سوشل میڈیا کا بچپنا اور قندیل کا چورن ۔۔۔ محمود فیاض

0

ہماری چھٹی ساتویں کی کلاس میں ایک لڑکا تھا۔ اسکا قد عمر کے حساب سے کافی زیادہ نکل گیا تھا۔ منہ پھیرے کھڑا ہوتا تو کوئی آدمی لگتا۔ اسکول سے باہر یونیفارم کے بغیر ہمارے ساتھ چلتا ہوں انکل لگتا۔ ہمیں تو عجیب نہیں لگتا تھا مگر برف کے گولے والا، آئس کریم والا، چنے چاٹ والا، اور چورن کی پڑیا والا اسکو سودا دیتے بہت عجیب نظروں سے دیکھتا۔

بڑی عمر کے لڑکوں سے اسکی دوستی بھی اسی قد کی وجہ سے ہو گئی۔ فٹ بال اچھا کھیل لیتا تھا۔ اور باسکٹ بال کا تو چیمپئن تھا۔ اس لیے بڑی ٹیم والے اسکو اپنے ساتھ کھلاتے تھے۔ کبھی کبھی جب وہ باسکٹ بال میں اپنے قد کے جوہر دکھا رہا ہوتا تو میدان سے باہر چورن والے کی ریڑھی گذرتی۔ ہم نے اکثر دیکھا باقی کھلاڑی ہکا بکا رہ گئے، اور وہ بال وہیں پھینک ریڑھی والے کی صدا سن کر بھاگتا ہوں چورن لینے پہنچ جاتا۔

آج سوشل میڈیا کو قندیل کا چورن پھر سے چاٹتے دیکھ کر مجھے وہ لڑکا یاد آگیا جس کا قد تو بڑھ گیا تھا، دماغ ابھی بچوں والا ہی تھا۔ پسند نا پسند بھی بچوں والی ہی تھی۔

سوشل میڈیا کا قد اس کی اثر پزیری کی وجہ سے اسکی عمر سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اب اسکو اہمیت دینے لگے ہیں۔ دور کی مثالیں نہ بھی لیں تو حالیہ بحریہ ٹاؤن والے واقعے پر چیف جسٹس کا سو موٹو ، مشعال خان کیس کی شنوائی، پروفیسر کی گرفتاری پر اسسٹنٹ کمشنر کی مذمت تو اسی ماہ کے چند واقعات ہیں جو سوشل میڈیا کی اثر پذیری پر دلالت ہیں۔

مگر قندیل بلوچ اور چائے والا جیسے موضوعات سوشل میڈیا کے وہ چورن، آئس کریم، اور برف گولے ہیں، جن پر اسکا بچپنا مچلتا ہے۔ اور وہ اپنا سنجیدہ اور بامقصد گول چھوڑ کر انکی طرف لپک جاتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے بھی لکھا تھا اور اب بار دگر عرض ہے کہ سوشل میڈیا اپنی افادیت اسی طرح کھو دے گا جیسے الیکٹرانک میڈیا کے نوٹنکی اینکروں اور بھانڈوں نے کھو دی ہے۔ لوگ انکی سن کر بھی نہیں سنتے۔ کبھی جس پروگرام پر گلیاں ویران ہو جاتی تھیں، اب اسکے چلتے لوگ جیو سوپر پر اسکور چیک کرنے لگتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی سنجیدہ ایشوز کے ساتھ ہر ایسے ایشو کو بھی ٹرینڈ بنانا شروع کر دیا جو محض بچوں کے چورن کا چٹخارہ بن سکتا ہے، تو کچھ عرصے بعد سوشل میڈیا اپنی افادیت کے لحاظ سے الیکٹرانکی میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ابھی بھی بہت سے واقعات پر معاشرتی پریشر صرف اس لیے نہیں بن پاتا کہ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز کی بھر مار ہوتی ہے، اور اکثر اصلی اور سچے واقعات کو بھی جھوٹ ہی سمجھ لیا جاتا ہے۔

میری ایسے سنجیدہ اور سمجھدار دوستوں سے گذارش ہے کہ سوشل میڈیا کے ایسے ٹرینڈز کی حوصلہ شکنی کریں جو بے جا بحث، سستی شہرت والوں کے لیے کھاد، اور معاشرتی رویوں میں نفرت مہیا کرتے ہوں۔

 

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: