دانشور بننا سیکھیں ——— کبیر علی

3
  • 16
    Shares

اصلی دانشور ہونا قدیم زمانے سے ایک مشکل کام رہا ہے، ساری عمر کھپ جاتی ہے، ازلی و تقدیری سوالات کا سامنا کر تے کرتے روح تڑخنے  لگتی  ہے۔ اس لیے بعض سیانے لوگوں نے ایسے نسخے وضع کر لیے ہیں کہ کوئی بھی شخص جو مناسب درجے کی ذہانت رکھتا ہو، ان نسخوں کے استعمال سے دانشور ی کا التباس پیدا کر سکتا ہے، عوام میں مشہور ہو سکتا ہے، فیس بک پہ ہزاروں فالوورز حاصل کر سکتا ہے۔ یہ نسخہ دراصل  لباس، بول چال، بدن بولی، بالوں کا سٹائل، تحریری و تقریری شعبدوں کا ایک مکمل پیکج ہے جس پر عمل پیرا ہو کر آپ  ایک مناسب درجے کے دانشور بن سکتے ہیں۔

مطالعہ  و علم: سب سے پہلے تو دانشور نظر آنے کے لیے کچھ پڑھی لکھی باتیں ضروری ہیں۔ پریشان مت ہوں، ہم آپ کو ہمہ وقت مطالعے کا مشورہ نہیں دے رہے۔ بس دو چار کتابیں پڑھ لیں  اور ادھر ادھر سے کچھ اصطلاحات سیکھ لیں۔ اصطلاحات کے ساتھ  ان کا محل استعمال بھی معلوم کر لیں (اگرچہ اصطلاحات بے محل بھی استعمال کی جاتی ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ دانشوری کے  اچھے عہدے پہ متمکن ہوں۔ کیونکہ ایسی صورتحال میں آپ کی لایعنی  گفتگو سے بھی معانی کشید کر لیے جائیں گے مگر فی الحال۔۔۔) طالبعلموں کی رہنمائی کے لیے کچھ اصطلاحات ہم ادھر فراہم کیے دیتے ہیں۔ بیانیہ، مذہبی تعبیرات، تہذیبی ورثہ، تہذیبی شناخت، تہذیبوں کا تصادم، ثقافتی یلغار، لبرل ازم، سیکولر ازم، پین اسلام ازم، منطقی طور پہ، عقلی تناظر میں، مابعد جدیدیت، ردِ تشکیل، عصری شعور، اعداد و شمار کی روشنی میں، تحقیقی نقطہ نظر سے، روشن خیالی، مضبوط آواز، انسانی حقوق، نرگسیت، عدم رواداری، تاریخ کا جبر، المیہ، آزادی اظہار، سامراج، ذرائع پیداوار۔۔۔ اس کے علاوہ بھی ہر زمانے کی کچھ چلتی ہوئی اصطلاحات ہوتی ہیں جن پہ نظر رکھنی ضروری ہوتی ہے۔ لیجئے جناب دانشور بننے کا ذہنی پہلو تو مکمل ہوا۔

دلائل: تحریر ہو یا تقریر، دلائل انتہائی اہم ہوتے ہیں۔  اچھے دانشوروں کے دلائل میں قطعیت، تیقن اور حتمیت پائی جاتی ہے۔ لہذا آپ کو بھی چاہیے  کہ کبھی اس انداز سے اپنا موقف  پیش نہ کریں کہ یوں محسوس ہو کہ  آپ  زیربحث موضوع پہ قاری /سامع کو فقط کچھ  نئے راستے دکھا کر فیصلہ اس پہ چھوڑ رہے ہیں۔ اس طرح مخاطب یہ سمجھتا ہے کہ شاید  معاملہ آپ پر واضح نہیں ہے۔ اس کے بجائے آپ کو چاہیے کہ نہایت تیقن کے ساتھ فیصلہ سنائیں چاہے اس کے لیے کتنی ہی سہل فکری سے کام لینا پڑے  یا  فکری و منطقی مغالطوں کی بھرمار ہو جائے۔ آپ کی تحریر و تقریر میں اس طرح کے جملے ضرور موجود ہونے چاہیئں جن میں حتمیت و ادعایت  صاف جھلکتی ہو مثلا:۔ “آپ قرآن و حدیث کے سارے دفتر کنگھال لیجئے،  تاریخ گواہ ہے، میری بات کے جواب میں آپ کو ایک دلیل بھی نہ ملے گی، دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا ” وغیرہ وغیرہ۔ انوکھی باتیں کرتے رہیے، دنیا کو چونکاتے رہیے چاہے اس کے لیے دور از کار تاویلات یا پھر  اعداد وشمار کے بے محل استعمال سے کام لینا پڑے۔ اردو داں طبقے میں دانشوری کے لیے تیار کی گئی فہرستِ اصطلاحات کے انگریزی متبادل بھی معلوم کر لیں  بلکہ ایک ہی جملے میں اگر اردو اصطلاح اور اس کا انگریزی متبادل بھی آجائےتو اس میں بھی چنداں مضائقہ نہیں۔ سادہ لفظوں کی بجائے اردو میں لفظ کے آخر میں” یت” کا اضافہ اور انگریزی میں” ازم “کا اضافہ ضرور کریں۔ اپنے سامع کو کبھی بھی سوچنے کا موقع نہ دیں، یعنی مسلسل بولیں۔ ضرورت پڑے تو  لایعنی باتیں بھی کر جائیں، اگر کسی سامع کی توجہ ادھر جائے گی بھی تو وہ یہی سوچے گا کہ شاید مشکل بات ہے جو ابھی میں سمجھ نہیں سکتا، اتنی دیر میں آپ دوسری “مشکل بات” کہہ چکے ہوں گے۔ آپ اس طرح کی لایعنی باتیں دھڑلے سے کریں مگر شرط فقط یہ ہے کہ اصطلاحات سے بھرپور ہوں اور نہایت اعتماد سے کہی جائیں۔

اب ظاہری پہلو کی طرف آتے ہیں جو سب سے ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ظاہری پہلو اس قدر ناگزیر ہے کہ اگر کوئی سچا دانشور بھی اس سے بے اعتنائی کرے تو چند لوگوں کے سوا کوئی اسے دانشور نہ سمجھے۔ اس لیے اس پہلو پہ خاص طور پہ زور دینا چاہیے۔

لباس: سب سے پہلے لباس ہی کو لیجئے۔ اگر آپ انگریزی داں طبقے میں دانشور نظر آنا چاہتے ہیں تو جینز پہن، ٹی شرٹ چڑھا، منہ میں چیونگم رکھ ایک عدد دانشور  تیار ہو جاتا ہے۔ البتہ اردو داں طبقے میں یہ ذرا ٹیڑھی کھیر ہے۔ یہ طبقہ خود کئی طبقوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس لیے محفل کی مناسبت سے آپ کرتا شلوار سے لے کر سوٹ تک اور شیروانی سے لے کر جینز تک کوئی بھی لباس پہن سکتے ہیں۔

آواز: سننے والے آپ کی آواز سنتے اور بدن بولی دیکھتے ہیں اس لیے ان پہلوؤں پہ بھی خاص زور دیا جانا چاہیے۔ اگر آپ کی آواز بیٹھی ہوئی ہے تو عین عطیہ خداواندی ہے وگرنہ کچھ ہفتوں تک زور زور سے پکے راگوں کا ریاض کریں گلا قدرے پھٹ جائے گا اور آواز بیٹھ جائے گی۔ اوپر کے سروں میں بالکل بھی نہ بولیے، بلکہ کھرج یا اس کے قریب رہنے کی کوشش کیجئے۔ اگر آپ کی آواز کا کھر ج اچھا ہے تو آپ کی بات میں ایک رعب پیدا ہو جائے گا۔ جب بولنا شروع کریں تو  آپ کی آواز میں ایک ایسا ٹھہراؤ ہونا چاہیے جس سے محسوس ہو کہ معاملے کی ہر سطح آپ پہ روشن ہے۔

آرائشِ گیسو: با لوں کے سٹائل پہ بہت زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کئی لوگ دانشور نظر آنا چاہتے ہیں مگر اس طرف دھیان بالکل نہیں دیتے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ انہیں بالکل دانشور  نہیں سمجھتے۔ انگریزی خواں طبقے میں ان دنوں فارغ البال دانشور پسند کیے جاتے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ قدرتی طور پہ گنجے ہونے کا انتظار کرنے لگ جائیں، بس قریبی حجام سے رابطہ کافی رہے گا۔چونکہ آج کل انگریزی فلموں میں بھی گنجے ہیرو دکھائے جاتے ہیں اس لیے انگریزی خواں طبقے میں  گنجے دانشوروں کی پسندیدگی قدرے زیادہ ہے۔ البتہ اردو والے ابھی تک ترقی کی منزل پہ نہیں پہنچے اس لیے وہاں بالوں پہ خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بال بڑے ہوں، یک رنگے نہ ہوں۔ اگر آپ کی عمر چالیس سال سے کم ہے تو بالوں میں  کہیں کہیں سفید دھاریاں آپ کی شخصیت کو اعتبار بخشیں گی اور اگر انتہائی توجہ سے اس طرح سنوارے جائیں کہ لاپروائی سے بکھرے محسوس ہوں تو کیا ہی اچھا ہے (نمونے کے طور پہ استاد تاری خاں یا استاد ذاکر حسین کے بال ملاحظہ ہوں مگر یہ ادا ہر کسی کو کہاں آتی ہے)۔ بالوں کی مطلوبہ طوالت تک پہنچ جانے کے بعد شیشے کے سامنے بیٹھ کر ایک مشق ضرور کریں کہ کس زاویے سے سر کو دوران گفتگو ہلائیں تو بال انتہائی متناسب طریقے سے جھلکورے کھاتے ہیں۔ اسی طرح آنکھوں کے باب میں بھی ایک دو باتوں پہ توجہ دی جانی چاہیے۔  کچھ عرصے کی مشق کے بعد آپ کی آنکھوں میں ایک خمار کی سی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ پلکوں کو  ایک خاص تال میں اٹھانا سیکھ لیا جائے تو نظر میں بھی ایک شانِ محبوبیت پیدا ہو جائے گی جو مخاطب کو گھائل کرنے کے لیے کافی ہے۔

فیس بک کے باب میں: مندرجہ بالا باتوں پہ عمل کر کے  جب آپ دانشور بن جائیں گے تو ایک مسئلہ درپیش ہو گا کہ آخر  فیس بک پہ کیا رویہ اختیار کیا جاوے۔ تو عرض یہ ہے کہ  بہت سے دانشوروں کی دیواروں کا برسوں عمیق مطالعہ کرنے کے بعد ہم نے کچھ باتیں اخذ کی ہیں جو کہ نئے دانشوروں کے لیے مفید ہو سکتی ہیں۔  دوسروں کی دیواروں پہ نہ تو اتنے تواتر سے جائیں کہ آپ کو فارغ سمجھ لیا جائے اور نہ ہی اتنا کم جائیں کہ آپ کو مغرور سمجھ لیا جائے بلکہ میانہ روی اختیار کریں۔  اپنے سے عمر میں چھوٹے لوگوں کے ساتھ سرپرستانہ رویہ رکھیں اور مناسب وقفوں کے بعد ان کی کسی نہ کسی پوسٹ پہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں  کیونکہ آپ کی بہت ساری پوسٹیں تو انہیں چھوٹوں نے شئیر کرنی ہوتی ہیں۔ کسی ایسے مشہور اور  ابھرے ہوئے دانشور کو اپنا استاد بنا لیں جس کے پانچ سات مرید بھی دانش ور ہوں اور  سبھی کے فالورز کی تعداد ملا کر ہزاروں تک پہنچتی ہو۔ یہ استاد ، اپنی استادی کو تازہ رکھنے کے لیے وقتا فوقتا آپ کی تحاریر کو مناسب توصیفی تبصرے کے ساتھ شیئر کر دیا کریں گے مثلا : “قلم توڑ دیا”، “کاش یہ میں نے لکھا ہوتا”، “جیو! تم سے بڑا لکھاری اس وقت پورے پاکستان میں نہیں ہے”، وغیرہ وغیرہ۔ آپ کو نہ صرف استاد کا دستِ شفقت نصیب ہو گا بلکہ ان کے دیگر مریدین یعنی آپ کے استاد بھائیوں کی قائم کردہ انجمن ستائش باہمی  کی رکنیت مفت ہاتھ آئے گی۔ آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ ” من ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو” کی ترکیب کی مار کہاں تک ہے۔  اس باب میں مزید  نسخوں کے لیے مشہور دانشوروں کی دیواروں کو گاہے گاہے دیکھتے رہیے۔

خواتین کے لیے خصوصی رعایت:

اگر آپ کا تعلق صنف نازک سے ہے تو آپ کے لیے خوشخبری ہے کہ دانشور بننے کی راہ میں فقط آپ کا ارادہ حائل ہے۔  آزادی ء نسواں کا رونا رونے والوں کو اس پہ ضرور توجہ دینی چاہیے کہ اگر کوئی دکھوں کی ماری نوجوان خاتون، شاعرہ بن جانے پہ مصر ہو تو ہمارے پاکستانی بزرگ کس طرح اس دکھیاری کی مدد کو لپکتے ہیں، ہر ممکن تعاون کو تیار رہتے ہیں اور بعض اوقات تو اپنی پھرتیوں سے نوجوانوں کو بھی مات دیتے ہیں۔  ہم نے خود کئی بزرگوں کو نوجوان شاعرات پہ دستِ شفقت پھیرتے دیکھا ہے۔ یہ بزرگ،  نوجوان خواتین کے لیے نظمیں و غزلیں لکھتے ہیں جب کتاب کا مواد بن جاتا ہے تو دیباچہ و فلیپ سے بھی نوازتے ہیں اور کتاب چھپنے کے بعد تنقیدی رسالوں میں مضمون بھی شائع کروا دیتے ہیں اور یہ سب کس لیے؟ فقط اس لیے کہ کسی معصوم دوشیزہ کا دل نہ ٹوٹ جائے۔ اللہ اللہ دنیا میں کتنی قومیں ہوں گی جنہیں ایسے شفیق بزرگ دستیاب ہوں۔ خواتین کی حوصلہ افزائی میں ہمارے نوجوان بھی ہیٹے نہیں رہتے۔  کوئی خاتون فیس بک پہ  کوئی لایعنی جملہ بھی لکھ دیں تو ہمارے نوجوان داد سے چھتیں اڑا دیتے ہیں، ایسے ایسے معانی تلاشتے ہیں  کہ مجھ سا عامی تو جھوم جھوم جاتا ہے۔ ایسا خلوص دنیا میں اور کہاں ہے؟ پس اے گروہِ صنفِ نازک! تمہیں مبارک ہو کہ  تم اگر دانشوری کا عزم کر لو تو  ہر طرف شجرِ سایہ دار  تمہیں خوش آمدید کہنے کو ترس رہے ہیں، شرط فقط نیت اور پہلا قدم ہے۔ اس کے بعد تمہیں خود بھی پتہ نہ چلے گا کہ کب تم دانشوری کے منصبِ اعلی پہ فائز ہو گئیں۔

لیجئے جناب! ہمارے دامن میں جو کچھ تھا وہ آپ کے سامنے الٹ دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دانشوروں کی تحریروں اور تقریروں کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد کچھ مفید باتیں آپ خود بھی اخذ کر سکتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ  ہمارے تھوڑے لکھے کو زیادہ جانیں گے اور جلد اپنے دانشور بن جانے کی خبر ہم تک پہنچائیں گے۔

اس موضوع پہ یہ مضمون بھی ملاحظہ فرمائیے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. نعمان علی خان on

    بہت دنوں بعد اتنی عمدہ مزاحیہ تحریر پڑی۔ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ آپ کی مزید تحریروں کا انتظار رہے گا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: