میرے کالم نگار —— محمود فیاض

0
  • 6
    Shares

پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک کالم نگار صحافت کے گرو کہلاتے ہیں۔ میں مگر کچھ سے ہی آشنا ہو پایا۔ کچھ کی تحریریں چند دن پڑھیں تو کچھ کی چند دہایوں تک پڑھتا رہا۔ سب نے کچھ نہ کچھ عطا ہی کیا۔ آج ان سب کی یاد کا دن ہے۔

اخباری کالم میں ارشاد احمد حقانی (مرحوم) صاحب کو 1992 سے 2010 (انکی وفات تک پڑھا، اور کبھی ایسا نہیں لگا کہ انہوں نے کوئی غیر منطقی روش اپنائی ہے۔ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں پر تنقید اور تو صیف میرٹ پر کرتے تھے۔ انکی تحریر ہمیشہ ایک مثبت تنقیدی پہلو لیے با مقصد ہوا کرتی تھی۔ ہر کالم پڑھنے کے بعد کچھ حاصل ہونے کا احساس ہوتا تھا۔ آخری سالوں میں اپنے پچھلے کالموں کا حوالہ اسقدر دینے لگے تھے کہ اکثر پورا کالم اٹھا کر ایک سطری تعارف کے ساتھ دوبارہ شائع کر دیتے تھے۔ ان سے ایک ملاقات جو  پنجاب اسمبلی کے بغل میں پی آئی اے کے ٹکٹنگ لاؤنج میں ہوئی، ادھوری، اور فدویانہ سی تھی۔ کھل کر بات تو نہ ہو سکی البتہ اپنے کالموں سے مختلف نہ لگے، صاف شفاف، منطقی، اور بامقصد استاد۔

دوسرے کالم نگار عطاؑالحق قاسمی تھے۔ جو واقعی خوبصورت مزاح کو ایک اخباری کالم میں سمونے کے ماہر تھے۔ انکو کم و پیش بیس سال پڑھا اور 2013 میں انکا ’’انتقال پر مالا مال‘‘ ہو گیا اور وہ اہل قلم سے نکل کر اہل دربار کی صف میں جا شامل ہوئے۔ انکا کالم کسی ایک سیاسی خاندان کا رکھیل بن گیا اور مزاح ایک رانڈ کی مصنوعی مسکراہٹ میں ڈھل گیا، جو وہ اپنے گاھکوں کو لبھانے کے لیے بکھیرتی ہے، اپنی نظر انکی جیبوں پر جمائے۔ جب وہ پہلے پہل سفیر بنے تو انہوں نے لمبے لمبے مضامین لکھے اور تفصیل دی کہ کیسے ایک فقیر راہ گذر کو زبردستی اقتدار کی غلام گردشوں میں دھکیل دیا گیا۔ آج مگر انکو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ غلام گردشیں کافی طویل اور قدرے آرام دہ ہیں، فقیر کو راس آ گئیں شائد۔

تیسرے صاحب حسن نثار ہیں۔ جو جب سےدل میں اترے، کبھی دل سے نہیں اترے۔ انکے کوسنے مجھے اس ماں کا سیاپا لگتا ہے جو وہ اپنے بچوں کی بہتری کی امید میں لگی رہتی ہے۔ اپنی قوم کے برے حالات، اور بار بار ایک ہی پتھر سے ٹھوکر کھا کر سر پھڑوانے پر جتنا درد کسی بھی صاحب حال کو ہو سکتا ہے، اسکا اندازہ کم ہی لوگ لگا پاتے ہیں۔ مجھے کسی نہ کسی طرح ہے، اس لیے حسن نثار سے محبت قائم ہے۔ وہ واحد کالم نگار ہے جس سے ملنے کی خواھش ہے۔ پوچھنا کچھ نہیں ہے بس انکو دیکھنا ہے۔ حال مست کیسے لوگ ہوتے ہیں، یہ جاننا ہے۔

چوتھے کالم نویس ہارون رشید ہیں، جنکو باقاعدگی سے پڑھنا شروع کیا، ایک تو انکا انداز دل کو بھا گیا، پھر شخصیت کا خلوص بھی۔ تجزیہ اچھا کرتے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے جزباتی ہو گئے ہیں، لیکن یہ انکی شخصیت کا اچھا پہلو ہے، بغیر جذبات وہ کچھ نہیں لکھ پاتے۔ لیکن “آخری تجزیے” میں انکا تجزیہ جاندار ہی ہوتا ہے۔ عمران دشمنی میں انتقام پر نہیں اترے، اندر ہی اندر آج بھی عمران کو ہی دل میں بسائے ہیں، یہ اور بات کہ عمران خان محبوب آدمی ہے اور محبوب کے نخرے کم ہی عاشقوں کو راس آتے ہیں۔ کبھی کبھی مجذوبانہ انداز میں کالم لکھتے ہیں تو بات کا سرا پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جس جملے سے شروع کرتے ہیں اس پر اختتام بھی کرتے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ شائد پھر سے عمران خان کی طرف بھی لوٹ آئیں مقطے میں۔

پانچویں نمبر ہر نزیر ناجی، جن کو ارشاد حقانی کے زمانے میں میں آخری لفافہ صحافی سمجھا کرتا تھا۔ پتہ نہیں کیوں زندگی کے آخری سالوں میں آ کر۔۔۔ نزیر ناجی کا انداز کچھ بدل گیا ہے، اکثر کالم پڑھ لیتا ہوں۔ لمبے عرصے کی صحافت انکی تحریر اور تجزیے کو قوت دیتی ہے، مگر کہیں کہیں لگتا ہے کہ نزیر ناجی وہ لکھاری ہے جو کسی بھی سیچوئشن کو پازیٹو، نیگیٹو، دونوں میں لکھ سکتا ہے۔ عمران خان پر خاصی نظر کرم ہے، ایک حالیہ کالم سے اشارہ ملا کہ کسی دوست کے “ہاتھ کر جانے” کی وجہ سے وہ شریف فیملی سے دور ہو گئے، ورنہ ہو سکتا ہے آج مشیر خاص ہوتے۔ نذیر ناجی کے بارے میں یہ پڑھ کر سکتے میں رہ گیا کہ انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ کاغذی ٹکڑے پڑھتے پڑھتے خود ایک یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر گئے۔ ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں، انکو ایک دو پلاٹ معاف کر دینا چاہیئیں۔

چھٹے نمبر پر ڈاکٹر صفدر محمود کو کافی عرصہ پڑھا، پھر یکسانیت سے تنگ آ کر چھوڑ دیا۔ پرانی بات ہے، پتہ نہیں کیوں اچھے لگتے تھے انکے کالم۔ قائد اعظم کے حوالے سے انکی تحقیق دلچسپ اور معلومات افزا رہی، پھر تکرار محسوس ہوئی، کچھ عرصے سے روحانی ٹائپ کالم بھی لکھا کرتے ہیں۔ شائد عمر کے اس حصے میں انسان پر روحانیت کا غلبہ ہو جاتا ہے، یا پھر کہانیاں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہانیاں سمجھ آنے لگتی ہوں۔

ساتویں نمبر پر خورشید ندیم صاحب کو پڑھنا شروع کیا۔ میرے لیے انکی وجہ شہرت ٹی وی پروگرام “الف” تھا۔ پھر انکے کالم پڑھنا شروع کیے تو کئی ایک تجزیے مدلل لگے۔ غامدی صاحب کے شاگرد ہونے کی وجہ سے حسن ظن ہوا کہ دلیل برتنا جانتے ہیں۔ کالم کی زبان اکثر جناتی لگتی تھی لیکن چل جاتی تھی۔ کچھ عرصے سے انکے تجزیے عجیب رخ اختیار کرنے لگے تھے۔ دھرنے کے بعد عمران خان کے خلاف ہونے والے بہت سے صحافی تھے، جو میچور تھے انہوں نے بس اتنا کیا کہ عمران خان کے خلاف تنقید زرا بڑھا دی۔ لیکن جو اندر سے کھوکھلے تھے انہوں نے عمران سے اپنی “توہین” کا بدلہ اپنے کالموں میں محلے کی عورتوں کی لڑائی والے طعنوں سے لینا شروع کر دیا۔ میرا خیال تھا خورشید ندیم پہلے والے صحافیوں میں سے ہیں، لیکن وہ دوسرے والے نکلے۔ حال ہی میں انہوں نے نواز شریف کو واحد لیڈر قرار دیا کہ جس کے پاس ملکی ترقی کا ویژن ہے۔ انہی کا ایک سال پرانا کالم جس میں انہوں نے نواز شریف کو ویژن سے بے بہرہ قرار دیا تھا۔ شائد پروگرام الف کرتے کرتے وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ الٹا بھی کردو تو الف الف ہی رہتا ہے۔

آٹھویں نمبر ہر عامر خاکوانی ہیں، جنکا انداز اور دلیل دونوں دھیمی ہیں، اور مناسب انداز میں اپنی بات کہنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ ابھی باقاعدہ تو نہیں لیکن اکثر کالم پڑھ ہی لیتا ہوں۔ بہت ناپ تول کر لکھتے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے مدعوں کی حاضری لگا رہے ہوں۔ جب تک کسی تحریر سے متعلق تمام پہلوؤں پر لکھ نہیں لیتے قلم نہیں چھوڑتے۔ کبھی کبھی انکو غصے میں بھی دیکھا ہے، پھر وہ کسی کو نہیں چھوڑتے۔

نویں نمبر پر روؤف کلاسرہ جن کی تحریریں پڑھ کر رووف کلاسرہ پر ہی غصہ آتا ہے کہ نہ ہمیں بتاتا تو زندگی سکون سے رہتی۔ اب بھلا ہم اتنے اربوں کے گھپلے ان حکمرانوں اور بیوروکریسی کو کیسے معاف کر سکیں گے۔ یوں سمجھیں کلاسرہ وہ اسٹاک ایکسچینج ایجنٹ ہے جو روزانہ اسٹاک کے گرنے کی خبر سناتا ہے مگر آپ کچھ کر نہیں سکتے سوائے اپنا سر پیٹنے کے۔ اللہ بھلا کرے ادارے کا جس نے رووف کلاسرہ کو انگلینڈ پڑھنے بھیج دیا اور کچھ عرصہ ہم نے حساب کتاب کے گھپلوں کی بجائے کیتھی کی کہانیاں پڑھیں۔ کیتھی ایک یونانی لڑکی ہے جو رووف کلاسرہ کی کلاس میں پڑھتی تھی۔ ادارے نے ویسے انکو صحافت پڑھنے بھیجا تھا، یہ کیتھی کے آنسوؤں اور ملگجی شاموں پر تھیسس لکھ کر آگئے۔ خیر انکو معاف کیا جا سکتا ہے۔ یونانی حسن کے سامنے پاکستانی پرچم سرنگوں ہو ہی جایا کرتا ہے۔ آخر اسکندر کو بھی تو ہم نے جہلم تک آنے دیا تھا۔ کوئی مورخ شائد بتا سکے کہ اسکندر کے دائیں بائیں یونانی دیویاں کتنی تھیں؟

خالد مسعود کا نام لیے بغیر آگے کیسے بڑھ سکتا ہوں۔ اپنے مخصوص انداز میں اپنے وسیب کے دکھ بیان کرتے ہوئے خالد مسعود کبھی ایک مزاحیہ شاعر نہیں لگا۔ اور پھر ایک دن جب ان کی اہلیہ انکو داغ مفارقت دے گئیں، تو ایک نئے خالد نے جنم لیا۔ جو اس محبت کو بیان کر سکتا ہے جو نامراد عاشقوں سے کبھی نہ ہو پائے گی۔ وہ ہے شریک سفر کی محبت۔ خالد مسعود جب اپنی اہلیہ کی یاد میں کالم لکھتے ہیں تو زندگی کی معمولی معمولی باتیں تاج محل سے زیادہ روشنی دینے لگتی ہیں۔ مزاح نگار کیا اندر سے اتنے ہی راکھ ہو کر ہما اڑاتے ہیں؟ مشتاق یوسفی شائد ٹھیک ہی شعر پڑھتے ہیں ؎ لکڑی جل کوئلہ بھئی، کوئلہ جل بھیو راکھ۔۔ میں پاپن ایسی جلی، نہ کوئلہ بھئی نہ راکھ۔

اظہار الحق صاحب کو بہت دیر سے پڑھنا شروع کیا۔ ان کی ادب شناسی، تحریر کی روانی اور موضوعات کا انتخاب گاہے بہت بھاتا ہے۔ پاکستان کے مسائل پر دھیمے لہجے میں لکھتے ہیں، مگر انسانی مسئلہ آن پڑے تو جذبات کو مہمیز لگانے سے گریز نہیں کرتے۔

نئے لکھنے والوں میں سے، یا یوں کہیے جن کو کم عرصہ ہوا پڑھتے ہوئے ان میں سے بلال الرشید، عمار چوہدری، یاسر پیرزادہ، وجاہت مسعود اور علی معین نوازش شامل ہیں۔

بلال الرشید اپنے موضوعات کو کائنات اور ارتقا کے اردگرد رکھتے ہیں۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کی ملاقاتیں اور انکی اپنی تحقیق قارئین کو حیران کر دینے والی تحریریں مہیا کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے اخبار کے قارئین کے لیے بالواسطہ اپنی سوچ کو وسیع کرنے کے لیے انکی تحریریں بہت اچھا اضافہ ہیں۔ بحیثیت انسان اور دوست بھی بہت نفیس ہیں۔ بندہ مل کر دوبارہ ملنا چاہتا ہے۔

عمار چوہدری بھی عمران خان پر دھواں دھار لکھتے تھے، شائد اسی لیے انکو پڑھنا شروع کیا۔ آج کل عمران خان کو دھول دھپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیر ادھر بھی قطار لگی ہوئی ہے لکھنے والوں کی جو عمران خان سے اپنے اپنے حساب سے ناراض ہیں۔ عمار چوہدری نے بھی وہی لائن جوائن کر لی ہے شائد۔

یاسر پیرزادہ کے کچھ کالم پڑھے تو لگا کہ زرا ہٹ کے لکھ رہے ہیں۔ مگر پھر پدرم سلطان بود والا معاملہ آگیا۔ بہت عرصے سے یہ سمجھ آنے لگی ہے کہ زہین آدمی منطق کو اپنے حساب سے استعمال کرتا ہے۔ منطق رہنما نہیں ہوتی، ہاتھ کی چھڑی ہوتی ہے، رستہ خؤد ہی تلاش کرنا ہوتا ہے۔ یاسر پیرزادہ زرا نہیں زیادہ ہٹ کے لکھنے لگے تو ہم ہٹ کے کچھ اور پڑھنے لگے۔

وجاہت مسعود بھی کچھ دن ہمیں اپنی نثر کی سحر میں جکڑے رہے۔ مگر ہمارے ایک دوست کے بقول انکی نثر خوبصورت ہوتی ہے، پڑھ کر مزہ آتا ہے، سمجھ کچھ نہین آتا۔ ہم نے بھی ان کے مضامین سے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ موصوف کیا کہنا چاہتے ہیں۔ انکے ایک ہی پیرا گراف میں تین ایسے ناولوں کے حوالے تھے جو ہمیں آن لائن دستیاب نہ ہو سکے۔ جس ناول کے جس کردار کا حوالہ انہوں نے دیا، اور باقی کی بحث قاری کے ادبی ہاضمے پر چھوڑ دی، ہمیں وہ کردار بھی نہ ملا۔ میراثی کی طرح ہم نے کپڑے جھاڑ کر اتنا ہی کہا، “چوہدری صاب، ہم پھر انکار ہی سمجھیں”۔

علی معین نوازش کو اس لیے پڑھنا شروع کیا کہ انہوں نے ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا تھا امتحان میں ٹاپ کر کے۔ انکے موضوعات سے اندازہ ہوا کہ تیسری دنیا کے نابغے ساری دنیا میں اپنی زہانت منوا بھی لیں، اپنے پھر بھی انکو وہی طعنہ دیتے رہتے ہیں کہ “یہ وہی ہے نا جس کی بچپن میں ناک بہتی رہتی تھی”۔ علی معین کی تحریریں پڑھنے پر بھی ایسا ہی کچھ لگتا ہے۔ ٹشو ساتھ لیکر پڑھتے ہیں۔

یہ کوئی ایوارڈ لسٹ نہیں، میرے زیر مطالعہ رہنے والے کالم نگاروں کا ایک غیر رسمی جائزہ ہے۔ مجھے احساس ہے بہت سے بڑے نام رہ گئے ہیں۔ شائد اگلے کسی مضمون میں انکا بھی تذکرہ ہو جائے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: