احترام رمضان اور قانون سازی ۔۔۔۔۔ عتیق بیگ

0

میرے کافی دوست پاکستانی ہجوم کو ایک قوم مانتے ہیں۔ اور قوم بھی وہ جو مذہب کے لئے ھر قربانی دینے کو تیار ھے لیکن کیا واقعی ہی دونوں باتیں سچ ہیں۔ میں اکثر اُن سے عرض کرتا ھوں کہ اگر آپ کی بات درست ھے تو پھر پورا پاکستانی ہجوم مذہبی طور پر سب سے مقدس مہینے رمضان المبارک میں جو کچھ ایک دوسرے کے ساتھ کرتا ھے وہ کیا ھے ؟؟
جنرل ضیاءالحق نے پہلی بار پاکستان میں احترام رمضان آرڈیننس پاس کیا اس آرڈیننس کے تحت روزہ کے اوقات میں کھانے پینے کی اشیاء بیچنے یا کھاتے ہوئے پکڑے جانے پر 500 روپے جرمانہ یا سزا یا دونوں سے سے نبردآزما ہونا پڑ سکتا ھے۔ وہ سستا وقت تھا اس وقت کے لحاظ سے 500 سو روپے جرمانہ ایک بھاری رقم تھی۔ 500 روپے کتنی بھاری رقم تھی اس بات کا ابدازہ آپ میاں نواز شریف صاحب کی ٹیکس تفصیلات سے لگا سکتے ہیں کہ اربوں کی جائیداد اور کاروبار ہونے کے باوجود میاں صاحب نے (بقول اعتزاز احسن کے) 1994 سے 1996 تک فقط 447 روپے ٹیکس کی مد میں ادا کئے ہیں۔ آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔ خیر میرا مسئلہ آل شریف پر تنقید کرنا نہیں ھے۔ فقط آپ کو 500 روپے کی اہمیت سے روشناس کروانا ھے۔ اس سال احترام رمضان آرڈیننس میں ترمیم کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق کی سیاسی تربیت یافتہ ٹیم نے جرمانہ کی رقم کو بڑھاتے ہوئے کم از کم 25000 روپے کردیا ھے اور اس کے ساتھ ساتھ 3 ماہ کی قید بھی ہو سکتی ھے یا جرمانہ اور سزا دونوں بھی۔ اس آرڈیننس کے پاس ہونے پر مذہبی لوگوں کی طرف سے کافی ساری داد وصول ہو رھی ھے۔ چلیں ٹھیک ھے موجودہ حکومت اس قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے جتنا چاہے دل بے رحم کے اڑانے کے لئے مال مفت اکٹھا کرے۔ لیکن کیا احترام رمضان کے لئے اسی ایک قانون پر ہی عمل درآمد ہونا چاہیے ؟
پرائس کنٹرول اتھارٹی اور اس کا پورا قانون ماہ رمضان میں ستو پیئے سو رھا ھوتا ھے اور غریب بیچارہ 50 روپے کلو والے ٹماٹر 300 روپے کلو میں خریدنے پر مجبور ہوتا ھے۔ سستے رمضان بازاروں کے نام پر اس ہجوم سے “مقدس مہینے” میں اربوں روپے کا فراڈ ہوتا ھے۔ان رمضان بازاروں میں اشیاء کی کوالٹی اتنی ناقص ہوتی ھے کہ لوگ مجبور ہو کر نام نہاد سستے بازاروں کی بجائے کھال ادھیڑتے مہنگے بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔سادہ سی عرض یہی ھے کہ حکومت فقط انہی قوانین پر فی الفور عمل درآمد کرواتی ھے جہاں اس کی اپنی آمدن میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رھی ھوتی ھے۔ آخر کیوں ؟ذخیرہ اندوز شیطان کی طرح خون آلودہ دانت نکالیں سر عام اپنے مال کے راستے رمضان کی برکتیں سمیٹ رھے ھوتے ہیں اور قانون ؟؟ملاوٹ کرنے والے اس مقدس مہینے میں کھلم کھلا اپنا “مقدس فعل” جاری رکھتے ہیں اور قانون ؟؟رشوت لینے والے اس مقدس مہینے میں رشوت کے نرخ بڑھا دیتے ہیں اور قانون ؟؟
اور تو اور اس مقدس ماہ میں اس بار ممکن ھے کہ آپ حکمران خاندان کو جی ٹی آئی کے سامنے ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھائے جھوٹ بولتے بھی دیکھ سکیں۔
رمضان کریم فقط اللہ پاک کی رحمتیں سمیٹنے کا ہی مہینہ نہیں ھے بلکہ ایک بہت بڑا امتحانی مہینہ بھی ھے۔ اسی ماہ کے ذریعے آپ اللہ پاک آپ کو جانچتا ھے کہ کے مسلمان اللہ پاک کی ذات کے ساتھ کس قدر توکل کا رشتہ مضبوط کئے ہوئے ہیں۔
اگر تو سچ میں ھمارا رشتہ توکل بہت مضبوط ھے تو پھر ہمیں رمضان المبارک کے احترام کے لئے کس قانون کی ضرورت ھے ؟؟ لیکن بقول غالب !
کعبے کس منہ سے جاو گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
وہی پرانی بات ایک بار پھر سے دہرانے لگا ہوں کہ ہم اجتماعی طور پر اخلاقیات کے اس گھٹیا ترین “مقام” پر فائز ہیں۔ جہاں ہم اپنے مذہبی طور پر مقدس ترین مہینے کے احترام میں خدا اور قانون خدا کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ یہ کرپٹ حکمران، رشوت خور افسران اور ان کا قانون کس کھیت کی مولی ہیں۔
کوئی ھے جو میرے سمیت اس قوم کی اخلاقی تربیت کرے ؟

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: