بڑھتی ہوئی پاک افغان کشیدگی — وسیم تارڑ

0

گزشتہ چند روز سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی اور بھاری فائرنگ کے تبادلے سے نہ صرف خطے میں امن و امان کی صورت حال متاثر ہوئی ہے بلکہ مستقل امن کے لیے جاری پاکستانی کوششوں کو بھی شدید جھٹکا لگاہے۔ تنائو کی اس صورت حال کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اہم ہو گیا ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان اپنے باہمی تصفیہ طلب اختلافات اور مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی سیاسی میز پر بیٹھ پائیں گے؛ اب شاید اس کی امیدیں دم توڑتیں نظر آتیں ہیں۔

موجودہ سیاسی صورت حال میں پاکستان اور افغانستان کو تقریبا ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔دونوں ممالک میں دہشت گردی، شدت پسندی اورداخلی عدم استحکام سمیت کئی مسائل مشترکہ ہیں۔کچھ عرصہ قبل افغانستان میں ایک اندرونی سمجھوتے کے بعد اشرف غنی حکومت نے اقتدار سنبھالاتو پاکستان میں اسے گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا تھا۔جواباً افغانستان کی جانب سے بھی کچھ مثبت سفارتی اشارے آئے جس سے پاکستان میں امید پیدا ہوئی کہ شاید نئے افغان صدر کی پالیسی حامد کرزئی کے اس دور اقتدار سے مختلف ہوگئی جس میں تمام چھوٹے بڑے مسائل کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیا جاتا رہا۔ شروع شروع میں کابل دفتر سے آنے والے کچھ بیانات نے اس تاثر کو مزید مضبوطی دی اور پھر افغان صدر کے دورہ پاکستان سے اس بحث میں مزید شدت آئی کہ پاکستان اور افغانستان مل کر باہمی مسائل کو کس طرح حل کر سکتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ہی افغان سر زمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے الزامات نے ماحول خراب کرنا شروع کر دیا۔ افغانستان کے اندرونی عدم استحکام کے بعدپیدا ہونے والی صورت حال نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک خلیج  پیدا کر دی جو وقت کے ساتھ ساتھ اب تک بڑھ رہی ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستانی حساس ادارے کے سربراہ اور بااثرپاکستانی ارکین قومی اسمبلی کا دورہ افغانستان ایک خوشگوار عمل تھا۔ اسے دونوں ملکوں کے درمیان موجود عدم اعتماد اور بحران کی کیفیت کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا تھا، مگربظاہر اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔ بعض سیاسی ماہرین پاک افغان کشیدگی کی ایک وجہ غیر ملکی عناصرکے کردار اور بھارت کے خصوصی اثرورسوخ کو قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن موجودہ صورت حال میں افغانستان میں جاری مسلح رسہ کشی اور داخلی سیاسی بحران کے پہلوکو نظرانداز نہیں کیا جا سکتاجس کا نتیجہ ہمیشہ ہمسایہ ملک پر الزام تراشی اورسرحدی جارحیت کی صورت میں برآمد ہوتا آیاہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے غنی حکومت بھی ہمیشہ ملک میں امن و امان کی جزبز صورت حال اور ہر مسلح کارروائی کی ذمے دارپاکستان کو ٹھہرا کر اپنی ذمے داری سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی اکثر جارحانہ انداز اپنایا جاتا ہے جسے افغانستان کا ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا جا سکتا اور نہ ہی مضبوط حکمت عملی۔ دراصل سرحد اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر جارحانہ اقدامات نے خود افغانستان کے اپنے مفادات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑا بحران بد اعتمادی کی فضا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان کئی مسئلے سنگین نوعیت کے مسائل ہیں جس کے جامع حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بارڈر مینجمنٹ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ 1600 کلومیٹر طویل بارڈر لائن کی بعض جگہوں پردونوں ممالک کا اتفاق ہے اور نہ ہی آج تک سرحدمکمل طور پر سیل ہے۔ غیر قانونی نقل و حمل روکنے کیلئے کوئی بڑا معاہدہ موجود نہیں۔ جب کہ دراندازی کی روک تھام کے لیے بھی کوئی متفقہ میکانزم تیار نہیں کیا جا سکا۔ اس معاملے میں پاکستان حکومت کی عدم دلچسپی بھی ایک حقیقت تھی مگر پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان نے اسے سنجیدہ مسئلہ سمجھنا شروع کر دیا ہے اور اس کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ایک طرف پاکستان میں میں ہمیشہ سے ہونے والے تمام دہشت گرد حملوں کے تانے بانے افغانستان سے جوڑے جاتے ہیں، جب کہ افغان حکومت کا ہمیشہ سے یہ الزام رہا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے ذمے دار پاکستان میں پناہ پاتے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے کبھی پاکستان میں طالبان، حقانی نیٹ ورک اور افغانستان میں سیاسی حکومت سے دست و گریبان مسلح حملوں کی ذمے دار کالعدم تنظیموں کی موجودگی کی بات کی جاتی ہے توکبھی وقت پاکستانی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہونے کی دہائی دی جاتی ہے؛ لیکن دوسری طرف جب بھی پاکستان کی جانب سے بارڈر مینجمنٹ کے لیے کوئی جامع کوشش سامنے آتی رہی ہے تو افغانستان کا کوئی خاص تعاون حاصل نہیں ہو پاتا۔ گزشتہ کچھ عرصے میں افغان حکام کی جانب سے ایسی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ مجبوراْ دونوں اطرف جب بھی کوئی افسوس ناک واقعہ رونما ہو تو بلاتاخیر مکمل طور پر سرحدی بندش جیسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس سے دہشت گردوں کی بجائے عام شہری براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور معاشی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ جاتی ہیں۔ افغانستان ہمیشہ اس کا براہ راست نقصان اٹھاتا  آیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات دراصل سیکیورٹی مسائل سے جڑے ہیں۔ جب تک انہیں باقاعدہ حل نہیں کیا جاتا، دونوں ممالک کے سفارتی معاملات با اعتماد طریقے سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ موجودہ صورت حال میں افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ اور کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ شاید کہیں نہ کہیں مغربی سرحد پر جارحیت پاک بھارت مشرقی بارڈرپر کشیدگی جڑی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور افغانستان کے مابین اس سرد مہری کے خاتمے کیلئے بھارتی تعاون درکار ہو گا۔اس لیے خطے میں امن و استحکام کیلئے جہاں افغانستان کو اپناجارحانہ رویہ ترک کر کے بات چیت اور مکالمے کو موقع دینا چاہیے وہیں پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر آکر دو طرفہ بات چیت بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
بلاشبہ؛ پاک افغان کشیدگی دونوں ممالک میں سے کسی کے مفاد میں نہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میںتمام فریقین سیاسی مسائل کے حل کیلئے سرحدوں پرطاقت کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں، جس سے حالات کی ابتری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔ خطے میں کبھی بھی سیاسی عمل کے مقابلے میں طاقت کے استعمال کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوسکی۔ موجودہ صورت حال میں بھی صرف کابل، اسلام آباد اور نئی دہلی کے سیاسی دفاتر ہی بحران کے خاتمے اور مستقل امن کیلئے کردار ادا کر سکتے ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: