔ جرمنی میں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 2015ء تک تقریباً چار لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ یہ پناہ گزین شام، افغانستان، سربیا اور کوسووسے آئے۔ جن کا ذیادہ بہاؤ مشرقی جرمنی کی طرف دیکھنے میں آیا ۔مشرقی جرمنی،جرمنی کا وہ حصہ ہے جو کئی سالوں بعد مشرقی اور مغربی جرمنی کی باہمی دیوار کے خاتمے کے بعد بھی محرومیوں کا شکار رہا ۔انہیں یہ شدید قسم کا احساس ہے کہ انہیں برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا ۔ یہاں بیروزگاری کی شرح بھی دوسرے حصے کی نسبت ذیادہ ہے۔ اس احساس محرومی کے ہوتے ہوئے جب ان پر مہاجریں کا ایک ناقابل برداشت بوجھ در آیا تو ان کے جذبات مہاجرین کے لئے بہتر نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پناہ گزینوں کے خلاف متشدد واقعات میں اس حصے کے نوجوانوں کا خاص کردار رہا ۔یہاں تک کہ ایسے نوجوان بھی ایسے واقعات میں ملوث پائے گئے جن کا رویہ کبھی بھی عام زندگی میں متشدد نہ رہا تھا ۔ پناہ گزینوں سے نفرت، جنسی تشدد، قتل و غارت گری اور نسلی تعصب جیسے سنگین جرائم میں جب 14ممالک کا موازنہ کیا گیا تو جرمنی کو اس میں سرفہرست پایا گیا ۔ایمنسٹی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں پناہ گزینوں پر تقریباً ایک ہزار 31 واقعات ہو چکے ہیں ۔ جن میں سے ایک ہزار حملے ان کے کیمپوں پر کئے گئے۔ کیونکہ ان مہاجرین کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے تو ان حملوں کے پیچھے اسلام مخالف تحریکی عناصر کی سرگرمیوں کو خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا ۔ ایک نقطہء نظر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مقامی جرمنوں کو ان مسلمانوں سے دہشت گردی کے امکانات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے کلچر سے بھی شدید خطرات لا حق ہیں۔ ان کے خدشات میں یہ بات شامل ہے کہ شامی مسلمان چونکہ اپنے اسلامی کلچر کے بہت پابند ہیں اس لئے مقامی جرمن نوجوان ان سے اثر قبول کر سکتے ہیں ۔ خصوصاً خواتین کے حجاب کو اکثر جرمن خواتین پسندیدگی کی نظر سے دیکھنے لگی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی وہ اپنے ان تحفظات کا اظہار مسلمانوں کے متعلق شدید نفرت آمیز تبصروں سے کرتے ہیں ۔ ایسے ہی منفی خیالات کی شیئرنگ کو دیکھتے ہوئے خود فیس بک نے بھی ان تبصروں اور پوسٹوں پر پابندی لگانا ضروری سمجھا۔ کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پاپ فرانسس نے یورپ میں پناہ گزینوں کے کیمپوں نازی دور کے جبری کیمپوں سے تعبیر کرتے ہوئے یورپی ملکوں پر زور دیا کہ وہ پناہ گزین کیمپوں کو قید خانوں کی صورتحال سے باہر نکالیں۔ ایک طرف مغربی دنیا کو وقت کے ساتھ ساتھ وسائل کی کمی کا سامنا ہونے لگا ہے اور دوسری طرف معاشی طور پر کمزور ممالک میں بد امنی، خانہ جنگی اور جنگ کی صورتحال بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لاکھوں لوگ بھوک، بے روزگاری، اور جنگ سے جان بچاتے ہوئے یورپ کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فلاحی اداروں نے اگر ان بے گھر لوگوں کی آباد کاری اور انہیں سہولیات زندگی کی فراہمی ممکن نہ بنائی تو ان میں تناؤ،دباؤ اور محرومی و مایوسی کی بڑھتی کیفیت نا صرف انہیں دہشت گردی کی بھٹی میں جھونک سکتی ہے بلکہ دوسری طرف مقامی آبادی کے دل میں ان کے لئے بڑھتی نفرت انہیں کسی بڑے باہمی تصادم کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے۔کیونکہ اگر ایک طرف ان پناہ گزینوں کو بوجھ سمجھ کر قابل نفرت ٹھرایا جا رہا ہے تو دوسری طرف خود ان بکھرے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے لوگوں میں بھی یہ احساس شدت سے جاگزیں ہے کہ ان کی اس دگرگوں حالت کے اسباب میں کہیں نہ کہیں مغرب کی خود اپنے مفادات کو دوام بخشنے کے لئے اپنائی گئی غلط پالیسیوں کا بھی ہاتھ ہے۔سو اس عدم اعتماد اور رنجشوں کی فضا کی سوگواری میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ مسلم کش پالیسیاں بھی جلتی پر تیل پھینکنے کا کام کر سکتی ہیں۔ لہذاٰ ان نفرتوں کو بڑھاوا دینے کی بجائے انہیں ختم کرنا بہت ضروری ہے۔یہی اقدام عالم انسانی کے بہترین مفاد میں ہے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: