تیرا، میرا، اِنکا، اُنکا اور اصلی سچ: قصہ ہود بائی کی تقریر کا

2

میرا سچ جو میں نے دیکھا اور سنا
اِن کا سچ جو انکی ضرورت نے اِن کو دکھایا اور اُن کو سنایا
اُن کا سچ جو انکی ضرورت نے اُن کو دکھایا اور اِن کو سنایا
اصلی سچ جو تیری میری، اِن کی اُن کی سماعت و بصارت کے حاصل جمع اور اسکی حد سے آگے بھی ہے۔

بات کہاں سے شروع ہوئی کہاں جا پہنچی یہ دیکھ کر حیرت و استجاب میں ہوں۔ کچھ دہائیاں ادھر کی بات ہے کہ کہیں مغربی (امریکی) ذرائع سے یہ خبر اچھالی گئی
“Pakistan worse than Afghanistan and Iraq”
 “پاکستان عراق اور افغانستان سے زیادہ بری جگہ ہے” یہ امریکی صدر جارج بش اول کے دور افغانستان و عراق وار کے کچھ عرصہ بعد کی بات ہے۔ تب پاکستان نسبتاََ ایک پرامن ملک تھا اور یہاں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس وقت ہم سنتے تھے عراق میں دھماکہ میں سو پچاس مارے گئے۔ افغانستان میں طالبان اور غیر ملکی افواج کے تصادم میں ہلاکتیں ہوئیں وغیرہ۔

تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کشت و خون کا بازار گرم ہونے جا رہا ہے۔ جو ہوا اور ہم سب نے دیکھا بھگتا اسے دہرائے بنا میں سوچ رہا ہوں:-

یہ تو ہماری میراث تھی ان امریکی ولیوں کے پاس مستقبل میں دیکھنے کی صلاحیت کہاں سے آگئی؟
کیا سچ میں انکی نظریں حالات پراور انگلیاں بیمار پاکستانی معاشرہ کی نبض پر تھیں؟
جب مندرجہ بالا یہ بیانیہ داغا گیا اس وقت کیا پاکستان کے حالات تیزی سے خرابی کی طرف رواں تھے یا ایسا طے کر لیا گیا تھا؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد برصغیر پر انگریز کی گرفت کمزور ہوئ تو دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحاریک کی طرح یہاں بھی تحریک آزادی نے زور پکڑا۔ دونوں بڑی قوموں نے مل کر اور بعد میں اپنے اپنے تئیں اپنے لیۓ آزاد ریاستوں کا مطالبہ و جد و جہد کی۔

ہندو اکثریت کے مقابل اقلیت اور ماضی کی حکمران مسلم اکثریت نے اپنے لئے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا تو ہندوں اور انگریزوں کی مخالفت کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے اندر سے ایک طبقہ کی مخالفت کا سامنا تھا۔ یہ طبقہ کوئ اور نہیں اسلام کی اشاعت و ترویج پر معمور اسلامی جماعتوں پر مشتمل علماء کرام کا تھا۔ انکے پاس اپنے موقف میں بہت بہتر دلائل ہونگے لیکن آج مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں :-

علامہ محمد اقبال کی سوچ درست تھی ؟
محمد علی جناح اور انکے ساتھیوں کی جد وجہد غلط تھی ؟
یا وہ علماء مستقبل بین تھے کہ نئے ملک میں انہیں فساد کی بو آرہی تھی۔ اپنے مدارس کے بچوں کا نیٹو اور پھر اپنی فوج کے ہاتھوں مارا جانا نظر آرہا تھا۔ اپنے پسماندہ بچوں کا اپنے ہم مذہب لوگون پر خودکش بمبار بن کر پھٹنا نظر آرہا تھا ؟

اس دنیا میں آنکھ کھلتے ہیں انسان پر علوم و اسرار کا در وا ہو جاتا ہے۔ پھر جب شعور کی آنکھ کھلنے لگتی ہے تو وہ جستجو کے ہاتھوں مجبور ہو کر جانی انجانی جگہوں پر بھٹکتا پھرتاہے۔ یہ ہر جوان ہوتی فرد کی کہانی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد موجود متحرک اور خوشنما ناولٹی کی طرف کھنچتا ہے۔ ایک وقت تھا جب شعلہ بیان مقرر اور انکی باتیں لبھاتی تھیں پر مطمئن نہ کرتی تھیں۔ بہت سنا پر سمجھ نہیں آیا۔

پھر صوفیا کے ڈیرے اپنی اور بلانے لگے۔ سینہ گزٹ کے بل پرمشہور ہونے والے “اللہ والے” اللہ اور اسکی مخلوق کے ساتھ دھرو کرتے بھی دیکھے۔

ایسے میں چند معتدل مزاج پڑھے لکھے علماء بھی حق کا پرچار کرتے آئے۔ اور یہ لوگ کسی نہ کسی فرقہ کی نمائندگی کے باوجود اللہ کو اپنی ترجیح اول مان کر انسانیت کی فلاح کے داعی ملے۔ جنکے ہاں محبت ہی محبت نظر آئی، نفرت یا مایوسی کبھی نہیں۔

آپ سوچ رہے ہونگے عقل کے اندھے کو فلسفی، سانئسدان، سیاستدان، ماہرینِ معاشیات و معاشرت اور انسانی حقوق کے علمبردار کیوں نظر نہیں آئے۔ ارے آئے ناں بہت سارے نظر آئے بلکہ آج کل تو وہی ہر طرف نظر آتے ہیں۔

ابھی ایک دن چھوڑ کے پچھلے دن کی بات ہے۔ ایک جگہ سو سے زیادہ روشن خیال، حاضر جواب، انسان دوست عالم فاضل لوگ جمع تھے۔ جمع ہونے کی وجہ تو معلوم نہیں لیکن مذاکرہ کا موضوع تھا “اکڈیمیا اور مزاحمت” مجھے بھی بھنک پڑ گئی۔ سو میں بھی جا پہنچا۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ کچھ بالکل ایک جیسے اوپر سے مسکراتے اندر سے مغموم چہرے ہیں (بجا طور پر علم انسان کو جہاں مغموم کرتا ہے وہیں اسے غم میں مسکرانا بھی سکھا دیتا ہے)
ایک بے چین سکوت ہے۔ جیسے موت کے بعد یا اسکے آنے سے کچھ دیر پہلے کا سکوت ہوتا ہے۔ ایک انجانا خوف ہے۔ گھٹن ہے۔

ایک اچھی بات البتہ یہ اچھی دیکھنے کو ملی کہ پروگرام تقریباََ وقت پر شروع ہوا۔ منتظم نے مذاکرہ کی تمہید باندھی اور آنے والے مقریرین کی متوقع تقاریر کا تعارف کرایا۔ مجمع میں موجود اذہان کی نمائندگی کرتے ہوئے کچھ بہت اہم سوالات بھی مقررین کے لئے پیشکی رکھ چھوڑے۔

مقریرین بھی سائنسی میدان کے ماہر گورنمنٹ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر حضرات محترم پرویز ہود بھائی اور محترم جناب اے ایچ نیئر تھے۔ جنکو منتظم کے سوالات تو یاد نہ تھے البتہ انہوں نے اکڈیمیا کے مزاحمتی کردار کی کمزوری کے اسباب بیان کیئے۔

اس دوران ایک دو بار سٹیج کے عقبی دروازہ کو بے احتیاطی سے کھولنے بند کرنے سے جو آوازیں پیدا ہوئیں اس سے سامنے بیٹھے کچھ لوگوں کے چہروں پر خوف کی پرچھائیاں صاف نظر آئیں۔ شاید موجودہ حالات میں یہ فطری تھا۔ خیرجو کچھ ہوا وہ بہت سوچ سمجھ کر ہوا۔ پروگرام یقیناََ اپنے اہداف پورے کر گیا ہوگا۔


میں کہ ایک عام پاکستانی ہوں۔ میرا المیہ یہ ہے کہ مجھے رائٹ اور لییفٹ والے غیر جانبدار نہیں دیکھ سکتے۔ انہیں میری جسمانی اور روحانی ضروریات سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں میرے مرنے جینے سے بھی کوئ غرض نہیں۔ وہ اسے بھی کیش کراتے ہیں اپنے اپنے انداز میں۔


احقر کو علم نہیں اہداف کیا تھے۔ لیکن وہ اس سوچ کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوا تھا کہ مختلف الخیال لوگوں کے مابین ایک مکالمہ ہوگا۔ موجود دگرگوں حالات سے نکلنے کی سبیل پر بات ہوگی۔ جمود، ظلم و ناانصافی اور عالمی تناظر میں ہمیں درپیش چلینجز کے حوالہ سے اکڈیمیا کی نااہلی کے اسباب ڈھونڈے جائیں گے اور اس کے موثر کردار پر عملی تجاویز پیش ہونگی۔ باقی شرکاء کا معلوم نہیں لیکن مجھے ذاتی طورپر مایوسی ہوئی۔ اور اس کا اظہار میں نے سوشل میڈیا پر ایک سٹیٹس اپ ڈیٹ کی صورت میں کر دیا۔ پرویز ہود بھائی کی تقریر میں بطور اکیڈمیا کے نمایندہ کے غیر ضروری جذباتیت کی نشاندہی کردی۔ بس پھر کیا تھا لیفٹ رائٹ سے اتنی گولہ باری ہوئی کہ اللہ کی پناہ۔ لیفٹ والے مجھے رائٹ کا جاسوس اور رائٹ والے لیفٹ کا نمائندہ سمجھ کر مار رہے ہیں۔ میں کہ ایک عام پاکستانی ہوں۔ میرا المیہ یہ ہے کہ مجھے رائٹ اور لییفٹ والے غیر جانبدار نہیں دیکھ سکتے۔ انہیں میری جسمانی اور روحانی ضروریات سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں میرے مرنے جینے سے بھی کوئ غرض نہیں۔ وہ اسے بھی کیش کراتے ہیں اپنے اپنے انداز میں۔ انہیں تو اپنے اپنے نظریہ سے لگاو ہے یا اپنے اہداف کے حصول کا جنون۔

میں سوچ رہا ہوں کہ:-

سچ کیا ہے؟
یہ ایک انسان میں اتنے تضادات کیوں ہیں؟
وہ جو کہتا ہے کرتا کیوں نہیں؟ دوسروں کو عدم تشدد اور برداشت کا درس دینے والے خود یہ سبق کیوں بھول جاتے ہیں؟

نہ جانے کیوں کسی نامعلوم شاعر کی یہ چھوٹی سی نظم یاد آرہی ہے

سنو ہمدم
بہت سے ڈگریاں لے کر
ہنر پر دسترس پا کر
نصابِ چاہتِ دل کے
چمکتے لفظ آنکھوں سے
اگر پڑھنے سے قاصر ہو
تو۔۔۔۔ !
ان پڑھ ہو

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. زبردست ۔اصل مدعا بہت ہی کمال ہے کہ نظریاتی شدت پسند اعتدال کی راہ میں ہمیشہ ہی “روڑے” اٹکاتے ملیں گے۔انکے مسائل میں “مسائل” شامل نہیں بلکہ اپنے نظریات کے بالکل اندھا دفاع کرنا ہے ۔اس دوران جو ایک اعتدال پسندانہ سوچ لیکر آگے بڑھنے کے دعوے کے بجائے عملی کام کرے گا وہ ان کی نظر میں “کافر” کیونکر نا ہوگا۔۔۔۔۔؟

  2. نعمان علی خان on

    ارشد بھائی بہت بولڈ اور نیوٹرل تبصرہ ہے آپ کا۔ دل کھول کے رکھ دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ اپنی کسی ذاتی یا صحت سے متعلق صورتحال سے بھی گذر رہے تھَے لیکن آپ کی تحریر سے لگتا ہے کہ آپ کو اپنی ذاتی مشکلوں کا دوستوں کو احساس نہ ہونے کا شکوہ بھی ہے۔ بہر حال ایسا کچھ بھی ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی، میں اپنی ایسی کسی بھی بات کی، جس سے آپ کو صدمہ ہوا ہو، دل کی گہرائی سے، آپ سے معافی مانگتا ہوں۔
    آپ نے لکھا ہے” لیفٹ والے مجھے رائٹ کا جاسوس اور رائٹ والے لیفٹ کا نمائندہ سمجھ کر مار رہے ہیں”۔ گو آپ کی اس بزلہ سنجی پر میں اپنی ہنسی پر قابو نہیں پا سک رہا ہوں لیکن بہت سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ آپ کی جانب کسی نے میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھا، مارنا تو دور کی بات ہے۔ آپ کی طرف تو لوگ آتے ہی احترام کے ساتھ ہیں۔ خوش رہئیے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: