کیا ہندوستان کی “بلقیس بانو” کو انصاف مل گیا؟ فارینہ الماس

0

3 مارچ 2002 کے گجرات فسادات کا آغاز گودھرا کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک ٹرین کی بوگی کو آگ لگائے جانے کے واقعہ سے ہوا۔اس آتشزدگی میں تقریباً 59 ہندوؤں کی موت ہو گئی۔ ہندو انتہا پسندو ں نے اسے ہندوؤں پر حملہ قرار دیتے ہوئے مسلم کش فسادات کا آغاز اپنے پاگل پن کے اس نظریئے سے کر دیا کہ ” مسلمان جہاں نظر آئے اسے کاٹ دو”۔قتل و غارت گری،بے قصور عورتوں کی عصمت دری اور جلاؤ گھیراؤ کا ایک بازار گرم ہو گیا۔امن اور شانتی کو نفرت اور نسلی تعصب کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ہندوؤں کو بربریت پر اس طور اکسایا گیا کہ انہوں نے اپنی ہی بستیوں اور دیہاتو ں میں آباد مسلمان ہمسائیوں کے گھر بار جلا کر راکھ کر دیئے۔ایسے ہی کچھ ہندو بلوائیوں نے 19 سالہ حاملہ ایک ماں بلقیس بانو کے سامنے اس کی کمسن بچی کو پتھر پر دے مارا اور اس کے سر کے ٹکڑے کر دئیے۔ اسے اور اس کی ماں کو ایک دوسرے کے سامنے ایک گینگ کی شکل میں عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔انتہائی بے دردی سے اس کے خاندان کے کل 19 افراد کو مار ڈالا۔یہ بھارت کی کسی آرٹ یا پر تشدد فلم کے سین نہ تھے بلکہ ایک ایسی حقیقت کے مناظر تھے جو کسی جیتے جاگتے انسان سے اس کے حواس چھیننے، تہذیب کی بنیادوں پر جینے والے معاشروں کی ہیبت ناک تصویر کو عریاں کرنے اور انسانیت کو خون کے آنسو رلانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کمسن لڑکی اپنے حواس میں رہی۔۔۔اس کا دل اور دماغ اپنی شدت غم کو کم کرنا چاہتے تھے لیکن یہ اسی صورت ہو سکتا تھا جب وہ اس واقعے کے مجرموں کو اپنے کئے پر سزا دلوا پاتی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی جان دے دینے یا غم میں گھٹ گھٹ کر مر جانے کی بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ وہ تگ و دو کرنے لگی۔پولیس میں رپورٹ لکھوانے گئی تو اسے الٹا ڈرایا،دھمکایاگیا۔ انصاف کے حصول میں اس کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ گجرات کی سرکار تھی جو اس تمام تر واقعے کے غنڈے نریندر سنگھ مودی کے ہاتھوں میں تھی۔ اس لئے ان مجرموں کو پشت پناہی ملتی رہی۔ وہ سرکار کے ایماءپر بلقیس بیگم کو موت سے ڈراتے رہے۔ لیکن وہ تو پہلے ہی اپنا سب کچھ گنوا چکی تھی اب مذید کسی شے کے کھونے کا خوف نہ تھا اسے۔ وہ ڈٹی رہی،انسانی حقوق کی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے اداروں نے اسے حوصلہ اور ہمت دی، اس کے ساتھ کھڑے ہوئے،اس کی آواز میں آواز ملائی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو گجرات سے نکال کر ممبئی کی سپیشل کورٹ کو شفٹ کرنے کا حکم جاری کیا۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے سپیشل کورٹ کے حکم پر گرفتاریاں شروع کیں۔ تمام تر ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے گیارہ مجرمان کو سزائیں بھی ہوئیں۔لیکن ان سزاؤں پر عمل درآمد ر رکوا لیا گیا۔ پندرہ برس تک یہ کھیل جاری رہا۔مجرمان پیرول پر رہا ہوتے رہے اور بلقیس بانو کو ڈراتے دھمکاتے رہے۔ لیکن بلقیس نے ان کی دہشت کو خود پر طاری نہ ہونے دیا۔آخر کار پندرہ سال بعد سپریم کورٹ نے بلقیس بیگم کے ساتھ ہوئے ظلم کی داد رسی کرتے ہوئے اسے انصاف دے دیا۔ اور مجرموں کو عمر قید کی سزا دے دی۔اس کیس میں ان پولیس افسران کو بھی سزا ہوئی جو ملزموں کو پشت پناہی دہتے رہے اور تمام تر ثبوتوں کو تلف کرنے میں جتے رہے۔

گجرات کے فسادات 1947کے ہندو مسلم فسادات کے بعد سب سے ذیادہ ہلاکت خیز اور غیر انسانی فسادات تھے۔ جن کے دوران مسلمانوں کو بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کی املاک جلا کر راکھ کر دی گئیں۔ ہزاروں عورتوں کی عزتیں پامال کر کے انہیں زندہ جلا دیا گیا۔ بچوں،بوڑھوں تک کو اس ظلم سے بخشا نہ گیا۔ ایک ہزار لوگوں کو ان فسادات کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ خود انسانی حقوق کی بھارتی اور عالمی تنظیموں کے مطابق “یہ فسادات دراصل مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے برپا کئے گئے۔ اور ان کے درپردہ حکومت کی اپنی رضامندی شامل تھی۔ اسی لئے امن وامان کے لئے ریاست کی مشینری کو استعمال میں لایا ہی نہیں گیا۔ “گویا پولیس بذات خود ان فسادات میں بلوائیوں کا کردار ادا کرتی رہی۔ ان فسادات میں گجرات کے پوش علاقوں کے مسلمانوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ حتٰی کہ بھارت کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ا ن کی بیٹی نسرین کا مجرموں کو سزا ہونے کے بعد یہ بیان سامنے آیا کہ ” چودہ سال کے انتظار کے بعد چھوٹے موٹے مجرموں کو تو سزا دے دی گئی لیکن ان لوگوں کو بچا لیا گیا جو اس قتل عام کے پیچھے تھے۔ بلکہ ان کی ترقی ہو گئی، انہیں حکومتی عہدے عطا کر دئے گئے۔ ” وہ یقیناً درست فرما رہی ہیں۔کیونکہ اس واقعے کا سب سے بڑا مجرم آج بھارت کی وزارت عظمیٰ سنبھالے ہوئے ہے۔احمد آباد دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ایک ہندو اکثریت والا علاقہ اور ایک مسلم اکثریت والا علاقہ۔کسی بھی مسلمان کو ہندو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں۔ حالات تو شاید نارمل ہو چکے ہوں لیکن نہ تو دلوں کی دراڑیں مٹ سکیں گی اور نہ ہی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی تلافی ہو سکے گی۔ جب کہ اس ٹرین کا سارا واقعہ خود گواہین کے بیانات نے ہی ایک ڈھونگ قرار دے دیا۔یہ اصلیت کھل کر سامنے آگئی کہ ان تمام تر فسادات کے پیچھے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ غنڈوں اور نریندر مودی اور اس کی جماعت کی سازش شامل تھی۔مسلمانوں کو سبق سکھانے اور سیاسی طور پر ہندو اکثریت کی حمایت لینے کے لئے یہ منصوبہ بندی کی گئی جس کے تحت سابرمتی ایکسپریس کی ایک بوگی جلا کر ہندوؤں کے جذبات بھڑکائے گئے۔ پھر اسی نفرت انگیز ماحول کو بڑھاوا دینے کے لئے ہندو بلوائیوں کو لاٹھیوں،تلواروں،پٹرول اور دیگر ہتھیاروں سے لیس کیا گیا۔ جنہوں نے ظلم و بربریت کی مثالیں بے گناہ مسلمانوں کو زندہ جلا کر اور ان کے سر کاٹ کر قائم کیں۔ لگ بھگ چار ہزار مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اموات کے سرکاری ریکارڑ چھپائے گئے۔ میڈیا کو کوئی خبر نشر تک کرنے کی اجازت نہ تھی۔ ایک انڈین انٹیلی جینس اہلکار سنجیو بھٹ نے ان فسادات کا مآخذ مودی کو قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپنا یہ بیان ریکارڈ کروایا کہ “مودی نے پولیس افسران کی بھری میٹنگ میں کہا،کافی عرصے سے گجرات کی پولیس مسلمانوں اور ہندوؤں کے خلاف ایکشن میں توازن رکھ رہی ہے مگر یہ وقت اب مسلمانوں کو سبق سکھانے کا ہے” ان فسادات کے ذمہ دارا ن میں سے کچھ کو سزائیں ہوئیں اور ذیادہ تر کو بری کر دیا گیا جن میں سے ایک نام نریندر مودی کا بھی تھا۔ بلقیس بانو کے کیس میں جرم میں شریک افراد کو تو سزا دے دی گئی لیکن جرم کو تشکیل کرنے والے بری الزمہ ہی رہے۔ نفرت اور ظلم کی پشت پناہی کرنے والا وہ مکروہ کردار جس نے کئی ہزار مسلمانوں کو مروایا اور تا حال گائے تنازعے کو ہوا دے کر مر وارہا ہے۔جس نے اپنے غنڈوں کو مسلمان بچیوں کی عصمت دری کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور پھر ان کی پشت پناہی بھی کرتا ہے۔ وہ تو بھارت کی راج دھانی پر بیٹھا ساڑھے سترہ کروڑ مسلمانوں کے بے بس جسموں پر ہندو بلوائیوں کے نیولے اور بچھو چھوڑ کر خود نیرو جیسے چین کی بانسری بجا رہا ہے۔ تو کیا ان 17 کروڑ میں سے بلقیس بانو جیسی لاکھوں مظلوم عورتوں کو واقعی انصاف مل گیا۔۔۔۔۔؟ٓ

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: